Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 35)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

یار اس کو اچانک کیا ہو گیا یہ رونے کیوں لگا شارف نے جیسے ہی رویام کو اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے رونا شروع کردیا ۔

روح اور یارم کچن سے بھاگتے ہوئے آئے تھے ۔

شار ف نے فوراً رویام کو روح کے حوالے کردیا

ارے کچھ نہیں شارف بھائی پریشان مت ہوں اسے بھوک لگی ہے اس لئے رو رہا ہے روح رویام کی پیٹھ سہلاتے ہوئے بولی

اپنی ماں کا لمس محسوس کرکے وہ فورا خاموش ہو گیا تھا

پتہ نہیں بھوک لگی ہے یا کسی نے اس کے کان میں آکر سرگوشی کی ہے کہ اس کا باپ اسکی ماں کے ساتھ رومانس کر رہا ہے یارم اسے گھورتے ہوئے بڑبڑایا تو روح اسے کر گھور کر رہ گئی

ایسے گھور کر کیا دیکھ رہی ہومجھے۔ مجھے یہ پہلے دن سے ہی بہت تیز لگتا ہے ۔بس تمہارے سامنے معصوم شکل بناتا ہے یارم نے اس کی انفارمیشن میں اضافہ کیا تھا

یارم وہ صرف پانچ دن کا بچہ ہے ۔روح نے اسے یاد دلاتے انداز میں کہا

یہ چار دن کا بچہ ضرور ہے لیکن اسے بچہ مت سمجھو بہت پکا ہے یہ رات میں نے تمہارے ماتھے پر کس کیا تو مجھے گھور کر دیکھنے لگا ۔

جیسے اپنی بیوی کو نہیں اس کی ماں کو کس کیا ہو یارم اس کے بالکل ساتھ صوفے پر بیٹھا ہوا رویام کے دودھ کی بوتل پکڑ کر اسے بتاتے لگا

ایک تو آپ بالکل ہی میری سمجھ سے باہر ہیں صبح کیسے پیار کر رہے تھے ساری رات اس کا خیال بھی رکھا اور اب اس کے دشمن بنے ہوئے ہیں ۔روح اسے گھورتے ہوئے بولی

ہاں تب تم سامنے نہیں تھی نہ میرے سامنے تو بہت شرافت سے بیٹھا ہوا تھا ہم دونوں نے کافی انجوائے کیا بہت ساری باتیں بھی کی میں نے اسے سمجھایا بھی کہ تمہیں بالکل تنگ نہ کرے

لیکن دیکھو دوپہر ہوتے ہی یہ بدل گیا پھر سے تمہیں تنگ کر رہا ہے

اسے ذرا احساس نہیں ہے کہ کچن میں اس کے ماں باپ دونوں بزی ہیں اس طرح سے گلا پھاڑ پھاڑ کر روکر پکارنے کی کیا ضرورت پڑ گئی

تھوڑا صبر کرنا چاہیے تھا اسے مینرز نام کی کوئی چیز نہیں ہے اس کے اندر اپنے ماں باپ کو اس طرح سے کون ڈسٹرب کرتا ہے وہ اچھا خاصا برا مناتے ہوئے بولا تو روح اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے لگی جو رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی

یارم آپ پانچ دن کے بچے کے اندر مینرز کہاں سے ڈھونڈ نے لگ گئے وہ ابھی بچہ ہے ہم اسے کچھ سیلھائیں گے تو اسے کچھ آئے گا نا روح کا انداز سمجھانے والا تھا لیکن یہاں اسے سمجھنے کو تیار کون تھا

انتہا کی بداخلاق اولاد ہے ہماری روح اسے تمہارے پیٹ کے اندر سے ہی سیکھ کر آنا چاہیے تھا اسے پتہ ہونا چاہئے کہ یہ یارم کاظمی کی اولاد ہے ۔وہ اس انداز میں بولا کہ روح کوشش کے باوجود بھی اپنی ہنسی روک نہیں سکی

اللہ یارم کیا ہوگیا ہے آپ کو وہ اپنی ہنسی روکتی بمشکل بولی پائی تھی جبکہ اسے اس طرح سے ہنستے دیکھ کر باقی سب ان کی طرف متوجہ ہوگئے

کیا ہوگیا ہے روح تمہیں اس طرح سے کیوں ہنس رہی ہو۔۔۔۔؟سب سے پہلے لیلیٰ نےپوچھا تھا

کچھ نہیں بس میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے بیٹے میں میں مینرز کب سے آئیں گے روح ایک نظر یارم کی طرف دیکھ کر لیلی کو بتانے لگی جب کے یارم شان بےنیازی سے صوفے پر بیٹھا ٹانگ پر ٹانگ رکھے بہت مزے سے بیٹھا تھا

روح دماغ ٹھکانے پر ہے نہ تمہارا چار دن کے بچے میں کہاں سے مینرز آتے ہیں

ابھی وہ برا ہوگا کچھ سمجھے گا تو کچھ سیکھنا شروع کرے گا حضر کا انداز ڈاٹنے والا تھا

اچھا ایسی بات ہےمجھے تو لگا کہ یہ سب کچھ سیکھ کر آئے گا یارم مجھے لگتا ہے ہمیں بہت محنت کرنی ہوگی اسے مینرز سکھانے میں ہمارا بچہ بہت بد اخلاق ہے ۔

اور بہت بدتمیز بھی ہے ہمیں بہت محنت کرنی ہوگی وہ یارم کو دیکھتی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہنستے ہوئے بولی

کتنا فضول بولتی ہو تم روح کیا مجھے نہیں پتہ کہ ہمیں اس کے لیے محنت کرنی ہوگی عقل نام کی کوئی چیز تمہارے اندر ہے نہیں

آف کورس ہمیں اسے مینرزسیکھانے ہوں گے لیکن پہلے تم اسے بڑا تو ہونے دو آہستہ آہستہ سیکھے گا وہ جب اسے کچھ سمجھ میں آئے گا

ابھی تو اس کو یہ بھی نہیں پتا کہ اپنے منہ میں دودھ کی بوتل ڈالنی ہے یا اپنا ہی پیر تھوڑی دیر پہلے یار م نے اسے اپنا ہی پیر منہ میں ڈالے دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کیا تھا

ہاں لیکن روح اس کے بات بدلنے پر اسے دیکھنے لگی جوسارا الزام ہی اسی پر لگا گیا تھا اور اب ہر کوئی اس کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ تم ضرورت سے زیادہ جلدی مچا رہی ہو

ابھی رویام چھوٹا ہے اسے ٹائم لگے گا سیکھنے میں سمجھنے میں اور بڑا ہونے میں فی الحال تو اسے اپنے ماں باپ کو پہچاننے میں ہی دو ڈھائی مہینے لگ جائیں گے

جبکہ روح خاموشی سے ان سب کی باتیں سن کر خود کو مجرم ٹھہرائے جانے پر اندر ہی اندر یارم سے خفا ہو رہی تھی

°°°°°°

سب کے جانے کے بعد یارم جب کمرے میں آیا تو روح کو منہ بنائے دیکھ کر مسکرایا

کیا بات ہے آج تو میری جنگلی بلی کافی غصے میں لگ رہی ہے وہ اس کے پاس بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا جبکہ رویام تھوڑے فاصلے پر نیند میں تھا

کتنے برے ہیں آپ یارم آپ نے سب کے سامنے مجھے غلط ثابت کر دیا

جبکہ آج میں سب کو دکھانے والی تھی کہ آپ کیا سوچتے ہیں

وہ منہ پھولئے بولی

تو تم چاہتی تھی کہ وہ سب لوگ میرا مذاق بنائے وہ اس کی گود میں سر رکھتا گہرا سا مسکرایا

ہاں تو آپ بھی تو سب کا مذاق بناتے رہتے ہیں ۔سارے ڈرتے ہیں آپ سے بچاروں کو موقعہ مل جاتا تھوڑا خوش ہونے کا لیکن آپ کسی کو خوش ہونے کہاں دیتے ہیں

ان سب کو لگ رہا تھا کہ میں ایسا چاہتی ہوں کہ رویام اوپر سے سب سیکھ سکھا کر آئے ۔

وہ ایک نظر رویام کو دیکھتی یارم سے ناراضگی کا اظہار کرنے لگی

ہاں تو یہ تمہاری غلطی ہے تمہیں عقل کا استعمال کرنا چاہیے تھا ضروری نہیں جو باتیں میں تم سے یارویام سے شئیر کرتا ہوں وہ تم سب کے سامنے بول دو ۔

میں اپنا آپ ہر کسی پر ظاہر نہیں کرتا تم سے محبت بہت ہے وہ اس کا چہرہ خود پر جھکائے گال چومتےہوئے بولا

اور میرے رویام سے روح نےجلدی سے پوچھا ۔

یارم م نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا وہ ننھا اس وجود اس وقت نیند کے مزے لوٹ رہا تھا

میرا دل کرتا ہے کہ میں اسے ڈسٹ بن میں پھینک دوں ۔تم اسے ہر وقت اُٹھا کر کیوں گھومتی رہتی ہو تھکتی نہیں ہو کیا وہ کتنی ہی دیر محبت سے رویام کا چہرہ دیکھنے لگے دیکھتا رہا اور پھر جب بولا تو روح کو چیخنے پر مجبور کر گیا

یارم آپ ایسا سوچتے ہیں میرے معصوم بچے کے لیے آپ میرے بچے کو ڈسٹ بن میں پھینک دیں گے ہائے اللہ اب تو میں آپ پر بھروسہ ہی نہیں کرسکتی آپ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں وہ رویام کا معصوم سا چہرہ دیکھتی اس کی دل دہلا دینے والی بات پر پریشان ہو چکی تھی

ارے میں تو تمہارے لیے ہی بھلائی سوچتا ہوں تمہیں تنگ کرتا ہے ہر وقت تم اس کو اٹھا کر گھومتی رہتی ہو تمہیں پریشان کر دیتا ہے اس لیے کہہ رہا ہوں یارم نے معصوم بننے کی کوشش کی

یااللہ یارم اگر میرا بچہ مجھے تنگ کرے گا تو آپ اسے ڈسٹ بن میں پھینک دیں گے ۔

تنگ کرنے کا تو نہیں پتا ہاں لیکن اگر اس نے تمہیں ضرورت سے زیادہ پیار کیا تو میں ایسا کرنے سے پیچھے بھی نہیں ہٹوں گا ۔

اس نے رویام کسمسا تے دیکھتے ہوئے روح کی گود سے سر اٹھایا اور اٹھ کر بیٹھ گیا

یارم آپ اتنے ظالم باپ ہیں روح کو صدمہ ہوا تھا

ہاں بہت ہی ظالم باپ ہوں میں تمہارے بیٹے کا ہونٹ باہر آ رہا ہے یہ تھوڑی ہی دیر میں رونا شروع کر دے گا جلدی سے اس کے لئے دودھ بنا کر لاؤ

ایسا گلا پھاڑ پھاڑ کر روتا ہے کہ میرے کان ہی پک جاتے ہیں جلدی جاؤ وہ رویام کو اپنے قریب کرتا ہوا اپنی گود میں اٹھا چکا تھا

جبکہ اسی جاگتا پاکر روح صدمے کی کیفیت میں کچن میں چلی گئی

یا رم نے ایک نظر ویام کے چہرے کو دیکھا جو اس وقت آف موڈ کے ساتھ اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا

یارم نے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے لبوں سے چھوا

اور ابھی تھوڑی دیر پہلے روح سے کی ہوئی باتوں پر ہنسنے لگا

وہ اسے کیا ڈسٹ بن میں پھینکتا وہ تو اسے اپنے دل کے کسی کونے میں چھپا کر رکھنا چاہتا تھا ۔

وہ روح سے اتنی محبت کرتا تھا کہ چاہتا ہی نہیں تھا کہ اس کے علاوہ کوئی اور دیکھے وہ روح کو بھی اسی طرح سے چھپا کر رکھنا چاہتا تھا جیسے آج وہ رویام کو خود میں چھپا لینا چاہتا تھا

آج رویام کو باری باری سب کی گود میں دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ وہ اپنا بیٹا ان سے لے کر کہیں کسی جگہ چھپا کر رکھ لے جہاں کوئی اسے نہ دیکھ پائے

وہ اپنے اندر تبدیلی نوٹ کر رہا تھا اس نے جو محبت روح سے کی تھی ویسی ہی محبت رویام اسے خود سے کرنے پر مجبور کر رہا تھا

میں نے بالکل ٹھیک کہا تھا تم بہت تیز چیز ہو ۔تم سے ہم دونوں ساتھ بیٹھے دیکھے نہیں جاتے نا ۔اگر تھوڑی دیر اور لیٹ جاگتے تو میں اپنی بیوی سے دوچار پیار بھری باتیں کر لیتا

لیکن نہیں تم نے تو کباب میں ہڈی بننا ہے وہ اس کا پیر پکڑ تا اونچا کر کے اس کے چھوٹے سے پیر کو آگے پیچھے سے ٹٹولتے ہوئے بولا

لیکن تمہاری تو ہڈیاں بھی تمہاری طرح چھوٹی چھوٹی ہوں گی ۔اور کباب میں اتنی چھوٹی ہڈی سے یارم کاظمی کو کوئی فرق نہیں پڑتا

تو میں تمہیں کباب کے ساتھ ہی چھپا کر کھا جاؤں گا وہ اس کے گال کو ذرا شدت سے چوم کر بولا تو رویام اس کی ظلم پر رونے لگا

شاید یارم کی مونچھ اور داڑھی نے رویام کے نازک نقوش پر ظلم کیا تھا

مسٹر رویام صاحب ذرا ذرا سی بات پر رونے کی ضرورت نہیں ہے اور اپنے باپ کے پیار کی عادت ڈالو میں تو ایسے ہی پیار کروں گا

زرا بہادر بنو یار تو یارم کاظمی کے بیٹے ہو دوبئی کار ڈان کے

دارھی کی ذرا سی چھبن تم سے برداشت نہیں ہوتی وہ اسے اپنے سامنے کرتے ہوئے ذرا سخت لہجے میں بولا

اس کے اس طرح سے سامنے کرنے پر رویا م نے رونا بند کر دیا اور ایک بار پھر سے اسے گھورنے لگااس کا ایک ہونٹ اب بھی باہر تھا

اوئے مجھے گھورنا بند کرو ورنہ تیری ماں کو بتا دوں گا کہ نرس کے ساتھ تیرا کیا چل رہا ہے کچھ زیادہ ہی شریف سمجھ رکھا ہے اس نے تجھے لیکن میں تیرا باپ ہوں بہت اچھے سے جانتا ہوں تو کتنا بڑا ٹھرکی ہے یارم بول ہی رہا تھا کہ روح دودھ کی بوتل لے کر اندر داخل ہوئی

اگر تم اور دو منٹ لیٹ آتی تو میں سے واقعی ڈسٹ بن میں پھینک دیتا کتنا روئے جا رہا تھا یہ وہ اسے پھر سے تپنے لگا

ہاں مجھے بھی یہی لگتا تھا کہ آپ ایسا ہی کریں گے لیکن دودھ بنانے کے دوران میں نے ایک بات نوٹ کی کہ ایک باپ کبھی اپنے بچے کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا

اور میں جانتی ہوں کے آپ اس سے بہت پیار کرتے ہیں ۔آپ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے صرف مجھے تنگ کرنے کے لئے ایسا بول رہے ہیں ۔روح نے اپنی عقلمندی دکھائے تو یارم نے اسے داد دینے والے انداز میں تالی بجائی

مطلب کے تم اتنی عقل مند ہوکہ یہ بات تم نے کچن میں جاکر سوچی نہ کہ یہاں بیڈروم میں کیا تمہیں کمرے میں یاد نہیں آیا تھا کہ میں اس کا باپ ہوں وہ اس کے ہاتھ سے دودھ کی بوتل لیتے ہوئے رویام کے منہ میں ڈال چکا تھا ۔

نہیں خیال تو تب بھی آیا تھا لیکن ڈسٹ بن والی بات نے مجھے سچی میں ڈرا دیا تھا اب آپ کا کوئی بھروسہ بھی تو نہیں آپ تو کچھ بھی کر سکتے ہیں وہ آہستہ سے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی تو یارم اپنی ہنسی چھپا گیا

میں واقع کچھ بھی کر سکتا ہوں مجھ سے بہت اچھے کی امید مت رکھنا ۔وہ ہنستے ہوئے بولا توروح منہ بنا گئی

°°°°°°°

جب سے یارم نے رویام کو روح کو تنگ کرنے کے لئے منع کیا تھا تب سے تو وہ بالکل ہی روح کے ساتھ چپک کر رہنے لگا تھا

جیسے اس کی بات کو بہت اچھے سے سمجھ گیا ہو وہ تو شکر تھا کی رویام سوتا بہت زیادہ تھا ورنہ تو اسے روح کے ساتھ لمحات بھی نصیب نہ ہوتے

وہ ہر وقت روح کے ساتھ رہتا تھا اور وہ اسے ذرا سا روح کے ساتھ بیٹھے دیکھتا تو وہ رونا شروع کر دیتا رویام اب دو ماہ کا ہونے والا تھا

یارم نے تو ایسے ہی اسے دشمن کہہ دیا تھا لیکن اب وہ اصل میں اس کا دشمن بن چکا تھا

وہ ایک نظر یارم کو روح کے پاس جاتے دیکھتا اور پھر آپ نے کراکے دار آواز میں وہ رونا شروع کرتا ہے کہ جب تک روح اسے اٹھانا لیتی وہ چپ نہیں کرتا تھا ۔

یار م کووہ پیارا تو بہت تھا لیکن اس کا روح کے ساتھ چپکا چپکی اسے بالکل پسند نہیں تھی

اور خاص کر جب روح اس کے پاس ہوتی تھی اور روح کا سارا وقت اس کا ہوتا تھا پھر تو رویام کی مخالفت بالکل برداشت نہیں کر سکتا تھا

اب وہ اسے بےبی کاٹ میں سلاتی تھی ویسے تو اس کی پیدائش کے دوسرے ہفتے ہی وہ اپنے کمرے میں بےبی کاٹ لے آیا تھا اجہاں وہ رویام کی سوتے ہیں اسے اٹھا کر سائٹڈ لگا دیتا

کیونکہ روح کو اپنی باہوں میں بھرے بغیر اسے پرسکون نیند نہیں آتی تھی

کمرے میں بےبی کاٹ آنے کے بعد روح نے تھوڑا سا اعتراض تو کیا تھا لیکن یا رم نے کہا کہ اگر رویام بیڈ پر سوئے گا تو اسے دوسرے کمرے میں سونا ہوگا اور یہ بھی سچ تھا کہ روح کو دوسرے کمرے میں اکیلے سونے میں ڈر لگتا تھا اور رویام کو فی الحال وہ اکیلے دوسرے کمرے میں رہنے دے نہیں سکتی تھی

اسی لئے اسے اس بےبی کاٹ کے بوجھ کو سہنا پڑا

°°°°°

وہ کمرے میں آیا تو رویام بے بی کاٹ میں آرام سے سو رہا تھا

رات کو کیا کہا تھا میں نے تم سے اس ایلفی کے سونے کے بعد مجھے سٹڈی سے بلا لینا

لیکن جب میں کمرے میں آیا تو تم بھی اس کے ساتھ بے ہوش پڑی تھی تم دونوں نشہ کرکے سوئے تھے کیا جو میری یاد نہیں آئی

وہ روٹھا روٹھا سا بیڈ پر بیٹھ گیا

رات کو مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب مجھے نیند آگئی اور میں رویام کے ساتھ ہی سو گئی روح اسے روٹھا دیکھ کر مسکراتے ہوئے اسے منانے اس کے پاس آئی تھی

اسے منانا بہت ضروری تھا کیونکہ کل رویام کے لیے شاپنگ کرنے جانا تھا اور اکیلی وہ جا نہیں سکتی تھی اور اگر یارم مانا نہیں تو وہ اسے لے کر نہیں جائے گا

وہ ہاں میں سر ہلاتا ایک ہی پل میں اسے کھینچ کر بیڈ کر گرا چکا تھا جب کہ روح کو اس کے انداز بہت خطرناک لگے

یارم ابھی آپ مجھ سے ناراض تھے روح نے فوراً یاد دلایا

ان کو غلطی کی سزا چوم کے دی جاتی ہے،-

پیارے لوگوں کی خطاؤں پے بھی پیار آتا ہے،-

وہ دلکشی سے کہتا ہے اس کے لبوں پر جھکا اور ایک میٹھی سی جسارت کرتا ہوا پیچھے ہٹا اپنی شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھولے تو روح کو خطرے کی گھنٹی سنائی دینے لگی

یارم رویام جاگ جائے گا ۔وہ اسے پیچھے کرتے ہوئے سمجھا رہی تھی

کوئی بات نہیں دو دن پہلے میں نے اس کے کاٹ پر ایک چھنچھنا کھلونا لگایا تھا اسے وہ بہت پسند ہے اور جب وہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے تب اسے اپنی ماں کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی

اس لیے وہ اپنے ماں باپ کے پرائیویٹ موومنٹ کو بالکل ڈسٹرب نہیں کرے گا اور فی الحال تم مجھے ڈسٹرب مت کرو ورنہ کل میں تمہارے بیٹے کی شاپنگ کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گا

رویام کے سارے کپڑے اس کو چھوٹے ہو گئے یار م ہمہیں جانا ہو گا روح نے فوراً یاد کرواتے ہوئے اس کے گلے میں باہیں ڈال دی

گڈ گرل آف کورس ہم جائیں گے بس تم ڈسٹرب مت کرنا مجھے وہ مسکرا کر پہلے اس کے لبوں کو پھر اس کے گالوں کو چومتا اس کی گردن پر جھکا

جب کہ وہ خاموشی سے اس کا لمس محسوس کر رہی تھی

رویام کی ساری چیزوں کی لسٹ تو وہ پہلے ہی تیار کر چکی تھی

اور اب یارم بھی چلنے کو تیار تھا

سوا مہینہ مکمل ہو جانے کے بعد تقریبا روز ہی شاپنگ پر جارہی تھی لیکن پھر بھی اسے یہی لگتا تھا کہ رویام کے لیے چیزیں اب بھی کم ہیں

اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ پوری دنیا خرید لے اپنے بیٹے کے لیے جبکہ یارم بھی ہر روز اس کے لیے کچھ نہ کچھ لاتا رہتا تھا

یارم کھل کر اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتا تھا لیکن اس کے ہر انداز میں روح نے اس کے بیٹے کے لیے بے پناہ دے رکھی تھی

°°°°°