Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 3)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

روح تم نے اسے گود میں کیوں لیا ہے

اس کتے کو نیچے اتارو گاڑی میں۔بیٹھے ہی روح نے شونو کو اپنے گود میں دیا تو یارم کا غصہ ہمیشہ کی طرح ہائی ہوگیا ۔

یارم پلیز رہنے دیں نا بیچارہ بیمار ہے پہلے ہی اور آپ اس پر غصہ ہو رہے ہیں ۔

کل سے وہ کچھ سست کیا ہوگیا روح نے تو اسے بیمار ہی بنا لیا

۔وہ بالکل ٹھیک ہے بس تھوڑا سا موسم کا اثر لے رہا ہے لیکن اسے اپنی گود سے اتارو تم

اور خبردار جو آئندہ تم نے اسے گود میں لیا وہ غصے سے شونو کا پٹا پکڑ کر پیچھے والی سیٹ پر پھینک چکا تھا

یارم آپ کیسے ایک معصوم چھوٹے سے جانور کے ساتھ ایسا بے رحمانہ سلوک کر سکتے ہیں

روح نے افسوس سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

۔ایسے ہی جیسے میں نے ابھی کیا ہے یارم نے اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی جب کہ شونوکا سارا سست پن پچھلی سیٹ پر جاتے ہیں ختم ہو چکا تھا

وہ تو مچلتا ایک بار پھر سے روح کی گود میں آنے کو تیار تھا

۔جب یا رم نے اسے گھور کر دیکھا

وہ جانور جیسے اس کی نظروں کا محفوظ سمجھتا تھا ۔فورا ہی خاموش ہوکر سیٹ پر بیٹھ گیا

یارم کتنے بے رحم انسان ہیں کیسے گھور رہے ہیں اس معصوم کو میں پوچھتی ہوں کیا بگاڑا ہے اس نے آپ کا ۔جو آپ اس پر اس طرح سے غصہ ہوتے رہتے ہیں ۔

جانوروں کے ساتھ کوئی بلا اس طرح کا سلوک کرتا ہے ۔

اس کے پیچھے مڑ کر دیکھنے اور شونو کے ڈر کر چپ ہو جانے پر روح خاموش نہ رہ سکی

کیا مطلب ہے کیا بگاڑا ہے کیا تم اب بھی نہیں جانتی کہ اس کتے کے بچے نے میرا کیا بگاڑا ہے ۔یہ تمہارے اور میرے درمیان آیا ہے

۔یہ تم سے میرا وقت لیتا ہے۔ وہ بھنا کر بولا ۔

یار م آپ ایسا نہیں کہہ سکتے بالکل غلط بیانی ہے یہ میں کب اس کے ساتھ آپ کے ہوتے ہوئے وقت گزارتی ہوں جب آپ گھر پر نہیں ہوتے تب ہی میں شونو کے پاس رہتی ہو روح نے فورا اس کی بات کی نفی کی تھی ۔یہ تو روح کو اپنی ذات پر ایک الزام کی طرح لگا تھا ۔

جب کہ اس وقت میں تم مجھے یاد کر کے میری محبت کا ثبوت بھی دے سکتی ہو

۔اپنی محبت کو ظاہر بھی کر سکتی ہو

لیکن تم نے تو اس کتے کے ساتھ وقت گزارنا ہوتا ہے۔

میرے حصے کا پیار تم اس کتے کے بچے کو دیتی ہوں ۔یہاں تک کہ تم اسے اپنی گود میں بیٹھاتی ہواس کے بال سہلاتی ہو۔اس سے پیار کرتی ہو ۔کتے کی طرف داری پر یارم بھی پیچھے نہیں ہٹا تھا ۔

جب کہ اس کے بات مکمل ہوتے ہی شونو نے ایک بار پھر سے بھونکتے ہوئے اپنے ہونے کا احساس دلایا ۔

دیکھا دیکھا کباب میں ہڈی اسے ہی کہتے ہیں اس نے پیچھے مڑ کر ایک بار پھر شونوکو دیکھتے ہوئے جتلایا

شونو میری جان خاموش ہو کر بیٹھ جاؤ آپ کے پاپا ابھی غصے میں ہیں۔

یارم کا غصہ دیکھتے ہوئے اس نے شانوکی جان بچانے کی خاطر کہا۔

روح تم نے پھر سے مجھے اس کتے کا باپ بولا۔روح بات پر یارم نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا

۔او سوری میں بھول گئی تھی شونو آپ کے پاپا نہیں بس آپ کی ماما کے ہسبنڈ ابھی غصے میں ہے ابھی آپ کچھ مت بولو روح نے بات بدلی

۔اور وہ بات بدل کر بھی اس کا موڈ ٹھیک نہیں کر پائی تھی

کیونکہ اس کی بات کا مطلب تو وہی تھا اب حالات اتنے بگڑ چکے تھے کہ اسے ایک کتے کو گود لینا پڑ رہاتھا اب بہتر تھا یارم اس سے لڑنے کی بجائے اپنی ڈرائیونگ پر فوکس کرتا

ورنہ پتہ نہیں وہ اس کتے سے اس کی کون کون سی رشتہ داریاں نکلوا لیتی

°°°°

خضر یارم کے آنے کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہی آفس کے لیے نکلے

جب گاڑی سے روح اور شونو کو نکلتے دیکھ کر وہ بے اختیار ہی مسکرا دیا

اسے یقین تھا کہ آج یارم اسے کسی قیمت پر یہاں نہیں لائے گا کیونکہ کل کی ساری کہانی لیلی اسے سنا چکی تھی۔

اسو روح کو یہاں دیکھنے پر حیرت تو بنتی تھی۔

السلام علیکم ماموں کیسے ہیں ۔

روز کی طرح فریش سا چہرہ دیکھ کر خضر کو خوشی ہوئی تھی مطلب کے وہ اپنے ضد منوا کر یہاں آ چکی تھی ۔

میں تو بالکل ٹھیک ہو ماموں کی بھانجی لیکن تم ضد چھوڑو کیوں نہیں دیتی اسے اتنا تنگ مت کیا کرو خضر نے سمجھایا

تم کون ہوتے ہو اسے یہ کہنے والے پیچھے سے آتے یارم نے اس کی بات سنی

۔ اور روح کے بالکل قریب آ کر کھڑا ہوا ۔

یہ میری روح ہے خضر اس کا حق بنتا ہے کہ یہ مجھے تنگ کرے مجھے ستاۓ ۔تم اس کے ماموں ہو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اسے مجھ سے زیادہ چاہتے ہو ۔وہ اس کے روبرو کھرپڑا کہنے لگا تو خضر مسکرا کر نفی میں سر ہلانے لگا

۔میری اتنی مجال کے میں اسے کسی کام سے منع کر سکوں ۔خضرت نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا

۔اس حادثے کے بعد یارم خضر کے ساتھ بھی مقابلے پر اتر آیا تھا

وہ روح کا اکلوتا رشتہ تھا ۔لیکن یہاں بھی یارم کا یہی کہنا تھا کہ اس سے زیادہ روح پر اور کسی کا کوئی حق نہیں

اور خضراس بات کو دل و جان سے قبول کرتا تھا

۔اس کی اتنی مجال کہاں کہ وہ یارم کے ہوتے ہوئے روح پر اپنا حق جتائے۔

اپنا خیال رکھنا روح اور دوائی ٹائم پر کھانا میں لیلیٰ کو بتا کر جاؤں گا اور اس کتے سے دور رہنا ۔کتا کہیں کا صبح صبح لڑائی کروا دی۔وہ شونو کو سخت نظروں سے گھورتے ہوئے بولا تو خضر بے اختیار مسکرا دیا ۔

یہ کتا جب سے آیا تھا تب سے ہی یارم کو اس سے سخت چڑ تھی

لیکن اس کے باوجود بھی جن دنوں میں روح بیمار تھی یا رم نے کسی عزیز کی طرح اس کا خیال رکھا تھا ۔

یارم اظہار کرے نہ کرے لیکن روح کی جان بچا کر یہ کتا اس کے لئے بھی بہت خاص ہو چکا تھا

اور وہ بھی اسے اپنے ہی گھر کا ایک فرد سمجھنے لگا تھا

۔یارم کے گھر میں دو نہیں بلکہ تین جانے بستی تھی

اس بات کو یار م قبول کرتا تھا ۔روح کو بے شمار ہدایت دینے کے بعد وہ اپنے کام کے لئے نکل چکے تھے ۔

جبکہ یہاں سے آفس پہچنے کے درمیان میں لیلیٰ کے ہزار بار منع کرنے کے باوجود بھی روح نے چائے بنائی ۔

تمہارا شوہر مجھے سولی پر ٹانگ دے گا اور تم وہی سامنے کھڑے ہو کر نظارہ کرو گی

اچھی طرح سے سمجھ رہی ہوں میں تمہاری پلیننگ ۔مروانا چاہتی ہونا مجھے تو ماپنے یاں کے ہاتھوں۔ ۔

تو صاف صاف کہہ دو ہو سکتا ہے تمہیں خوش کرنے کی خاطر وہ مجھے مار ڈالے

لیکن اللہ کا واسطہ ہے روح مجھے قسطوں میں مت مارو ۔

اس طرح سے میری سانس رکنے لگتی ہے ۔

ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ ہٹلر واپس آ ہی نہ جائے دیکھو روح اب میں اکیلی نہیں ہوں میرے ساتھ ایک نھنی سی جان بھی ہے میرا نہ سہی ہے اس معصوم کا ہی خیال کر لو ۔

لیلیٰ نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کی تھی

۔اتنے بھی برے نہیں ہیں یار م جتنا تم سمجھتی ہو

تمہیں پتا ہے کل انہوں نے مجھے کچھ نہیں کہا بلکہ اتنے پیار سے میرے لیے کھانا بنایا روح نے اس کا خوف کم کرنے کی خاطر بولا

۔لیکن اب لیلی بیچاری اسے کیا بتاتی کہ جو کچھ بولنا تھا وہ تو کل اسے کہہ کر گیا تھا

وہ اسے زندہ زمین میں گاڈے کی بات کر رہا تھا اور روح اب بھی بے فکری سے وہی سارے کام کر رہی تھی جن سے یارم کوچڑ تھی

°°°°°

ڈیول اس سب سے تمہیں بہت غصہ آرہا ہوگا لیکن تم خود سوچو کہ اس کام میں کتنا فائدہ ہے اور ہم کسی کے ساتھ کی کوئی زبردستی نہیں کرتے

وہ لڑکیاں خود میرے لڑکوں کی محبت میں ہار کر یہاں تک کہ چلی آتی ہیں ۔

اور ان میں سے کوئی بھی نیک اور پارسا لڑکی تو نہیں ہو سکتی جو آدھی رات کو اپنے معشوق سے ملنے کے لیے اپنی عزت کی پرواہ کیے بغیر ایسی جگہوں پر آجائے

۔اپنی مرضی سے آتی ہیں وہ سب اور پھر ان میں اچھی لڑکیاں نہیں ہوتی ۔یہ لڑکیاں محبت کے نام پر فریب دیتی ہیں۔ لیکن یہاں یہ خود فریب میں آ جاتی ییں اور اس سے ہمیں فائدہ ہوتا ہے

وارث بہت مزے سے اسے اپنے کارنامے سنا رہا تھا جیسے وہ کوئی بہت نیک کام کر رہا ہو

یارم نے ایک نظر سامنے کھڑے پانچ خوبصورت لڑکوں پر ڈال

۔یہ اسٹائلیش اور خوبصورت لڑکے کیسی بھی لڑکی کا خواب ہو سکتے تھے

شکل سے کسی امیر گھرانے کے لگتے تھے ۔اور ایسے لڑکوں کا ہی تو خواب لڑکیاں دیکھتی ہیں

۔جو یہ سوچتیں ہیں کہ کسی امیر لڑکے کو اگر ان سے پیار ہو جائے تو ان کی ساری زندگی سنور سکتی ہے ۔لیکن ان خوبصورت چہروں کے پیچھے چھپے گھٹیا ارادوں کو وہ لڑکیاں کیوں نہیں سمجھ پاتی ۔اپنی عزت کو اپنے ہاتھوں گنوا دیتی ہیں ۔

کیوں وہ کردار کو مضبوط نہیں رکھ پاتی

کیوں عورت اپنا معیار اتنا گرا دیتی ہے

کیوں اپنے شوہر کی امانت میں خیانت کر کے اپنے آپ اور اپنی آنے والی نسلوں کو برباد کر دیتی ہے

۔ان لڑکیوں کو سوچتے ہوئے اسے ایک پل کے لئے اپنی روح کی یاد آئی تھی پاکیزہ معصوم مضبوط کردار کی مالک جو اپنے شوہر کو ہی اپنے تن بدن کا مالک سمجھتی ہے

اور دین حق پر چلتی ہے اور دوسری طرف تھی یہ لڑکیاں صرف خوبصورت چہرے اور چند پیسوں کے خاطرکیسے اپنا آپ برباد کر دیتی تھیں۔ اس کے سامنے میز پر ستر سے زیادہ ویڈیو کلپ کی ڈیٹیلز پڑی تھی ۔جن میں ان لڑکیوں کی عزت کا سودا کیا جارہا تھا

میں نے تمہیں منع کیا تھا وارث کوئی بھی ایسا کام مت کرنا کہ جیسے تم میری نظروں میں آؤ

لیکن تم نے وہی کیا اب تم بتاؤ تمہیں اس گناہ کی کیا سزا دوں

۔ڈیول نے جیسے اس کی تقریر سنی ہی نہیں تھی ۔

ڈیول میں تمہیں بتا تو چکا ہوں میرا کوئی قصور نہیں ہے یہ لڑکیاں خود میرے لڑکوں کی محبت میں کھینچی یہاں چلی آتی ہیں ۔اور ان لڑکیوں کے ساتھ کوئی زبردستی کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں ہوئی تم یہ ویڈیو دیکھ سکتے ہو

یہ لڑکیاں اپنی مرضی سے میرے لڑکوں کے ساتھ تعلقات بناتی رہی ہیں وارث اب بھی اپنا جرم قبول کرنے کو تیار نہیں تھا اور یہ بات یارم کو مزید غصہ د** رہی تھی

شارف نے میز سے اوریجنل سی ڈی اٹھاتے ہوئے توڑنا شروع کر دی تو وارث کو بہت غصہ آیا لیکن ڈیول کے سامنے کچھ بھی بولنا اس کی اوقات سے باہر تھا

۔سامنے کرسی پر بے نیاز اور بے فکر بیٹھاوہ شارف کو یہ کام کرتے دیکھ رہا تھا

۔باقی کچھ اور بھی ہے یا بس یہی ہیں شارف نے پوچھا

۔اور کچھ نہیں ہیں بس یہی سی ڈیز تھی جو تم نے ضائع کر دی وارث نے شارف کو گھورتے ہوئے دانت پیس کر کہا ۔

بیٹا ابھی تو ہم تجھے بھی ضائع کریں گے اور تیرے ان لوگوں کو بھی اس کے اس طرح سے کہنے پر ہی خضر بھی بول اٹھا ۔

اسے پہلے لگا تھا کہ وارث اپنی غلطی کو قبول کرے گا لیکن وہ تو سینہ تانے اپنے گناہ کو غلط کہنے کو تیار ہی نہ تھا

اور ایسے لوگوں کاوہی انجام ہوتا ہے جو ڈیول آج تک کرتا آیا ہے ۔

کیا مطلب ہے تمہارا تم ایسے نہیں کر سکتے میرے ساتھ ڈیول میں نے تمہارا بہت ساتھ دیا ہے ۔

اور میں نے کبھی بھی تمہارے خلاف جا کر کوئی کام نہیں کیا

یہ لڑکیاں خود لوٹنے کو تیار ہیں تو کونسا آدمی پیچھے ہٹے گا ۔یارم کی خاموشی پر وارث پریشانی سے بولا تھا کیونکہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی بھی ہوسکتی تھی اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ ڈیول کی بیڈ لسٹ میں نا آجائے ۔

شارف ان لڑکوں کو یہاں سے لے کر چلے جاؤ ان کا قصور بس اتنا ہے کہ انہوں نے اپنی خوبصورتی کو غلط طریقے سے کیش کیا ہے

لیکن ان کی غلطی کی سزا بھی انہیں ملے گی

ان کی شکل صرف دیکھنے کے لائق ہونی چاہیے چاہنے کے نہیں وہ اٹھ کر ان لڑکوں کے سامنے کھڑا کہنے لگا تو پانچوں بوکھلا گئے

۔ڈیول ہمیں معاف کر دیں ہم سے غلطی ہوگئی ہم دوبارہ ایسا کام نہیں کریں گے ان میں سے دو لڑکے یارم کے پیروں پر جھکے معافی مانگنے لگے

۔جب کہ ان دونوں کو اس طرح سے معافی مانگتے دیکھ کر باقی تینوں بھی اپنی موت کو اپنے قریب دیکھتے ہوئے ہاتھ باندھ چکے تھے

۔ہم ایسا کام دوبارہ نہیں کریں گے ڈیول پلیز ہمیں چھوڑ دیں ہماری کوئی غلطی نہیں ہے وہ لڑکیاں خود ہمارے ساتھ آنے کو تیار تھی

اور جو بھی ہوا ہے ان کی مرضی سے ہوا ہے ہم نے کسی قسم کی کوئی زبردستی نہیں کی

وہ اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے بولے

لڑکی اپنی عزت اپنے عزت کے محافظ کے حوالے کرتی ہے جسے وہ چاہتی ہے جسے وہ اپنا مانتی ہے جس کی خاطر وہ اپنا تن من دینے کو تیار ہو جاتی ہے

محبت دنیا کی سب سے انمول چیز ہے اللہ کی طرف سے دیا گیا ایک تحفہ اور اس تحفے کو تم نے اتنا بے مول کر دیا ہے کہ آج لوگوں کا محبت پر سے ایمان اٹھ گیا ہے

۔میں یہ نہیں کہتا کہ قصور صرف تم لوگوں کا ہے قصوروار وہ لڑکیوں کا بھی ہیں جو بنا کسی جائز رشتے کہ تم لوگوں کے ساتھ یہاں تک آتی رہی

اور کل ان سی ڈیز کی صورت میں بازاروں میں بکنے والی تھی ۔قصوران لڑکیوں کا بھی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاملے میں لڑکیاں دل سے سوچتی ہیں دماغ سے نہیں اور بعد میں تم لوگ انہی معصوم دلوں کے ساتھ کھیل کر ان کی زندگی برباد کر دیتے ہو

کتنی عام سی بات ہے نا ہم اکثر سنتے ہیں کہ کسی لڑکی کا ایم ایس لیک ہوتے ہیں آج ایک لڑکی کا توکل دوسری لڑکی کا

اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے کسی ایک جگہ سے خبر آتی ہے کہ لڑکی نے خودکشی کرکے اپنی جان لے لی

تو دوسری جگہ سے خبر آتی ہے کہ لڑکی کے باپ بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا

۔اور تم جیسے لڑکے پھر کسی دوسرے شکار کو ڈھونڈنے نکل جاتے ہو ایک بار تم لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس کو تم نے اس غلط راہ پر لگایا وہ اپنی جان گنوا چکی ہے

۔کل تک شاید ان لڑکیوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا اور نہ جانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہو چکا ہوگا ۔اور تم لوگ آج معافی مانگ رہے ہو

لیکن اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ ڈیول کی کتاب میں معافی کا کوئی لفظ نہیں ہے ۔شارف لے جاؤ ان کو یہاں سے اور دوبارہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسی حرکت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا

یارم سختی سے کہتا ایک بار پھر سے وارث کے سامنے آ بیٹھا تھا

۔تمہاری بیٹی بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے نہ وہ اپنی جیب سے کچھ نکالتے ہوئے ٹیبل پر پھینک چکا تھا وہ بھی کسی لڑکے کے عشق میں بری طرح سے گرفتار ہے ممکن ہے کہ کل ایسی ہی کوئی ویڈیو تمہاری بیٹی کی بھی لیک ہو جائے تم نے میرے ساتھ اچھا وقت گزارا ہے وارث مجھے تم سے ایسے گھٹیا کام کی کبھی امید نہیں تھی ۔

میں امید کرتا ہوں کہ تم دوبارہ ایسا نہیں کرو گے

لیکن یہ مت سوچنا کہ تم ڈیول کی نظر میں گنہگار نہیں ہو

میں تمہیں تمہارے گناہ کی سزا میں ضرور دوں گا لیکن اس سے پہلے تم اپنی بیٹی کو بچا لو

جلد ملیں گے یارم نے باہر کی طرف قدم بڑھائے تو خضر اور شارف بھی اس کے پیچھے چل دیئے

جب کہ وارث بے چینی سے تصویریں دیکھ رہا تھا جو یارم اس کے سامنے ٹیبل پر پھینک کر گیا تھا

°°°°°

مجھے نہیں لگتا تھا کہ تم وارث کوچھوڑ دو گے خضر نے نکلتے ہوئے کہا

میں اسے سزا کیسے دے سکتا تھا خضرجبکہ اسے سزا اللہ نے دی ہے اس کی بیٹی کے روپ میں ۔

جس لڑکے سے وہ محبت کر بیٹھی ہے وہ ایسے ہی ایک گینگ پر لیڈر ہے

جو میری نظر میں بھی ہے ۔اور بہت جلد میں اسے بھی اس کے انجام تک پہنچ جاؤں گا لیکن وارظث کی بیٹی کے لیے دعا کرتا ہوں کہ تب تک اس کی عزت کی حفاظت اس کا باپ کر سکے

۔مکافات عمل شاید اسی کو کہتے ہیں شارف نے کہا ۔

یہ تو حل ہو گیا اور دوسرے کیس کا کیا کرنا ہے اور جس کے بارے میں میں نے خضر کو سب بتایا تھا

کون سا کیس خضر نے تو کسی کیس کا ذکر نہیں کیا وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہنے لگا ہاں وہ دراصل میرے دماغ سے نکل گیا یونیورسٹی میں ایک لڑکے نے کسی لڑکی کو پرپوز کیا تھا لڑکی کے انکار پر اس نے لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اس کا چہرہ جلا دیا یہ ایک ہفتے پہلے کی بات ہے لڑکی کی مسلسل سرجریز کی جارہی ہیں لیکن اب بھی حالات بہت خراب ہیں ۔اور اب ۔۔۔۔خضر نے بتاتے ہوئے ایک نظر اس کے ماتھے کی رگوں پر ڈالی تھی

۔اور پھر خاموش ہو گیا

اس کا ڈیول موڈ اون ہو رہا تھا جو ان کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا

پوری بات بتاؤ خضر خاموش کیوں ہوگئے وہ غصے سے دہارا تھا

۔اور وہ لڑکا شادی کر رہا ہے آج رات اس کی شادی ہے ۔

وہ بات مکمل کرکے پھر خاموش ہو گیا ۔

مطلب کے ایک معصوم لڑکی کی زندگی کو برباد کرکے وہ خود شادی کر رہا ہے

۔ایک معصوم کی ساری خوشیاں لوٹ کے وہ اپنا گھر بسانے جا رہا ہے

اور اسے لگتا ہے کہ ڈیول ایسا ہونے دے گا

۔ایڈریس بتاؤ اس کا یارم سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا

۔مجھے یہیں چھوڑ جاؤ ڈیول مجھے اور کچھ کام ہے اس کا خطرناک موڈدیکھتے ہوئے شارف نے فورا کہا تھا ۔

ڈیول کے ایسے موڈ کے ساتھ وہ کہیں بھی جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔

اسی لیے وہیں پر ہی اتر گیا جبکہ خضر یارم کو راستہ بتا رہا تھا ۔

ہیلو لیلی روح کا خیال رکھنا اور اپنا بھی ڈیول اور خضر کو آنے میں دیر ہو جائے گی ان کے جاتے ہی شارف نے لیلی کو فون کیا تھا

۔خیریت تو ہے لیلی نے ایک نظر باہر ٹی وی لگائے روح کی جانب دیکھا تھا

۔ہاں ٹھیک ہے سب کچھ بس ڈیول کا ڈیول موڈ آن ہوچکا ہے پتہ نہیں آج کس کی شامت آئی ہے بس دعا کرنا کہ وہ جو بھی ہو اس کو آسان موت ملے شارف نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا تو لیلیٰ کی ہنسی نکل گئی ۔

فکر مت کرو میں روح کو سنبھال لوں گی اور تم بھی اپنا خون نا جلاو گھرچلے جاؤ معصومہ انتظار کر رہی ہو گی کیونکہ اتنی ہمت تم میں ہے نہیں کہ تم ان لوگوں کے ساتھ جا پاتے لیلی نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا

لیلی میں تمہاری ہمت سے بھی اچھے سے واقف ہوں اور تمہاری طرح پریگنٹ ہو کر گھر نہیں بیٹھا بہت کام ہے مجھے ۔اتنا ہی فارغ ہوں نا وہ سنانے والے انداز میں کہتا فون بند کر چکا تھا جب کہ اپنی بات پر غور کرکے جہاں اس نے خود پر لعنت بھیجی تھی وہی لیلی کا قہقہ اسے فون بند ہونے تک سنائی دیتا رہا