Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 1)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 1)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
وہ ہر طرف اسے ڈھونڈ رہا تھا کسی کی اتنی ہمت کہ کوئی اس کی روح کو تکلیف پہنچائے
کون تھا اس کا ایسادشمن جس میں اتنی ہمت آ گئی تھی کہ وہ ڈیول سے پنگا لیتا ۔
راشد اس کھیل کا سب سے کمزور مہورا تھا ۔جس میں اتنی ہمت آ گئی تھی کہ وہ ڈیول کی کمزوری پر حملہ کرتا
ہر ممکن کوشش کے باوجود بھی وہ اسے ڈھونڈنے میں کامیاب نہ ہوسکا ۔اور پھر اسے ایک فون آیاتھا ۔
اگر روح کو بچانا چاہتے ہو تو جس جگہ کی لوکیشن میں تمہیں سینڈ کر رہا ہوں وہاں چلے جاؤ روح کو اس شخص نے وہیں پر رکھا ہے ۔
لیکن تم کون ہو۔۔۔! وہ پاگلوں کی طرح روح کو ڈھونڈتے تھک چکا تھا جب کسی امید کے روشن دیے کی طرح کسی نے اسے فون کیا
میں جو بھی ہوں اس سے تمہیں کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ملیکن یں ہوچاہتا ن تم مجھے یاد رکھو دنیا مجھے ہارٹ لیس کے نام سے جانتی ہے میری ذات کھنگالنے سے بہتر ہے کہ تم اپنی روح کی جان بچاؤ فون بند ہوچکا رہا
اور لوکیشن اس کے موبائل پر آ چکی تھی ۔
وہ شخص کون تھا کون نہیں یارم کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن یا رم کی ذات پر اس کا ایک احسان تھا جو یارم کاظمی مرتے دم تک چکا نہیں سکتا تھا ۔
°°°°
وہ یارم کے لیے سب سے مشکل ترین وقت تھا جب ہرچلتی سانس کے بعد اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی روح اس سے دور جا رہی ہے
ڈاکٹر نے اس کا جنون اور دیوانگی دیکھتے ہوئے ہی اسے مناسب الفاظ میں بتایا تھا
کہ روح کی جان بچانا اور تقریبا ناممکن ہے یہ سب کچھ کہتے ہوئے ڈاکٹر خود بھی اس سے خوفزدہ تھا یقیناًاسے اپنی جان بہت عزیز تھی ۔
وہ یارم کے جنون کے ہتھے نہیں چڑناچاہتا تھا وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ لڑکی اس شخص کے لئے اس کی زندگی ہے
لیکن اندھیری کالی قبر سے نکلنے کے بعد روح اپنے آپ کو بےجان محسوس کر رہی ہے اس میں جینے کی طاقت ختم ہو چکی ہے ۔
یارم کا بس چلتا تو شاید وہ ڈاکٹر کو ہی جان سے مار دیتا ہے ۔
اگر وہ ڈاکٹر زندہ تھا تو صرف اور صرف خضر کی وجہ سے جس نے اس وقت یارم پر کنٹرول کیا تھا ۔
اور پھر وہ اپنی روح کو لے آیا تھا وہاں سے اس کا مہنگے سے مہنگا علاج کروایا ۔امریکا کے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ روح کے اندر صرف دس پرسنٹ ہی جینے کی نوعیت باقی ہے
اگر وہ خود زندگی کی طرف لوٹ آئے تو اس کی جان بچائی جا سکتی ہے
اور پھر یارم کی محبت کے سامنے روح نے ضد چھوڑ دی وہ لوٹ آئی اپنے یارم کے لیے کیونکہ وہ بھی جانتی تھی روح کے بنا یارم کچھ نہیں ۔
پورے دو ماہ بعد وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی ۔اور تب سے ہی ڈاکٹر نے اسے کسی بھی قسم کی بات یاد کروانے یا پھر ٹینشن دینے سے سختی سے منع کیا تھا ایسا کرنے سے اس کی دماغی حالت بھگڑ سکتی تھی وہ اپنی یاداشت بھول سکتی تھی
اور یارم ایسا کچھ نہیں چاہتا تھا اسے تو بس اپنی روح واپس چاہیے تھی جیسی وہ تھی بالکل ویسی ہی
°°°°°°°
یارم کے لیے روح ہی اس کا سب کچھ تھی اس کے بنا وہ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا وہ جانتا تھا وہ ان سب چیزوں سے عاجز آچکی ہے وہ چاہتی ہے کہ سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے یہ وقت اس کے لیے بہت مشکل ہے ڈاکٹر نے دو ماہ تک یارم کو روح کے پاس جانے سے بھی منع کر دیا تھا
اسے یاد تھا ۔کتنی مشکل سے وہ اسے نارمل زندگی کی طرف لا پایا تھا
تین ماہ گزر چکے تھے اس حادثے کو لیکن روح آج بھی پہلے کی طرح نہیں ہو پائی تھی ۔
ڈاکٹر نے اسے کسی بھی قسم کی پرانی بات یاد دلوا کر ٹینشن دینے سے منع کیا ہوا تھا لیکن وہ سب کچھ بھولتی ہی نہیں تھی وہ اس کے سامنے ظاہر کرتی تھی کہ وہ بالکل ٹھیک ہے لیکن یارم جانتا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے وہ ساری رات اس کے قریب بیٹھا جاگتا رہتا تھا کہ کہیں وہ خواب میں ڈرنا جائے یارم ہر ممکن طریقے سے اسے ہر قسم کی ٹینشن سے دور رکھے ہوئے تھا ۔
کل اسے پورا ایک مہینہ ہو جانا تھا قومہ سے واپس ہوش میں آئے ہوئے ۔دو مہینے تک اسے کچھ بھی ہوش نہیں تھا ڈاکٹر کے مطابق شائد ہی وہ زندہ بچ پاتی۔ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہ ایک مردہ وجود ہے وہ زندہ نہیں بچ پائے گی لیکن یارم نے ہمت نہیں ہاری ۔اسے اپنی روح چاہیے تھی اور وہ اپنی روح کو واپس لے آیا تھا
یہ ایک معجزہ تھا
جو یارم کی زندگی ہوا اور اسے ایک بار پھرروح مل گئی
اللہ نے اس پر رحم کیا تھا اس کی روح کو اسے واپس دے دیا تھا ورنہ اس کے معاملے میں توخضر لیلیٰ شارف اور معصومہ بھی ہمت ہار چکے تھے۔وہ اس سے چھپ کر روتے تھے وہ پوری طرح سے اس بات کو قبول کرچکے تھے کہ اب روح کے زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں بچی اور کسی بھی وقت روح کی موت کی خبر یارم کی زندگی ہلاسکتی تھی
لیکن یارم کی محبت زندہ تھی اسے واپس آنا تھا اور اللہ کو اس پر رحم آگیا جس کے لیے وہ ہر وقت اپنے رب تعالیٰ کا شکر گزار تھا
ابھی مکمل طور پر ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اکثر روح کی سانس اکھڑنے لگتی اکثر وہ اپنے آپ کو ایک اندھیری قبر میں محسوس کرتی اچانک نیند میں اس کی آنکھ کھل جاتی
اس کا خوف زدہ وجود کانپنے لگتا اور یارم بے بس تھا بالکل بے بس یہاں وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا یہاں اس کی ہر پاور بے بس تھی
یارم اسے بالکل بھی اکیلے نہیں چھوڑتا تھا اسے صرف اور صرف اپنی روح کی پرواہ تھی جس کے بنا وہ ادھورا تھا نامکمل تھا” روحِ یارم” مطلب یارم کی روح وہ یارم کی روح تھی روح کے بنا یارم کبھی مکمل نہیں ہو سکتا تھا
یارم کا کہنا تھا کہ وہ مطلبی ہے وہ روح کا نہیں بلکہ اپنا خیال رکھتا ہے اپنے جینے کی وجہ کا خیال رکھتا ہے کیونکہ روح کے بنا وہ جی نہیں سکتا
اور یار م کی حددرجہ کیئرنگ پر وہ بری طرح سے جھنجھلا گئی تھی ۔ہر چیز میں روک ٹوک کھانے پر روک ٹوک’اٹھنے بیٹھنے پر روک ٹوک یہاں تک کہ وقت پر نہ سونے پر روک ٹوک وہ آج کل یارم سے بہت زیادہ چڑی ہوئی تھی اکثر ناراض بھی ہو جاتی اور یارم کو اس کی فضول اور بےجا ضد بھی ماننی پڑتی
اب وہ پہلے کی طرح یارم کی ایک گھوری پر خاموش نہیں ہوتی تھی اب وہ ضد کرتی تھی جانتی تھی کہ جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتی یارم اس کو ڈانٹنا تو دور غصہ کرنے کا بھی نہیں سوچ سکتا لیکن پھر بھی یارم کا لال چہرا سوخی بھری آنکھیں اسے کوئی بھی الٹا سیدھا کام نہیں کرنے دیتی تھی جس کی وجہ سے وہ اس سے لڑتی بھی تھی لیکن اس کے بدلے بھی سامنے سے ٹھنڈا ری ایکشن ملتا تو وہ بےزار ہو جاتی
ایسے میں لیلیٰ کی پریگنسی نے اس کی صحت پر بہت اچھا اثر ڈال دیا تھا ۔
اور اس کی خوشی اور ضد دیکھتے ہوئے یارم نے اسے لیلیٰ کے پاس دوپہر میں رہنے کی اجازت دے دی تھی
°°°°°
وہ سارا سارا دن لیلٰی کے پاس ہی رہتی تھی
کیونکہ خضر کے مطابق وہ اپنے بچوں کو کسی بھی قسم کے مافیا ماحول میں پرورش نہیں پانے دے گا یہی وجہ تھی کہ لیلٰی کو سارا کام کاج چھوڑ کر پریگنسی کے پہلے مہینے میں ہی گھر بیٹھنا پڑ گیا ۔
ایسے میں روح کا آجانا لیلیٰ کے لیے بھی کسی نعمت سے کم نہیں تھایہ الگ بات ہے کہ اب آہستہ آہستہ وہ اس کے لیے زحمت ثابت ہو رہی تھی
اس کی پریگنسی کی وجہ سے یارم نہ چاہتے ہوئے بھی اسے لیلی کے پاس چھوڑ کے آتا تھا وہ تو روح کی ہر چیز بلکہ ایک ایک سیکنڈ پر صرف اپنا حق سمجھتا تھا وہ شام کو خود ہی لے کر جاتا یہاں تک کہ وہ اس کے معاملے میں وہ کسی پر بھی یقین نہیں کرتا تھا
لیلیٰ کے گھر میں لگے کیمروں کی مدد سے وہ ہر وقت اس پر نظر رکھتا تھا ۔
لیکن وہ جانتی تھی کہ آفس سے لے کر لیلی کے گھر کے سفر تک وہ اسے نہیں دیکھ پاتا اور آج تو شارف نے فون پر بتایا تھا کہ ڈیول کسی کا صفایا لرنے گیا ہے
مطلب وہ لیٹ آئے گا اور وہ اس چیز کا فائدہ اٹھاتی تھی لیلی کا خیال رکھنے کی بہت کوشش کررہی تھی
لیلی کے لیے تو روح بھی اپنے ماموں سے کم ثابت نہیں ہوئی تھی وہ بھی اس کی پریگنسی کو لے کر کافی ٹچی ہو رہی تھی کبھی ایک چیز تو کبھی دوسری چیز وہ اس کو کھلا کھلا کر کچھ ہی دن میں اس کا وزن بڑھانے میں کامیاب رہی تھی
اس وقت بھی وہ دونوں کچن میں کچھ بنانے میں مصروف تھی جبکہ لیلی کو یارم نے روح سے کوئی بھی کام کروانے سے منع کر رکھا تھا لیلیٰ کی سانسیں سوکھی ہوئی تھی کیونکہ یارم کے آنے کا وقت ہو رہا تھا ۔
اور یہ ماموں کی بھانجی اس کی کوئی بات نہیں مان رہی تھی ۔
روح خدا کے لئے بس کر دو یار میں خود بنا کر پی لوں گی تمہیں ویڈیو سینڈ کر دوں گی مگر تم مت بناؤ ڈیول کبھی بھی آتا ہوگا
وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے اسے منع کرنے کی کوشش کر رہی تھی
یارم نام ہے ان کا ماشاء اللہ سے کتنا خوبصورت نام ہے اور تم لوگ ڈیول ڈیول کہہ کربگاڑ رہے ہو ان کا نام اللہ معاف نہیں کرتا نام بگاڑے والوں کو وہ چڑکر بولی
تمہیں نام کی پڑی ہے روح ڈیول ہمارا نقشہ بگاڑ دے گا اگر تمہیں ذرا سی بھی تکلیف ہوئی تو۔وہ اس کی بات کاٹ کر جلدی سے بولی جب اسے پیچھے سے قدموں کی بھاری چاب سنائی دی۔
تم یہاں میری بیوی سے کام کروا رہی ہووہ غصے سے سرد آواز میں بولا ۔
لیلیٰ تو اچھل پڑی جب کہ روح کا بھی حال کچھ ایسا ہی تھا
شارف بھائی نے تو بولا تھا کہ یہ کہیں گئے ہوئے تھے اور آج لیٹ آنے والے تھے تو اتنی جلدی ۔۔۔ وہ ناخن منہ میں ڈالے سوچنے لگی
جب یارم کی سخت گھوری نے ہاتھ منہ سے نکالنے پر مجبور کر دیا
نہیں ڈیول می۔۔۔ می۔۔ می۔۔۔میں نہیں روح کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔میں نے ۔۔۔۔میں نے ۔۔۔۔بہت بہت بار منع کرنے کی کوکوکوک۔۔۔۔۔۔ کوشش کی لیکن یہ میری سنتی۔۔۔۔۔ کہاں ہے۔۔۔۔ ۔لیلی کے الفاظ اس کے منہ میں ہی دبنے لگے تھے آواز کمبخت باہر نکلنے کا نام نہیں لے رہی تھی
یارم سے وہ لوگ ہمیشہ سے ہی خوفزدہ رہتے تھے لیکن جب سے روح کے ساتھ وہ حادثہ پیش آیا تھا ان کی زندگی پھڑپھڑاتا پرندہ بنی ہوئی تھی
جیسے ڈیول کبھی بھی آزاد کر سکتا تھا
اور اب تو وہ روح کے معاملے میں خود پے بھی یقین نہیں کرسکتا تھا تو لیلیٰ تو پھر لیلیٰ تھی
تو تم اسے کچن میں لے آئی کہ جو دل میں آئے کرو ۔۔وہ اس کی بات کاٹ کر غصے سے جبڑےبھیجے بولا
نہیں ڈڈڈ۔۔۔ڈیول یہ مان نی۔۔۔ نہیں رہی تھی ۔۔۔ لیلی نظرجھکا گئی۔جبکہ یارم نےانگلی کی مدد سے اس کا چہرا اوپر کیا۔
اگر اسے اتنی سی تکلیف ہوئی نہ تو میں تمہیں زندہ زمین میں گاڈ دوں گا یاد رکھنا اس کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا جب کہ وہ خاموشی سے پیچھے کھڑی لیلیٰ کی شامت دیکھ رہی تھی ۔
آواز کرنے کی غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ نہ ہو کے اس کے لیلی کے گھر آنے پر پابندی لگ جائے اور اب وہ اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہی تھی ۔اسے آپنے بالکل نزدیک دیکھ کر روح نے آنکھیں میچ لیں
جب اس کی نرم سی گرفت اپنے ہاتھ پر محسوس ہوئی وہ بنا کچھ بولے اسے اپنے ساتھ باہر لےجانے لگا جس کا صاف مطلب تھا کہ یارم آج بھی اس پر غصہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اس آدمی میں اتنا صبر کہاں سے آیا تھا سمجھ پانا مشکل تھا
روح نے بےفکر ہو کرایک نظر پیچھے کھڑی لیلی کو دیکھا اور اسے سوپ پینے کا اشارہ کرنے لگی لیلیٰ نے گھور کر اسے دیکھا تھا ۔
مطلب کہ اس کی جان اٹکی ہوئی تھی اور وہ اسے سوپ پینے کے لئے کہہ رہی تھی ۔آج اس کے شوہر کے ہاتھوں وہ شہید بھی ہو سکتی تھی ۔لیکن اسے تو اس کی بالکل پرواہ ہی نہیں تھی لیلی اندر ہی اندر غصہ پیتی سوپ کا پیالا لیے باہر آئی
اور اسے ٹیبل پر پٹکتے ہوئے موبائل کا کیمرہ آن کیا ویڈیو بنتی جارہی تھی اور لیلی منہ بناتی سوپ پیتی جا رہی تھی ۔کیونکہ بنا ثبوت وہ اس پر یقین نہیں کرتی کہ اس نے سوپ پیا ہے
°°°°
وہ خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا جب کہ روح کب سے چور نظروں سے اسی کی جانب دیکھ رہی تھی۔
نہ تو وہ اسے ڈانٹتا تھا اور نہ ہی غصہ کرتا تھا اس کا سارا غصہ باقیوں کے لیے تھا روح کو تکلیف پہنچانا اب اس کے بس کی بات ہی نہیں تھی
وہ کنتی کوشش کرتی تھی کہ یارم اس پر غصہ ہو اسےڈانٹے پھر پیار کرء لیکن اب تو یارم کو اس سے زیادہ اس کی سوتن بیماری سے پیار ہو گیا تھا وہ منہ کے ڈائزین بناتی مسلسل اس کو دیکھتی سوچ رہی تھی
اس کے کھو جانے کے ڈر نے یارم کو اس حد تک بے بس کردیا تھا کہ اب وہ روح کو درد دینے کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا تھا ۔
کہاں وہ اس کے ذرا سی سخت نگاہ پر خاموش ہو کر بیٹھ جاتی تھی اور اب وہ جان بوجھ کر اسے تنگ کرتی تھی۔خیر اس سب چیزوں کا تو وہ بعد میں گن گن کے بدلا لینے والا تھا اس کا حساب تو روح کو ٹھیک ہونے کے بعد دینا ہی تھا
لیکن فلحال اس کے اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود بھی یارم اس کو کچھ نہیں کہتا تھا ۔اس کی حد سے زیادہ فکر کرنا اس کا خیال رکھنا ۔اس سب کے علاوہ جیسے یارم کو اور کوئی کام ہی نہیں تھا ۔
اس بورنگ روٹین اور عجیب و غریب زندگی سے روح اجزا چکی تھی ۔
وہ سب کچھ پہلے جیسا چاہتی تھی اور پہلے جیسا سب کچھ تبھی ہو سکتا تھا جب وہ بالکل ٹھیک ہوتی اور اب وہ کافی حد تک ٹھیک ہو چکی تھی لیکن یارم کا یہی کہنا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے
جس کی وجہ سے یارم کی اسٹریک کیئرنگ اب بھی جاری تھی
وہ کب سے نوٹ کر رہا تھا کہ روح کا سارا دھیان اسی کی جانب ہے لیکن وہ جان بوجھ کر اسے دیکھ نہیں رہا تھا کیوں کہ اس وقت وہ سچ میں غصے میں تھا اور وہ اپنا غصہ اس پر نکال نہیں سکتا تھا
اس لیے وہ اپنا غصہ اسٹینڈنگ پر نکالتے ہوئے گاڑی چلانے میں مصروف تھا جب اسے اپنے ہاتھ اور کندھے پر روح کا لمس محسوس ہوا وہ اس کا بازو تھا میں اس کے کندھے کے اپنا سر رکھ چکی تھی
یارم نے نرمی سے اپنا حصار اس کے گرد کھینچتے ہوئے اسے اپنے مزید قریب کیا کچھ ہی دیر میں وہ گہری نیند میں اتر چکی تھی۔گھر کے باہر گاڑی روک ہر یارم نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا ۔
لیکن سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ اس کی لریزتی پلکیں دیکھ چکا تھا
بڑی بھاری ہو گئی ہو ۔اس کے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کی تو اس کے لبوں پر شرارتی سی مسکان کھلی
اور کھلایں نہ وہ دوائیاوں کی دکان اب ہو گئی نہ میں موٹی اب کیسے اٹھاکے چلیں گے مجھے۔۔وہ دونوں آنکھیں پٹپٹاتی سیریس انداز میں بولی۔
تم ایک بار بنا کوئی بھی مستی کیے یہ کورس مکمل کر لو میں ساری زندگی تمہیں یوں ہی اپنی باہوں میں اٹھا کر چلوں گا۔وہ محبت سے بولا تو روح نے آنکھیں گھومئی ۔
اور اگر میں دوائیاں نہیں کھاؤں گی تو کیا آپ مجھے اپنی باہوں میں نہیں اٹھائیں گے وہ اس کے گلے میں باہر ڈالتی اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے لاڈ سے بولی
تم دوائی ضرور کھاؤ گی روح وہ سختی سے بولا تھا ۔
ہاں تو میں کب انکار کر رہی ہوں میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ ایک دن نہ کھانے سے کون سا کچھ ۔۔۔۔۔۔نہیں ہوجائے گا بہت کچھ ہو جائے گا مجھے دوائی کھانی چاہیے ضرور کھانی چاہیے ۔وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہی تھی جب اسے اپنی کمر پر یارم کی سخت انگلیوں کا ہلکا سا لمس محسوس ہوا وہ فورا بات بدل گئی ۔
گڈ گرل بے بی ۔۔وہ اسے لئے گھر کے اندر داخل ہوا
بس ذرا ذرا سی بات پر گھورنا شروع کر دیتے ہیں وہ بھی اتنی موٹی موٹی آنکھوں سے ۔کوئی ان کو بتائے نیلی آنکھیں خوبصورتی کی نشانی ہوتی ہیں نہ کہ وہ دہشت پھیلانے گی ۔وہ برابڑتے ہوئے بولی جب کہ یارم اس کی اس سرگوشی پر اپنی مسکراہٹ کو روک نہ سکا تھا
ہاں بس نمائش کروالیں ان سے اور تو کوئی کام ہے نہیں وہ اس کے ڈمپل میں انگلی گھساتی اس کی مسکراہٹ کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
جبکہ اس کی اس حرکت یارم کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
