Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 2)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

یارم نے خود اپنے ہاتھوں سے اس لکے لیے ڈنر بنایا ۔وہ سچ میں کمال کا کوک تھا اس کے ہاتھ میں بہت ذائقہ تھا ۔اور اگر ذائقہ نہ بھی تو تب بھی ہارم کی بےپناہ محبت پر وہ انکار نہیں کرسکتی تھی ۔

اور پھرظالم جس ادا سے اپنے ہاتھوں سے کھلاتا تھا کوئی انکار کر کے دیکھائےوہ اس کے ہاتھوں سے کھاتی سوچ رہی تھی جب اپنی بےلگام سوچوں پے لعنت ڈالتی اونچی آواز میں بولی

اللہ نہ کرے۔کہ آپ کسی اور کو اپنے ہاتھوں سے کھلائیں ۔

کیا بول رہی بےبی منہ کھولو ۔بس یہ تھوڑا سا رہ گیا ہے ۔اس کی بات کی گہری سمجھے بغیر یارم نے ایک اور نوالہ اس کے منہ میں ڈالا

اس وقت یارم کے لیے اس کا کھانا اہم تھا ۔ورنہ یقیناً اس کے اظہارِ جلن پر وہ خوش ہوتا۔کیوں کہہ روح بھی اس کے معاملے میں کافی پوزیسسو ثابت ہوئی تھی اسے بھی پسند نہیں تھا اپنے علاوہ یارم کی توجہ کا مرکز کسی اور کی ذات دیکھنا ۔

اکثر مارکیٹ یا شاپنگ مال میں وہ اس سے آگے پیچھے کہیں دیکھنے کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔

جب کہ وہ جانتی بھی تھی کہ یارم اس کے علاوہ کسی اور کو دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا

ہاں لیکن اس کی یہ جلن یا رم کو بہت بھاتی تھی ۔اسے اچھا لگتا تھا روح کا اس کے لیے اتنا ٹچی ہونا لیکن یہ وقت خوش ہونے کا نہیں تھا کیونکہ وہ کھانا بنانے میں پہلے ہی لیٹ ہو چکے تھے ۔روح تو بہت خوشی کے ابھی تک اس کا منہ کڑوانہیں ہوا تھا لیکن یارم کو اس کی فکر لگی ہوئی تھی ۔

میرا بچہ جلدی سے یہ ختم کرو ۔پھر میں تمہیں اچھی سی چائے بنا کر پلاتا ہوں ۔وہ چائے کیلئے پانی چڑاتا بہت محبت سے بولا تھا ۔

مطلب آپ کو یاد ہے یارم آپ کی یاداشت کتنی اچھی ہے نا مجال ہے جو کچھ بھول جائیں

وہ دانت پیستی یار م کو مسکرانے پر مجبور کر گئی

لو جی پھر شروع ہوگئی نمائش ۔

ہٹیں پیچھے آج چائے میں بناوں گی۔وہ کرسی سے اٹھ کر بولی

نہیں روح تم ابھی گیس کے قریب نہ آو یہ خطرناک ہے وہ اس کے کندھے پے ہاتھ رکھتا اسے واپس بیٹھانے لگا۔

یارم اب بس کریں نہ پلیز میں تنگ آ گئی ہوں یوں بیٹھے بیٹھے ۔۔پلیز کم از کم چائے تو بنا ہی سکتی ہوں۔وہ منت کرنے والے انداز میں بولی ۔

نہیں روح پلیز ابھی نہیں صرف کچھ ٹائم صبر کر لو پھر سب تم نے ہی تو کرنا ہے نا وہ سمجھنے والے انداز میں بولا تو روح منہ بنا کر واپس بیٹھ گئی ۔

آج میں تمہیں بہت مزے کی چائے پلاوں گا۔وہ اسے پیار سے پچکارتے ہوئے منانے میں کامیاب ہوا تھا۔

اور واقع ہی اس کی چائے بہت زبردست تھی ہمشہ کی طرح وہ اس میٹھی میٹھی چاِپئے کے بعد وہ اسے گندی گندی دوائیاں کھلانے والا تھا۔جس پر اس کا منہ ساری رات اس کڑوے زہر کے زیراثر رہے گا

آخر کب ختم ہو گا یہ میڈیسن کا سلسلہ وہ سوچتے ہوئے یارم کے پیچھے منہ بنائے کمرے میں آئی تھی

°°°°°

یارم اب نہ میں آپ سے پکی والی خفا ہو جاوں گی اسے میڈیسن باکس لیے اپنی طرف آتا دیکھ وہ منہ بنا کر بولی

کوئی بات نہیں بےبی مجھے میرے بچے کو منانے کا طریقہ آتا ہے وہ محبت سے اس کا ماتھا چومتامیڈیسن نکالنے لگا

آپ کو پتا ہے کوئی بھی کام زبردستی کروانے سے گناہ ملتا ہے آپ کو بھی گناہ مل رہا ہے جب آپ مجھے زبردستی یہ دوائیاں کھلاتے ہیں ابھی بھی وقت ہے توبہ کر لیں ۔کسی بھی طریقے سے جب وہ اس کی باتوں میں نہیں آیا تو روح اب اسے خدا سے ڈر آنے لگی ۔

لیکن میں یہ کام تمہاری بھلائی کے لئے کرتا ہوں اور جو کام کسی کی بھلائی کے لیے کیا جائے اس کا گناہ نہیں ہوتا ۔وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا

ہیں۔۔۔۔! بھلائی کیا بھلائی ہے اس میں اچھے خاصے منہ کو کڑوا بادام بنا کے رکھ دیتے ہیں آپ اور آپ کہتے ہیں کہ یہ میری بھلائی ہے آپ کھائے ذرا یہ دوائی ذرا بیمار ہوں آپ۔۔۔۔ استغفراللہ کیا بکواس کر رہی ہوں میں اللہ نہ کرے آپ کو کچھ بھی ہو کوئی بھی بیماری آپ کو چھو کر بھی گزرے وہ دونوں کانوں کو ہاتھ لگاتی اللہ سے معافی مانگتے ہوئے اپنی بات کی توبہ کرنے لگی ۔۔پھر زراواقفے سے بولی

آپ ذرا یہ دوائی کھائیں پھر آپ کو پتہ چلے کہ یہ کیسی ہے ۔گلے سے نیچے نہیں اترتی یہ تو میں صرف آپ کی خاطر سمجھوتا کر لیتی ہوں ۔ورنہ میں ساری زندگی اسے منہ نہ لگاتی

اپنا منہ کھولتے ہوئے وہ روز کی طرح اپنی بڑاس بھی نکال رہی تھی

آخر اس سوتن بیماری کو خود کے اور یارم کے بیج سے نکالنا بھی تو تھا

ورنہ اس کا تو یہی کہنا تھا کہ اس کی اس سوتن بیماری سے یارم کو اس سے زیادہ محبت ہو گئی ہے

یہ دوائی تمہاری احسان مند رہے گی ساری زندگی کے تم نے اسے منہ لگایا ۔وہ شرارتی انداز میں اس کے لبوں سے پانی کا گلاس لگاتے ہوئے بولا تو روح نےآخری گولی بھی نگل لی

گڈ میرابچہ اب جلدی سے لیٹ جاؤ سونے کا وقت ہو گیا ہے

یارم مجھے ابھی نہیں سونا مجھے آپ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں ۔وہ جلدی سے بولی تھی ۔

ہم صبح باتیں کریں گے اس وقت تمہیں سونا ہے چلو شاباش وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے زبردستی بیڈ پر لیٹ آنے لگا

نہیں نا یارم مجھے نہیں سونا پلیز نہ ہم تھوڑی دیر باتیں کرتے ہیں پھر سو جائیں گے نہ روح کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کی میڈیسن میں ایک میڈیسن نیند کی بھی ہے یہی وجہ تھی کہ وہ اکثر اس سے دیر سے سونے کی ضد کرتی تھی لیکن یارم نہیں چاہتا تھا کہ رات میں اس کی نیند ڈسٹرب و یا وہ ڈر کر جاگ جائے

ورنہ شاید وہ خود بھی اسے اتنی جلدی سونے پر کبھی مجبور نہ کرتا

اوکے بابا ہم کر رہے ہیں باتیں آرام سے لیٹ جاؤ میں بھی یہی ہوں تمہارے پاس وہ مان جانے والے انداز میں کہتا بیڈ کی دوسری جانب آیا تو روح کو بچوں کی طرح خوش ہوتے دیکھ اسے سینے سے لگایا تھا

اور اب یقیناً روح کی بے تکی باتوں کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا ۔

اور انہی باتوں کے دوران ہی اس نے گہری نیند میں اتر جانا تھا یارم جانتا تھا

°°°°°

یارم ہمارے بچے کب ہوں گے ۔جلدی لیلیٰ ماں بن جائے گی ۔اورخضر ماموں کا ایک پیارا سا بیٹا ہوگا یا شاید بیٹی لیکن یارم ہمارے بچے کب ہوں گے ۔

کاش ہمارا بچہ ہوتا تو اب تک تو کچھ ہی وقت میں وہ ہمارے پاس آنے والا ہوتا

ہم دونوں اس سے بہت پیار کرتے ہیں نا یارم ۔

لیکن شاید میں اس کی ماں بننے کے قابل نہیں تھی اسی لئے تو وہ آیا ہی نہیں شاید میں ہی اللہ کے دیے اس تخفے کو سنبھال نہیں پائی ۔ایک بار پھر سے اپنے اندر خالی پن کا احساس جاگتے ہی روح اس کے سینے میں منہ چھپائے آنسو بہانے لگی اور یارم نے سختی سے لب بھیج لیے

یہی وجہ تھی روح میں تمہیں لیلیٰ کے گھر نہیں جانے دے رہا تھا ۔اس طرح سے رو رو کر تم اپنی طبیعت خراب کر لوگی

جو کچھ بھی ہوا وہ سب ہمارے نصیب کا لکھا تھا خبردار جو تم نے اس میں اپنے آپ کو قصور وار ٹھہرایا ۔

وہ ہمارے نصیب کی اولاد نہیں تھا ۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ بے اولاد رہیں گے ان شاء اللہ جلد بھی ہمارے بچے ہوں گے ۔اور ہم انہیں بہت پیار کریں گے بہت خیال رکھیں گے ۔

اور اس طرح سے آنسو بہا بہا کر اللہ کو ناراض نہ کرو۔وہ بے نیاز ہے ہمیں اوقات سے بڑھ کر نوازے گا ان شاءاللہ ۔لیکن اس طرح سے رو رو کر تم نا قدری کر رہی ہو جو ہے اس کی ۔وہ اسے سختی سے ڈپتے ہوئے بولا ۔

اچھا نہیں کہتی کچھ بھی ڈانٹتے کیوں ہیں ۔۔۔! وہ لاڈ سے اس کے گرد باہیں پھیلائے بولی۔

ڈانٹ کہاں رہا ہوں بس سمجھا رہا ہوں ۔اپنی اس نا لائق اسٹوڈنٹ کو ۔یا رم نے اسے اپنے مزید قریب کیا

میں نالائق نہیں ہوں ۔وہ روٹھے روٹھے انداز میں بولی

ہاں بہت لائق ہو تم ۔مجال ہے جو کوئی بھی بات اس نھنے سے ذہن میں بٹھا لو ہر چیز پر ضد کرنا اپنا فرض سمجھتی ہو ۔اس کے روٹھنے پر یارم نے اسے مزیدچھڑا۔

بس بہت ہوگیا یارم بہت اڑا لیا آپ نے میرا مذاق ہے ایک بار ٹھیک ہو جانے دیں مجھے منہ بھی نہیں لگاؤں گی آپ کو ۔دن رات بیماری بیماری کرتے رہتے ہیں نہ پھر رہنا اسی سوتن بیماری کے ساتھ ۔

روح ہاتھ نہیں آئے گی تب وہ اس کے سینے سے سر اٹھا کر تکیے پر رکھتے ہوئے بولی ۔یہ ناراضگی کا اظہار کرنے کا طریقہ تھا یارم کو بالکل پسند نہیں تھا ۔کیوں کہ اسے باہوں میں لیے بغیر تو اسے ساری رات نیند بھی نہیں آتی تھی ۔

ہاں یہ بیماری مجھے پیاری ہے کیونکہ اس وقت یہ تم سے جڑی ہوئی ہے ۔لیکن تم نے اسے اپنی سوتن کیوں بنا لیا ۔ وہ پچھلے دو دن سے اس کی بیماری سوتن والےطعنے سن رہا تھا

سوتن ہی تو ہے جب سے یہ سوتن ہم دونوں کے بیچ میں آئی ہے آپ مجھے کم اور اسے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔

بتائیں کب کہا تھا آپ نے مجھے آئی لو یو میرا بچہ ۔۔۔بولنے بتائیں میں بتاتی ہوں آپ کو تو یاد بھی نہیں ہوگا اور اتوار والے دن صبح کچن میں آپ کو یاد آیا تھا کہ میں آپ کی بیوی ہوں جس سے آپ بہت پیار کرتے ہیں

ورنہ تو ہر وقت دوائیاں کھا لو روح

وقت پر سو جاؤروح

وقت پر کھانا کھاؤروح ۔

طبیعت خراب ہو جائے گی روح

بیمار پر جاؤں گی روح ۔

آپ کی ہر بات اس سوتن بیماری سے جڑی ہوتی ہے ۔ررح تو کہیں ہے ہی نہیں بس ہر جگہ یہ سوتن بیماری ہے

تو ہوا نہ آپ کو اس سوتن بیماری سے مجھ سے زیادہ پیار

وہ عجیب و غریب لاجک بیان کرتی اپنے بات کی وضاحت دے رہی تھی

اور یارم بھرپور توجہ سے اس کی ایک ایک بات کے ساتھ اس کے احساسات کو بھی سمجھ رہا تھا

ہاں یہ سچ تھا جب سے وہ ہوش میں آئی تھی یارم کو صرف اور صرف اس کی صحت کی فکر لگی ہوئی تھی ۔

وہ صرف اور صرف اس کی پروہ کر رہا تھا اس کا خیال رکھ رہا تھا

وہ اسے محبت نہیں دے رہا تھا وہ اسے توجہ دے رہا تھا

اور سچ یہی تھا کہ یہ اس کی روح کے ساتھ زیادتی تھی ۔

جس کے لیے وہ خود کو قصوروار بھی سمجھتا تھا

لیکن یہ بھی سچ تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کی روح بالکل ٹھیک ہو جائے ۔اور یہ بیماری ان دونوں کے بیچ سے نکل جائے ۔

اور اس ان چاہی بیماری کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے یارم کو فلحال اس کی صحت کی فکر کرنی تھی۔

تم ایک بار بالکل ٹھیک ہو جاؤ روح ۔

یارم کاظمی کی محبت پر ہی نہیں بلکہ اس کی سانس سانس پر صرف تمہارا حق ہےجو تم سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔

کوئی بیماری ہم دونوں کے بیچ میں نہیں آسکتی ۔

دنیا کی کوئی بھی چیز یارم کاظمی کیلئے روح سے زیادہ عزیز نہیں ہوسکتی ۔

بس ایک بار تم ٹھیک ہو جاؤ ۔پھر دیکھنا میں دنیا کی ساری خوشیاں تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا ۔

وہ ایک ہی لمحے میں اس کا بازو کھینچ کر اسے اپنے قریب کرتا شدت سے کہتا اسے اپنے سینے میں بھیج گیا۔

ہاں میں بھی تبھی کی بات کر رہی ہوں میں آپ کو منہ نہیں لگاؤں گی اتنے نخرے دکھاؤں گی ۔کہوں گی جائیں نہ اپنے لاڈلی بیماری کے پاس میرے پاس کیا کر رہے ہیں وہ نیند کی گہری وادیوں میں اترتی نہ جانے کیا کیا بڑابڑا رہی تھی ۔

لیکن اس کے باوجود بھی اپنی آنکھیں کھولے یا رم سے باتیں کرنے کی کوشش کر رہی تھی

۔ایسی بیوقوفی بھری باتیں وہ ہوش میں کبھی نہیں کرتی تھی ۔

یہ سب ان میڈیسن کا اثر تھا جو اپنی سوچوں کو عجیب لفظوں میں پرو کر اس کے سامنے بیان کرتی تھی

ہاں لیکن وہ اپنے دل میں کچھ نہیں رکھتی تھی ۔

اور اس کی صحت کے لیے یہ بہت اچھا ہے

یارم کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھ وہ بڑی مشکل سے آنکھیں کھولے اسے گھورنے لگی

میں یہاں اتنے سیریس موضوع پر بات کر رہی ہوں اور آپ مسکرا رہے ہیں چھپائیں اسے چھپائے اس ڈمپل کو ورنہ میں کھا جاؤں گی ۔

بلکہ نہیں آپ بھلا کیوں چھپائیں گے آپ تو نمائش کریں گے ۔آخر اللہ نے دیں جو دیا ہے ۔لیکن میں آپ کو بتا دوں یارم کاظمی صاحب اللہ نمائش کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا قہ سر گوشانہ انداز میں اس کے کان کے قریب بولی تھی ۔

جس پر یارم کے ڈمپل مزید گہرے ہوئے تھے ۔

اگر روح کو ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ رات کو وہ نیند کے خمار میں اس سے کیا کیا بولتی ہے ۔تویقیناً تین چار دن تو اس سے چھپ کر گزار دیتی

ہاں لیکن یہ الگ بات تھی کہ صبح اس کی شروعات بالکل نئی ہوا کرتی تھی رات وہ کیا کیا کہتی ہے اس کے ذہن میں ایک دی بات نہ ہوتی ۔

اس کی گرم گرم سانسیں وہ اپنی گردن پر محسوس کر رہا تھا مطلب کے شاید وہ سوچکی تھی ۔

یا رم نے اسے سیدھا کرنا چاہتا تو مزید یارم سے لپٹ گئی ۔

اس سے پہلے کہ یارم اپنی آنکھیں بند کرتا وہ اچانک سر اٹھائے اسے دیکھنے لگی۔

کچھ رہ گیا کیا میرا بچہ ۔۔۔! وہ بہت محبت سے بولا ۔

اینگو مینگو یارم ۔۔۔اینگومینگو سو مچ ۔۔اس کے معصومانہ انداز میں کہنے پر یارم کے لبوں پر مسکراہٹ مچل اٹھی

رات کے بارہ بجے اسے آئزلینڈک لینگویج بولنے کا جوش چڑ چکا تھا ۔

آئی لو یو ٹو میرا بچہ ۔۔۔وہ ایک بار پھر سے اس کا سر اپنے سینے پر رکھتا تھکنے لگا ۔

جب اچانک اس نے ایک بار پھر سے سر اٹھا لیا یارم نے ٹھنڈی بھری نہ جانے اب اسے کیا یاد آیا ہوگا ۔

اب کیا ہوا بےبی۔۔۔!یارم نے مسکراتے ہوئے پوچھا

جب اچانک ہی وہ اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے چھوتی شرما کر اس کے سینے میں منہ چھپا گئی ۔

یہ جانے بغیر کے ایک اور رات کو ہی یارم کے لیے بہت مشکل بنا چکی ہے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے بےحد قریب کی یہ وہ سونے کی ناکام کوشش کرنے لگا ۔

تمہیں اس سب کا حساب چکانا ہو گا روح بےبی ۔یہ سب کچھ کر کے تم اپنے آنے والے وقت کو مشکل بنا رہی ہو۔تمہیں ایک ایک چیز کا حساب دینا ہوگا ۔یہ ساری حرکتیں معاف کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔اس کے ماتھے کو شدت سے چومتے وہ خود میں ہی کہیں قید کر لینا چاہتا تھا

°°°°°

یارم پلیز مان جائیں نہ میں وعدہ کرتی ہوں میں کوئی کام نہیں کروں گی کسی کام کو ہاتھ تک نہیں لگاوں گی میں کچھ نہیں کروں گی پلیز مجھے لے چلیں نا ۔

وہ صبح اٹھتے ہی اس کی منتیں کرنے لگی تھی کیونکہ یارم نے کہا تھا کہ اب وہ اسے لیلیٰ کے گھر نہیں جانے دے گا

بلکہ میری اور شفا ہی اس کا خیال رکھیں گیں۔اور اس کے ایک ایک سیکنڈ کی رپورٹ اس تک پہنچائیں گیں ۔

سوری بےبی میں اس معاملے میں تم پر بالکل یقین نہیں کر سکتا ۔تمہارے ہاتھ پیر کنٹرول نہیں ہوتے اس لیے بہتر ہے کہ تم گھر پر ہی رہو اگر چاہو گی تو لیلیٰ یہاں آ جایا کرے گی لیکن تمہیں وہاں نہیں جانے دوں گا ۔اس کا گھر میرے آفس سے بہت دور ہے اور واپسی کے راستے پر بھی تمہیں دیکھ نہیں پاتا

لیلی ماں بننے والی ہے یارم وہ بھلا روز روز یہاں کیسے آئے گی اور میں اپنے ہاتھ پیر کنٹرول کرنے کی کوشش کروں گی نہ میں کوئی کام نہیں کروں گی آپ یقین کر کے تو دیکھیں ۔وہ اسے اپنے سامنے بٹھائےزبردستی ناشتہ کروا رہا تھا جس دوران وہ مسلسل اس کی منتیں کرتے ہوئے اسے منانے کی کوشش کر رہی تھی ۔

روح میں نے کہا نہیں تو اس کا مطلب نہیں ہے وہ سختی سے بولا ۔

اس کا مطلب نہیں ہے تو پھر میں بھی ناشتہ نہیں کروں گی اور نہ ہی وہ دوائیاں کھاؤں گی ۔وہ پھر سے ضدی ہونے لگی

جب اچانک یا رم نے غصے سے ایک ہاتھ ٹیبل پر مارا وہ اچھل کر دور ہوئی۔اور اب کچھ فاصلے پر کھڑی خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی وہ کیا کرنے والا تھا ۔

یارم اٹھ کر اس کے پاس آیا اسے ہاتھ پکڑ کر زبردستی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ کروانے لگا سرخ آنکھوں میں اس وقت اتنا غصہ تھا کہ وہ بنا کچھ بولے ناشتہ کرنے لگی اس وقت اس کے اندر کچھ بھی کہنے کی ہمت نہیں تھی کرنا تو ضد کرنا تودور کی بات تھی۔

ناشتہ کروانے کے بعد وہ اسی غصے سے اٹھ کر اس کے لیے دوائیاں لے کر آیا اور روح بنا چواں چراں کے کھانے لگی ۔جبکہ اس کی سختی پر آنکھیں نم ہو ہو رہی تھی لیکن اس کے سامنے آنسو بہانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جلدی سےباہر آو اور خبردارجو وہاں کوئی بھی کام کیا ۔وہ سختی سے کہتا باہر نکل گیا جبکہ روح اپنے کانوں پر یقین کرتی خوشی سے باہر بھاگی تھی ۔۔

°°°°°