Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 42)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 42)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
ہر طرف خاموشی چھائی تھی ۔
ایک ہفتہ یوں ہی گزر گیا۔۔اس کی بیٹیاں بچھڑ گئیں اور وہ کچھ نا کر سکی ۔
ابھی کل کی ہو تو بات تھی وہ اس گھر میں چہکتی تھیں۔سارہ سارہ دن اسے تنگ کرتی تھیں
وہ تنگ آ کر ان کو باندھ دیتی کبھی واش روم میں تو کبھی ٹی وی کے سامنے صوفے کے ساتھ سارا دن ان کو پیار کرتی سمجھاتی کہ وہ ان کی ماں ہے
اور ان کو اس کا ساتھ دینا چاہے نا کہ خضر کا
اور وہ سارا دن اس کی لاڈلیاں بنی رہتیں اور خضر کے آتے ہی ٹیم چینج کر لیتیں وہ ناراض ہو کر بیٹھ جاتی تو وہ دونوں پیار سے اسے مناتی بھی تھیں
لیکن ہر بات کے اینڈ پر اسے بتاتی کہ بیسٹ پھر بھی بابا ہی ہیں . اور وہ اپنے بابا کی پریاں
اور پھروہ پریاں ان کو چھوڑ کر چلی گئیں لیلیٰ کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا اس کی بیٹی اسے چھوڑ کر چلی گئیں وہ ان کی حفاظت کرنا چاہتی تھی اور خود موت کے منہ میں چھوڑ آئی۔کیسی ماں تھی وہ ۔۔۔؟اپنی ہی بیٹیوں کو کھا گئی ۔۔۔؟
اپنی ہی اولاد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
وہ اندر ہی اندر گھٹ کر مر رہی تھی ابھی تک اس کی آنکھ سے ایک آنسو نہ گرا وہ اپنی ہی بیٹیوں کو کھا جانے والی ڈائن تھی اس لیے ان پر رونے کا کوئی حق نہیں تھا
اس نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی معصوم بچیوں کی جان لی تھی
تو اب کس طرح سے روتی
آنسو خاموش ہو چکے تھے ۔آنکھیں ایسے خشک تھیں کہ ان سے ایک قطرہ بھی نہ بہا وہ اپنے آپ کو اس قابل ہی نہیں سمجھتی تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں کی موت پر روتی
لیلیٰ خدا کے لئے خود کو یوں اذیت مت دو اپنے اندر اپنے آنسوؤں کا گلا گھونٹ کر خود کو مردہ ثابت مت کرو
اس طرح سے تمہارا دل مر جائے گا معصومہ اسے سمجھا رہی تھی کب سے اس کے پاس بیٹھی مسلسل روئے جا رہی تھی
مگر لیلیٰ تو جیسے پتھر کی بنی ہوئی تھی پچھلے ایک ہفتے سے ایک آنسو نہ بہایا تھا تو اب کیوں روتی ۔۔۔۔!
معصومہ چلی جاؤ یہاں سے اور مجھے اکیلا چھوڑ دو کوئی بھی میرے پاس مت رہو میں ڈائن ہوں اپنا ہی گھر برباد کرنے والی اپنی بچیوں کی جان لینے والی مجھے کوئی حق نہیں ہے رونے کا مجھے میرے حال پر چھوڑ دو چلے جاؤ یہاں سے سب
اس پر ایک بار پھر سے پاگل پن سوار ہونے لگا رونے کو تیار نہ تھی اور اب وہ اپنے پاس بھی کسی کو نہیں آنے دے رہی تھی
خضر بالکل خاموش ہو گیا تھا وہ تو ویسے بھی اس کے پاس نہیں آتا تھا بس اپنے آپ میں ہی مصروف رہتا نہ کسی سے کچھ بولتا اور نہ کسی سے کچھ کہتا
ان کے گھر میں پھیلی یہ افسردگی اب شاید ہی ختم ہونی تھی
°°°°°
ج تین دن سے وہ بخار میں تپ رہی تھی حالت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ ڈاکٹر کو گھر آنا پڑا وہ نا تو کچھ کھا رہی تھی اور نہ ہی کسی سے بات کرتی تھی
خضر اس کے پاس آیا کتنی دیر سے بات کرنے کی کوشش کرتا رہا اسے سمجھاتا رہا ہے یہ قسمت کا فیصلہ ہے تمہارا کوئی قصور نہیں لیکن لیلیٰ پر تو ایسے چپ سوار ہوئی تھی کہ وہ کچھ بولتی ہی نہیں تھی
پہلے اس نے کھانا پینا چھوڑا اب اس نے بولنا چالنا بند کر دیا تھا خود کو کمرے میں لاک کر رکھتی ۔
خضر کتنی دیر اس کے پاس بیٹھا رہتا ہے وہ اس سے بھی کوئی بات نہیں کرتی تھی
اپنی اپنی جگہ پرکوئی اسے سمجھا چکا تھا لیکن وہ کہاں کسی کی سمجھنا چاہتی تھی اسے تو بس اپنی بیٹیاں چاہیے تھیں جو اس کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے اسے چھوڑ کر جا چکیں تھیں
وہ ان کی حفاظت کرنا چاہتی تھی خضر نے منع بھی کیا تھا کاش وہ اس کی بات مان لیتی کاش خضر کی ناراضگی کو وہ اہمیت دیتی
لیکن اس نے تو ہمیشہ سے اپنی کرنی تھی اور اس نے اپنی کی تھی جس کی سزا وہ آج کاٹ رہی تھی ۔انہیں ہمیشہ کے لئے کھو کر وہ انہیں خود سے دور کر رہی تھی اللہ نے اسےہمیشہ کے لئے ان سے دور کردیا
°°°°°°°
لیلیٰ کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی سب ہی لوگ پریشان تھے
اپنا درد خودتک محدود رکھے وہ اندر ہی اندر مر رہی تھی
کمرے میں اندھیرا تھا ۔اور وہ اس اندھیرے کی باسی بنی بالکل خاموش آج پھر روح اور یارم اس سے ملنے کے لیے آئے تھے لیکن وہ اب بھی اسی اندھیرے میں بیٹھی تھی جیسے کسی سے کوئی لینا دینا ہی نہ ہو
وہ دونوں الگ نہیں سوتی تھی ان کا کہنا تھا کہ ان کے بابا کو ان کے بغیر نیند نہیں آتی لیکن اس کے باوجود بھی لیلیٰ نے ان کے لئے ایک کمرہ بنایا تھا اور اب وہ اسی کمرے میں رہتی تھی
آج پہلی بار یہاں آ کر رویام بالکل اکیلا ہو گیا تھا آج اس سے کھیلنے کے لئے اسے زبردستی کس کرنے کے لئے یہاں اس کی دوست نہیں تھیں
وہ ان دونوں کو تلاش کرتا آہستہ آہستہ چلتا ان کے کمرے میں آ گیا اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے دروازہ کھولتا وہ نیم اندھیرے میں بھی لیلیٰ کے وجود کو دیکھ چکا تھا
کسی کی آہٹ کو محسوس کرکے لیلیٰ نے سر اٹھایا تو رویام دروازے پر کھڑا تھا آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے پاس آ گیا اور حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا
شاید اس سے پہلے اس نے لیلیٰ کو کبھی اس حالت میں نہیں دیکھا تھا وہ خوبصورت لڑکی ہمیشہ تیار رہتی اس نے اپنے آپ کو کبھی دوبچیوں کی ماں لگنے ہی نہیں دیا تھا وہ اپنا خیال رکھتی اپنے آپ کو سنوار کر رکھتی
سب کی پسندیدہ وہ ایسے ہی تو نہیں بنی تھی کوئی بھی بچہ اسے آنٹی نہیں کہتا تھا اور رویام کی تو وہ رشتے میں نانی لگتی تھی
رویام کے اس طرح سے دیکھنے پر وہ بھی بے جان نظروں سے اسے دیکھنے لگی اس کا ننھا سا وجود اسے اپنی بچیوں کی یاد دلا رہا تھا
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی رودی اس کے آنسو بہنے لگے آنکھوں نے آخر ہمت ہار کے اپنا ضبط کو کھو ہی دیا اگلے ہی لمحے رویام نے اس کی آنکھ سے بہتے آنسو کو اپنے ننھے سے ہاتھ سے اس کے چہرے پر سے صاف کر ڈالا
اسی کسی کا رونا پسند نہیں تھا لیکن لیلیٰ کی تڑپ کو خود سمجھ نہیں سکتا تھا بے اختیار لیلیٰ نے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
اس کی رونے کی آوازیں باہر تک آ رہی تھی وہ سب بھاگتے ہوئے کمرے کی جانب آئے
جہاں لیلیٰ رویام کو اپنے سینے میں بھیجے روئے جارہی تھی
اس کی جارحانہ گرفت میں بھی رویام رویا نہ تھا شاید وہ اس کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
لیلیٰ کا یہ انداز اس کے لئے بھی اتنا ہی نیا تھا جتنا باقی سب کے لیے آج تک لیلیٰ کو کسی نے اس طرح سے روتے ہوئے نہ دیکھا وہ تو ان کے گروپ کی شیرنی تھی
جو سامنے والے کو چیر پھاڑ کے رکھ دینے کا ہنر جانتی تھی
عام عورتوں کی طرح رونا دھونا آنسو بہانہ لیلیٰ کا اسٹائل نہیں تھا
لیکن وہ ایک ماں بھی تھی اور آج وہ ان کی شیرنی نہیں بلکہ ایک ماں بنی ہوئی تھی جس کی آنکھوں میں اپنی بچیوں کے بچھڑ جانے کا غم تھا
خضر جلدی سے اس کے پاس آیا اس نےلیلیٰ کو تھام کر اپنے سینے سے لگایا جبکہ وہ دیوانوں کی طرح رویام کو چومتے اپنی ممتا کی پیاس بجھا رہی تھی
خضر میں مر جاؤں گی میں مر جاؤں گی خضر مجھے میری بچیاں چاہیے
خضر میں نہیں رہ سکتی ان کے بغیر ان کے بغیر رہنا میرے بس سے باہر ہے
میری تڑپ کو سمجھنے کی کوشش کرو
دیکھو دیکھو میری ممتا ادھوری ہے دیکھو میں ادھوری ہو چکی ہوں خضرمجھے میری بچیاں چاہیے
وہ ایک ہاتھ سے رویام کو تھامے جب کہ دوسرے ہاتھ میں خضر کاکلرجھنجوڑرہی تھی
صبر کرو لیلیٰ سب ٹھیک ہو جائے گا
وہ اسے اپنے سینے سے لگائے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا
رویام کو روتا دیکھ کر یارم نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو روح نے اس کا ہاتھ تھام لیا
میرے خیال میں رویام کو آج یہیں رہنے دینا چاہیے
لیلیٰ کو اس کی ضرورت ہے
وہ آہستہ آواز میں بولی تو یارم اسے دیکھنے لگا
تم اس کے بغیر رہ لوگی یا رم نے سوال کیا تو روح نے نرمی سے ہاں میں سر ہلا دیا
خضر تم لیلی کو سنبھالو ہم اب گھر چلتے ہیں یارم نے اندر آتے ہوئے کہا تو لیلیٰ نے ایک بار پھر سے رویام کو اپنے تڑپتے سینے سے لگا لیا
لیلیٰ تم رویام کا خیال رکھنا وہ آہستہ سے اسے کہتا اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر باہر نکل گیا جب کہ لیلیٰ نے ایک بار پھر رویام کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا
°°°°°°
گھر آکر وہ نہ جانے کتنی دیر روتی رہی اور یارم اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا رہا
لیلیٰ کو اس طرح سے ٹوٹا پھوٹا دیکھنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی وہ ان کے گروپ کی سب سے بہادر لڑکی رونا دھونا آتا کہاں تھا اسے وہ تو ان سب چیزوں کو بیوقوفی تصور کرتی تھی
لیکن اولاد کے غم نے اسے بھی توڑ کر رکھ دیا تھا
اس کا تڑپ تڑپ کر رونا روح کو بے چین کر گیا
اولاد کے چھین جانے کا خوف کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن لیلیٰ نے تو اپنی بچیاں ہی کھودی تھیں
صبر کرنا ایک انتہائی مشکل کام تھا نہ جانے خضر کیسے خاموش تھا
بس کرو روح کتنا رو گی تمہارے آنسو مجھے تکلیف دے رہے ہیں وہ نرمی سے اس کی آنکھوں کو چومتا اپنی تکلیف کا احساس دلاتے ہوئے بولا
اللہ کسی کی اولاد نہ چھینے یارم اس سے بڑا دکھ اور کوئی نہیں ہو سکتا وہ اس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
پریشان تو وہ بھی تھا عنایت چلبلی سی ہر وقت مستیاں کرنے والی پیاری سی بچی اور مہر خاموش طبیعت چپ چاپ سی جو ہر دوسرے تیسرے دن اس کے گھر آکر اس سے اپنے دل کی ہر بات شیئر کرتی تھی
یقین تو اسے بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کی نظروں سے ہمیشہ کے لئے اوجھل ہو چکی ہیں
روح کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی اسے سر درد کی گولی دے کر نیند کی بھی گولی دی کہ وہ پرسکون ہو کر سو جائے
اور اسے سوتے دیکھ کر آہستہ سے اٹھ کر کھڑکی کے قریب آگیا اور اپنے موبائل پر آنے والی کال سننے لگا
°°°°°°
وقت گزر رہا تھا سب کچھ معمول کے مطابق ہونے لگا یارم دوسرے دن جب رویام کو لینے آیا تو لیلیٰ کو اس کے ساتھ کافی اٹیچ دیکھا وہ بنارویام کو لئے واپس آگیا
اور اب تین دن سے وہ وہیں پر رہ رہا تھا
اپنی ماں کو تو وہ بہت مس کر ہی رہا تھا لیکن لیلیٰ کی محبت بھی اسے عزیز تھی
وہ یارم اور روح کے علاوہ اور کسی کو زیادہ تنگ نہیں کرتا تھا
یہ بات روح اور یارم دونوں ہی جانتے تھے اس لئے اس معاملے میں بالکل بے فکر ہوچکے تھے لیلیٰ جب تک ٹھیک نہیں ہو جاتی ان کا رویام کو واپس لانے کا ارادہ نہیں تھا
اس کی تڑپتی ممتا کو ننھے معصوم لمس کی ضرورت تھی
اور رویام کو واپس لاکر وہ اس کی ممتا کوتپتے صحرا میں چھوڑ نہیں سکتے تھے
عنایت اور مہر کی لاش نہ ملی تھی
اگر ملی تھی تو صرف اور صرف مہر کے پیر کی جوتی
لاشیں بلاسٹ میں بری طرح سے تباہ ہو گئی
گاڑی کا بھی کوئی حال نہ تھا
بلاسٹ اس قدر شدید تھا کہ لیلیٰ اپنی بچیوں کے جنازے تک نہ کروا سکی اسے کس طرح سے چین آتا ۔وہ کیسے سکون سے رہتی اس نے تو اپنی بچیوں کا آخری دیدار تک نہ کیا تھا
°°°°°°
لیلیٰ نے بہت ہمت کرکے عنایت اور مہر کا کمرہ صاف کیا تھا ۔
ان کے سب کھلونے اور ساری چیزیں وہ ایک بڑے سے بیگ میں پیک کر کے دارالامان میں دینے جا رہی تھی
لیلیٰ کیا ضرورت ہے یہ سب کچھ کرنے کی ان سب چیزوں کو یہی رہنے خضر کمرے میں آیا تو اسے یہ سب کر دیکھ کر پریشانی سے کہنے لگا
نہیں خضر مجھے یہ ساری چیزیں دینے دو میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے اگر ہماری بچیاں ان کھلونوں سے نہیں کھیل سکتی تو کیا ہوا دارالامان کے یتیم بچے ان سب چیزوں کو استعمال کریں گے اور ہماری عنایت اور مہر کے لیے دعائیں کریں گے
اگر تم ان یتیموں کو کچھ دینا چاہتی ہو تو ہم باہر سے خرید کر بھی دے سکتے ہیں میری بچیوں کی چیزیں کیوں دے رہی ہو
ہم دیں گے خضر ہم باہر سے خرید کر بھی دیں گے ان کو لیکن یہ ساری چیزیں میں اس لیے دے رہی ہوں کیونکہ مجھے میری بچیوں کے لئے بہت ساری دعائیں چاہیے ۔
میں ان چھوٹے چھوٹے بچوں میں اپنی بچیوں کو محسوس کرنا چاہتی ہوں
میں بہت خود غرض ہوں میں نے کبھی اپنی بچیوں کو اپنے بے حد قریب نہیں آنے دیا
ہمارا کام ایسا ہے کہ کبھی بھی ہمیں گولی لگ سکتی ہے کبھی بھی ہم مر سکتے ہیں میں اپنی بچیوں کو ماں کی عادت نہیں ڈالنا چاہتی تھی
لیکن وہ دونوں مجھ سے روٹھ کر چلی گئیں ہمیشہ کے لئے ۔خضر میں وعدہ کرتی ہوں اگر زندگی میں مجھے کبھی دوبارہ اولاد ہوئی نا تمہیں کبھی اسے خود سے دور نہیں کروں گی اس تڑپ کو میں اب محسوس کر رہی ہوں میں کیوں اپنی بچیوں کےلمس سے بے خبر رہی خضر
کیوں انہیں خود سے دور کیا دیکھو نہ وہ روٹھ کر ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور چلی گئیں ہمیشہ کے لئے اپنی ماں سے ناراض ہوگئیں ۔وہ آنکھوں سے نمی صاف کرتے ہوئے بولی تو خضر اس کے پاس آتے ہوئے بیڈ کے قریب بیٹھا اور اسے اپنا کندھا پیش کیا
وہ آہستہ سے اس کے کندھے پر سر رکھتی خاموشی سے آنسو بہانے لگی
میں تمہارے سر پر روز چمپی کروں گی تمھارے بال خراب نہیں ہوں گے اور جب تم کام سے واپس آؤ گے نہ تو روز تمہیں ہگ کروں گی تمہاری بیٹیاں آخرت کے دن مجھ سے حساب مانگیں گیں
وہ آنسو بہاتے ہوئے بولی تو خضر نے اسے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا کاش وہ اس کا دکھ کم کرسکتا کاش وہ اس کی تڑپ کو مٹا سکتا لیکن ممتا کی تڑپ کو مٹانا کہاں ممکن تھا
تھوڑی ہی دیر میں شارف آگیا ۔اور لیلیٰ سےسامان لے کر اسے گاڑی میں شفٹ کرنے لگا ۔لیلیٰ کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے شارف نےاسے اپنے ساتھ چلنے سے منع کر دیا تھا
°°°°°°
رات گیارہ بجے کا وقت تھا
وہ ہاتھوں میں بیگ لیے اسے گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا
اس نے سر اور چہرے پر ہڈ پہن رکھا تھا کہ کوئی بھی آسانی سے اسے پہچان نہیں سکتا تھا وہ بہت لمبی مسافت طے کرکے آیا تھا
تھکاوٹ اس کے ایک ایک عضو سے جھلک رہی تھی
اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو دونوں ملازمہ الرٹ ہوگئیں
اور دروازے کی طرف دیکھنے لگیں لیکن اسے دیکھتے ہی انہوں نے گہری پرسکون سانس لی
کیسی ہیں وہ دونوں زیادہ تنگ تو نہیں کیا وہ ملازمہ سے پوچھنے لگا تو دونوں نے مسکرا کے نا میں سر ہلایا وہ مسکراتا ہوا ان کے کمرے کی جانب آگیا تھا
اتنا بڑا بیگ اس بیگ میں کیا ہے ملازمہ نے پوچھا
ان دو پریوں کا سارا ضروری سامان وہ مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوا تو اسے دیکھتے ہی وہ دونوں چلاتے ہوئے اس کی طرف آئی تھیں
شارف چاچو نعرہ لگاتے وہ اس کے سینے سے آ لگی تھی
میری شہزادیاں کیسی ہو دونوں وہ باری باری ان کا سر چومتا پوچھنے لگا دونوں خوشی سے ہاں میں سر ہلاتی اسے بے حد پیاری لگی تھی
اچھا یہ سارا سامان تم دونوں کی ماما نے بھیجا ہے تاکہ اس کی بیٹیاں یہاں پر بہت خوش رہیں اور بابا تم لوگوں کو بہت سارا پیار بھیج رہے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ تم دونوں یہاں پر خوش ہونا وہ بہت نرمی سے ان دونوں سے پوچھ رہا تھا
چاچو ہم بہت خوش ہیں یہاں پر زیادہ پڑھائی بھی نہیں کرنی پڑتی تھی لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ ہوسٹل میں ہمارے بہت سارے دوست ہوں گے لیکن یہ کیسا ہوسٹل ہے یہاں تو ہم دونوں کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے
کہاں ہیں ہمارے دوست اور ماما اور بابا ہم سے ملنے کب آئیں گے وہ دونوں باری باری سوال کر رہی تھی
ارے چپ کر جاؤ میری چھپکلیوں وہ دونوں جلد ہی آئیں گے تم لوگوں سے ملنے کے لیے لیکن فی الحال تم لوگوں کو یہیں رہنا ہے ان کے بغیر
یہاں تم لوگ پڑھائی کرو اور مستی کرو یہاں تم لوگوں کو ہر طرح کی چھوٹ ہے ایک دوسرے کا خیال رکھو اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو میری آنٹی اور شفاآنٹی کو بتا دینا ۔وہ مجھے بتائیں گیں
اور میں وہ چیز لے کر یہاں حاضر ہو جاؤں گا (اگر تم لوگوں کی ماں کے ہاتھوں زندہ بچ گیاتو) اس نے سوچا
کیوں کہ سچائی جاننے کے بعد لیلیٰ نے اسے جان سے مار دینا تھا پچھلے دنوں وہ جتنا تڑپی تھی اپنی بیٹیوں کی جدائی پر روئی تھی اس کے بعد حقیقت جان کر شارف کی موت لازم تھی
دونوں سے مل کر انہیں بہت ساری ہدایات دے کر وہاں سے باہر نکل کر اس نے اپنا فون نکالا
ہاں وہ تو بالکل ٹھیک ہیں فکر مت کرو میں ایک ایک پل پر نظر رکھے ہوئے ہوں یہاں وہ بالکل محفوظ ہیں
وہ میری اور شفا کو ہدایت دیتا دروازہ بند کرتے ہوئے باہر گارڈز کے پاس آیا
اور انہیں ہر پل الرٹ رہنے کا کہتا واپس اپنی گاڑی میں بیٹھا جب کہ اس دوران اس کی کال چل رہی تھی اسے صبح ہونے سے پہلے پہلے واپس اپنے شہر جانا تھا آٹھ گھنٹے کا ایک سفر ابھی ابھی اس نے ختم کیا تھا اور 8 گھنٹے کا سفر اس نے ایک بارپھر سے شروع کر دیا تھا
°°°°
