Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 47)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

نہیں

کیا نہیں یار میں تمہیں بتا تو رہا ہوں صرف ایک ڈھائی سال کا بچہ ہے تمہارا بلیڈ گروپ اس سے میچ کر رہا ہے اور جہاں تک میرا اندازہ ہے مجھے لگ رہا ہے تمہارا بون میرو بھی اس سے میچ کرے گا .حسن اس کی نہیں پر سمجھانے لگا

وہ ڈھائی سال کا ہو یابیس سال کا میں کچھ نہیں کر رہا اور ہی میں نے کسی کو بچانے کا ٹھیکہ نہیں دے رکھا اور نہ ہی مجھے انٹرسٹ ہےاس سب میں۔درک انکار کرتے ہوئے اٹھا

اس میں انٹرسٹ والی کیا بات ہے ایک بچہ ہے اس کی جان خطرے میں ہے تم اپنے سسٹم سیل سے اس کی جان بچا سکتے ہو ۔یہ نیکی ہو گی اور اس کا باپ فری میں نہیں لے گا کڑوروں دے گا صرف ایک زرا سے اپریشن کے لیے

حسن کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے کیسے سمجھائیں

ایک ہفتہ تیزی سے گزر چکا تھا اور وقت بہت کم تھا ۔یارم روز رویام کو انجکشن لگوانے آتا تھا جس سے رویام کو تکلیف نہ ہو اور اس کا یہی سوال ہوتا

ابھی تک رویام کا بون میرو تو کیا بلڈ گروپ میچ کرتا بھی ڈونر بھی نہیں ملا تھا

دیکھو بات سیدھی سی ہے مجھ سے یہ سب کچھ نہیں ہوتا میں یہاں صرف اور صرف پری کو لے کر آیا تھا

اگر اسے میرے خون یا بون میرو کی ضرورت ہے تو بات کرو باقی میرا دنیا کے کسی شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

اس کی طرف سے صاف انکار تھا اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کوئی جیتا ہے یا کوئی مرتا ہے اس سے کسی کی جان بچ سکتی ہے یا کوئی زندگی کی طرف لوٹ کر آ سکتا ہے اسے صرف اور صرف پری سے مطلب تھا

درک ایک بار سوچو تو سہی ۔وہ ڈھائی سال کا بچہ ہے تم ایک بار اپنا چیک اپ کروا لو ہو سکتا ہے تمہارا بون میرو اس سے میچ کر جائے ۔یار میں صرف یہ چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔

بات سنو میری حسن ابھی تم نے بتایا کہ تم کتنے لوگوں کا چیک اپ کر چکے ہو کسی کا بھی بون میرو اس بچے سے میچ نہیں ہوا تو میرے ترلے کیوں کر رہے ہو کیا تمہیں یقین کیوں ہے کہ میرا بون میرو اس سے میچ ہو جائے گا ۔

اور اگر میچ ہو بھی گیا تو کیا میں اسے اپنا بون میرو دوں گا ۔تمہیں کیا لگتا ہے کیا مجھے نہیں پتا بون میرو ٹرانسفارمیشن میں کتنی تکلیف ہوتی ہے

اورتمہیں کیوں لگتا ہے کہ میں کسی کے لیے کسی قسم کی کوئی تکلیف برداشت کروں گا

کوئی جیے یا مرے بھئی میں کسی کے لیے میں خود کو تکلیف کیوں پہنچاؤں گا

اس بچے کا باپ تمہیں اس تکلیف کی پائی پائی چُکا دے گا وہ تمہیں اتنا پیسہ دے گا کہ تم سٹہ کھیلنے جیسا غلیظ کام نہیں کرو گے

لیسن ۔۔۔؟حسن سٹہ میں اپنے شوق کے لیے کھیلتا ہوں پیٹ کے لئے نہیں ۔جس دن پیٹ کے لیے کھیلنا شروع کیا نہ اس دن میرے بھی ایسے ہی چرچے ہوں گے

اور اب تم اس چیز کے لیے مجھے یہاں نہیں بلاؤ گے ۔ورنہ پری کا علاج کروانے کے لیے دنیا میں بہت سارے ہوسپٹل ہیں ۔

وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بنا اسے دیکھے باہر کی جانب نکل گیا

حسن کو یقین تھا نہ صرف اس کا بلیڈ گروپ رویام سے میچ کرے گا بلکہ اس کابون میرو بھی سیم ہوگا لیکن یہ چیک اپ کروانے کے لیے بھی تیار نہیں تھا

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے دن تیزی سے گزر رہے تھے اور وہ بہت کوشش کے باوجود بھی رویام کے لیے کچھ نہیں کر پا رہا تھا

°°°°°°°

رویام آرام سے بیٹھ جاؤ بیٹا

میری جان آپ نیچے گر جاؤ گے پھر وہ اے شلیف پر بٹھا کر اپنا کام مکمل کر رہی تھی

جبکہ رویام بار بار شلیف کے اوپر کھڑا ہو جاتا ۔

گندے بتے گلتے ہیں ریام تو پالا بےبی اے۔(گندے بچے گرتے ہیں رویام تو پیارا بےبی ہے )وہ اپنا لوجک دیتے ہوئے کھڑا ہو گیاروح نفی میں سر ہلا کر اس کے پاس آئی اور اسے واپس بٹھا کر اپنا کام کرنے لگی

یہ کوئی نیا کام نہیں تھا وہ روز ایسا ہی کرتا تھا آج چھ دن گزر چکے تھے رویام کی بیماری کے بارے میں پتہ چلے ہوئے

ڈاکٹر ہر طرف سے اس کے ڈونر کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔

رویام کی وجہ سے یارم کی ساری رات جاگتے ہوئے گزرتی اور روح کا دن کیونکہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ رویام کو کبھی بھی تکلیف ہو سکتی ہے

ایک لمحے کی لاپروائی بہت بری ثابت ہوسکتی ہے

ڈاکٹر نے اسے ہسپتال میں لکھنے کا مشورہ دیا تھا جو روح اور یارم دونوں کو ہی پسند نہ آیا

وہ رویام کو کسی بھی قسم کے بیمار ماحول میں نہیں رکھنا چاہتے تھے

وہ ہر وقت ہنستا کھیلتا رہنے والا بچہ تھا وہ ایک جگہ بیٹھ کر نہیں رہ سکتا تھا

ان چھ دن میں رویام کو دوسرے ہی دن ایک بار پھر سے خون کی الٹی ہوئی ۔وہ دن بدن کمزور ہوتا جارہا تھا

روح کو تو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ بیماری اسے ہوئی کیسے وہ تو اسے کہیں آنے جانے نہیں دیتی رویام ہر پل اس کے ساتھ رہتا ہے رویام کے معاملے میں روح اور یارم ذرا بھی لاپرواہی نہیں تھے

لیکن پھر ڈاکٹر نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ یہ بیماری ہے جو کسی کو بھی ہو سکتی ہے

(لکیمیا)بلڈ کینسر کوئی خاندانی یا اچھوت کی بیماری ہرگز نہیں تھی ۔

بس اتنا پتا تھا کہ جب یہ بیماری شروع ہوتی ہے تو بخار کمزوری یا کھانسی سے شو ہونا شروع ہوتی ہے رویام کبھی بھی ایک صحت مند بچہ نہیں تھا

وہ ایک کمزور حالت میں پیدا ہوا بچہ تھا اس لیے اس کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے کسی کو بھی نہ لگا تھا کہ اسے کوئی بیماری ہو سکتی ہے

اور کھانسی اور بخار تو اسے ابھی شروع ہوا تھا

پچھلی چھ راتوں سے یارم مسلسل جاگ رہا تھا ۔وہ صبح کے وقت روح کو جگا کر سوتا تھا ۔وہ ایک لمحے کے لیے بھی لاپروائی نہیں بھرت رہے تھے ۔

رویام کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں کے لیے ہی آنکھیں موندنا بہت مشکل تھا لیکن خضرنے سمجھایا کہ یہ جنگ صرف رویام کی نہیں بلکہ ان دونوں کی بھی ہے اور رویام کا خیال رکھنے کے لیے انہیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہوگا

اور اس کے لیے اب یارم رات کے وقت رویام کا خیال رکھتا تھا جبکہ روح سارادن

مما بوت لدی ہے ریام تو (ماما بھوک لگی ہے رویام کو)اسے کب سے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں ناکام ہوتے ہوئے رویام نے معصومیت سے کہا

کوئی بھوک نہیں لگی ۔اور نہ ہی کوئی چاکلیٹ ملے گی ۔ پہلے ہی دانت خراب ہو گئے ہیں رویام کے ۔روح نے فوراً انکار کر دیا

الے ریام تے دنت کراب نی ہے۔مہل ال نایت کے کراب او گے (ارے رویام کے دانت خراب نہیں ہیں ۔مہر اور عنایت کے خراب ہوگئے ہیں)

ریام تے دنت کراب نی او ستکے ات کو فیلی نے دنت د یےہے (رویام کے دانت خراب نہیں ہوسکتے اس کو فیری نے دانت دیے ہیں )۔وہ معصومیت سے کہتا اسے ہنسنے پر مجبور کہ گیا

وہ جیسے تیسے بھی بات کرتا تھا لیکن مکمل کرتا تھا اس کے زیادہ تر الفاظ غلط ہوتے تھے لیکن اپنا جملہ وہ مکمل ادا کرتا تھا بنا کوئی بھی لفظ چھوڑے

اور یہ یارم کی سختیوں کا ہی اثر تھا اسے بچوں کے آدھے ادھورے الفاظ اور جملے پسند نہیں آتے تھے ۔اس لیے وہ رویا م کو ہمیشہ مکمل بات کرنے کا کرتے ہوئے اسے مکمل بات کرنے کا وقت دیتا تھا

اور اب وہ اپنے باپ کے انداز میں ڈھل چکا تھا ۔

اور یہ یارم کی اسی سختی کا نتیجہ تھا کہ آج وہ اپنی بات مکمل کر کے کم از کم انہیں بتا تو سکتا تھا کہ اسے کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے ۔کتنی آسانی سے وہ ان دونوں کو بتا پایا تھا کہ اسےکہاں تکلیف ہے ۔

ورنہ دو ڈھائی سال کے بچے کے لیے آپنی بات کا مطلب کسی کو بھی سمجھانا بہت مشکل تھا

اور اب لفظ صحیح ہو یا غلط رویام نے اپنی بات مکمل کر کے ہی دم لینا تھا ۔

اس کی بات کوئی بھی دوسرا تیسرا سمجھے یا نہ سمجھے لیکن روح اور یار م اچھے سے سمجھتے تھے

عنایت اور مہر کے دانت بالکل بھی خراب نہیں ہیں ۔کیوں کہ لیلیٰ آنٹی انہیں بالکل بھی چاکلیٹ نہیں دیتی ۔اور بہت اچھا کرتی ہے ۔روح اسے سمجھاتے ہوئے بولی

وہ ابھی سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس کی بیماری کے لیے کونسی چیز اچھی ہے اور کون سی بری ۔یارم سے تو وہ جو بھی چیز مانگتا تھا یارم فورا دے دیتا لیکن روح ہر چیز میں احتیاط کر رہی تھی

لیلا نانو اے آنتی نی ۔۔۔۔(۔لیلیٰ نانو ہے آنٹی نہیں )۔۔وہ اس کا جملہ درست کرتے ہوئے بولا

جبکہ انداز ایسا تھا کہ اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے اس نے اپنا ننھا ہاتھ سر پہ بھی مارا تھا اور وہ مسکرائی تھی لیلیٰ کو تنگ کرنے کے لئے حضر اور یارم اسے زبردستی اسے نانی بلو آتے تھے

اچھا بابا غلطی ہوگئی لیکن پھر بھی چاکلیٹ نہیں ملے گی روح نے کہا

نیتے اتلیں مدھے گندی مما(نیچے اتاریں مجھے گندی ماما) ۔۔۔۔وہ فورامنہ بسورتے ہوئے بولا

جبکہ کچن کے دروازے کے قریب کھڑےشونو کو دیکھ کر روح نے ا سے نیچے اتار دیا تھا یقیناًاب اس کا ارادہ شونو کے ساتھ کھیلنے کا تھا ۔

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا شونو کے پاس آیا اور اسے اشارہ کرتے ہوئے اس کے آگے آگے چلنے لگا

روح سارا دھیان باہر کی جانب رکھے ہوئے اپنے کام ختم کرنے لگی

°°°°°°

کمرے میں بے حد اندھیرا تھا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا بیڈ پر آیا

اور نیچے فرش پر بیڈ سے کھینچ کرتکیہ گرایا کیونکہ بیڈاس کی پہنچ سے تھوڑا اونچا تھا

اور وہ اس پر آسانی سے نہیں چڑ پاتا تھا

تکیہ جیسے ہی زمین پر گرا رویام اس کے اوپر چڑھ کر بیڈ پر آگیا

اور اب اس نے بڑے ہی پیار سے اس کے سینے پر اپنی جگہ بنائی تھی یارم کی نیند اسی پل ٹوٹ چکی تھی لیکن اس کا ننھاسالمس محسوس کرتے ہوئے وہ آنکھیں بند ہی رکھے ہوئے تھا

بابا ۔۔۔۔۔؟وہ بہت پیار سے پکار رہا تھا لیکن اس کے انداز میں کہیں نہ کہیں لالچ بھی شامل تھا یارم کے چہرے پے اپنے آپ مسکراہٹ کھیل رہی تھی

بابا ۔۔اس کی مسکراہٹ دیکھ کررویام نے اس کے منہ پر ہاتھ مارا

آتیں مما گندی ہے۔ ۔۔وہ ریام کو چوتکلت نی دے لی۔ ریام تے دنت کراب نی ہے۔ مہل ال نایت کے کراب ہے۔ ریام تے دنت پالے ہے دیتیں۔(ماما گندی ہیں وہ رویام کو چاکلیٹ نہیں دے رہی رویام کے دانت خراب نہیں ہیں مہر اور عنایت کے خراب ہیں رویام کے دانت پیارے ہیں ۔دیکھیں)

وہ اپنے چھوٹے چھوٹے موتیوں جیسے دانت دکھاتا اسے ثبوت پیش کر رہا تھا

یارم نے ایک نظر اس سے دیکھا جو اپنی دونوں ٹانگیں اس کے کندھوں پر رکھے ہوئے اس کے سینے پر چڑھ کر بیٹھااپنے دانت دکھا رہا تھا

ہاں یار تمہارے دانتوں واقعے میں بہت پیارے ہیں ۔

تمہاری ماما کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے ۔میں تمہیں خود چاکلیٹ دوں گا

اس کے بات کرنے کے انداز پر تو وہ شروع سے ہی فدا تھا اور پھر وہ اپنے سارے الفاظ جب یارم کے لیے استعمال کرے تو الگ ہی بات تھی

اس کے مان جانے پر وہ خوش ہو گیا تھا

ام ماما تو نہیں دے دے۔وہ بی نی دیتی۔(ہم ماما کو نہیں دیں گے وہ بھی نہیں دیتی)رویام نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا تو ریام نے فورا میں سر ہلایا اب رویام اس کے سینے پر ہی بیٹھا آس کی انگلی پکڑے اسے اٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا مطلب یہ تھا کہ وہ چل کر نہیں جائے گا بلکہ شاہی سواری کو اٹھا کر باہر لے جایا جائے

آخر کو اپنی ماں کو اپنی پاور بھی کو دکھانی تھی کہ اس کا باپ اس کے ساتھ ہے

°°°°°

ارے یارم آپ ابھی تو سوئے تھے اتنا جلدی کیوں جاگے ابھی تو صرف سوا آٹھ بجے ہیں بہت وقت ہے آرام سے سو جائیں وہ اسے جاگتے دیکھ کر بولی

تمہاری شکایت آئی ہے بیوی ۔۔تو مجھے جاگنا پڑا وہ فریج سے چاکلیٹ نکالتے ہوئے کہنے لگا تو روح نے یہ رویام کو دیکھا

جو اس کی گود میں بیٹھ کر اسے چاکلیٹ دیکھا کر کھا رہا تھا

رویام کویارم کے گھر ہونے کا کچھ زیادہ ہی فائدہ ہونے لگا تھا اب وہ ہر چیز کی شکایت لے کر سیدھے یارم کے سر پر پہنچ جاتا تھا ۔

یارم اس بار ڈاکٹر سے پوچھیں گے کہ رویام کے لئے چوکلیٹ صحیح ہے اور فکرمندی سررویام کو دیکھتے ہوئے بولی

جو یارم کی گود میں بہت صفائی سے چوکلیٹ کھا رہا تھا ۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے باپ کو گندگی بالکل پسند نہیں ۔روح کے سامنے تو اس کا ہر سٹائل چلتا تھا

لیکن اپنے باپ کی رگ رگ سے وہ بھی واقف تھا آج کل روح کا کم اور یارم کا زیادہ لاڈلا بنا ہوا تھا ۔یارم اس کی ہر بات مان رہا تھا اور وہ یارم کو غصہ دلانے والی کوئی حرکت نہیں کرتا تھا

نہیں روح اگر ڈاکٹر سے پوچھیں گے تو وہ منع کر دے گا ۔

میں یہ نہیں کہتا کہ یہ نقصان دہ نہیں ہوسکتی لیکن رویام سے ہر چیز کو ہم دور تو نہیں کر سکتے نا

میں چیک کر چکا ہوں چاکلیٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ایک لکیمیا پیشنٹ کے لیے بری ہو سکتی ہے ۔لیکن ڈاکٹر سے پوچھنے پر میں تمہیں یقین سے کہتا ہوں کہ وہ منع کر دے گا ۔

بنا چیک کرنے کی زحمت کئے ۔اور ہم رویام کو یہاں گھر کا ماحول دینے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔۔!تاکہ وہ اپنی زندگی انجوائے کرے اس کے لئے اس کی بیماری کوئی بیماری نہ ہو اگر ہم اس پر پابندیاں لگائیں گے تو ہسپتال اور گھر میں کیا فرق ہو گا

وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا تو روح نے بھی ہاں میں سر ہلا دیا بالکل ٹھیک ہیں تو کہہ رہا تھا وہ رویام گھر لائے ہی اسی لیے تھے کیونکہ رویاماپنی بیماری کو محسوس نہ کر سکے اور نہ ہی وہ اپنے آپ کو بیمار سمجھے

°°°°

اس کا چھوٹا سا ہاتھ روز انجکشن اور ڈرپس لگنے کی وجہ سے نہ صرف سوج گیا تھا بلکہ پوری طرح سے سرخ بھی ہواہوا تھا ۔

جگہ جگہ نیل کے نشان بنتے جا رہے تھے ۔روح تو جب اس کا ہاتھ دیکھتی رونے لگ جاتی

اس وقت بھی اسے ڈرپ لگی ہوئی تھی ڈاکٹرانجیکشن لگا کر جا چکا تھا ۔اور ڈرپ ختم ہونے تک وہ نہیں اپنے آفس میں آنے کا کہہ چکا تھا

یہ ہئوی ڈوز دوائوں کا ہی اثر تھا کہ ڈرپ کے دوران ہی رویام گہری نیند میں اتر جاتا لیکن پھر ذرا سا درد ہونے پر نہ صرف اس کی آنکھ کھل جاتی بلکہ وہ رونے بھی لگتا

یارم اور روح نرس کو اس کے پاس چھوڑ کر اس کا خاص خیال رکھنے کا کہتے ہوئے ڈاکٹر کے کیبن کی جانب جا چکے تھے

لیکن انہیں گئے ہوئے ابھی دو تین منٹ ہی ہوئے تھے کہ ایک جھٹکے کی وجہ سے رویام کی آنکھ کھل گئی اور وہ بری طرح سے رونے لگا

دو دن پہلے بھی ایسا ہو چکا تھا اور نرس کی لاپروائی پر یارم نے ہسپتال بند کروانے کی دھمکی دے ڈالی تھی

اس کے اچانک رونے پر نرس بری طرح سے ہربڑا گئی تھی اپنے موبائل میں مصروف ہونے کی وجہ سے وہ رویام کا ہاتھ چھوڑ چکی تھی ۔رویا م نہیں یقینا ہاتھ پر چبھن محسوس کرتے ہوئے ہاتھ کو جھٹکا دیا تھا اور اب وہ بری طرح سے رو رہا تھا

اگر وہ اس کے ماں باپ کو بلانے جاتی تو اس کی نوکری خطرے میں پڑ جاتی

اور اس طرح سے تکلیف میں بچے کو روتے دیکھنا بھی بہت مشکل تھا بیٹا پلیز چپ کر جاؤ اس طرح سے مت رو ابھی آپ کی ماما بابا آ جائیں گے ۔

وہ اس کا ڈرپ والا ہاتھ پکڑےاسے سمجھاتے ہوئے بولی

جب اچانک رویام نے دروازے کی طرف اشارہ کیا

دانو تھائی(جانوسائیں)وہ۔بند دروازے کے دوسری طرف کھڑی لڑکی کی طرف اشارہ کر رہا تھا جو اپنا سر پکڑے شاید نہیں یقینا بہت بری حالت میں تھی

شیشے کے اس پار وہ بھی اسے اپنی طرف بلاتے دیکھ چکی تھی اسے اس طرح سے روتے دیکھ کر وہ اپنا درد بلائے اس بچے کو دیکھنے لگی

میم کیا آپ اس بچے کو جانتی ہیں ۔۔۔۔وہ آپ کو بلا رہا ہے نرس نے فورا سے آکرعربی میں بتایا اسے نرس کی بات بالکل سمجھ نہیں آئی تھی

اندررویام دونوں ہاتھوں سے اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کر رہا تھا اور اس بچے کو اس طرح سے روتے دیکھ کر وہ بھی روکی نہیں تھی

کیا ہوا بےبی آپ رو کیوں رہی ہیں ۔۔۔؟وہ فورا اس کے قریب آتے ہوئے بولی رویام روتے ہوئے اس کے سینے سے لگ گیا

دانو تھائی دد ہے(جانوسائیں درد ہے)وہ روتے ہوئے اسے بتا رہا تھا یقینا وہ غلط فہمی کا شکار تھا اسے کوئی اور سمجھ رہا تھا

بےبی میں آپ کی دانو تھائی نہیں ہوں میں تو پری ہوں وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بہت نرمی سے ڈرپ ٹھیک کرنے لگی

وہ بھیگی بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا پری کو اس پر بے حد پیار آیا

پلی۔۔۔میش۔فیلی۔(پری مینس فیری)وہ اپنی سمجھ کے مطابق اس کی بات کا مطلب بولا تو پھر یہ ہنسنے لگی

ہاں فیری جو جادو بھی کر سکتی ہے آپ کو جادو دکھاؤں ابھی دیکھنا میرے بیگ سے چوکلیٹ نکلے گی ۔وہ اپنا ہاتھ جادو کی طرح لہراتی اس کا دھیان بٹانے میں کامیاب ہو رہی تھی

اور پری کے جادو سے جو چوکلیٹ برآمد ہوا تھا اسے دیکھ کر رویام خوش ہو گیا تھا

لیکن اس کے اگلے سوال نے پری کو کنفیوز کر دیا

اپ فیلی او تو اپ تے پل کاں ہے(آپ فیری ہوتو آپ کے پرکہاں ہیں)

°°°°