Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 18)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
وہ دونوں تیار ہو کر نیچے آئے تو خوشی وہیں روح کا انتظار کرتی تھی اسے ہاتھ ہلانے لگی
یارم نے ایک نظر غصے سے روح کے چہرے کو دیکھا جس نے بمشکل اس کے تاثرات پر اپنی ہنسی بائی تھی
روح یہ چیپکو لڑکی یہاں کیا کر رہی ہے اب ہم لوگ چل تو رہے ہیں اس کی بتائی ہوئی جگہ پر یارم نے اسے گھورتے ہوئے کہا
یارم ہو سکتا ہے شاید اسے کوئی بات کرنی ہوگی
یارم کیا ہوگیا ہے آپ کو ذرا ذرا سی بات کو اتنا زیادہ سر پر سوار کیوں کر رہے ہیں روح نے خوشی کودیکھ کر مسکراتے ہوئے کم آواز میں کہا
جبکہ خوشی ان کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے بنا روح کو اپنے آپ کو روکنے کا موقع دیے اس کے گال کو دوبارہ چوم چکی تھی
تم بہت کیوٹ ہو یار آخر تم نے اپنے شوہر کو مناہے لیا میں جانتی تھی کہ آپ ٹپیکل ہسبنڈ کی طرح اپنی بیوی پر پابندیاں نہیں لگاتے ہوں گے
سچ میں مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ دونوں ہمارے ساتھ آ رہے ہیں میرا بوائے فرینڈ تو وہاں چلا بھی گیا ہے
میں تو روح کا ویٹ کر رہی تھی کیونکہ مجھے پکا یقین تھا کہ یہ ضرور آئے گی خوشی نے بے حد خوشی سے کہا جبکہ یارم کے چہرے کے زاویے مکمل بدل چکے تھے وہ روح کو انتہائی خطرناک نظروں سے گھورتا اپنے کمرے میں چلا گیا
روح تمہارے ہسبینڈ کو کیا ہوگیا کیا میں نے کچھ غلط بول دیا کیا
وہ اس طرح سے کیوں چلےگئے کہیں وہ تم سے ناراض تو نہیں ہو گے خوشی پریشان ہو چکی تھی
شاید وہ اپنا موبائل فون کمرے میں بھول آئے تھےمیں دیکھ کے آتی ہوں روح کو کوئی ڈھنگ کا بہانہ بھی نہ ملا لیکن یارم کے اس انداز کی وجہ وہ بھی سمجھ نہیں پائی تھی بس بھاگتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب آگئی جہاں وہ غصے سے گیا تھا
°°°°°
یارم کیا ہوگیا ہے آپ کو آپ اس طرح سے وہاں سے یہاں کیوں چلے آئے آپ ٹھیک تو ہیں طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی ۔۔۔؟
روح پریشانی سے اس کے پیچھے آکر رکی تھی جب کہ وہ آئینے کے سامنے کھڑا سگریٹ سلگا رہا تھا
جب سے روح کی طبیعت خراب ہوئی تھی وہ تقریبا سگریٹ چھوڑ چکا تھا لیکن غصے میں بے حال ہو کر اکثر وہ اس کی غیر موجودگی میں وہ اپنی یہ طلب پوری کر ہی لیتا تھا
یارم آپ اتنے سگریٹ کیوں پی رہے ہیں آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں روح کو اس کے غصے کی وجہ بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی
کیونکہ تم ایک نمبر کی بے وقوف لڑکی ہو جاؤ جا کر اپنا منہ دھو کر آؤ
وہ غصے سے اچھی خاصی اونچی آواز میں بولا تھا توروح سہم سی گئی
اسے یاد تھا جب یار م اس پر غصہ ہوتا تھا تب ہی اس طرح سے بات کرتا تھا اسے غصے میں دیکھ کر روح بنا کوئی سوال پوچھے واش روم میں گھس گئی
شیشے میں اپنا چہرہ دیکھا تو وہاں گال پر سرخ لپ اسٹک کا نشان تھا وہ اس کے غصے کی وجہ کو سمجھ کر بے اختیار مسکرا دی
اور سوپ سے اچھے سے اپنا منہ صاف کیا
واش روم سے باہر نکلی تو یارم کو بیڈ پر لیٹے آرام سے سگریٹ نوشی کرتے پایا
یارم میں نے منہ دھو لیا اس نے بتایا تھا
دوبارہ دھو کر آؤ یارم اس کی طرف دیکھے بنا بولا
لیکن یارم دوبارہ کیوں ۔۔۔۔؟روح نے پریشانی سے پوچھا تو یارم نے غصے سے اس کی جانب دیکھا
افکورس ٹھیک سے صاف نہیں ہوا اسی لئے تو کہہ رہے ہیں آپ میں دوبارہ دھوکے آتی ہوں وہ اپنے سوال کا جواب دیتی خود دوبارہ واش روم میں گھس گئی
یارم کا غصہ بتا رہا تھا کہ آج اس کی خیر نہیں اس نے ایک بار پھر سے اپنا چہرہ رگڑرگڑکردھویا جو پہلے سے صاف ستھرا تھا
یارم میں دوبارہ دھو کر آ گئی واش روم سے نکلتے ایک بار پھر سے بتانے لگی
ایک بار پھر سے دھوکر او یارم نے حکم دیا
یارم۔۔۔۔روح اسے دیکھتے ہوئے کسی ضدی بچے سے انداز میں بولی تویارم نے اسے ایک بار پھر سے سخت نظروں سے گھورا
میں جارہی ہوں دوبارہ دھونے کے لیے
وہ غصے سے پیر پٹکتے دوبارہ واش روم میں بند ہو گئی اور اس بار اپنے چہرے کو مزید رگڑنے لگی
حد ہے ایک بار شکل دیکھ تو لے میری صاف ہوگیا ہے لپسٹیکٹ کا نشان وہ بربڑاتی دوبارہ باہر آئی جب یارم نے اسے دوبارہ جانے کا آرڈر دے دیا
یارم پلیز۔۔۔روح نے بے بسی سے کہا تھا لیکن یارم اسے سن کہاں رہا تھا
اور اس کے انتہائی سرد نظریں روح کو اس سے خوفزدہ کر رہی تھی
دس منٹ میں یہ اس کا ستراواں چکر تھا ۔
وہ اچھی خاصی تھک چکی تھی اور اس نے خود قسم کھا لی تھی کہ وہ خوشی کو دوبارہ ایسی حرکت کرنے کا موقع بھی نہیں دے گی
اس بار وہ باہر آئی تو یار م نے اس کے چہرے کی طرف دیکھنے کی غلطی کر ہی دی تھی
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کے سامنے آکر رکا
اس کی تھوڑی کو اوپر کرتے ہوئے ہر طرف سے چیک کیا صاف شفاف پانی کی ٹپکتی بوندھے اسے بہکانے لگی تھی
جاودوبارہ دھو کر آؤ۔وہ ایک بار پھر سے کہتا روح کو بے ہوش کرنے کے قریب پہنچا چکا تھا
وہ مرے مرے قدموں سے ایک بار پھر سے واش روم میں گھس گئی
اور جلدی سے پانی کا چھلکا اپنے منہ پر مار کے باہر آئی کیونکہ اسے دوبارہ واپس اندر بھی آنا تھا
اسکاف باندھ لو اچھے خاصے لیٹ ہو چکے ہیں ہم کیا سوچ رہی ہو کہ تمہاری دوست اندر کمرے میں کیا کر رہے ہیں ہم وہ اس کا اسکاف اس کے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بولا تو روح شکر کا کلمہ پڑھتی اس کے پیچھے آئی لیکن خود سے وعدہ کر لیا تھا کہ اس ستم کا بدلہ وہ ضرور لے گی ۔
خوشی پریشانی سے باہر آگے پیچھے چل رہی تھی جب وہ دونوں باہر آئے
کیا ہوا روح سب کچھ ٹھیک تو ہے تم لوگ اچانک چلے گئے وہ اس کے قریب آتے ہوئے کہنے لگی
ہاں سب ٹھیک ہے یارم کا موبائل نہیں مل رہا تھا وہ اپنے بہانے کو مضبوط کرتی اس کے ساتھ چل دی جس پر خوشی بے اختیار مسکرائی تھی
صاف صاف کہونا تمہارے ہسبینڈ کا رومٹنک موڈ آن ہو چکا تھا بہانے کیوں بنا رہی ہو کم از کم اپنی سہیلی سے اتنا تو شیئر کر سکتی ہو
وہ شرارتی انداز میں بولی جب کہ ان کے چند قدم آگے چلتا یارم اس کی بات پر مسکرائے بنا نہ رہ پایا
آج جو رومانس اس نے روح کے ساتھ کیا تھا وہ ساری زندگی روح بھول نہیں سکتی تھی جس کے لیے وہ کافی مطمئن تھا اسے یقین تھا اب وہ دوبارہ غلطی نہیں کرے گی
°°°°
ِیہ لوگ اس جگہ پر بائیک ریس کرتے تھے یہ کوئی بہت بڑی رئیس ہونے جا رہی تھی یارم کو اس چیز بالکل بھی دلچسپی نہیں تھی جبکہ روح کا انٹرسٹ بھی نہ ہونے کے برابر تھا لیکن خوشی کی خوشی کے لیے وہ یہاں یارم کو بھی اپنے ساتھ لے آئی تھی
یہاں آنے سے بہتر تھا کہ میں تمہیں ایک رومنٹک ڈیٹ پر لے کرجاتا اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ خوبصورت وقت گزارتے وہ آہستہ آہستہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا تو روح نے اسے گھور کر دیکھا
آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی اتنی بڑی زیادتی کے بعد میں آپ کے ساتھ کہیں بھی ڈیٹ پر چلوں گی غلط فہمی ہے آپ کو مسٹریارم کاظمی میں آپ کو منہ بھی نہیں لگاؤں گی وہ غصہ ہوتے ہوئے بولی جب کہ یارم اس کے انداز پر مسکرایا تھا
اور تمہیں یہ غلط فہمی کیوں ہے کہ میں تمہارے انکار کو کوئی اہمیت دونگا وہ اسی کے انداز میں کہتا اس سے سوال کر رہا تھا
آپ ہیں ہی ایک نمبر کے چیٹر اس زیادتی کے لیے میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی
کبھی فائدہ مت دیکھنا اس کا دیکھو تمہارا منہ کتنے اچھے سے صاف ہوگیا ہےاور لگے ہاتھوں تمہیں نصیحت بھی ہوگی کہ جو کام مجھے پسند نہیں ہے وہ تم نے نہیں کرنا وہ اب بھی اپنی بات کو ہنسی میں ہی لے رہا تھا
میں نے جان بوجھ کر تھوڑی کیا تھا وہ معصومیت سے بولی
ہاں میرا بچہ تم نے جان بوجھ کر نہیں کیا لیکن تم اسے روک سکتی تھی میرے حق پر کوئی نظر بھی اٹھائے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا یہ بات اچھی طرح سے اپنے دماغ میں بٹھا لووہ پیار سے اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے بولا
جب درک اور خوشی ان کے نزدیک آ کر کھڑے ہوئے
مجھے خوشی ہوئی تم دونوں کو یہاں دیکھ کر مجھے سپورٹ کرنے کے لیے تم دونوں کا شکریہ اس کی آواز سن کر یارم نے حیرت سے اسے دیکھا تھا وہ کروڑوں میں اس آواز کو پہچان سکتا تھا
اور پھر اس کی آنکھیں بھی تو بہت کچھ بیان کر رہی تھی
تو آپ بائیک ریس کرنے والے ہیں یار م کو خاموش دیکھ کر روح نے تھوڑا سا انٹریسٹ دکھایا
ہاں روح میرا بوائے فرینڈ چیمپین ہے اسے کوئی ہرا نہیں سکتا آج تک اس نے ایک بھی ریس نہیں ہاری اور آگے بھی ہارنے کے کوئی چانس نہیں ہیں خوشی کے انداز میں ایک مان تھا
جب کہ وہ مغرور سا لڑکا گردن اکڑا کر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اسے ہرانا آسان نہیں
ارے یہ تو کچھ بھی نہیں آپ میرے یارم کو نہیں جانتے میرے یارم آپ کو چٹکیوں میں ہارا دیں گے بائیک ریسنگ میں تو وہ چیمپئن ہیں اور یونیورسٹی میں تو ان سے آگے کوئی تھا ہی نہیں بائیک ریسنگ میں
اگر آپ اپنے آپ کو اتنا بڑا چمپین سمجھتے ہیں تو میرے یارم سے مقابلہ کریں وہ یارم کو آگے کرتے ہوئے درک کو چیلنج دینے لگی
جب کہ یارم کو یاد نہیں پڑتا تھا کہ اس نے کبھی بھی روح کو اس بارے میں کچھ بھی بتایا ہو اس نے تو کبھی آپنے کالج یا یونیورسٹی کا ذکر بھی اس کے سامنے نہیں کیا تھا وہ بائیک ریس کا چمپین وہ کب بنا
روح یہ سب کیا بکواس کر رہی ہو تم وہ اسے گھورتے ہوئے بہت کم آواز میں غرایا
جبکہ درک کے لبوں پر ایک نامحسوس سے مسکراہٹ آئی اور پھر غائب ہوگئی
تو مسٹریارم کاظمی اگر تم خود کو اتنا ہی بڑا چمپین سمجھتے ہو تو ایک ریس ہو جائے تمہاری بیوی کو بہت مان ہے تم پر کہ تم جیتو گے
اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس انداز میں بولا کہ یارم انکار بھی نہ کر پایا
ہاں لیکن اتنا ضرور کہا تھا
کہ میں کوئی چیمپئن نہیں ہوں لیکن میری بیوی کو مجھ پر مان ہے تو میں تمہارا یہ چیلنج ایکسپٹ کر رہا ہوں
اور بس اتنا کہہ کر روح کی طرف متوجہ ہوا
جو اپنا ایک ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھے بے حد معصوم لگ رہی تھی لیکن اس معصوم سے چہرے کے پیچھے جو شیطانی چھپی تھی وہ یارم بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا یقینا وہ اس سے یہاں آنے سے پہلے والی بات کا بدلہ لے رہی تھی
18 بار میرا منہ دھوایا تھا نہ اب سو میٹر کے یہ ریس جیت کر دکھائیں وہ ناک چڑھاتی خوشی کے ساتھ دوسرے راستے سے جیت کے مقام کی طرف جانے لگی
اس لڑکی سے دور رہنا یارم نے ایک بار پھر سے اسے بارو کروایا تھاجس پر وہ منہ بناتی چلی گئی
ایک لڑکے نے اسے ایک ہیوی بائیک ہیلمٹ اور احتیاط چیزیں دی ۔
روح نے اسے اچھی خاصی مصیبت میں ڈال دیا تھا لیکن وہ جانتا تھا وہ شرارتی لڑکی شرارت کئے بغیر نہیں رہ سکتی
اور اپنا بدلا تو وہ ضرور لے گی یارم مسکراتا ہوا ہلمنٹ کو پہنتا بائیک سنبھالنے لگا
درک نے اپنا نام دوسری بائیک ریسنگ سے کٹوا دیا تھا کیونکہ وہاں یارم کا نام شامل نہیں تھا نہ جانے کیوں اس کے لیے باقی کسی سے بھی جیتا یارم سے جیتنے سے زیادہ ضروری نہیں تھا
جب کہ یارم کے لیے یہ ریس بالکل عام سے بات تھی اس کا جیتنا ہارنا اس کے لیے اہمیت نہیں رکھتا تھا وہ تو بس روح کو منانے کے لئے اس کی بات مان گیا
°°°°°
