Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 38)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

بیٹا پلیز دودھ پی لو میں وعدہ کرتی ہوں اب سے بابا آپ کے پاس بھی نہیں آئیں گے اور نہ ہی ان کا جارحانہ پیار سہنا پڑےگا میرے بچے کو۔ ۔۔”

یااللہ ذرا رحم نہیں آتا اس شخص کو میرے معصوم بچے پر

ہر کسی کو اپنی طرح سٹون مین بنا سمجھا ہوا ہے

کیا حالت کر دی میرے معصوم شہزادے کی وہ اس کے گال سہلاتے ہوئے اسے سمجھا رہی تھی جو اب تک سوں سوں کر رہا تھا

روح کو اس کی حالت پر بہت ترس آ رہا تھا لیکن وہ اپنے معصوم سے بچے کو اپنے ظالم اور جابر شوہر سے بچا نہیں سکتی تھی ۔

رویام زرا سابہتر ہوا تو وہ اسے بیڈ پے رکھتی فریش ہونے چلی گئی

یارم نے کمرے میں قدم رکھا تو رویام کو بیڈ پر اکیلے کھیلتا ہوا پایا اس کی آنکھیں ایک بار پھر سے روشن دیے کی طرح چمک اٹھی تھی ۔

لپک کر اس کے قریب بیڈ پر آیا رویام کی کشش تھی جو اسے اپنی طرف کھینچتی تھی اسے دیکھ کر یارم خود پر صبر ہی نہیں کر پاتا تھا

اس سے پہلے کہ وہ پھر سے جھک کر اس پر کسی قسم کا کوئی تشدد کرتا اس کے سرخ گال دیکھ کر اسے پر ترس آ گیا

میرا بچہ یہ کس نے کیا میرے بچے کے ساتھ ایسے کون پیار کرتا ہے بابا کو بالکل پیار کرنا نہیں آتا لیکن کوئی بات نہیں بابا آہستہ آہستہ پیار کرنا سیکھ جائیں گے یا پھر میرے شہزادے کو اپنے بابا کاپیار سہنے کی عادت پر جائے گی

یارم بے حدنرمی سے کا گال چوم کر پیچھے ہٹا ۔

یارم نہ کرے پلیز وہ اتنی مشکل سے چپ ہوا ہے

آپ کا بس چلے تو اس سے کھا ہی جائیں بلکہ آج تو آپ نے کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی ۔روح یارم کو منع کرتی تقریبا بھاگتی ہوئی بیڈ پر آئی تھی

دیکھو بیگم ایک بات کان کھول کر سن لو یہ میرا بھی بچہ ہے اور اسے میں بھی پیار کرنے کا پورا حق رکھتا ہوں

اب مجھے نہیں آتا تمہارے جیسا پیار تو میں کیا کروں میرے پیار کرنے کا ایک الگ طریقہ ہے الگ انداز ہے

جو ابھی رویام کو سمجھ نہیں آتا اسی لیے وہ رونے لگتا ہے

تمہیں مجھے موقع دینا چاہیے اور رویام کو وقت دینا چاہیے تاکہ اسے سمجھ میں آئے کہ یہ اس کے باپ کے پیار کرنے کا طریقہ ہے

یار م سخت لہجے میں اسے سمجھا رہا تھا جب کہ نظروں سے شرارت صاف جھلک رہی تھی

آپ کے پیار کرنے کا طریقہ اتنا جارحانہ ہے کہ میرا بچہ برداشت نہیں کر سکتا

ہاں بالکل اسے اپنی طرح نازک بنا دو آج آج کو اسے کپڑے بھی لڑکیوں کے پہنا دیے یہ لڑکا ہے روح کم ازکم اس کے کپڑے تو بلو کلر کے ہونے چاہیے

حد ہے یارم کسی چیز کی حد ہوتی ہے آپ کو دو ہی کلر زندگی میں پسند ہیں ایک نیلا اور دوسرا سرخ سرخ مجھے پہنا پہنا سرخ کر دیا ہے اور اب نیلا اسے پہنا پہنا کر نیلا کر دیں گےروح اس کی بات سن کر جلدی سے بولی تھی

یارم نے تو اس پر اچھی خاصی پابندی لگائی ہوئی تھی وہ زیادہ تر ریڈ کلر کے کپڑے پہنتی تھی کیونکہ یارم اس کے لیے اپنےپسند کے کپڑے لاتا تھا اور تقریباً سارے ہی ریڈ کلرکے ہوتے

لیکن رویام کے معاملے میں وہ بالکل کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتی تھی

اس کے لیے وہ ہر رنگ کی چیزیں لاتی کھلونے کپڑے یہاں تک کہ اس کے دودھ کی بوتل بھی ہر کلر میں تھی رویام پر یار م کی کم ہی چلتی تھی

اور یار م کو اس بات پر زیادہ اعتراض بھی نہیں تھا

رویام کو رنگوں کو جینے کی پوری آزادی تھی لیکن روح اسے سرخ میں ہی اچھی لگتی تھی ایک تو سرخ کلراس کی نظروں کی ٹھنڈک تھا اور دوسرا روح پر یہ کھلتا بھی بہت زیادہ تھا

اچھا ٹھیک ہے بابا جو مرضی پہناؤ میں کہاں روک رہا ہوں یارم فوراً مان گیا

ہاں تو میں کون سا آپ کی بات مانوں گی روح بھی اس کے پاس بیٹھتے ہوئے نخرے دکھاتی بولی

رویام میری جان دودھ پی لو نہ بیٹا

یارم میں کب سے اسے دودھ پلانے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن پہلے کتنے ہی دیرروتا رہا اور اب یہ دودھ نہیں پی رہا نے پریشانی سے کہا تو یارم جو آرام سے بیڈپے لیٹا تھا اٹھ کر بیٹھ گیا اور روح کی گود سے رویام کو لے کر اپنی گود میں رکھا

وہ اس لیے کیونکہ آج رویام نے اپنے بابا سے بات ہی نہیں کی کیوں میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا

یارم آپ اس کے ساتھ لاڈ بعد میں کر لیجئے گا پہلے سے دودھ پلائیں نا ۔اسے دودھ پئے ہوئے چار گھنٹے سے زیادہ وقت ہوچکا ہے اب تو اسے بھوک لگی ہونی چاہیے بہت تنگ کرنے لگا ہے مجھے روح منہ بنائے بولی اور یارم ہاں سر ہلاتا اس کا ننھا سا چہرہ دیکھنے لگا جس کا سارا دھیان اسی کی جانب تھا۔

شاید وہ بھی محسوس کر چکا تھا کہ وہ اس وقت اپنے دشمن کی باہوں میں ہے اسی لئے اس کا منہ پھرسے بن گیا وہ رونے کی مکمل تیاری کر چکا تھا

اس کا ننھا سا نیچلا ہونٹ اوپرےہونٹ کو چھپا کر باہر آ چکا تھا

رویام کے ہاتھ میں اب تک روح کا دوپٹہ پھنسا ہوا تھا اس نے بہت زور سے اس کے دوپٹے کو پکڑا ہوا تھا روح دودھ کی بوتل یارم کے حوالے کر چکی تھی

جب کہ یارم اب مصروف ہو چکا تھا

تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے لڑکے ۔۔۔۔!کیوں میری بیوی کو اتنا تنگ کرتے ہو اس کے پاس آتے ہی تمہارے ڈرامہ شروع ہو جاتے ہیں مجھے میری بیوی کے ساتھ چپکنے والے لوگ بالکل پسند نہیں ہیں

آئندہ اس کے پاس آتے ہی تم نے یوں رونا شروع کیا نا تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہوگا تم جانتے نہیں ہو مجھے دبئی کا ڈان ہوں میں

لوگ مجھے ڈیول کے نام سے جانتے ہیں وہ رویام پر جھکا اسے اپنی پاور دکھانے کی کوشش کر رہا تھا شاید وہ اس وقت یہ بھول چکا تھا کہ جسے وہ ڈرا رہا ہے کوئی عام انسان نہیں بلکہ سید رویام طاظمی ہے

یارم کے اس طرح سے ڈرانے پر وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا اس کھلکھلاہٹ پر اس نے روح کو دیکھا تھا جو خود بھی ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی

کتنی بداخلاق اولاد ہے بابا بات کر رہے ہیں اور یہ جناب ہنس رہے ہیں ۔

یارم چاہ کر بھی اپنی ہنسی کو چھپا نہ پایا

اسے نرمی سے پیار کرتے ہوئے یارم نے دودھ کی بوتل اس کے لبوں سے لگائی تو وہ خاموشی سے شریف بچے کی طرح دودھ پینے لگا

یار م آپ میرے بچے کو اس طرح سے کیوں ڈانٹ رہے تھے اسے دودھ پیتے دیکھ کر روح کو بھی دنیا جہان کا کچھ ہوش آیا تو تھوڑی دیر پہلے یارم کے ڈرانے پر اس کا دھیان گیا

میں نے کب ڈانٹا روح۔۔۔وہ تو میں اسے سمجھا رہا تھا کہ تمہیں تنگ نہ کیا کرے اور تم سے زیادہ نہ چپکاکرے کیونکہ اس کام کے لیے اس کا باپ ہے

رویام کو غنودگی میں جاتے دیکھ کر یارم نے نرمی سے اسے کاٹ میں لٹایا اور ذومعنی انداز میں کہتا رہ کے پاس آیا ایک ہی جھٹکے میں سے کھینچ کر بیڈ پر گرایا

احساس ہے مجھے تمہارا سارا دن اس کے لیے بھاگتے بھاگتے تھک جاتی ہو اور رات کو میں تھکا دیتا ہوں

اسی لئے سوچا کہ کیوں نہ اپنی اولاد کو تھوڑا سا سبق سکھاؤں اسے بتاؤں کہ ماں کو تھوڑا آرام بھی کرنے دینا چاہیے آخر اولاد کے اندر تھوڑا سا احساس بھی ہونا چاہیے وہ اس کی گردن پر لب رکھتا شرارتی انداز میں بولا ۔

یہی احساس شوہر صاحب کے اندر بھی تو جاگ سکتا ہے وہ تھوڑا سا احساس کر لیں اور رات کو آرام کرنے دیں روح نے ساری بات اس پر ڈالتے ہوئے اس کی گردن میں اپنی باہیں ڈالیں

نہیں یار تمہارا شوہر بہت بے رحم ظالم و سفاک انسان ہے وہ تم پر تو بالکل ترس نہیں کھا سکتا اور اس معاملے میں تو بالکل بھی نہیں ۔جتنا پیار تم سارا دن رویام کو دیتی ہواتنا پیار تمہیں ساری رات مجھے دینا ہوگا

اور اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو اس گھر میں جنگ ہوگی میری اور تمہارے بیٹے کی۔اگر تم پر اس کا حق ہے تو میرا بھی ہے

اور میرا حق زیادہ ہے کیونکہ میں پہلے تمہاری زندگی میں آیا ہوں

بلکہ اسے تو لایا بھی میں ہوں

تو تمہارے حق میں بہتر یہی ہے کہ تم اپنی ہر رات کا حسین وقت میرے نام کر دو صرف میرے نام تمہارا سارا دن تمہارا بیٹا اور رات میری میں جیسے چاہوں اپنا پیار وصول کروں تمہں مزاحمت یااعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔

تمہیں بس مجھے محسوس کرنا ہے

اپنی آتی جاتی سانسوں کو میرے نام کرنا ہے وہ اس کی گردن کو چومتے ہوئے اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھ چکا تھا ۔

اور اب وہ اپنے انداز میں اس طرح اپنا پیار اپنا حق جتاتا رہا تھا

جب کہ روح بنا کسی مزاحمت کے اس کے گرد باہوں کاحصار کھینچتی اس کے لبوں کا لمس اپنے لبوں پر محسوس کر رہی تھی ۔

رویام خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا جبکہ روح پل پل یارم کی باہوں میں پگھلتی اپنا آپ پھولوں سے بھی زیادہ نازک محسوس کر رہی تھی۔

وہ پل پل شکر ادا کرتی تھی اپنے رب کا جس نے اسے اتنی حسین زندگی دی تھی اس کا ایک ایک پل کسی حسین خواب جیسا تھا جس خواب سے وہ کبھی بھی جاگنا نہیں چاہتی تھی

°°°°°

رویام چھ ماہ کا ہوا تو رمضان شروع ہوگیا یہ رمضان بھی ان کی زندگی کا بے حد اہم رمضان تھا کیونکہ رویام کی پہلی عید آ رہی تھی

جس کو وہ دونوں ہی یادگار بنانا چاہتے تھے لیکن یارم کا کام بھی بڑھ چکا تھا

جتنی حسین اس کی دنیا ہوچکی تھی شاید اتنی ہی بدترین دوسری دنیا بھی تھی

آئے دن جوان لڑکیوں کے ریپ ان کو غلط کاموں پر لگانا

اور پھر جو ان لڑکوں کا نشے میں دھت ہو کر ان نشے کو دنیا میں پھیلانا

اپنے ہی وطن کے ساتھ غداری کرنا اپنے ہی لوگوں کو دھوکا دینا ہر شخص چہرے رکھتا تھا

سارا دن ایسے ہی لوگوں کے ساتھ گزار کے جب وہ شام اپنے گھر جاتا تو اسے سکون ملتا تھا

روح کےبغیر تو وہ اپنی زندگی کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا لیکن رویام نے اس کی زندگی میں آ کر اس کی زندگی کو بے حد سکون بخشا تھا

رات کو اپنا سارا کام ختم کرکے وہ کافی دیر سے گھر واپس آیا تھا ۔

اس کے بعد کمرے میں آیا تو رویام روح کے ساتھ بڑے مزے سے گہری نیند سو رہا تھا ۔

تھوڑی ہی دیر میں سحری کا وقت شروع ہو جانا تھا اسی لیے سونے کا مقصد ہی نہ تھا وہ خاموشی سے اٹھ کر سٹڈی میں آگیا ۔

اور اب تقریبا پونے گھنٹے کے بعد روح کو جگانے آیا تھا ۔

ان چند سالوں میں اس کی زندگی کتنی حسین ہو گئی تھی ۔دن رات گناہوں کی دنیا میں رہتے ہوئے وہ جب اپنی پرسکون فیملی کو دیکھتا تھا اسے اپنی ساری تھکاوٹ ختم ہوتی محسوس ہوتی ۔

رویام کی ننھی ننھی شرارتوں نے ان کے گھر کو جنت بنا دیا تھا ۔

رویام کے بس ایک ہی عادت سے یارم چڑتا تھا اور وہ یہ تھی کہ وہ اپنے ہوتے ہوئے روح کا دیہان کبھی یارم کی طرف نہ جانے دیتا ۔

وہ چھ ماہ کا بچہ ضرورت سے زیادہ ہوشیار تھا ۔اب تو روح بھی کہنے لگی تھی یارم آپ کے ڈمپلز سے زیادہ پیارے میرے بیٹے کے ڈمپل ہیں ۔

پھر کیا تھی جلن کی انتہا ہوگئی یارم میں جو ایک کوالٹی روح کو نظر آتی تھی وہ بھی اب اس کے بیٹے میں تھی ۔

وہ خاموشی سے اس کی سائیڈ آیا اور اسے جگانے لگا ۔

روح سحری کا وقت ہو چکا ہے ۔

اس نے محبت سے جگایا تھا ۔

لیکن روح کوجاگنے سے پہلے نہ جانے کیسے اس کا بوڈی گارڈ جاگ گیا ۔

یارم کا ہاتھ اپنے ماں کے کندھے پر دیکھتے ہی اس کا الارم بجنے لگا ۔

رویام یار میں کچھ نہیں کر رہا ہوں تیری ماں کے ساتھ صرف سحری کے لیے جگا رہا ہوں اسے گلا پھاڑ کے روتا دیکھ کر وہ روح اس سے الگ ہوا ۔

یار کیا ہوگیا ہے تجھے صرف تیری ماں نہیں ہے میری بیوی بھی ہے قسم سے میری بات پر یقین کر لے یار م نے دہائی دیتے ہوئے کہا جبکہ رویام گلہ پھاڑے رونے میں مصروف تھا

رویام کو روتے ہوئے سن کر روح کی آنکھ کھل چکی تھی

یارم میرا بے بی کیوں رو رہا ہے ۔۔۔؟

وہ رویام کو اپنے سینے سے لگائے اسے چپ کرانے کی کوشش کرنے لگی

میں نے کچھ نہیں کیا روح تمہارا یہ چوکیدار مجھے تمہارے قریب محسوس کرتے ہی جاگ آیا اور پھر ہونے لگا ۔

یار م نے فوراً اپنی صفائی پیش کی تھی ۔

یہ شاید دنیا کا واحد بچہ تھا جو اپنے باپ کو اپنی ماں کے قریب نہیں آنے دیتا تھا اور یارم کا واحد دشمن جو اسے روح سے دور رکھتا تھا اور جس کا یار م کچھ نہیں اکھاڑ سکتا تھا ۔وہ خود بھی اس سے بہت محبت کرتا تھا

آپ نے ضرور ڈانٹا ہوگا یا گھور کے دیکھا ہوگا اسے آپ کو پتہ ہے نہ آپ کے اس طرح سے دیکھنے سے وہ روتا ہے ۔

روح اسے چپ کراتے ہوئے بیڈسےاٹھی

یار میں نے کچھ نہیں کیا میں سچ کہہ رہا ہوں یہ اپنے آپ رونے لگا ۔

اچھا تو اب آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میرا بچا روتو ہے ہر وقت روتا ہے ۔روح اسے گھورتے ہوئے بولی

نہیں روح میرا یہ مطلب نہیں ہے ۔میں بس یہی کہہ رہا ہوں کہ میں نے کچھ نہیں کیا یہ خود ہی رو رہا ہے ۔

ہاں بالکل آپ تو کچھ کرتے ہی نہیں ہیں جو کچھ کہتا ہے میرا معصوم بچہ کرتا ہے ۔

روح یہ باقی معصوم بچوں کی طرح معصوم نہیں ہے یہ بہت تیز ہے یارم نے اپنی صفائی پیش کرنی چاہی ۔

واہ واہ آپ کو میرا چھ ماہ کا معصوم سا بچہ تیز لگتا ہے ۔

اور خود پینتس سال کے ہوگئے ہیں اپنی حرکتوں پر کبھی غور نہیں کیا ۔آپ نے خبردار جو اپ نے میرے معصوم بچے کو یہ ان نگاہوں سے دیکھا بھی تو روح نے اسکی آنکھوں کی طرف بھی اشارہ کیا

کون سی نگاہوں سے روح ۔۔۔۔؟

ان نگاہوں سے جن سے آپ میرے معصوم بچے کو دیکھ رہے ہیں ۔

رویام ڈر جاتا ہے یارم ۔

بےبی تمہارا بیٹا ڈرتا نہیں تمہارا بیٹا ڈراتا ہے ۔

یارم نے بے بسی سے اسے سمجھانا چاہا وہ بنا کسی غلطی کے گناہگار ٹھہرایا گیا

یارم میں اس وقت لڑ نہیں سکتی وقت کم ہے مجھے سحری بنانی ہے وہ فریش ہو کر کچن کی طرف چل دی ۔

وہی میز کے ساتھ رکھی چھوٹی کرسی پر رویام کو بٹھایا اور خود سحری بنانے میں مصروف ہوگئی ۔

یارم بھی فریش ہو کر نیچے رویام کے سامنے والی چیئر پر بیٹھا تو رویام گھورنے لگا ۔

بدلے میں یار م نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ اسے دیکھ کر کھلکھلاکر مسکرا رہا تھا ۔

اس کے گالوں پر پڑنے والے ڈمپلز دیکھ کر یارم بے اختیار مسکرایا

اس وقت اسے اپنے بچے پر ٹوٹ کر پیار آ رہا تھا اپنے ڈمپلز کی نمائش کرتا نرمی سے ہنستا وہ اسے بھی معصوم بچہ لگ رہا تھا اس وقت یارم بھول گیا تھا کہ تھوڑی دیر پہلے اس شیطان نے اپنی شیطانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے خوب ڈانٹ پلائی ہے

یارم غیر محسوس انداز میں کرسی سے اٹھ کر رویام کے پاس آیا ۔اس کے اس طرح سے اپنے قریب آنے پر رویام اسے گھور کر دیکھنے لگا جب یارم نے اس کا ننھا سا چہرہ تھام کر اپنی جارحانہ محبت کا اظہار کیا ۔

اور اس کے بعد رویام کا ایسا باجا بجا کہ روح بوکھلا کر اس کی طرف آئی ۔

اور اسے اٹھا کر پیار کرنے لگی جبکہ یارم مسکراتا ہوا کچن سے باہر نکلا تھوڑی دیر پہلے اسے پڑنے والی ڈانٹ کا بدلا تو رویام کو جارحانہ پیار کرکے وہ ویسے بھی لے ہی چکا تھا

روح بس اس کی پیٹھ کو گھور کر رہ گئی وہ اس وقت اس سے بحث نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ سحری ختم ہونے میں بہت کم وقت رہ گیا تھا ۔

رویام کو وہ بہت مشکل سے اسے چپ کرانے میں کامیاب ہوئی تھی وہ اسے دوبارہ سے کرسی پر بٹھا کر ایک بار پھر کھانا بنانے لگی

رووو۔۔۔۔۔روو۔۔وہ چائے بنانے میں مصروف ہوئی تو اسے پیچھے سے رویام کی آواز سنائی دی

وہ پہلی بار بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ تو خوشی سے پھولے نہ سمائی

اللہ میرا بچہ پہلی بار کچھ بول رہا ہے یارم یارم جلدی آئیں تو رویام نے مجھے پکارا جلدی آئیں کیا ہوگیا ہے وہاں باہر کیا کر رہے ہیں

وہ خوشی میں اس قدر دیوانی ہو رہی تھی کہ اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ تھوڑی دیر پہلے یارم کی حرکت نے اسے غصہ دلایا تھا اور وہ اس سے ناراض بھی ہو رہی تھی

کیا ہوا ہے روح اتنی خوش کیوں ہو رہی ہو وہ کچن میں داخل ہوا تو اسے خوش ہوتے دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکا

یارم رویام نے ابھی مجھے پکارا ابھی اس نے مجھے بلایا یارم میں سچ کہہ رہی ہوں وہ اتنی خوش تھی کہ انتہا نہ تھی۔

میں جانتا ہوں وہ چھ ماہ کا ہو چکا ہے ابھی اسے باتیں کرنی شروع کرنی چاہیے

شہزادے ایک بار میرے سامنے بھی اپنی ماں کو پکارو یام اس کے سامنے بیٹھے ہوئے کہنے لگا لیکن وہ منہ بنا کر ہاتھ ٹیبل پر رکھتے ہوئے میز پر ہی لیٹ گیا

اور بقول یارم اب وہ نکمی اولاد کا ثبوت دیتے ہوئے تھوڑی ہی دیر میں وہ نیند میں بھی اتر چکا تھا

انتہائی بدتمیز اولاد ہے روح میں بول رہا ہوں تمہیں وہ اسے اپنی باہوں میں اٹھا تے ہوئے سینے سے لگا کر بولا ارادہ اسے کمرے میں چھوڑ کر آنے تھا جبکہ روح اس کی شکل دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسی

وہ مانتی تو نہیں تھی کہ اتنا چھوٹا سا بچہ اپنے باپ سے دشمنی مول لے سکتا ہے لیکن اب اسے بھی لگتا تھا کہ رویام یارم کا دشمن بن گیا ہے وہ یارم کی مرضی کا کوئی کام نہیں کرتا تھا

°°°°°°