Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 22)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

اس نے کسی قسم کا کوئی شور یا ولاویلا نہیں مچایا تھا ۔وہ بلکل خاموش تھی۔خضر جو اس لی ضد اور بیماری کی وجہ سے اسے کچھ نہیں بتا رہا تھا کہ اس کی طیبت دوبارہ خراب نا ہو جائے اس کے حوصلے کو دیکھ خود بھی حیران رہ گیا تھا

اس کا زیادہ تر وقت یارم کے لیے دعا کرتے گزر جاتا۔

وہ ہر وقت یارم کے ٹھیک ہونے کی دعا مانگتی

اس نے صرف اللہ کو ہی اپنا رازدار بنا لیا تھا۔

اس کی تکلیف اس کا درد صرف اللہ تک محدود ہو گیا تھا

وہ سجدوں میں روتی ۔سارا دن وہ صبر سے گرار دیتی لیکن وہ جانتی تھی کہ اس کا یارم ٹھیک نہیں ہے

لیکن پھر بھی وہ ہمت دیکھا رہی تھی ۔آج اسے ہسپتال سے ڈسچارج کیا جارہا تھا

خضر کہہ رہا تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے کر جائے گا اس نے اس معاملے پر بھی بالکل ضد نہیں کی تھی

اس کی خاموشی خضر کو بہت پریشان کر رہی تھی

کہیں وہ اپنا درد اپنی تکلیف اپنے اندر ہی رکھ کر خود کو مزید بیمار نہ کرلے ۔

لیکن جب بھی وہ اس سے ملنے کے لیے جاتا وہ اسے ہنستی مسکراتی ملتی ہاں اس کی مسکراہٹ میں پہلے سی کھنک نہ تھی

ایک ہفتہ ہونے کو آ رہا تھا اس نے نا تو یارم سے بات کرنے کی ضد تھی نہ ہی اس سے دیکھنے کی اور نہ ہی اس سے ملنے کی

کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یارم بہت بیمار ہے وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اسے دوبارہ زندہ دیکھنے کا حوصلہ کھو چکی تھی جب اسے بتایا گیا کہ اس کا یارم زندہ ہے

اور اسے علاج کی ضرورت ہے

یارم بہت عام سی زندگی گزارتا تھا کسی نے بھی ڈیول کا چہرہ نہیں دیکھا تھا

وہ عام لوگوں کی طرح روز کام پر جاتا دنیا کے سامنے اس کی ایک کمپنی تھی جس میں وہ جاب کرتا تھا

بہت کم لوگ جانتے تھے کہ وہ عام سا انسان ہی انڈرورلڈ کی دنیا کا بادشاہ ہے

وہ صرف ان لوگوں کو اپنا چہرہ دکھاتا تھا جنہیں آ تو وہ ختم کرنے والا ہوتا یا پھر دشمنی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں دوستوں کے سامنے بھی نہیں آتا تھا

وہ بہت کم لوگوں پر یقین رکھتا تھا

اور یہ ساری باتیں روح بھی جانتی تھی

روح کے سامنے بھی تو کتنا عرصہ وہ ایک عام انسان کی زندگی گزارتا رہا روح کہاں جانتی تھی کہ اس کا تعلق انڈر ورلڈ سے ہوگا

وہ جانتی تھی کہ یارم کی جان اب بھی خطرے میں ہے اس کے دشمن اس کی تاک میں بیٹھے ہیں

اور جن لوگوں نے یارم پر حملہ کیا ہے ان لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ یارم اب نہیں رہا

اور خضر اس کی جگہ چکا ہے

آجکل خضر کی زندگی بھی خطرے میں تھی اس پر بھی حملے ہو رہے تھے

یہ توعام سی بات تھی کہ جو لوگ یارم کو ختم کرنے کو تیار تھے ان کے سامنے خضر بھی کسی کیڑے مکوڑے سے کم نہ تھا ۔

لیکن یہ بھی سچ تاکہ وہ یارم کی جگہ پر اتنی آسانی سے کسی دوسرے کو قبضہ نہیں کرنے دے سکتا تھا

لیکن اسے روح سے اتنی سمجھداری کی امید تو نہیں تھی

روح کو دیکھ کر وہ ابھی حیران ہو رہا تھا اس قدر پر سکون کیسے ہو سکتی تھی وہ

اس نے ہسپتال کے کمرے میں قدم رکھا تو روح کو جانماز پر بیٹھے پایا

سلام پھیرتی وہ اسے دیکھ کر مسکرائی

روح تیار ہو آج ہم گھر جانے والے ہیں ۔وہ بہت پیار سے اس کے ساتھ زمین پر ہی بیٹھ کر کہنے لگا

جی میں تیار ہوں ۔۔لیلیٰ کہاں ہے وہ تو ایک بار بھی نہیں آئی مجھ سے ملنےاسے ہوش میں آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا اب تک لیلیٰ اس سے ملنے نہیں آئی تھی معصومہ ایک پر آئی تھی اور پھر وہ بھی نہیں آئی

وہ تمہارے یارم کے پاس ہے روح میں وہاں نہیں جا سکتا میرے پاس بہت کام ہے اور شارف یہاں میری مدد کر رہا ہے

اگر ہم دونوں منظر سے غائب ہوئے تو ہمارے دشمنوں کو ہم پر شک ہو سکتا ہے اسی لیے ہمارا سامنے رہنا بہت ضروری ہے

صارم تم سے ملنا چاہتا ہے میں نے اسے ملنے کی اجازت دی ہے لیکن تمہیں اس کے سامنے کس طرح سے رہنا ہے مجھے بتانے کی ضرورت نہ پڑی

اس کی حالت یارم کی موت کا سوچ کر بہت بری ہو رہی ہے اور ہم چاہ کر بھی اسے کچھ نہیں بتا سکتے کیونکہ چاہے وہ ہمارا دوست ہو لیکن ہے تو قانون کا حصہ

اسی لیے تم کوشش کرنا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے تمہارے منہ سے ایسی کوئی بات نہ نکلے جس سے ہمارا پلان نا کامیاب ہو وہ اسے سمجھا رہا تھا

لیکن ماموں صارم بھائی تو دوست ہیں نا آپ کے انہیں ہم ان کو بھی نہیں یارم کے بارے میں بتا سکتے ہیں

وہ پولیس والے ہیں تو کیا ہوالیکن دوستی بھی تو اہم ہیں وہ پریشان ہوں گے صارم کو بنا دیکھے ہیں اس کی حالت سوچ کر وہ ٹینشن میں آ چکی تھی

اسے اندازہ تھا کہ صارم بھی یارم سے بے حد محبت کرتا ہے

جانتا ہوں لیکن روح ہم نہیں بتا سکتے خاص کر یار م کی زندگی پر رسک تو بالکل بھی نہیں لے سکتے

چاہے وہ جو بھی کہے تمہیں صارم کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں کرنی تھی جس سے اسے ہم پر شک ہو

وہ اس کی ضروری اشیاء بیگ میں رکھتے ہوئے سمجھا رہا تھا روح نے ہاں میں سر ہلایا اس کے لیے بھی تویارم سے اہم کچھ بھی نہیں تھا

اور اگر صارم کو کچھ بھی بتانے سے یارم کی زندگی خطرے میں آ سکتی تھی تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنی زبان سے ایک لفظ بھی ادا کرے

تم انتظار کرو میں ڈسچارج پیپر لے کر آتا ہوں وہ کہہ کر جانے لگا جب اسے روح کی آواز سنائی دی

ماموں یار م کا فون آپ کے پاس ہے ۔۔اس نے پوچھا خضر نءپیچھے مڑ کر دیکھا پچھلے ایک ہفتے میں اس نے یارم کے بارے میں پہلی بات کی تھی اس نے ہاں میں سر ہلایا

مجھے دے دیں پلیز

روح تم کیا کرو گی اس فون کا تمہارے کسی کام کا نہیں ہے خضر نے جواب دیا کیوں کہ اس کی نظروں میں واقع ہی وہ فون اس کے کسی کام کا نہیں تھا

وہ ہم نے وہاں سوئٹڑز لینڈ میں تصویریں کھینچی تھی نہ تصویریں دیکھنی تھی ۔روح نے پر سکون سا جواب دیا تو اس نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اپنی جیب سے یارم کا فون نکال کر اس کے حوالے کر دیا

جس پر ایروپلین موڈ لگا تھا یعنی کہ کوئی بھی اس نمبر پر فون نہیں کر سکتا تھا

میں اسے اپنے پاس ہی رکھ لوں جب تک یارم واپس آتے ہیں وہ اس سے پوچھنے لگی

میری جان تمہارا ہی تو ہے تم اسے رکھ سکتی ہو وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا مسکرا کر باہر نکل گیا

°°°°°

اسے جب سے یہاں لایا گیا تھااس پر کنٹرول کرنا بے حد مشکل ہو گیا تھا

کوئی بھی اسے کنٹرول نہیں کر پاتا تھا جس پر ڈاکٹر پریشان ہو کر اسے بار بار بے ہوشگی کا انجکشن لگا دیتے

زہر سے زیادہ پھیل جانے کی وجہ سے ڈاکٹر ویسے بھی اسے زیادہ دیر ہوش میں نہیں آنے دیتے تھے

جن لوگوں نے یار م پر حملہ کیا ان کا مقصد روح کو استمال کرنا تھا

خضر نے پوری بات اسے بتائی

اس سے پہلے کہ وہ لوگ روح تک پہنچتے یارم ان تک پہنچ چکا تھا لیکن اسے دیکھتے ہی وہ لوگ بوکھلا کر اس پر حملہ کرنے لگے

ان لوگوں نے پہلا حملہ اس کے پیٹ پر کیا تھا

جس میں ایک زہریلا اورنوکیلا چاقو وہ اس کے پیٹ کے اندر اتار چکے تھے

ان لوگ جن کو کسی بھی قیمت پریارم کو ختم کرنا چاہتے تھے اگر وہ گولی سے نہیں مرا تو زہر سے مر جائے گا اور اگر زہر سے نہیں مرا تو چاقو کی تکلیف سے مر جائے گا

وہ لوگ پوری پلاننگ کے ساتھ آئے تھے

چاقو لگتے ہی زہر اس کے جسم میں پھیلنا شروع ہو گیا لیکن تب تک روح وہاں پہنچ چکی تھی

وہ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے یارم کو اس حالت میں دیکھ کر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکی تھی یارم نے اسے وہاں سے جانے کے لیے کہا تھا لیکن وہ اس کی بات سن ہی نہیں رہی تھی اس کا دھیان صرف اور صرف یارم کے جسم پر لگے جگہ جگہ زخموں پر تھا

روح کی کنڈیشن کو وہ اسی وقت سمجھ چکا تھا

اسی لیے اپنی جان بچانے سے زیادہ ضروری تھا کہ وہ اس کی ذہنی حالت کو سمجھتا وہ ابھی ابھی نروس بریک ڈاؤن جسے میجر اٹیک سے نکلی تھی

اس کے لئے ایک چھوٹا سا جھٹکا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا اور یارم کو تو اس دنیا میں سوائے روح کی اور کسی کی پروا ہی نہیں تھی وہ اپنی پرواہ کئے بغیر روح کی طرف بڑھنے لگا جب ان سب نے اس پر حملہ کیا

بہت زیادہ چوٹ لگنے کی وجہ سے زوہ ن پر گرتا ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا تھا لیکن دھیان کے دھاگے اب تک روح سے بندھے ہوئے تھے

وہ اس کے سامنے بیٹھی حیران اور پریشان اسے دیکھے جا رہی تھی یقینا وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو چکی تھی

اس کے بے ہوش ہونے سے پہلے وہاں درک آپہنچا تھا

یارم نے اس سے کہا تھا کہ وہ روح کو بچائے

لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اس نے یارم کی مدد کی تھی اس نے مل کر ان سب کو یارم کے ساتھ مل کر جہنم رسید کیا تھا

جب تک وہ ہوش میں رہا اس نے وہ روح کو ہسپتال لے کر آیا تھا ڈاکٹر مسلسل اسکی منتیں کر رہے تھے کہ ایسی کسی بھی حالت میں اپنا علاج کروانا ہے ورنہ زہر اس کے پورے جسم میں پھیل جائے گا اور پھیل پھر گیا

اسے پرواہ تھی تو صرف اور صرف اپنی روح کی جو اس کے سامنے ایک بار پھر سے نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو چکی تھی

اس کے لیے ذرا سا جھٹکا بھی خطرناک تھا یہاں تو وہ اپنی آنکھوں کے سامنے یارم کو مردہ دیکھنا اسکی تھی

یارم کاجسم اس کا چھوڑنے لگا تھا لیکن پھر بھی وہیں کھڑا رہا آپریشن تھیٹر کے اندر بھی اس نے روح کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا

حضر اور شارف 10 گھنٹے کی فلائٹ سے یہاں پہنچ چکے تھے

لیکن تب تک یارم کا پورا بدن انفیکشن کا شکار ہو چکا تھا

اور جس طرح زہر اس کے پورے جسم میں پھیلا تھا اسے ہوش میں رکھنا بھی خطرناک ہونے لگا

ہسپتال میں یارم پر دوسری بار حملہ ہوا کسی نے آخری اتارآکسیجن کر اس کی جان لینے کی کوشش کی

اور اس کے بعد پورے ہسپتال میں یہ خبر پھیل چکی تھی زہر پھیلنے کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی لیکن خضر رات کی خاموشی میں یارم کو اسپتال سے غائب کر سری لنکا بھیج دیا

سری لنکا کے معافیاکے ساتھ یارم کے بہت اچھے تعلقات تھے

اور اس وقت وہ صرف اور صرف ان ہی لوگوں پر بھروسہ کر سکتا تھا

لیلی اس کے ساتھ چلی گئی پھر روح کوکومہ سے ہوش نا آنے پر وہاں سے دبئی کے ہسپتال میں شفٹ کرچکے تھے

دبئی کے انڈر ورلڈ مافیا میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ ڈیول اب نہیں رہا اور اس کی جگہ خضر سنبھال چکا ہے

جبکہ یہاں سری لنکا میں یارم پر کنٹرول کرنا ہے ایک بے حد مشکل کام تھا اسے زیادہ تر بے ہوش ہی رکھا جاتا

کیوں کہ ہوش میں آنے کے بعد وہ بس ایک بھی بات کرتا کہ اسے اس کی روح چاہیے

اس کو سولہ دن تک ہوش نہیں آیا لیکن خضر نے لیلی کو فون کرکے بتایا تھا کہ وہ ہوش میں آ چکی ہے

اور درک نے اسے یارم کے زندہ ہونے کا بھی بتا دیا ہے

کیونکہ اسے یقین تھا کہ اگر روح کو یہ پتہ چلتا کہ یارم نہیں رہا تو یقیناً روح مر جاتی

°°°°

ڈاکٹر نرس اورگاڑز کا ہجوم اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا

اس کا چیخنا چلانا پورا ہسپتال سن رہا تھا جبکہ لیلی کچھ فاصلے پر کھڑی اس کے پرسکون ہونے کا انتظار کر رہی تھی

یارم پلیز میری بات سن لو میں کیا کہہ رہی ہوں

مجھے کچھ نہیں سننا مجھے میری روح چاہیے لیلی بتاؤ میرےپی روح ٹھیک ہے ورنہ میں سب کو جان سے مار ڈالوں گا

یارم پلیز ریلکس ہو جاؤ یہ کیا کر رہے ہو تم اسے اپنے ہاتھوں اور بازوؤں سے ڈریپس اتارتا دیکھ کر لیلی نے سمجھانے کی کوشش کی

کچھ نہیں سننا مجھے کچھ نہیں سمجھنا مجھے بس میری روح چاہیے وہ چلایا تھا اس کے چلانے پر وارڈ بوائے تیزی سے آگے بڑھتا اسے انجیکشن دینے کی کوشش کرنے لگا

پچھلے سولہ دن سے مسلسل یہی تو ہو رہا تھا

وہ ہوش میں آتا تو پاگلوں کی طرح چیخنا چلانا شروع کر دیتا کہ اسے اس کی روح چاہیے

اور ڈاکٹرز اسے بے ہوشی کا انجکشن لگا کر خود پرسکون ہو کر اسے بے چین چھوڑ دیتے

اس سے پہلے کے وارڈ بوائے اسے انجیکشن لگاتا یارم کا ہاتھ اس کی گردن پر آ چکا تھا

تمہیں سمجھ نہیں آ رہا مجھے میری روح چاہیے

بتاؤ میری روح کہاں ہے ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گا وہ پاگلوں کی طرح اس لڑکے کا گلا دبوچ رہا تھا یقین اور کچھ دیر میں نےسانسس چھوڑ دینی تھی

پلیز چھوڑ دو یہ مر جائے گا ۔لیلی اس کا ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب کہ اس کا یہ وحشی روپ دیکھ کر کسی کی بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی سامنے آنے کی

نرس اور ڈاکٹر بھی اسے چھونے پر گھبرا رہے تھے

یارم پلیز کنٹرول یورسیلف وہ ٹھیک ہے بالکل ٹھیک ہے اسے ہوش آچکا ہے

وہ بالکل ٹھیک ہے یارم پلیز پرسکون ہو جاؤ

میں خضر سے بات کر چکی ہوں وہ ہوش میں آ چکی ہے وہ آہستہ آہستہ اس کی پیٹھ سہلاتی اسے لیے بیڈ کی جانب جا چکی تھی

یہاں بیٹھو آرام سے میری بات سنو

اسے خاموش اور پرسکون دیکھ کر لیلیٰ نے اسے پیچھے بیڈ پر بٹھایا

°°°°°°

اسے پرسکون دیکھ کر وہ اس کے قریب آ کر بیٹھی تھی وہ بالکل ٹھیک ہے یارم

مجھے اس سے ملنا ہے یارم نے اسے خود سے دور کرتے ہوئے کہا

مجھے میری روح کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے وہ اب بھی ضد پر اڑا رہا تھا

ٹھیک ہے میں کبپچھ لر لوں گی پہلے تم ایک ماہ تک اپنا علاج کرواو

وہ ٹھیک ہے وہ اسے یقین دلا رہی تھی

اگر وہ ٹھیک ہے تو مجھے اس سے ملنا ہے دیکھنا ہے اسے

یارم جانتے ہو یہ اتنی آسانی سے ممکن نہیں ہے تم ایک بار ٹھیک ہو جاو۔۔۔۔۔۔۔

مجھے کوئی پرواہ نہیں کیا ممکن ہے اور کیا نہیں مجھے میری روح کو دیکھنا ہے بس بات ختم ۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں کوئی نہ کوئی حل نکالتی ہوں لیکن پلیز تم پرسکون ہو جاؤ دیکھو تمہارے سینے سے خون بہنے لگا ہے

تمہیں علاج کی ضرورت ہے ایک ماہ نہ ہی جیسٹ تھری ویکس تمہیں درد ہو رہا ہو گا اس کے گھورنے پر وہ وقت کم کر گئی

لیکن یارم کو پرواہ کہاں تھی

لیلی درد میرے سینے سے نہیں میرے دل میں ہے زخم یہاں لگے ہیں اپنی روح کو اس حال میں دیکھ کر

اس کی وجہ سے میری روح اس حال میں پہنچی کتنی مشکل سے نکالا تھا اس سے اس سب سے اور ایک بار پھر اس نے اسے وہیں پر پہنچا دیا میں ویلکسن میتھو کو نہیں چھوڑوں گا

اس نے میری روح کو تکلیف پہنچائی اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے میں اس کی جان لے لوں گا یا رم کا غصہ کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا

تم ایک بار ٹھیک ہو جاؤ یارم سب کچھ سنبھال لیں گے

بس کچھ وقت کی تو بات ہے

جب تک میری روح کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیتا میں ٹھیک نہیں ہوسکتا لیلیٰ

میں جانتا ہوں وہ ٹھیک نہیں ہے وہ ہوش میں آ کر بھی ٹھیک نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کا یارم س کے پاس نہیں ہے

یارم تمہارا علاج ہو جائے آئی پرامیس جیسٹ ٹو ویکس ہم کوئی نہ کوئی حال نکال لیں گے میں سمجھ سکتی ہوں تم۔۔۔۔۔۔۔

تم نہیں سمجھ سکتی لیلیٰ۔میری روح میرے بغیر ٹھیک نہیں ہو سکتی ۔وہ کسی سے کچھ شئر نہیں کرے گی وہ اپنی ساری باتیں مجھے بتاتی ہے

لیکن وہ کسی بھی قسم کی ضد نہیں کر رہی یار م وہ بالکل پر سکون ہے اس نے ایک بار بھی تم سے بات کرنے کی تم سے ملنے کی یا تم میں دیکھنے کی ضد نہیں کی لیلیٰ پھر سے سمجھانے لگی

وہ میری روح ہے لیلی وہ میرے علاوہ کسی سے اپنے دل کی بات نہیں کرتی اپنی فرمائش اپنی باتیں وہ ساری ضد مجھ سے پوری کرواتی ہے

وہ تم میں سے کسی کو کچھ نہیں کہے گی کیونکہ اس کا یارم اس کے پاس نہیں ہے

تم نہیں سمجھ سکتی لیلی میری روح ٹھیک نہیں ہے

اسے ڈاکٹرز کی نہیں میری ضرورت ہے

اسے میرے پاس لے آؤ وہ اپنا غصہ دباتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا

ٹھیک ہے تم جو کہو گے میں کروں گی لیکن اس سے پہلے تمہیں میری بات مانی ہو گی تم دو ہفتے میرا مطلب ہے ایک ہفتے تک وہ کرو گے جو ڈاکٹر کہتا ہے

ہاں یارم تمہیں بس ایک ہفتے تک اپنا علاج صحیح طریقے سے کروانا ہوگا

ورنہ تم نہیں جا سکتے وہ اس کی سخت نظر سے گھبراتی وقت مزید کم کر گئی

تم میرے سامنے شرط رکھو گی مجھے بلیک میل کرو گی تو مجھے میری روح سے دور کرو گی اس کی بات پر یارم دہارا تھا

نہیں یارم میں تمہیں تمہاری روح سے دور نہیں کر رہی میں بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اگر تمہارا علاج ٹھیک سے نہ ہوا تھا تم ہم سے دور ہو جاؤ گے

میں تمہیں بلیک میل نہیں کرنا چاہتی لیکن میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے یہ تم شرط ہی سمجھ لو اگر تم نے ایک ہفتے تک اپنا علاج نہ کروایا اور میری بات نہیں مانی تو میں تمہیں روح کے پاس نہیں جانے دوگی

تم روک سکتی ہو مجھے اس کے لہجے میں عجیب سا طنز جو لیلی نے محسوس کیا تھا

میں نہیں روک سکتی لیکن یہ انجکشن روک سکتا ہے وہ اس کے قریب سے اٹھتے ہوئے اس کے بازو پر انجیکشن لگا چکی تھی

ایم سوری یارم پلیز مجھے معا ف کر دیناقسم سے مجھے تمہاری روح کے ماموں نے کہا تھا ایسا کرنے کے لئے ۔وہ کافی گھبرائی ہوئی اس سے دور فاصلے پر جاکر رکی تھی جبکہ یارم اسے وحشت زدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا

میں تمہاری اور اپنی روح کے ماموں کی جان لے لوں گا تم دونوں میرے ہاتھوں مروگے یاد رکھنا وہ غنودگی میں جاتے ہوئے اسے دھمکی دے رہا تھا

اور اس کے بے ہوش ہوتے ہی لیلیٰ کو سکون ملا

سوری یار میں جانتی ہوں وہ تمہارے لئے اہم ہے لیکن تم ہمارے لئے ہم ہو

ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا

اس کی اس حرکت کے بعد یارم ہوش میں آنے کے بعد کافی پرسکون تھا وہ اس کی شرط کو مان چکا تھا اور اس کی بلیک میلنگ میں بھی آ چکا تھا

اب وہ ایک ہفتے سے اپنا علاج صحیح طریقے سے کروا رہا تھا ۔جبکہ لیلیٰ روح کے پل پل کی خبر اس تک پہنچا رہی تھی

°°°°°°