Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 15)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
تم باہر رکو میں چابی لےکے آتا ہوں ۔اس کے چہرے کو نرمی سے چھوتے یارم مسکرا کر ریسپشن کی طرف چلا گیا۔
اور روح ہاں میں سر ہلاتی باہر چلی گئی۔
باہر اسے وہی لڑکی گرین کلر کی شارٹ سی ڈریس میں کھڑی نظرآئی ۔
شاید وہ کسی کا انتظار کر رہی تھی
شاید اسی کا جو کل رات اس لڑکی کو مار رہا تھا۔
کیونکہ بعد میں یہ لڑکی اس کے گلے لگی ہوئی تھی۔
وہ اسے نظرانداز کرتی یارم کا انتظار کرنےلگی۔جب وہ لڑکی ایک نظراسے دیکھ کر اس کی طرف چلی آئی
تم پاکستان سے ہونا ۔۔! وہ اردو میں کہتی اس سے محاطب تھی
یہ پہلی لڑکی تھی جو یہاں اسے اردو بولتی نظر آئی
ہاں میں پاکستان سے ہوں روح نے جواب دیا ۔ وہ ادھی برہنہ لڑکی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن یہ خود اس کے قریب چل کرآئی تو وہ اسے اگنور نہ کر سکی
واو۔۔یار میری بہت خواہش ہے پاکستان آنے کی پاکستان میں کہاں سے ہوتم ویسے میرا نام خوشی ہے اور تمہارا۔۔۔۔؟ وہ اس سے فری ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔
کم از کم روح کو تو ایسا ہی لگا۔
میرا نام روح یارم کاظمی ہے ویسے تو میں ملتان سے ہوں لیکن میرے شوہر دبئی سے ہیں
اور میں بھی ان کے ساتھ دبئی میں ہی رہتی ہوں ۔روح نے اسے جواب دیےپتے ہوئے بتایا
میرا بوائےفرینڈبھی وہیں ہوتا ہے ۔اور میں یہاں اس سے اتنی دور ۔وہ مایوسی سے کہتی اسے مزید بتانے لگی۔
جبکہ لفظ بوائے فرینڈ پر روح کا موڈ آف ہونے لگا ویسے بھی اس لڑکی سے مل کر اسے خاص خوشی نہیں ہوئی تھی
اور بوائے فرینڈ کا مطلب تو وہ بھی بہت بہتر طریقےسے سمجھتی تھی۔
ایسا رشتہ جس کا کوئی وجود نہیں ہوتا ۔
اور یارم کی نظر میں اس کا مطلب طوائف تھا۔بلکہ وہ طوائف کو گرل فرینڈ سے بہتر کہتا تھا جو کام طوائف پیسے لے کرتی ہے وہ کام یہ لوگ محبت کا نام دے کر فری میں کرتے ہیں
اسے اس لڑکی سے بات کرنا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا لیکن یہ لڑکی کافی باتونی تھی۔
تو تم شادی کب کر رہی ہو ۔میرا مطلب ہے شادی کے بعد بھی اپنے شوہر یے ساتھ دبئی میں آ جانا روح نے کہا۔
شادی ۔۔۔میں تو کب سے تیار ہوں لیکن وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا اور ویسے میں ہمارا مذہب الگ ہے اس کا مذہب اسے مجھ سے شادی کی اجازت نہہں دیتا ۔وہ پھر مایوس ہونے لگی
جبکہ روح کا دل چاہا کہ اسے لڑکی کو بتائے کہ اگر مذہب اس طرح ملنے کی اجازت دیتا ہے ایک ساتھ رہنے کی اجازت دیتا ہے یوں نامحرم رشتہ رکھنے کی اجازت دیتا ہےمگر شادی کی نہیں تو تم اس دنیا کی سب سے بڑے بےوفوف ہو۔لیکن وہ نہِیں کہہ پائی ۔
وہ لڑکی کوئی چھوٹی دی بچی نہیں تھہ اپنا بُرابلا سمجھ سکتی تھی پھر وہ کیونکہ دخل اندازی کرتی۔
اچھا روحی میری دوست بنو گی وہ کیا ہے نہ میرا کوئی دوست نہیں ہے
پلیز تم میری دوست بن جاؤ یار میں یہاں بہت بور ہو رہی ہوں وہ اس کے دونوں ہاتھ تھامتے اصرار کرتے ہوئے بولی
جب کہ روح تو اس کے منہ سے روحی سن کر ہی پریشان ہو گئی تھی
یہ نام اس کے لئے نیا نہیں تھا اس طرح سے اسے کوئی تو مخاطب کرتا تھا لیکن اسے یاد نہیں آیا لیکن کوئی تھا بہت عزیز
تم مجھے روح کر بلاؤ روح نے فورا جواب دیا تھا
کیوں میرا روحی کہنا تمہیں اچھا نہیں لگا وہ مایوس ہو کر پوچھنے لگی
نہیں تم مجھے روحء ہی بلاؤ مجھے خوشی ہو گی روح نے اس کی مایوسی دور کرنے کے لئے مسکرا کر کہا
وہ بھی تو تمہیں کہتا ہے وہ بڑبرائی تھی
کون روح نے پوچھا
تمہارا ہسبینڈ وہ سر پہ ہاتھ مارتے مسکرا کر بولی
نہیں وہ مجھے میرے نام سے بلاتے ہیں انہیں میرا نام بہت اچھا لگتا ہے روح نے فوراً جواب دیا
ہاں تمہارا نام بہت پیارا ہے یونیک سامجھے بھی بہت پسند ہے لیکن میں اپنے سارے دوستوں کو کسی نہ کسی نکنیم سے بلاتی ہوں لیکن تمہیں میرا دیا ہوا نام پسند نہیں آیا اور وہ مسکرا کر کہنے لگی
جب کہ اس بار روح اس کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکی تھی
°°°°°°°
میں کب سے ڈھونڈ رہا ہوں تمہیں اور تم یہاں کھڑی ہوپیچھے سے ایک سرد سی آواز نے انہیں پیچھے دیکھنے پر مجبور کر دیا
کم ڈارلنگ اس سے ملو یہ ہے میری نہیں دوست روح ہے
ابھی ابھی ہماری دوستی ہوئی ہے یہ بہت اچھی ہے پاکستان سے آئی ہے یہاں اور اتفاق دیکھو پاکستان سے اس کا تعلق ملتان سے ہے
جہاں تم رہتے تھے اور اب دبئی میں رہائش پذیر ہے اپنے ہزبینڈ کے ساتھی یہ بھی
خوشی مسکراتے ہوئے بولی
جب درک نے اسے گھور کر دیکھا جیسے وہ اسے آنکھوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کر رہا ہوں
اور روح یہ میرا بوائے فرینڈ ہے میں ہندو ہوں اور یہ مسلم اس لیے ہم شادی نہیں کر سکتے لیکن ساتھ تو رہ سکتے ہیں نہ
خوشی اس کے بازو میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولی
ہوگی تمہاری بکواس ختم وہ غصے سے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے اسے گھور کر دیکھتے ہوئے بولا ۔
آپ سے مل کر خوشی ہوئی ویسے ہم دبئی میں بھی ایک بار مل چکے ہیں وہ اسے گھور کر روح کی جانب متوجہ ہوا تو روح نے ہاں میں سر ہلایا
جی آپ میرے ڈوگی سے بات کر رہے تھے شاپنگ مال میں روح نے فورا کہا تھا
معصومہ کو جانتی ہوں گی آپ وہ آپ کی دوست ہے یہ ڈوگی اسی کے پاس تھا اور تب میری اس کے ساتھ کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی
بس اسی لئے مجھے دیکھ کر میرے پاس آ گیا میں اور معصومہ ایک ہی بلڈنگ میں بالکل آمنے سامنے رہتے ہیں
اس نے تفصیل سے بتایا تو روح کے چہرے پر اجنبیت کی جو لہر تھی وہ ختم ہوئی
اسی لیے تو میں بھی سوچ رہی تھی کہ میرا ڈوگی آپ کے پاس کیسے چلا گیا جب کہ وہ تو کسی کے ساتھ اس طرح سے اٹیچ نہیں ہوتا
وہ صرف انہیں لوگوں سے ملتا ہے جنہیں وہ جانتا ہے
شاید اسی لئے آپ کے پاس چلا گیا ہوگا
روح نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جب کے درک خوشی کو چلنے کا اشارہ کر رہا تھا
°°°°°
یارم نے دور سے روح کو کسی لڑکی کے ساتھ کھڑا دیکھا
پتا نہیں کون تھی وہ لڑکی لیکن کافی آزاد خیال تھی
یہ بات وہ اس کی ڈریسنگ سے پتہ لگا چکا تھا
اور اُس کے چہرے کی بےزاری بتا رہی تھی کہ وہ اس کے ساتھ رک کر کچھ خاص خوش نہیں ہے اسی لیے وہ جلدی جلدی گاڑی لے کر اس کے قریب جانا چاہتا تھا
جب اس لڑکی کو کسی لڑکے کے ساتھ جاتے دیکھا
یہ لڑکا کون تھا وہ پہچان چکا تھا
لیکن وہ روح کے پاس کیوں کھڑا تھا اس سے بھلا کیا کہہ رہا تھا وہ گاڑی سے نکلتے ہوئے روح کے پاس آکر رکا
کیا کہہ رہے تھے وہ لوگ ۔۔۔!
یارم وہ لڑکا کوئی کڈنپر نہیں ہے بلکہ معصومہ کا پڑوسی ہے اس نے ابھی مجھے بتایا کہ وہ پہلے سے ہی جانتا تھا
تبھی تو شاپنگ مال میں اس کے پاس چلا گیا اور ہم سمجھے کہ وہ میرے شونو کو اغوا کرنے والا ہے
روح سر پہ ہاتھ رکھ کے مسکراتے ہوئے اسے تفصیل بتانے لگی
اچھا چھوڑو اور وہ ان لوگوں سے جتنا فاصلہ بنا کے رکھو گی اتنا ہی بہتر ہے عجیب سے لوگ ہیں مجھے تو کچھ خاص پسند نہیں آئے
اور جہاں تک مجھے پتہ چلا ہے یہ لڑکا کوئی جواوغیرہ کھیلتا ہے میرا مطلب ہے کہ سٹہ بازی کرتا ہے اس کے ساتھ یہ لڑکی بھی شامل ہے
ہوٹل کا مینیجر بتا رہا تھا کہ کہ یہ لڑکا کافی پرسرار ہے
ہمیں اس سے فاصلہ بنا کر رکھنا چاہیے
چھوڑں یارم ہمیں کیا لینا دینا وہ لڑکا کیسا ہے اور یہ ہوٹل کے لوگ بھی ناں عجیب ہوتے ہیں کسی کو بھی کچھ بھی کہنا شروع کر دیتے ہیں
مجھے تو لڑکا ٹھیک ٹھاک لگا لیکن وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں بنا شادی بنا نکاح کے اور وہ لڑکی ہندو ہے اور وہ لڑکا مسلمان کیا ہمارا مذہب اجازت دیتا ہے ایسا کرنے کا
روح آج کے زمانے میں مذہب کون دیکھتا ہے ان لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا مذہب کیا ہے
ان لوگوں کو صرف اور صرف اپنے انجوائمنٹ سے فرق پڑتا ہے خیر چھوڑ دو ان سب چیزوں کو جانےمن چلو تمہیں چاند ستاروں کی دنیا میں لے کر چلوں۔
سوئیزرلینڈ کی سب سے خوبصورت جگہ تمہارا انتظار کر رہی ہے
اس کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرے وہ جھکنے ہی والا تھا کہ روح نے اسے جگہ کا احساس دلایا کہ ہٹل کے باہر کھڑے تھے
اور یہاں بھی یارم کی بے باکیاں عروج پر تھی
ہاں تو میں اپنی بیوی سے سے پیار کر رہا ہوں کسی غیر سے تھوڑی کر رہا ہوں وہ اس کی گھوری کو نظرانداز کرتے ہوئے بولا
اچھا بابا بس بس اب ساری دنیا کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں آپ کی بیوی ہوں چلیں جہاں چلنا ہے
اور اللہ کا واسطہ ہے وہاں جا کے اپنا یہ بیوی نامہ مت شروع کر دیجیے گااس کی دن بہ دن بڑھتی بے باکیوں پر روح اچھی خاصی پریشان تھی
بیوی نامہ کھولنے کے لیے ہی تو لے کر جا رہا ہوں تمہیں اپنے ساتھ وہ آنکھ دباتا شرارت سے بولا تو روح اسے گھور کر رہ گئی
جان من رات بھر یہ جتنا چاہے مجھے گھور لینا تم پر کوئی پابندی تھوڑی ہے وہ اسے گاڑی میں بٹھا تا پھر شرارت پر انداز میں بولا تھا اور نہ چاہتے ہوئے بھی روح کے چہرے پر مسکراہٹ کھیلی
آپ لاعلاج ہیں وہ گاڑی میں بیٹھ کر مسکراتے ہوئے بولی
بالکل غلط میرا علاج تم ہو اگر تم ٹھیک سے مجھے پیار کرو ٹھیک سے میرا خیال رکھو تو مجال ہے جو میں ذرا سا بھگڑ جاؤں یارم مسکراہٹ دباتا اس کی بات اپنے انداز میں لے گیا جبکہ روح کو اب خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر لگ رہا تھا
°°°°°
