Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 40)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو

ہیپی برتھ ڈے ڈیئر رویام

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ہر طرف اس کی سالگرہ کے گیت گائے جا رہے تھے

اور وہ شہزادہ بڑی شان بے نیازی سےیارم کی گود میں چڑا اس کے ہاتھ سے کاٹ رہا تھا

ان کی پارٹی میں صرف ان کے خاص لوگ ہی شامل تھے

جو یارم کے لیے پیارے پیارے گفٹس لائے تھے اور جو گفٹ اسے سب سے زیادہ پسند آیا تھا وہ تھی اپنے نانو کی لائی ہوئی سائیکل جس میں بیٹھ کر وہ اپنے ہی گھر کی سیر کر رہا تھا

فی الحال اسے سائیکل چلانی نہیں آتی تھی اس لئے مشارف اسے پیچھے سے دھکا دے رہا تھا ۔جبکہ عنایت اس کے پیچھے بیٹھی اس سے سائیکل چلوانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔

جب کے مہر سب کو اگنور کی ہے آپنے کرش کے پاس بیٹھی باتیں کرنے میں مصروف تھی یارم اسے اپنےساتھ بٹھائے اس سے سکول کے بارے میں پوچھ رہا تھا

یہ نہیں تھا کہ وہ آج ان کے ساتھ نہیں کھیل رہی تھی وہ ہمیشہ کھیل کود سے ذرا الگ رہتی تھی اور ہاں خاص کر جب وہ رویام کے گھر پے آتی تو وہ ہمیشہ یارم کو ہی دیکھتی رہتی تھی

یارم کو بھی یہ ننھی سی گڑیا بہت پسند بھی عنایت کے لحاظ سے مہر تھوڑی کمزور تھی نظروں پرہر وقت چشمہ چرائے اپنی ننھی سی ناک کو چھوتی بہت معصوم لگتی تھی

سبھی جانتے تھے کہ وہ یارم سے بے حد اٹیچ ہے وہ کافی ضدی تھی لیکن جب یارم اس سے کوئی بات ماننے کیلئے کہتا تو وہ فورا بات مان جاتی تھی

یہاں تک کہ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بڑی ہو کر یارم چاچو سے شادی کرے گی ۔

کیونکہ اتفاق سے اسے بھی یارم کے ڈمپل بے حد پسند تھے جو اس کے گھر میں کسی کے پاس بھی نہیں تھے

رویام کے آنے کے بعد بھی اس نے اپنا کرش نہیں بدلا تھا اسے آج بھی یارم ہی پسند تھا بے شک روح بدل گئی تھی لیکن مہر نے یارم کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بے وفائی نہیں کی تھی

وہ اس وقت یا رم سے باتیں کرتی بالکل کوئی خاموش طبیعت لڑکی نہیں لگ رہی تھی وہ اپنی ساری باتیں اس سے شیئر کر رہی تھی

جب کہ یار م بھی خاموشی سے اس کی ساری باتیں سن کر بالکل اس کی سوچ کے مطابق لیے ایکشن دے رہا تھا

اس کا اس طرح سے پیار سے بات کرنا کسی اور کی نظروں میں بہت برا گناہ تھا ۔

وہ کب سے اسے سخت نگاہوں سے گھورے جا رہا تھا جس کا یارم بالکل نوٹس نہیں لے رہا تھا

اور پھر اچانک گھر میں کراکےدار رونے کی آواز گونجی جسے سنتے ہوئے سب لوگ ہی بوکھلا گئے تھے

یارم بھاگ کر باہر کی جانب آیا اسے لگا کہ شاید وہ سائیکل سے گر گیا ہو گا

اور اسے چوٹ لگی ہوگی اس کے پیچھے ہی روح بھاگتی ہوئی باہر آئی

لیکن رویام کو کچھ بھی نہیں ہوا تھا وہ بس کھڑکی کے پاس سائیکل کو کھڑے کر کے روئے جا رہا تھا اور عنایت اور مشارف حیرانگی سے دیکھ رہے تھے

وہ بھی پریشان تھے کہ اچانک ہوا کیا ہے ابھی تو وہ سائیکل پر ان کے ساتھ بہت انجوائے کر رہا تھا پھر اچانک وہ اس طرح سے کیوں رونے لگا

کیا ہوگیا رویام کیوں روئے جارہے ہو ۔۔۔۔؟وہ اسے اپنی گود میں اٹھانا چاہ رہا تھا لیکن رویام اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارتا دونوں ہاتھ آپس میں جوڑے اور زیادہ رونے لگا

ارے میرے پاس تو آ۔۔کیا ہوگیا ہے کیوں روئے جا رہا ہے ۔۔۔؟وہ اسے ایک بار پھر سے اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا جب اس نے ایک بار پھر سے اس کے ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے اور زیادہ رونا شروع کر دیا

یارم آپ پیچھے ہوں میں دیکھتی ہوں روح پریشانی سے رویام کے پاس آئی تو وہ اپنے دونوں بازو اوپر کرتا اور اس کے پاس چلا گیا

اور اب کے کندھے سے لگا مسلسل روئے جا رہا تھا

ہوا کیا ہے رویام میری جان کیوں رو رہے ہو اس طرح ۔۔۔؟روح اس کی پیٹھ سہلاتی پریشانی سے پوچھ رہی تھی

جب شارف نے شرارتی سے مشارف کی طرف دیکھا

ارے ہم تو کھیل رہے تھے یہ اچانک خود ہی رونے لگا ۔پانچ سالہ مشارف فور اپنی صفائی میں بولا

عنایت سچ سچ بتاؤ وہ کیوں رو رہا ہے اب وہ عنایت سے پوچھنے لگا جو کندھے اچکا کر پریشانی سے رویام کو دیکھ رہی تھی

کچھ تو ہوا ہے ایسے ہی تو نہیں رونے لگے گا نا ضرور تم دونوں شیطانوں نے کچھ کیا ہے جلدی سے بتاؤ کیا کیا ہے تم نے وہ ان دونوں کو دیکھ کر ڈانٹتے ہوئے بولا

اٹس اوکے شارف بھائی ایسے ہی رونے لگا ہوگا ۔جاؤ بیٹا آپ لوگ کھیلوشاید رویام کو نیند آ رہی ہے اس لئے رو رہا ہے وہ اسے اٹھا کر اندر لے جاتے ہوئے بچوں سے بولی تو شارف اور یارم بھی اس کے پیچھے ہی اندر آ گئے

سارے بچے مل جل کر پیار محبت سے رہتے تھے لڑائی جھگڑے کا تو فی الحال انہیں پتا بھی نہیں تھا اس لئے اس بات کو لے کر وہ بے فکر تھے کہ کسی قسم کی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے رویام رویا ہوگا یا بچوں نے اسے مارا یا ڈانٹا ہو گا ایسا تو کبھی ہوا ہی نہیں تھا

یہ سب لوگ ہی رویام کو بے حد چاہتے تھے ۔اور ان سب کے ساتھ رویام انجوائے بھی بہت کرتا تھا تو پھر رویام اس طرح سے رونے کیوں لگا اور اب تو وہ یارم کے پاس جا ہی نہیں رہا تھا بس غصے سے گھورے جا رہا تھا

یارم کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن کچھ تو غلط ہوا تھا اس سے رویام اسے اس طرح سے گھورے جا رہا تھا اس کا اتنا شدت برا پیار جھیل کر بھی وہ اس سے ناراض نہیں ہوتا تھا لیکن پتہ نہیں اس بار ایسا کیا ہوگیا کہ وہ اس سے بالکل ہی روٹھ کر بیٹھ گیا تھا

اس کے بار بار گھورنے پر یارم نے دو تین بار اسے پاس بلایا اور اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ ہر بار اس کا ہاتھ جھٹک دیتا اور پھر اسے گھورنے لگتا آخر ہوا کیا تھا یارم کو بالکل سمجھ نہیں آیا لیکن وہ اس سے سخت روٹھا ہوا تھا

°°°°°

رویام رو رو کر تھوڑی دیر سو چکا تھا اور اب ان سب کے جانے کا وقت ہو گیا ڈنر کے بعد جب وہ لوگ واپس جانے لگے

تو رویام بھی جاگ چکا تھا اور اب اس کی نظریں یارم پر تھی

تھوڑی دیر پہلے والے ناراضگی کو وہ بالکل بھول چکا تھا تبھی تو یارم نے اسے اپنے پاس بلایا تو وہ بھاگتا چلا گیا

یارم کو بھی تھوڑا سکون ملا تھا کہ وہ اس سے ناراض نہیں تھا ۔سب لوگ جانے سے پہلے رویام سے ملے ۔جب مہر نے رویام کو کس کرنے کی کوشش کی ۔تو وہ اسے گھور کر اس سے دور ہو گیا ۔

اس کی حرکت سب کے لیے ہی کافی مزے دار تھی ۔

مہری تم اس کے حصے کا کس بھی یارم کو کردو ۔حضر نے آئیڈیا دیا جو مہر کو بہت پسند آیا تھا یارم مسکرا کر نیچے جھکا تو رویا م کا بجا پھر سے بجنے لگا

یارم بوکھلا کر پیچھے ہوا ۔جب کہ خضرقہقہ گا اٹھا ۔

مسٹر یار م مبارک ہو آپ کے بیٹے کے اندر بھی آپ والے جراثیم پائے جاتے ہیں وہ کون سے جراثیم تھے ہاں جیلسی کے ۔خضر نے ہنستے ہوئے رویام کے رویے کی پوری وجہ اس کے سامنے رکھ دی

کیا مطلب تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ میں مہرکو پیار کر رہا ہوں اس لئے رو رہا ہے ۔۔؟یارم کے لیے یہ بات نئی تھی لیکن وہ رویام کے رونے کی وجہ جاننا چاہتا تھا خضر نے ہنستے ہوئے ہاں میں سر ہلایا

دیکھا رویام نے ثابت کر دیا کہ وہ تیرا ہی بچہ ہے توبہ ابھی ایک سال کا ہے اور اتنی جلن ۔میری معصوم سی بیٹی کو کس بھی نہیں کرنے دیا ۔حضر ہنسا تو یارم اگلے ہی لمحے روح کی گود سے رویام کو زبردستی اٹھا کر اپنے سینے سے لگا چکا تھا

جو بری طرح سے اس کے بازوؤں میں مچلتے ہوئے رو رہا تھا یا رم ان سب کو ہاتھ ہلاتا اسے لئے اوپر کی جانب چلا گیا

وہ صبح سے ہی رویام کے رویے کی وجہ سے بہت پریشان تھا وہ تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اسے لے کر پوزیسسو ہو رہا ہے ۔

بس میرا بچہ میں وعدہ کرتا ہوں میں کسی کو نہیں اٹھاؤں گا کسی سے پیار نہیں کروں گا صرف اپنے رویام سے کروں گا

وہ اسے اپنے سینے سے لگائے اسے تحفظ کا احساس دیتا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ صرف اسی کا باپ ہے

لیکن رویام اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مزید رو کر اسے خود سے دور کر رہا تھا

اچھا نہ میرا بابو میں کسی سے پیار نہیں کروں گا یارمیں صرف تیرا باپ ہوں وہ اسے چومتے ہوئے یقین دلارہا تھا

تھوڑی ہی دیر میں رویام کا رونا بند ہوگیا لیکن سوں سوں اب بھی جاری تھی ۔بس میرا بچہ بابا صرف آپ سے پیار کریں گے ۔وہ رویام کے گال چومتا اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا ۔نہ جانے کیوں اسے رویام کا یہ رویہ بہت اچھا لگا تھا وہ خود بھی ایسا ہی تھا

اسے بھی نہیں پسند تھا کہ رویام اور روح کسی اور سے محبت کرے اور وہی جرثیم اس کی اپنی اولاد میں بھی تھے

جو روح کے لئے پریشانی تھی لیکن یارم اس بات کو لے کر بہت خوش تھا ۔

وہ جانتا تھا کہ بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں انہیں سب سے زیادہ ضرورت اپنے ماں باپ کی ہوتی ہے ان کی توجہ ان کے پیار کی ضرورت ہوتی ہے

اتنی چھوٹی سی اولاد کو اگر ٹھیک سے سنبھالا نہ جائے تو آگے جاکر بہت سارے مسائل پیش آ سکتے ہیں ۔یارم کسی بھی قسم کا کوئی رسک نہیں چاہتا تھا وہ اسے پروٹیکشن دینا چاہتا تھا اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ صرف اور صرف اسی کا باپ ہے اور سب سے زیادہ اس سے محبت کرتا ہے

اور اس کی محبت میں کوئی بھی حصہ دار نہیں بنے گا ۔سب کو دروازے تک چھوڑ کر روح نے کمرے میں قدم رکھا تو وہ اس کے سینے سے لگا پتہ نہیں کون سی باتیں کرنے میں مصروف تھا

روح نے یارم سے اشارے سے پوچھا کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو یارم انگوٹھا دکھا کر اسے اندر بلا چکا تھا اور وہ ایک گہرا سانس لے کر پرسکون ہوئی

آپ دونوں باتیں کریں میں کچن سمیٹ کے آتی ہوں ۔وہ آہستہ سے کہتی دروازہ باہر سے بند کرکے شونو کے ساتھ نیچے آ گئی ۔

جس کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے وہ اپنی پریشانی شیئر کر رہی تھی اورشونوبھی کسی ہمدرد دوست کی طرح اس کی ساری باتیں سن رہا تھا

°°°°°

وقت کو پر لگ چکے تھے وہ اپنی پرسکون زندگی میں بےحد خوش تھے

آج لیلیٰ اور خضر میں اچھی خاصی لڑائی ہوگئی تھی لیلی اپنی دونوں بیٹیوں کو ہوسٹل بھیجنا چاہتی تھی

جبکہ خضر کا کہنا تھا کہ وہ بہت چھوٹی ہیں ابھی اپنا آپ نہیں سنبھال سکتیں

لیلی بھی پیچھے نہیں ہٹی اس نے کہہ دیا کہ وہ چاہتی ہے کہ اس کی بیٹیاں اس خون خرابے سے دور رہیں

اور حقیقت بھی یہی تھی کہ چلتی ہمیشہ سے لیلی کی ہی تھی خضر لڑ لڑ کر اب خاموش ہوگیا جب کہ یار م نے بھی اسے سمجھایا تھا کہ لیلی ایک طرح سے ٹھیک ہی رہی تھی یہاں پر ان لوگوں کی پڑھائی بھی ڈسٹرب ہو رہی ہے

اور وہ کونسا زیادہ دور جا رہی ہیں خضر جب چاہے ان سے مل سکتا ہے اور پھر خضر اس کی بات کو سمجھ گیا

ان دونوں کی صلح کروانے کے بعد وہ گھر واپس آیا تو روز کی طرح روح کو آج بھی رویام کے ساتھ ہی مصروف پایا

لیلی اپنی دونوں بیٹیوں کو یہاں سے دور بھیج رہی ہے تاکہ ان کی پرسنل لائف ڈسٹرب نہ ہو یارم نے اپنے ڈمپل کی نمائش کرتے ہوئے اسے خبر سنائی تھی

جی نہیں وہ انہیں خود سے دور اس لیے نہیں کر رہی تھی بلکہ اس لئے کر رہی ہیں تاکہ وہ دونوں ایک محفوظ جگہ پر ایک اچھے سکول میں پڑھ سکے اور ماموں کی بیٹیاں ماشاءاللہ سے چھ سال کی ہیں وہ رہ سکتی ہیں لیکن میرا معصوم رویام ابھی صرف دو سال کا ہے وہ نہیں رہ سکتا اپنی ماں کے بغیر اس نے رویام کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے محبت سے کہا ۔

سب سے پہلی بات روح ہزار بار سمجھا چکا ہوں تم اس جن کو” معصوم”نہ کہا کرو وہ بچے اور ہوتے ہیں جنہیں ” معصوم” کا خطاب ملتا ہے یہ تو شیطان کا بھی باپ ہے ۔یارم نے اسے گھورتے ہوئے کہا جس پر وہ مزید کھکھلاتے ہوئے اپنی ماں کے ساتھ چپکا تھا جیسے کا ارادہ ہی یارم کو دکھا کرجلانے کا ہو

اس حساب سے تو آپ پھر شیطان کے دادا ہوئے روح نے حساب برابر کیا

ہاں کیوں نہیں اب اس سے ساری رشتہ داریاں میری ہی نکالو کیوں کے اس کے خاندان کا جن میں اپنے گھر لے آیا ہوں نہ جانے کون سا وقت تھا جب اولاد کی خواہش جاگی اگر پتہ ہوتا کہ ایسی اولاد پیدا ہوگی تو ۔۔۔

استغفراللہ استغفراللہ اللہ شکر ادا کرنے والوں کو پسند کرتا ہے میں تو دن رات اللہ پاک کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے میری جھولی میں میرا معصوم بچہ ڈالا اور ایک آپ ہیں۔ ۔۔ باپ آپ کے جیسے نہیں ہوتے یارم روح نے توبہ کرتے ہوئے کہا

اگر باپ میرے جیسا نہیں ہوتا تو اولاد اس کے جیسے بھی نہیں ہوتی ۔کونسی اولاد ہے جو اپنے ماں باپ کے بیچ ہڈی بن کر ہر وقت اپنی ماں سے چپکی رہتی ہے ۔

اسے میرے حوالے کرو آج میں اسے شارف کے گھر لے کر جاؤں گا ۔اور اسے سمجھاؤں گا کہ اس کی ماں پر اس کے باپ کا بھی حق ہے ۔یارم نے اسے بازو سے پکڑ اپنی گود میں اٹھایا جس پر وہ تڑپ کر دوبارہ اپنی ماں کی طرف لپکا ۔

یارم آپ کتنے ظالم ہیں اتنے بڑے ستمگر ہیں کہ ایک بچے کو اس کی ماں سے جدا کر رہے ہیں روح نے ڈرامہ کرتے ہوئے کہا

روح خدا کے لئے خدا کا خوف کرو میں اسے صرف تھوڑی دیر کے لئے اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں کیونکہ شارف اور معصومہ اس سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نہیں ہوں اتنا اس ظالم کے ایک ماں کو اس کے معصوم بچے سے الگ کر دوں اس نے” معصوم” کو کھینچ کر کہا کیوں کہ اس کی نظر میں اس کا یہ معصوم بیٹا معصوم تو ہرگز نہیں تھا

اچھا تو ایسے کہیں نہ آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا میں اسے گرم کپڑے پہنا دیتی ہوں پھر لے جائیے گا روح نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے باہوں میں لے لیا جس وہ ایک بار پھر سے یارم کو جلاتے ہوئے روح کے ساتھ چپک چکا تھا ۔

جب کہ اس کے جانے کے بعد اس کی مستی پر یارم کے ڈمپل نمایاں ہوئے تھے

میرا شیطان بچہ ۔یارم بڑبڑا کر مسکراتے ہوئے اپنے سیکرٹ روم میں آگیا

°°°°

وہ گھر آیا تو صرف اسے کھانا کھانے میں مصروف تھی

جب کہ وہ شیطان خوب مستیاں کر رہا تھا

رویام میرا بچہ پلیز کھانا کھا لو اور وہ اس کی منتیں کر رہی تھی

ریام تھانہ نہیں تھائے گا ریام کو بوت نہیں لدی (رویام کھانا نہیں کھائے گا رویام کو بھوک نہیں لگی )وہ معصومیات سے بولا یارم بھی مسکراتے ہوئے کرسی پر آ بیٹھا

نہیں رویام کو بھوک لگی ہے اور وہ کھانا کھائے گا روح نے نچمچ بھر کر اس کے قریب کیا جس پر وہ نا میں سر ہلانے لگا

ریام نہیں بابا تو بوت لدی ہے (رویام کو نہیں بابا کو بھوک لگی ہے) ۔اس نے روح کا ہاتھ یارم کی جانب کر دیا

رو بےبی بابا کو تھانا دو (روح بےبی بابا کو کھانا دو) ۔وہ اسے زبردستی یارم کو کھانا کھلانے پر مجبور کر رہا تھا

لیکن یارم تو مر کر بھی یہ دلیہ نہ کھاتا اور اب تو اس نے رویام کے منہ سے روح کا نام بھی سن لیا تھا ویسے تو روح نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ وہ اسے نام سے بلانے لگا ہے

اور روح کو اس بات میں بھی کوئی برائی نظر نہیں آئی تھی

روح اس کو بولو تمہیں ماں’ماما’ اماں’ کچھ بھی بولے لیکن روح بے بی نہیں بول سکتا وہ اسے گھورتے ہوئے روح کو کہنے لگا ۔روح بھی اس کو دیکھ کر اندازہ لگا چکی تھی کہ اس کے معصوم بچے کی شامت آنے والی ہے اسی لیے وہ اسے سمجھنے کے لیے اس کی طرف آئی ۔ جہاں وہ اپنے معصوم چہرے پر ڈمپل کی نمائش کرتا ہے اسے دیکھ رہا تھا ۔

رو بےبی ‘میلا بتہ ‘ بوت لدی ہے۔

رویام نے معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے پھر سے یارم کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا

اس سے پہلے کہ وہ اس کی طرف آ کر اس کا دماغ ٹھکانے لگاتا وہ بھاگ کر روح سے چپک گیا جہاں اسے یقین تھا کہ وہ بچ جائے گا

یارم میں سمجھاوں گی نا پلیز نہیں ڈانٹے اور نہ ہی اس کو گھورِیں روح نے منیےں کی۔جبکہ اسے جلا کر رویام کے چہرے پر بڑی روشن مسکراہٹ تھی