Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 6)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 6)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
وہ سب لوگ اس وقت یارم کے گھر پر تھے
صارم اپنے دونوں بچوں اور عروہ کے ساتھ بن بلایا مہمان تھا
جب کہ خضر اور لیلیٰ کو خود یارم نے انوائٹ کیا تھا
اور شارف اور معصومہ کو روح نے
یہ اچھا موقع تھا ایک ساتھ وقت گزارنے کا ۔
روح کو فلحال کوئی بھی ہیوی چیز دینے سے منع کیا گیا تھا لیکن یارم اس کی فیورٹ چیزیں اس سے دور کرکے وہ اسے اداس نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
اس لئے پہلے ہی اس کے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیا تھا ۔
اب روح پہلے سے کافی بہتر ہو چکی تھی
اور یارم نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کے ٹھیک ہو جانے کے بعد اسے لے کر کہیں گھومنے جائے گا
تاکہ وہ اچھا محسوس کرے اور اپنی نئی زندگی کو کھل کر جئے۔
اس کا سارا دھیان کب سے صرف روح پر ہی تھا ۔جس کی معصومیت نے اس محفل کو چارچاند لگائے ہوئے تھے
وہ کبھی شونو سے بات کرتی تو کبھی لیلیٰ کو مامی کہہ کر چھڑتی
کبھی شارف کے سامنے کوئی نہ کوئی شرط رکھ دیتی
اس کی یہ ساری شرارتیں عروہ اور صارم کے ساتھ بھی جاری تھی ۔
ان سب میں اگر کوئی خاموش اور کچھ پریشان تھا تو وہ خضرتھا وہ نوٹ کر رہا تھا کچھ دن سے خضر کچھ پریشان پریشان رہتا ہے
اور یارم کو یہ مشورے بھی دیتا ہے کہ وہ روح کو اپنا عادی نہ بنائے
یہ جاننے کے باوجود بھی کی روح اس کے جسم کا نہیں بلکہ روح کا حصہ ہے ۔
دو تین بار تو یارم اسے جھڑک بھی چکا تھا کہ اپنے کام سے مطلب رکھو میری اور روح کی پرسنل لائف سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہے
نہ جانے خضر کے دماغ میں کیا چل رہا تھا آج کل اس کے پاس یہی سب باتیں ہوتی کرنے کے لئے جن سے یارم کو اچھا خاصا غصہ آ جاتا
وہ جانتا تھا کہ خضر کبھی بھی اس کا برا نہیں سوچتا
وہ اس کا بہترین دوست ہے اور بچپن سے اس کے ساتھ ہے
لیکن وہ روح کے لیے یہ سب کچھ کیوں بول رہا تھا جب کہ وہ جانتا بھی تھا کہ وہ اس کی زندگی ہے اس کی جان ہے
وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ روح کو اپنا عادی مت بناؤ اسے لڑنا سکھاؤ دنیا کا مقابلہ کرنا سکھاؤ
وہ کیوں اسے دنیا کے سامنے مقابلے کے لیے چھوڑ دے ۔
وہ کیوں کوئی مشکل اس تک آنے دے
جبکہ روح کے سامنے اس کی ہر تکلیف سہنے اس کی ہر مصیبت کا سامنا کرنے کے لیے وہ خود کھڑا ہے
جب وہ خود اپنی روح کا محافظ ہے تو وہ اسی دنیا سے لڑنا کیوں سکھائے ۔
اس کی روح تو بس اپنے یارم سے لڑنا جانتی تھی
روح سے پہلے ان لوگوں کی زندگی کیا تھی ۔۔۔۔؟
آج ایک جگہ سے برائی کو مٹایا کل دوسری جگہ سے مٹانا ہے ۔
آج ایک شخص کا گلا کاٹا ہے کل دوسرے کی جان لینی ہے ۔
یہ سب تو تھی ان لوگوں کی روٹین روح سے پہلے ان کی زندگی میں کوئی انٹرٹینمنٹ نہیں کی وہ کہنے کو دوست تھے ایک دوسرے کے ساتھ تھے ایک ٹیم کا حصہ تھے
لیکن اس طرح مل جل کر بیٹھنا باتیں کرنا ایک دوسرے کو سمجھنا یہ سب تو انہوں نے کبھی بھی نہیں کیا تھا
یہ سب کچھ تو روح کے آنے کے بعد شروع ہوا تھا
روح کے ہاتھ کی بنی چائے سب کو پسند تھی ۔
اس روز روح نے انہیں پہلی دفعہ گھر انوائٹ کیا اور پھر یہ سب ان کا معمول بن گیا
خضر لیلی سے محبت کرتا تھا نہ جانے وہ اپنی محبت کتنے سالوں تک اپنے سینے میں دبا کے رکھتا پر لیلیٰ کو شاید کبھی پتہ بھی نہیں چلتا لیکن ایسا نہ ہوا
ان کے نصیب میں ایک دوسرے کا ساتھ تھا جو ملا
شارف نے اپنے جذبات کا اظہار معصومہ کے سامنے کیا ۔اور معصومہ نے اس کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس کی محبت کو قبول کیا
ان لوگوں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گزاریں گے
ان کی زندگی میں ان کے ہمسفر ہوں گے بچے ہوں گے
کتنی خوبصورت زندگی تھی ان سب کی
قانون اور جرم کے کھیل میں یارم اور صارم کی دوستی کہیں کھو سی گئی تھی اورعر وہ جسے وہ اپنی بہن کہتا ہی نہیں بلکہ دل سے مانتا بھی تھا اسے ملے ہوئے اسے سال سال گزر جاتا
لیکن روح کے آ جانے سے سب بدل گیا اس کی دوستی اس کے رشتے سب واپس آگئے
وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کے جذبات کو سمجھنے لگا ۔
اور یہ سب کچھ ہوا تھا اس کی روح کی وجہ سے ۔وہ رشتوں میں جینے والی رشتوں کو سمجھنے والی لڑکی اسی جینا سکھا گئی تھی
اور اب خضر چاہتا تھا کہ وہ اسے دنیا سے مقابلہ کرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دے
لیکن یارم اتنا خود غرض نہیں تھا وہ روح کے لئے جان دے بھی سکتا تھا اور کسی کی بھی جان لے بھی سکتا تھا
یہ لڑکی اس کے جینے کی وجہ تھی جس کے بغیر س نے جینے کا سوچا بھی نہیں تھا
اور آپ یہی بات وہ خضر کو بھی سمجھانا چاہتا تھا
فی الحال تو اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اچانک خضر کو ہوا کیا ہے وہ کیوں یہ ساری باتیں کر رہا ہے آخر اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے
وہ خود بھی کافی الجھا الجھا لگ رہا تھا آخر کون سی چیز تھی جو اسے ڈسٹرب کر رہی تھی اس کی پریشانی کی وجہ بنی ہوئی تھی
وہ خضر جو کل تک اسے روح کا خیال رکھنے اس کے پاس رہنے کی ہدایت کرتا تھا آج سے دنیا سے لڑنے کا مشورہ دے رہا ہے
اس وقت بھی وہ باہر اکیلا کھڑا نہ جانے کیا کر رہا تھا سب اندر تھے
یارم نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر خاموشی سے غیر محسوس انداز میں اٹھ کر باہر نکل آیا
°°°°
تم یہاں باہر اکیلے کیا کر رہے ہو خضر۔ ۔۔؟
سب لوگ اندر ہیں جب کہ تم یہاں آسمان میں شاید تاروں کو گھورنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے
وہ اس کے کاندھے پے ہاتھ رکھتا ہوا بولا
کل تک وہ اس پر غصہ تھا لیکن اب اس کا غصہ اتر چکا تھا
کچھ نہیں بس اندر اپنی موج مستی میں لگے ہوئے ہیں تو سوچا تھوڑا موسم انجوائے کر لوں خضر نے مسکرا کر کہا
بہت اچھی بات ہے چلو مل کر موسم انجوائے کرتے ہیں ساتھ میں کچھ باتیں بھی ہو جائیں گی
کیا بات کرنا چاہتے ہو تم مجھ سے خضر مسکرایا تھا
جانتا تھا یارم اس کے پاس ضرور آئے گا
تم جانتے ہو خضر مجھے کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے اور وہ سارا فتور تمہارے دماغ میں کس طرح سے آیا
وہ بات کو الجھانے کا عادی نہیں تھا سیدھی اور صاف بات کرتا تھا
میں جانتا ہوں یارم لیکن میں اپنی بات پر قائم ہوں میں نے تمہیں جو بتایا تھا وہ اب بھی کہتا ہوں
تم روح کو اپنا عادی بنا کر غلط کر رہے ہو
زندگی اتنی آسان نہیں ہے جتنی تم سمجھتے ہو
تم نے کبھی نوٹ کیا ہے روح آج کل بالکل کسی ضدی بچی کی طرح بیہو کرتی ہے ۔
اپنی پسند کی چیز نہ ملنے پر بے چین ہوجاتی ہے
تمہیں گھر آنے میں ذرا سی دیر ہوتی ہے پاگلوں کی طرح پورے گھر میں گھومتی ہے ۔
تمہارے بغیر باہر نہیں نکلتی
تمہارے بغیر کھانا نہیں کھاتی
تمہارے بغیر سوتی نہیں ہے
جب تک تم اس کے سامنے نہیں آ جاتے اسے چین نہیں ملتا
تم جانتے ہو کہ وہ اس گھر سے میرے گھر تک اکیلے نہیں جا سکتی کیونکہ ڈرتی ہے وہ اس میں ہمت ہی نہیں ہے
ایک جگہ پر کچھ لوگوں کو دیکھ کر وہ ان کے قریب سے نہیں گزرتی نجانے وہ اسے کیا کہہ دیں گے کیا کر دیں گے ۔
ہمت نام کی کوئی چیز اس کے اندر نہیں ہے ۔
سکول کے بعد کالج کا ماحول اس نے نہیں دیکھا پڑھائی میں اتنے اچھا ہونے کے باوجود بھی وہ چار کلاسیں نہیں پڑھ سکی
تم غور کرو وہ تمہارے بغیر کچھ نہیں ہیں بلکل زیرو ہے
یارم تمہاری محبت اسے بہادر نہیں بزدل بنا رہی ہے
یہ حقیقت ہے یا رم کہ وہ لڑکی جو دبئی کے ڈان کی بیوی ہے ایک بزدل لڑکی ہے وہ خود سے نہیں لڑ سکتی یہاں تک کہ وہ خود سے اکیلی باہر نہیں جا سکتی تم اس کا سہارا بن چکے ہوں یا رم
اسے لگتا ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر میں تم اس کے ساتھ ہو گے وہ جہاں بھی جائے گی جیسے بھی جائے گی تم ہمیشہ اس کے ساتھ رہو گے وہ اپنی رو میں اسے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا جب یارم نے اس کی بات کاٹی
ہاں یہ سچ ہے خضر میں ہر قدم پر اس کے ساتھ ہوں میں ہمیشہ اپنی روح کے ساتھ رہوں گا اگر وہ ڈرتی ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں ۔میں خود اس کے لیے لڑوں گا میں مقابلہ کروں گا دنیا کا نہ کہ روح کو اس بھیڑ میں تنہا چھوڑ دوں گا خضر کی بات کو سمجھے بغیر یارم نے کہا
اور اگر کل تم نہ رہے تو ۔۔۔۔؟فرض کرو کہ اگر کل تمہیں کچھ ہوگیا تو روح کا کیا ہو گا کل تم پر ایسٹ گرا۔میں جانتا ہوں وہ بہت تھوڑی سی مقدار تھی لیکن وہ زیادہ بھی تو ہو سکتا تھا
یارم ایک ہفتہ پہلے تمہیں گولی چھو کر گزری وہ گولی تمہارے سینے پر بھی تو لگ سکتی تھی نا
ہم موت کا کھیل کھیلتے ہیں زندگی نہیں موت ہمیں اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے ہر انسان نے اس دنیا سے جانا ہے آج نہیں تو کل ہماری موت بھی مقرر ہے
میں تم شارف اب تنہا نہیں ہیں۔ ہمارے ساتھ ہماری فیملی ہے ہمیں خود سے پہلے ان کی فکر کرنی ہے ۔
لیلیٰ اک بہادر لڑکی ہے میرے بعد جی لے گی ڈٹ کر دنیا کا مقابلہ کر لے گی ۔
اور معصومہ کو بھی ہم کم نہیں سمجھ سکتے وہ بھی لڑنا جانتی ہے اپنا دفاع کر سکے گی
لیکن تم نے کبھی روح کو دیکھا ہے
یارم وہ لڑکی تمہارے بغیر سانس نہیں لے سکتی تمہارے بغیر جینا تو دور کی بات تم نے اسے اپنا اس حد تک عادی بنا لیا ہے کہ وہ تمہارے علاوہ کچھ سوچتی ہی نہیں
میں یہ نہیں کہتا کہ تم سے دنیا کی بھیڑ میں اکیلا چھوڑ دو
لیکن اسے اس دنیا سے مقابلہ کرنا سکھا دو
اللہ نہ کرے کہ تمہیں کبھی بھی کچھ ہو لیکن زندگی کا کبھی کوئی بھروسہ نہیں یار میری بچی رول جائے گی وہ اس کے کاندھے پے ہاتھ رکھتا خاموشی سے وہاں سے نکل گیا جب کہ یارم کو گہری سوچ میں ڈال گیا تھا
خضر کی کوئی بات غلط نہیں تھی اس کے بعد اس کی روح کا کیا ہوگا اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا
وہ اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں میں لیے پھرتا تھا لیکن روح کے فیوچر کو لے کر اس کے دماغ میں کبھی کوئی بات نہیں آئی
وہ جو روح کے بغیر نہیں رہ سکتا خود بھی جانتا ہے کہ روح بھی اس کے ہونے سے ہے اگر کل اسے کچھ ہوجاتا ہے تو روح تو جیتے جی مر جائے گی اگر یارم کو کچھ ہوا تو روح بھی جی نہیں پائے گی لیکن وہ اپنی روح کو اپنے ساتھ مار تو نہیں سکتا تھا
خضر صحیح کہتا تھا اسے اپنی روح کو دنیا سے لڑنا سکھانا ہوگا ورنہ اس کے بعد یہ دنیا اس کی روح کو مار دے گی
اسے روح کو بہادر بنانا ہوگا ایک ڈان کی بیوی اتنی بزدل نہیں ہو سکتی کہ خود سے مقابلہ بھی نہ کر پائے روح کو لڑنا سیکھنا ہوگا اسے اپنا دفاع کرنا خود آنا چاہیے یارم نے سوچ لیا تھا کہ وہ روح کو احساس دلایا کہ وہ اس کا ساتھی ہے اس کا ہم سفر ہے لیکن روح میں اتنی ہمت ضرور پیدا کرے گا کہ وہ خود اپنے لئے اسٹنڈ لے سکے
°°°°°
سب کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر آفس کا کام کرنے کے بعد کمرے میں آیا تو روح بیڈ پر بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی
۔اف اتنی دیر لگا دیا آپ نے آج کیا کر رہے تھے آفس میں اس کے آتے ہی روح نے سوال پوچھا
کچھ نہیں بس کچھ کام تھا تم ابھی تک سوئی کیوں نہیں وہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا
کیوں کہ میں نے ابھی تک میڈیسن نہیں کھائی ۔اور نہ ہی میں کھانے کا ارادہ رکھتی ہوں لیلی نے بہت کوشش کی مجھے زبردستی دینے کی لیکن میں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ آپ مجھے کھلانے والے ہیں ۔
بس پھر کیا تھا وہ تو اتنی ڈرپوک ہے اتنا ڈرتی ہے آپ سے فوراً میری بات پر یقین کر لیا اور اب میری میڈیسن دور کہیں کمرے کے باہر گم ہو گئی ہیں اور آپ کو میں جانے نہیں دوں گی لانے کے لیے وہ اس کے گرد باہوں کا حصار تنگ کرتے ہوئے بولی ۔
لیکن بے بی یہ تو بڑی غلط بات ہے اگر تم نہیں کھاؤں گی تو ٹھیک کیسے ہوگی اور اگر تم ٹھیک نہیں ہوگی تو ہم اپنے سیکنڈ ہنی مون پر کیسے چلیں گے
وہ اپنی جیب سے کچھ نکالتے ہوئے اس کے سامنے رکھ کر پوچھنے لگا اور وہ سوالیہ انداز میں اپنا پاسپورٹ دیکھنے لگی
یارم ہم کہیں جا رہے ہیں کیا اس سے تو اگلے مہینے کی 14 تاریخ کی ڈیٹ ہے ہم کہاں جا رہے ہیں کل مہینے کی 14 تاریخ وہ سوالیہ انداز میں پاسپورٹ اٹھائے اس سے پوچھنے لگی
ہاں میری جان ہم سویزلینڈ جا رہے ہیں ۔آپنے سیکنڈ ہنی مون پر لیکن اس فلائٹ کی کچھ شرطیں ہیں اس میں بیمار لوگ نہیں جا سکتے
ڈاکٹر کی رپورٹس کے مطابق کسی بھی مسافر کو کوئی بیماری نہیں ہونی چاہیے اور اگر اسے کوئی بیماری ہوتی ہے تو پھر ایک ہی مسافر کو بھیج دیا جائے گا مطلب کے اگلے مہینے کی 14 تاریخ تک تم بالکل ٹھیک نہیں ہوئی تو وہ لوگ مجھے سویزلینڈ بھیج دیں گے اور شاید تمہیں یہی پر رہنا ہوگا
لیکن تم یہاں میرے بغیر اکیلی کیسےرہوگی تمہیں میرے ساتھ چلنا ہوگا لیکن دوا ئیاں تو تم کھاتی نہیں ہو تو ٹھیک کیسی ہوگی
آج تو دوائیاں تمہاری گم ہوگئی ہیں باہر کہیں دور ۔۔۔۔۔
ویسے سویزلینڈ بہت خوبصورت ہے اور وہاں کے نظارے بھی بہت خوبصورت ہے جیسے آئس لینڈ میں دیکھے تھےنہ کچھ ویسے ہی
استغفر اللہ یارم آپ وہاں ادھی برہنہ عورتیں دیکھیں گے ۔روح نے صدمے سے چیخ کر کہا تھا
۔آدھی نہیں بیگم یہاں تو شاید نظارے مکمل دیکھنے کو ملیں گے ۔اور یہاں تو کوئی روک ٹوک بھی نہیں ہوگی تمہاری طبیعت بہت خراب ہے میں ویسے بھی تم ہی لے کر نہیں جانا چاہتا تھا ۔تمہیں ایسی جگہوں پر جانا بھی نہیں چاہیے
وہ روح کو اپنے بے حد قریب کرتے ہوئے بولا تو وہ فوراً کی پناہوں سے دور ہوئی تھی
میں میڈیسن ڈھونڈ کے لاتی ہوں میں کھاؤں گی اور ٹھیک ہو جاؤں گی پھر ان دونوں ساتھ چلیں گے خبردار جو اکیلے جانے کے بارے میں سوچا وہ بھی ایسے گندے ماحول میں
ابھی آتی ہوں میں
وہاں جا کر عورتوں کو دیکھیں گے اسی لئے تو میرے بغیر جانا چاہتے ہیں میں ہونے دوں گی آپ کی ایسی پلیننگ پوری وہ باہر آ کر اونچی اونچی آواز میں بڑابڑتی اپنی چھپائی ہوئی میڈیسن ڈھونڈے لگی جبکہ یارم پرسکون تھا
°°°°°
وہ دوائی کھا کر اب مزے سے اس کے سینے کے سر پر رکھے اس سے سوال کر رہی تھی
یارم یہ سویزلینڈ اور آئرلینڈ دونوں بھائی بہن ہیں کیا۔۔۔۔۔؟ اس کے بے تکے سوال پر وہ سمجھ گیا تھا کہ دوائی اپنا اثر دکھا رہی ہے
واہ بیگم دو الگ الگ ملکوں کی رشتے داری بھی نکال لی مجھے تو لگتا تھا کہ تم صرف کتے اور انسانوں کے تعلقات بنانے میں ماہر ہو
خیر مجھے یہ تو نہیں پتا کہ سویزلینڈ اور آئرلینڈ کا آپس میں کیا تعلق ہے لیکن یہ دونوں مغربی ممالک ہیں ان دونوں ممالک کا شرم و حیا سے کوئی واسطہ نہیں وہ پرسکون انداز میں جواب دیتا روح کو سر اٹھا کر دیکھنے پر مجبور کر گیا
یارم آپ ان عورتوں کو مت دیکھیے گا پتا نہیں اتنے چھوٹے چھوٹے کپڑے کیسے پہن لیتے ہیں اپنی نظریں جھکا کر چلئے گا ہم باہر ہی نہیں نکلیں گے ہوٹل کے اندر ہی رہیں گے وہ انتہائی معصومیت سے سر دوبارہ اس کے سینے پر رکھتے ہوئے کہنے لگی تو یا رم کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ کھلی تھی
کیوں نہیں بےبی میں اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لوں گا کیا خیال ہے تمہارا اس نے شرارت سے کہا تو روح نے سر اٹھا کر زور و شور سے ہاں میں سر ہلایا
یہ والا آئیڈیا سب سے اچھا ہے وہ کہتے ہوئے دوبارہ سر اس کے سینے پر رکھ چکی تھی ۔اگلے مہینے کی بارہ تاریخ روح کا یہ کورس مکمل ہونے والا تھا اس کے بعد وہ اسے اپنے ساتھ ہی باہر لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا سویزرلینڈ کے ٹکٹ اس نے بہت پہلے ہی بک کروا لیے تھے
اور اب روح کے ٹھیک ہو جانے کے بعد وہ اس کے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے والا تھا جس میں وہ ہوگا اس کی روح ہوگی اور ایک نیا سفر شروع ہوگا اور اس سفر میں اس کی روح بزدل نہیں ہوگی وہ روح کو دنیا سے مقابلہ کرنا سکھائے گا اس لیے نہیں کہ اسے اپنی زندگی کا بھروسا نہیں تھا بلکہ اس لیے کہ وہ چاہتا تھا کے اس کی روح بہادر بنے
°°°°°
