Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 37)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 37)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
رویام ڈھائی مہینے کا ہو چکا تھا
اس کی شرارتیں بھی بھرنے لگی تھی
اس کی سب سے فیورٹ جگہ تھی روح کی گود اور اگر کھڑی ہو تو اس کے کندھے پر لٹکنا اس کا فیورٹ کام تھا اور یارم کو اس کی یہی چیز پسند نہیں تھی
ہاں لیکن روح کو تو اس کی کوئی بھی چیز نہ پسند نہیں تھی کہ اس کا ہر انداز ہی روح کی جان تھا
جب وہ یارم کے ساتھ پیار کرتا تھا تب بالکل اسے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا لیکن جب وہ روح سے پیار کرتا تھا اس کے ساتھ کھیلتا تھا اسے چپکتا تھا اسے تنگ کرتا تھا
اب اسےیہ چپکو بالکل اچھا نہیں لگتا تھا
وہ کوروح کو پیار کرتے ہوئے وہ وہ بار بار یارم کی جانب دیکھتا تھا
یارم کو یقین تھا کہ یہ جان بوجھ کر اسے جلاتے ہوئے یہ کام کرتا ہے
لیکن روح کے لئے اس کا بچہ بہت معصوم تھا نہ سمجھ سا۔
لیکن یارم نے اسے سمجھانا بھی چاہا تھا کہ وہ اتنا بھی نہ سمجھ نہیں ہےجتنا تم سمجھتی ہو لیکن اب تو روح کو ایک ڈائیلاگ مل گیا تھا آپ جلتے ہیں میرے بچے سے اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں
اور اس کے بات پر حیران ہو کر اگر یارم پوچھ لیتاکہ وہ بلا کس چیز سے چجے گا تو روح کے پاس جواب تھا
اس کا ڈمپل
آپ میرے بچے کے ڈمپل سے جلتے ہیں یار م تو اس کی باتوں پر عش عش کر اٹھتا
لیکن بعد میں جہاں اسے رویام اکیلے مل جاتا وہ اپنے خوب بدلے پورے کرتا تھا جیسے کہ اس وقت یارم کمرے میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ رویام بیڈ پر الٹا لیٹا ہوا سر اٹھائے شونوکو گھور رہا ہے
جبکہ شونو اس کے سامنے پتا نہیں کون سے کرتب پیش کر رہا تھا
اس نے ایک نظر روح کی جانب دیکھا جو کچن میں بہت مصروف لگ رہی تھی
اور پھر اس نے شونو کو اشارہ کیا
اس کا اشارہ سمجھ کر شونو کمرے سے باہر نکل گیا تھا
جب کہ یارم نے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور اپنے قدم بیڈ کی جانب بڑھ جائے
میرا پیارا بچہ بابا مسیڈ یو میرے شہزادے آہستہ آہستہ اس کی طرف قدم اٹھاتا ایک ہی ہاتھ سے تھام کر دبوچ چکا تھا ۔
وہ معصوم سی جان پوری طرح اس میں قید ہو کر رہ گئی
اور یارم بہت آرام سے اس کے گال پر اپنی داڑھی موچھ چھبوتے ہوئے خود اپنی جارحانہ محبت کا اظہار کر رہا تھا ۔
یارم کا دل تو چاہتا تھا کہ اسے کھا ہی جائے لیکن افسوس کہ وہ کوئی چوکلیٹ یا بریانی کی پلیٹ نہیں تھا لیکن یاتم کی نیت اس پر خراب ہی رہتی
جب تک وہ اپنے پر ہونے والے اس ظلم کو سمجھ کر رونا شروع کرتا یارم اپنا کام کر چکا تھا ۔
جب تک رویام نے چیختا چلاتا شروع کیا یارم رستہ صاف دیکھ کر کمرے سے باہر نکل گیا
جبکہ اس کے چلانے پر روح بھاگتے ہوئے کچن سے کمرے کی طرف آئی تھی
جہاں وہ بیڈ پر الٹا لیٹا روئے جا رہا تھا روح فورا اس کے پاس آئی اور اسے آہستہ سے اٹھا کر اپنی باہوں میں بھرے اپنے سینے سے لگایا
بس میرا بچہ کیا ہوگیا اتنا رونا کیوں آ رہو ہو میری جان
اور یہ چہرہ کیوں اتنا سرخ ہو گیا وہ اس کے چہرے پے ہاتھ پھیرتے پریشانی سے بولی
یارم کے ساتھ شونو بھی کمرے میں داخل ہوا
کیا ہوا روح کیوں رو رہا ہے میرا شہزادہ یارم اس کے پیچھے پریشانی سے بولا
ارے یارم اب آپ آگئے پتہ نہیں شاید اکیلے کمرے میں ڈر گیا ہے
شونق تو اس کے پاس ہی تھا شاید شونو سوسو کتنے باہر گیا ہوگا وہ رویام کو اپنے سینے سے لگاتی شونو کو دیکھ کر بولی
رویام آہستہ آہستہ روح سے یارم کی خوب ساری شکایت کر رہا تھا یہ الگ بات تھی کہ روح ابھی اس کی شکایتوں کو سمجھ نہیں سکتی تھی ورنہ یارم کی شامت ضرور آتی
جب کہ یارم اس وقت بالکل معصوم بنا اس کے ساتھ بیٹھا پریشانی سے رویام کی پیٹھ سہلا رہا تھا
کوئی بات نہیں میرا شہزادہ اس میں رونے والی کونسی بات ہے وہ بالکل نارمل انداز میں اسے بہلا رہا تھا
°°°°°°°°
یارم میں آپ کے لیے بریانی بنا رہی ہوں دمادےلے کے آئی ہوں بس چولہے سے اتارا باقی ہے اب رویام کو یہ دودھ پلا دیجئے وہ دودھ کی بوتل اس کے ہاتھ میں پکڑ آتی واپس باہر کی طرف جانے لگی
جب کہ اس کی بات سن کر یارم نے بیڈ کی جانب دیکھا اور پھر یارم کے ڈمپلز روشن ہوئے تھے ۔
روح بے چاری اپنے معصوم بچے کو شیر کی کچھار میں چھوڑ کر جا چکی تھی
لیکن پھر اس سے پنگا لینے سے پہلے اسے کھلانا پلانا بہتر سمجھا اب اس کا ننھا سا دشمن سے مقابلہ کرنے سے پہلے کچھ کھا پی لے یہی بہتر تھا
میرا شہزادہ دودھ پئے گا وہ مسکراتا ہوا بیٰ کی جانب آیا
جب شونو اچانک راستے میں آ گیا
ابھی دو دن پہلے ہی تو یارم نے اس کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیا تھا جس میں شونونے بھی اس کا ساتھ دیا وہ اس بچے پر اس طرح کا ظلم مزید ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا
شونو یار کیا ہوگیا ہے تجھے تو بے کار میں پریشان ہو رہا ہے میں تو رویام سے دو چار باتیں کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں
ارے یار وعدہ کرتا ہوں اس کے ساتھ کچھ گربڑ نہیں ہوگی بس باتیں کروں گا اور گال کو چھونوں گا بھی نہیں وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا شونو پر وہ زیادہ بھروسہ نہیں کر سکتا تھا
روح کا یہ چمچا کب اس کی ساری باتیں روح کے کانوں میں ڈال دے اسے کچھ پتہ نہیں تھا اور یہ تو روح کو اپنی باتیں سمجھابھی سکتا تھا
اس کے باتپر یقین کرکے شونو اس کے قریب سے ہٹ گیا اور یار م بنا کسی شرارت کے رویام کے پاس آ بیٹھا
میرا شہزادہ بیٹا نرمی سے اس کے گال چھونے لگا
بھائو۔ ۔۔۔شونو نے بھونک کر اسے احساس دلایا کہ وہ بھی یہی ہے
ارے کچھ نہیں کر رہا میں اب کیا اپنے بیٹے کو پیار بھی نہ کروں وہ اسے گھورتے ہوئے دودھ کی بوتل کا ڈھکن اتار کر کے منہ میں رکھ چکا تھا
جب کہ نظریں بار بار کبھی اس کے گال تو کبھی ننھے ننھے ہاتھ پاوں اوپر جا رہی تھی
رویام یار تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے اور قسم سے تجھے بہت سارا پیار کرنے کو دل کرتا ہے لیکن میرا پیار تیری ماں نہیں سہہ سکتی تو کیسے سہے گا
اور میری روح کےاتنے پاس مت جایا کر وہ کیا ہے نا جب تو روح کے پاس جاتا ہے اس سے پیار کرتا ہے اس سے پیار لیتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ تو میرے مقابلے پر اتر آیا ہے اور پھر تیری صحت دیکھ کر تجھ سے مقابلہ کرنے پر بھی دل گھبرانے لگتا ہے
اب تو ہی بتا میں کیا کروں
اپنی صحت کا تھوڑا خیال رکھا کر اب تو یارم کاظمی کے مقابلے پر اترا ہے تجھے ہر وقت تیار رہنا ہوگا مقابلے کے لئے وہ کہتے ہوئے ایک بار پھر سے اس کے گال کی طرف جھکنے لگا
بھائو۔ ۔۔۔۔۔شونو کی آواز ایک بار پھر سے اس کا راستہ روک گئی
ہاں پتا ہے تو یہی ہے اس کا بوڈی گارڈ ۔بندہ اپنے ہی بچے کو پیار نہیں کر سکتا
وہ سسے گھورتے ہوئے بولا
جب کہ شاید اسے یہ سمجھانا چاہتا تھا سے پیار کرنے اور ظلم کرنے میں فرق ہوتا ہے
°°°°°°°°°
جیسے جیسے رویام بڑا ہو رہا تھا یارم کا گھر سے نکلنے کا دل بھی نہیں کرتا تھا ہر وقت اس کے ساتھ شرارتیں مستیاں کرتے رہنا اسے بہت پسند تھا
اب تو روح نے بھی اسے اس پر ظلم کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا وہ بھی رنگے ہاتھ اب و بھی اسے یارم کے ساتھ اکیلا بالکل نہیں چھوڑتی تھی ۔
اگر یارم کو اس سے پیار کرنا تھا تو اسے سب کے سامنے ہی کرنا ہوگا
یہ روح کا فیصلہ تھا
اب اسے یارم پر بالکل بھروسہ نہیں تھا
وہ اس کے معصوم بچے کو اپنے پیار کا وہ وہ ڈائقی چھکا چکا تھا کہ روح کو اپنے بچے پر ترس آنے لگا تھا
°°°°°°°°°
یارم ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ آفس سے واپس آیا تھا اس وقت وہ نہا رہا تھا
روح بیڈ پر اسے دودھ پلاتے ہوئے اس سے باتیں کرتے اس کا ننھا سا چہرہ دیکھ رہی تھی
ویسے یارم کی بھی کوئی غلطی نہیں تھی وہ اس کی ٹماٹرجیسے گال دیکھ کر بے بس ہو جاتا تھا اور پھر اپنے انداز میں جب رویام کو پیار کرتا تو رویام بیٹھ کر رونے لگ جاتا
جبکہ روح کو تو بعد میں اپنے بیٹے کے گال سہلا سہلا کر لال سے سفید کرنے پڑتے تھے اور اس دوران رویام یارم کی وہ شکایتیں لگاتا جسے نہ سمجھتے ہوئے بھی روح اسے دلاسے دیتی تھی کہ اب بابا رویام کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے
وہ نہا کر باہر نکلا
روح یہ دیکھو شرٹ کا بٹن ٹوٹا ہوا ہے
شرٹ بیڈ پر پھینکتے ہوئے وہ اسے دکھا رہا تھا
یارم یہ شرٹ تو میں اس بار لائی تھی اس کا بٹن کیسے ٹوٹ گیا وہ رویام کو بیڈپر رکھتے ہوئے اس کی شرٹ دیکھنے لگی یہ تو پرسوں ہی وہ لے کر آئی تھی یہ تو یار م نے ایک بار بھی نہیں پہنی تھی
اچھا اب ٹوٹ گیا تو ٹوٹ گیا اتنے اچھے سے نہیں انہوں نے لگائے ہوتے چلو جلدی سے اس کا بٹن لگا دو یارم لمبی بحث میں پڑے بغیر شیشے کے سامنے کھڑا اپنے بال سنوار رہا تھا
آپ کوئی اور پہن لیں نا میں صبح اس کے سارے بٹن پکے کر دوں گی روح نے شرٹ پتہ کر کے کہا
نہیں ابھی کرو ابھی مطلب ابھی کے ابھی مجھے یہی پہنی ہے وہ ضد کرتے ہوئے بولا
اچھا بابا ٹھیک ہے میں ابھی کر دیتی ہوں روح اس کی بات مانتے ہوئے اس الماری کی جانب آئی جب پیچھے سے اچانک رویام کی زور دار چیخ کے ساتھ رونے کی آواز سنائی دی
وہ یارم کے قبضے میں بری طرح سے مچل رہا تھا
جب کہ یارم اس کے گال پر اپنے دارھی اور مونچھ سے اچھا خاصہ ظلم کرتا اسے اپنے جارحانہ پیار کا مظاہرہ کر رہا تھا
روح بھاگتی ہوئی بیڈ پہ آئی لیکن اس سے پہلے کہ یارم وہاں سے اٹھ کر باہر کی جانب بھاگ چکا تھا
یا اللہ یارم آپ کب سدھریں گے ہائے میرا معصوم بچہ روح فورا اسے اپنے سینے سے لگاتی اس کی شکایت سننے لگی
جب کہ اب مزے سے باہر رہا تھا
میرے معصوم بچے مجھے معاف کر دینا داڑھی مونچھ کے بغیر میں تیری ماں کو اچھا نہیں لگتا داڑھی موجچھ کے ساتھ تجھے نہیں
اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے تجھے ساری زندگی اپنے باپ کا پیار یوں ہی سہنا ہوگا
وہ اونچی آواز میں روح کو سناتے ہوئے بول رہا تھا
اب آپ ہاتھ لگا کر دیکھائیں میرے بچے کو پھر دیکھنا میں کیا حال کرتی ہوں روح اسے اپنے ساتھ لگائے بہلا رہی تھی جبکہ یارم کی باتیں اسے مزید تپارہی تھی
