Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 27)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 27)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
خضر نے آتے ہی ایک نظر روح کے کمرے کو دیکھا جہاں اندھیرا تھا مطلب یارم وہاہی تھا ۔کیونکہ روح کو اکیلے اندھیرے میں ڈر لگتا تھا
اس کا دل تو بہت کیا کہ ایک بار روح کو دیکھ لے۔
لیکن اس نے اپنے دل کی مانی نہیں
کیونکہ اسے پتہ تھا کہ یارم اس کی شکل دیکھ کر اسے پھر سے کوئی نہ کوئی نقصان پہچائے گا
اور یہ نہ ہو کہ اس بار وہ اس کا ناک یا دوسرا بازو ہی بدن سے الگ کر دے ۔روح سے محبت اپنی جگہ لیکن عزیز تو اپنی جان بھی تھی
روح تو یارم کی جان تھی اس نے پھر بچ جانا تھا ۔لیکن اس سے وہ اس حد تک غصہ تھا کہ اسے دیکھتے ہی جان سے مارنے کا ارادہ رکھتا ۔اسی لیے تو ایک ہفتے تک شکل فکھانے سءپے بھی منع کر دیا تھا
خضتپر خاموشی سے آ کر اپنے کمرے میں لیلیٰ کے ساتھ بند ہی گیا
لیلیٰ بھی اسے اپنی شکل دکھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔
اس بھی اپنی جان عزیز تھی ۔
اب بچے کا سوچ کریارم نے ایک بار معاف کیا تھا ضروری نہیں کہ ہر بار کرتا ۔
خضر تو یہ سوچ کر بھی پریشان تھا کہ کل جب وہ آفس جائے گا اور وہاں جو کام خضر سے ہینڈل نہیں ہوئے ان پر یارم کیا حال کرے گا
کیونکہ جو کام وہ نہیں کرپایا تھا وہ تو اس نے ایک سائیڈ لگا چکا تھا۔
اس کے ٹیبل پر یارم کی رپورٹس تھی ۔
پچھلے بائیس دن مِیں یارم اپنا مکمل علاج کروا چکا تھا ۔اور یہ اتنا مشکل تھا ہی نہیں جتنا سریلنکا کے ڈاکٹرز نے مشکل بنا دیا تھا۔
یارم نے اٹلی میں ہی اپنا علاج کروا لیا تھا ۔اور اب وہ مکمل صحت یاب تھا سری لنکن ڈاکٹرز کی وجہ سے اسے کافی مشکلوں کو سامنا کرپڑا لیکن وقت رہتے وہاں سے نکل کریارم کپنے خود کو پاگل ہونے سے بچا لیا تھا۔
اور اس چیز نءپے خضر کو بے فکر کر دیا تھا اب بھی اس کا یہی کہنا تھا کہ اگر وہ پہلے روح سے مل لیتا تو کبھی اپنا علاج نہ کرواتا ۔
°°°°
اٹھو ۔۔روح وہ کافی غصے سے اسے جاگا رہا تھا۔
روح نے آنکھیں کھول کردیکھا پھر کروٹ لیتے ضدی انداز میں بولی
مجھے نہیں اٹھنا آج ہی تو سکون سے سوئی ہوں آپ بھی سو جائیں ۔اور مجھے بھی نیند پوری کرنے دیں
روح تمہیں سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کہہ رہا ہوں ۔وہ چادر کھنچتا غصے سے بولا۔
یارم آپ متھ کا کوئی مشکل سوال تھوڑی کہ مجھے سمجھ نہیں آئے گا ۔آپ تو مہرے یارم ہیں
آسان سے پیارے سے ۔آپ کی تو ہر باب سمجھ آتی ہے اور سیدھا دل پر بھی لگتی ہے وہ آنکھیں بند لیے بڑبڑا رہی تھی جیسے خواب کی دنیا میں یارم سے پیارے بھری مٹھی مٹھی باتیں کررہی ہو ۔
اس وقت تو یہ بھی بھول گئی تھی کہ یارم اس سے ناراض ہے۔
یارم نے این نظر گھور کر اس کی پوری بات سنی اور اگلءپے ہی لمہے اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔
ایسا کرنےسے روح نے آنکھیں کھول کراسے دیکھا اور پھر مسکرا کر اس کی گردن میں باہیں ڈالتی اس کی گردن میں منہ بھی چھپا گئی۔
یارم خاموشی سے اسے اٹھا کر واش روم مُیں لیا ۔
اور اسے شارو کے نیچے کھڑا کرنپتے ہوئے شارو کھول بھی دیا۔روح ایک پل میں ہی ہوش کی دینا میں قوپدم رکھ چکی تھی۔
جلدی سے نہا کر آو ہمیں گھر چلنا ہے ۔وہ حکم دیتا باہعپر جانے لگا ۔جب اس کی آواز کانوں میں پڑی۔
کڑوے سڑے ہوئے کریلے۔آپ نہیں ہو میرے پیارے سے یارم۔وہ پیر پٹکےپتے ناراضگی سے بولی۔
کیا کہا تم نے مجھے کڑوا سڑا ہوا کریلا رائٹ ۔تو تمہِں اس کڑوے سڑے ہوئے کریلءپے کو ٹیسٹ بھی کرنا چاہے
وہ دوبوں ہاتھ اس کے ساتھ دیوار پر رکھتا اس کا راستہ بند کر گیا۔
اور اسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کے لبوں پرجھک کر اس کے نازک لبوں کو قید کر لیا۔
آس کی شدت پر روح نے اس کی شرٹ کو مٹھیوں مِیں بھنج لیا۔
روح کے ساتھ ساتھ یارم کے کپڑے بھی پوری طرح سے بھیگ گِئے تھے اس کا انداز اب بھی کل رات والا ہی تھا۔وہ اس پے جھکا اپنے جذبات کو سکون دے رہاتھا ۔اور روح اس کے جذبات کی آگ میں جل رہی تھی۔
اس کے لبوں کو بخش کر وہ اس سے زرا دور ہوا۔اور اس کا گال تھپتھپایا۔
تو کیسا لگا کڑوا سڑا ہوا کریلا ۔جلدی کرو ہمہیں اپنے گھر جانا ہے۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ منہ پھلائے باہر نکلی ۔
مجھے ماموں سے ملنا ہے یارم ۔اس کے چلنے کے اشارے پر وہ بولی تو یارم نے پھر سے اسے ناراضگی سے دیکھا۔
زندہ ہے وہ لیکن ہونا نہیں چاہے تھا۔جو اس نے کیا ہے نہ روح اس کے بعد اسے جینے کا حق نہیں ہے لیکن وہ پھر بھی زندہ ہے کیونکہ تمہارے پاس وہ واحد رشتہ ہے اب فصول نہیں بولنا جلدی چلوورنہ اچھا نہیں ہو گا۔وہ دھمکی دیتا ہوا بولا۔
مطلب آپ ان سے بھی خفا ہیں ۔یارم انہوں نے آپ کو کتنا ڈھونڈا آپ کے غائب ہونے کے بعد بھی آپ کی جگہ سارے کام کرتے رہے سب کچھ سبھالا اور آپ ان سے ناراض ہو رہے ہیں۔
روح میرا دماغ مت خراب کرو ۔چلو جلدی ٹائم نہیں ہے میرے پاس وہ اس کی بات کاٹ گیا۔
میں ماموں سے ملے بنا نہیں جاوں گی یارم پلیز تھوڑا وئٹ کر لیں پتا نہیں آپ نے ان کے ساتھ کیا کیا ہے جو وہ ہسپتال میں تھے
اب ایک بار دیکھنے تو دیں وہ منت بھرے انداز میں بولی۔
یارم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر دو قدم آگے بڑھا اس کا نازک سا وجود اپنی باہوں میں اٹھایا اور دروازہ کھول کر باہر کی طرف چل دیا
یارم یہ غلط ہے آپ ایسا نہیں کر سکتے میں ماموں سے مل کر جاؤں گی۔
ماموں ماموں جلدی آئیں مجھے بچائیں یارم مجھے زبردستی لے کر جا رہے ہیں ماموں وہ اونچی اونچی آواز میں چلا رہی تھی
لیکن یارم کو کون سا پروا تھی
وہ اس کی چیخ و پکار نظر انداز کیے آگے بھرے جا رہا تھا
جب کہ کمرے میں خضرخاموشی سے بیٹھا اس کے جانے کا انتظار کر رہا تھا
تھوڑی دیر کے بعد آواز بند ہو گئی یعنی کہ وہ دونوں جا چکے تھے
خضر تھوڑی دیر آرام کر لو پتہ نہیں آفس میں یارم تمہارا کیا حال کرے گا یہ نہ ہو کے بیڈ پر بیٹھنے کے بھی لائق نہ رہو اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ پہلے ہی آرام کر کے جاؤ لیلیٰ نے مشورہ دیا جو خضر کو بھی قابل غور لگا تھا
°°°°°°
جاؤ جا کر میرے لئے ناشتہ بناؤ اس کا حکم ملتے ہی روح نے اسے گھور کر دیکھا وہ ابھی ابھی یہاں پہنچے تھے
مجھے نیند آ رہی ہے یارم آپ مجھ پرظلم نہیں کر سکتے پہلے ہی آپ نے مجھے ساری رات سونے نہیں دیا اور پھر صبح صبح اذان سے پہلے مجھے یہاں لائے
اور اب آپ کو میرے ہاتھ کا ناشتہ بھی چاہیے ایسا کون کرتا ہے وہ بالکل آہستہ سے آواز میں منمناتی اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی
کچھ کہا تم نے وہ وہ اسے گھورتے ہوئے بولا
نہیں بس یہی کہہ رہی ہوں کہ آپ روم میں جائیں میں آپ کے لئے ناشتہ بناتی ہوں اس کے سختی سے گھورنے پر وہ اپنی بات ہی بدل گئی
گڈ جلدی کرو وہ کہہ کر اپنے کمرے کی جانب چل دیا
یہ کیا کریلے کا جوس پی کر بیٹھے ہیں جو اتنا کڑوا بول رہے ہیں چلو کوئی بات نہیں میں اپنے ہاتھ سے میٹھا میٹھا ناشتہ کرواوں گی تو خود ہی میٹھے ہو جائیں گے مناکرتو میں بھی رہوں گی یارم بابو آخر کب تک ناراض ہو سکتے ہیں آپ مجھ سے وہ مسکرا کر اپنے آپ کو گڈلک وش کرتی کچن کی جانب آئی تھی۔
°°°°°°
روح کو کچن میں بیج کر اب یارم آرام سے اپنے بیڈ پر بیٹھا تھا بہت کوشش کے باوجود وہ خود کو روح کے پاس جانے سے روک نہیں پایا
وہ اس سے کافی ناراض رہنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن روح کی حرکتوں کی وجہ سے اس کی ناراضگی دم توڑنے لگی
تھوڑی ہی دیر میں وہ نرم پر چکا تھا اس کا ارادہ اتنی آسانی سے اسے معاف کرنے کا ہرگز نہ تھا
لیکن روح کی باتیں اس کی معصومیت یارم کو ایک بار پھر سے اس کی طرف ایٹریکٹ کرنے لگی تھی
اپنے چہرے پر اس کا نرم کا لمس محسوس کر کے اس نے مسکرا کر اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھا شاید روح کبھی نہیں سمجھ سکتی تھی کہ یارم کے لیے وہ ہے کیا
وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھا جب اسے روح کے چیخنے کی آواز سنائی تھی
وہ تیزی سے اٹھ کر کچن کی جانب آیا تھا
جہاں روح اپنے ہاتھ کو زور سے تھامیں رونے کی تیاری پکڑ رہی تھی وہ کچن کے کام کرنے میں اناڑی ہرگز نہیں تھی اس لیے اسے بہت کم بھی چھوٹ آتی تھی
روح میرا بچہ کیا ہوا میری جان تمھیں چوٹ لگی ہے دکھاؤ مجھے چلو روم میں احتیاط سے کام نہیں کر سکتی کوئی پیچھے پرا ہے کیا کیوں اتنی جلدی مچا رکھی ہے وہ تیزی سے اس کا ہاتھ دیکھتا اسے ڈانٹ رہا تھا
یارم مجھے چوٹ نہیں لگی وہ اسے اس طرح سے اپنی فکر کرتے دیکھ کر پہلے تو ہنسی پھر سمجھاتے ہوئے بولی
تو پھر چیخ کیوں رہی تھی اس کے نازک سے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامیں وہ ابھی بھی ٹٹولتے ہوئے بولا
یارم وہاں اس نے کچن کی زمین کی طرف بھی اشارہ کیا جہاں ایک ننھا سا کاکروچ کبھی ادھر کبھی ادھر بھاگ رہا تھا
یارم ہمارے کیچن میں تو ایسا کچھ نہیں تھا تو چھوٹو کاکروچ یہاں کیا کر رہا ہے یہ یہاں اتنا بےفکر آزادی سے گھوم رہا ہے تو یقیناً اس کے والدین بھی یہیں ہوں گے اور ہوسکتا ہے اس کی فیملی بھی
شٹ اپ روح میرا اس وقت کاکروچ کی فیملی پلاننگ پر غور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جلدی سے ناشتہ بناو بھوک لگی ہے مجھے وہ اسے ڈانٹ کر کہتا ڈروسے کیڑے مکوڑے مارنے کی سپرے نکالنے لگا
یارم آپ یہاں سے جائیے گا مت یہ نہ ہو کہ آپ کے جانے کے بعد یہ کاکروچ مجھ پر حملہ کردے اور کھا جائے مجھے وہ چور نگاہ سے کاکروچ کی جانب دیکھتی ناشتہ بنانے میں مصروف تھی
یارم نے ایک نظر سرسے پیرتک اسےدیکھا
روح تمہیں لگتا ہے کہ کچھ چھوٹا سا کاکروچ تمہیں کھا سکتا ہے یارم نے اسے دیکھتے ہوئے خیرت کا مظاہرہ کیا
چھوٹا سا شاید نہیں کھا پائے گا لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ آپ کے جانے کے بعد اس کی پوری فیملی مجھ پر حملہ کردےآپ میرے شوہر ہے میری حفاظت کرنا آپ کا فرض ہے آپ یہاں سے کہیں نہیں جا سکتے یہیں پر بیٹھے
ورنہ میں روز محشر اللہ کے سامنے آپ کی شکایت کروں گی کہ آپ نے مجھے کاکروچ اور اس کی فیملی کے حوالے کردیا وہ دھمکی دیتے ہوئے کرسی کی طرف اشارہ کر رہی تھی
تم یہ شکایت کرنا اور میں روز محشر اللہ سے یہ شکایت کروں گا کہ تم نے فون پر مجھ سے بات نہیں کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم سے بات کرنے کےلیے یارم تڑپ رہا تھا
اس کے اچانک بولنے پر روح سر جھکا گئی۔
یارم مجھے لگا تھا کہ آپ میری آواز سن کر اپنا علاج کروائے بغیر واپس آ جائیں گے ۔ مجھے آپ کی صحت کی فکر تھی۔
صحت کی فکر تھی میری جان کی نہیں میری تڑپتی سانسوں کی نہیں میرے سلگتے جذباتوں کی نہیں ۔وہ اس کی بات کاٹ کر اسے مزید شرمندہ کر گیا۔
روح آہستہ سے اس کے قریب آئی ۔اور زرا سا جھک کر اس کے گال پر اپنے لب رکھے
اپنی روح کو معاف نہیں کریں گے یارم ۔وہ آہستہ سے اس کی گود میں بیٹھتی پوچھنےلگی
اور روح کے اس انداز پر یارم کا دل بھی بے ایمان ہونے لگا تھا
اس کی کمر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے مزید اپنے اوپر جھکا گیا
کس می ۔وہ حکم دے رہا تھا یا فرمائش کر رہا تھا صرف کو بالکل سمجھ نہ آیا
پہلے ناشتہ کر لیں ۔وہ بنا مزاحمت تحمل سے بولی
روح میں نے کہا کس می ۔وہ اس کی بات نظر انداز کرتا گھورتے ہوئے بولا
پھر کیا معافی مل جائے گی ۔وہ مسکرا کر اس کے بال پیچھے کرتی پیار سے بولی
کیونکہ سچ ہی یہ تھا کہ یارم کے اتنے پاس آنے کے بعد اب اس میں کس کرنے کی ہمت بالکل نہیں تھی وہ بس اتنی ہی بولڈ ہوسکتی تھی
روح میں کیا کہہ رہا ہوں تمہیں سمجھ نہیں آرہا اب تم مجھے غصہ دلارہی ہو وہ اس کی کمر میں سختی سے بازو حائل کرتا اس کا چہرہ خود پر جھکائے ہوئے ذرا سخت لہجے میں بولا
اگر میں کس کروں تو کیا آپ مجھے معاف کر دیں گے وہ بہت ہمت سے بولی تھی
فضول بکواس کرنا بند کرو جو کہہ رہا ہوں وہ کرو ۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولا
مطلب کس لینے کے بعد بھی آپ مجھے معاف نہیں کریں گے جائیں میں نہیں کرتی وہ نخرے دکھاتی اٹھنے ہی والی تھی
جب یارم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ دئیے کس کا دورانیہ بڑھنے لگا اور یارم کی شدت سہنا اس کے بس سے باہر ہوگیا اس کی سانس پھولنے لگی تھی اور وہ جو ہمیشہ سے اس کی سانسوں پر اپنا حق سمجھتا تھا بےقابو ہو چکا تھا
روح کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی
جب کہ وہ اس کے دونوں ہاتھ تھام کا اسی کی کمر کے پیچھے لے گیا
اپنے ایک ہاتھ سے اس کے دونوں ہاتھ لاک کر کے وہ اس کے لبوں اپنے لبوں کی تشنگی مٹاتا رہا
پھر نہ جانے کیا سوچ کر اس پر ترس کھایا اور اس کا چہرہ دیکھنے لگا جب کہ روح لمبی لمبی سانسیں لیتی اسی کے سینے پر سر رکھ چکی تھی ۔
اسے اپنے سینے سے لگائے وہ بھی اپنی آنکھیں بند کئے اسے محسوس کر رہا تھا
جب اچانک دروازے پر دستک ہوئی
یارم یہ اتنی صبح ہمارے گھر کون آ گیا ابھی تو کسی کو پتہ بھی نہیں ہے کہ ہم اپنے گھر واپس آ گئے ہیں
وہ آنکھیں کھول کر یا رم کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ یارم لاعلمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کندھے اچکا گیا
چلے چھوڑیں میں جا کے دیکھتی ہوں آپ ناشتہ کریں
وہ اس کی گود سےاٹھتی ہوئی ناشتے کی ڈیشیز ٹیبل پر رکھ کر بولی ا
خضر اور شارف میں سے کوئی ہوا تو نے واپس بھیج دینا آج میں آرام کرنے کا موڈ ہے وہ بے زاری سے بولا
آرام کرنے کا یہ مجھے تنگ کرنے کا روح نے جاتے جاتے پوچھا
تمہیں تنگ کرنے کا نہیں تم سے بدلہ لینے کا وہ آرام سے کہتا ناشتہ کرنے لگا
°°°°°
ارے صارم بھائی کیسے ہیں آپ دروازہ کھولتے ہی صارم کو فل یونیفارم میں حیران اور پریشان دیکھ کر وہ پوچھنے لگی
میں تو ٹھیک ہوں لیکن تم یہاں کیا کر رہی ہو
میں یہاں سے گزر رہا تھا کہ گھر کی لائٹس ان دیکھی
سب خیریت تو ہے نہ صارم پریشانی سے پوچھ رہا تھا کیونکہ جب سے یارم کی موت کی خبر آئی تھی وہ تو خضر کے ساتھ رہ رہی تھی
تو پھر اتنی صبح صبح وہ یہاں کیا کر رہی تھی
اور اس کی ڈریسنگ پر نظر جاتے ہی صارم کو جھٹکا لگا تھا ڈارک ریڈ کلر کے ڈریس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی لیکن ابھی یارم کو گئے ایک مہینہ نہیں ہوا تھا اور روح اپنی رنگین زندگی میں مصروف ہو رہی تھی
جی وہ دراصل ہم آج صبح ہی واپس آئے ہیں اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ یارم کے بارے میں اسے کیسے بتائے
تمہارے ساتھ کوئی اور بھی آیا ہے صارم نے پیچھے دیکھا اور پھر دیکھتا ہی رہ گیا
آو بے وقوف انسپکٹر تمہیں کس نے کہہ دیا کہ صبح ہی صبح تمہاری شکل دیکھنا عوام کو پسند ہے
وہ اسے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا جبکہ صارم کا منہ وہ حیرت سے کھلا تھا ۔اور وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے باتیں کرتے اور صارم کو حیران اور پریشان منہ کھل کر یارم کی جانب دیکھتے دیکھ خود فوراً وہاں سے نکل گئی تھی
یارم تم زندہ ہو ۔۔۔؟ صارم کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا
اگر تم کہتے ہو تو مر جاتا ہوں وہ فرصت سے اسے جواب دینے لگا
یارم مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم زندہ ہو صارم بے حد خوشی سے بولا تھا
ایسا کرتا ہوں کہ تمہِن اوپر بھیج دیتا ہوں جاکر جہنم کا ویزٹ کر آؤ اگر وہاں پر نہ ملا تو فرشتوں سے اجازت لے کر ایک نظر جنت میں بھی دیکھا نا ہوسکتا ہے کسی نیک اعمال سے اللہ مجھے جنت میں بھیج دیں
اور اگر دونوں جگہوں پر نہ ملا تب واپس آ جانا اور پھر یقین کر لینا
اس کی حالت یارم کو کافی مزہ دے رہی تھی اس لیے بات طویل کر کے بولا
جبکہ وہ اس کی بات نظرانداز کرتا ہوا اس کے سینے سے لگ چکا تھا
یارم مجھے یقین نہیں آرہا میرے بھائی تم زندہ ہو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے تمہاری ٹیم ممبر اور تمہاری بیوی نے مجھے بے وقوف بنایا
میں ان سب کو کبھی معاف نہیں کروں گا یا رم آئی لو یو وہ اس کے سینے سے لگا کر کسی بچے کی طرح خوش ہو رہا تھا
ان لوگوں کو تو میں بھی اتنی آسانی سے معاف نہیں کروں گا صارم لیکن تمہارا یہ مجنوں والا انداز مجھے بالکل پسند نہیں ہے
اس کے اس طرح سے چپکنے اور اس کی آنکھوں میں موجود نمی دیکھ کر یار م نے بہت نرمی سے کہا تھا
جس پر صارم کھل کر ہنسا
چلو اندر آوتمہیں چائے پلاتا ہوں تمہاری سوتی ہوئی شکل دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہوں کہ عروہ نے ناشتہ کروا کر نہیں بھیجا
نہیں یار رات سے نائٹ ڈیوٹی پر ہوں ابھی گھر ہی جا رہا تھا
وہ اس کے ساتھ اندر آتے ہوئے بولا
اپنی بیوی سے خود ہی چائے کا بول دو میں ناراض ہوں اس سے وہ روح کو سخت نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولا
کوئی بات نہیں میں بھی ناراض ہوں یارم نے کہتے ہوئے کرسی بھی طرف اشارہ کیا جہاں صارم بیٹھ چکا تھا جبکہ اس کی آخری بات سن کر روح نے گھورکر اسے دیکھا جیسے یارم صاف طور پر نظر انداز کر گیا
