Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 17)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 17)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
لیلی آج کل بہت زیادہ بے چین تھی
کل اس نے خضر کو اپنی بے چینی کی وجہ بتائی تو وہ ہنس کر ٹال گیا
لیلی تم آج کے زمانے کی لڑکی ہو کیسی باتوں پر یقین کرنے لگی ہو
خواب زندگی کا حصہ ہیں لیکن ان پر یقین کرنا صرف اور صرف بیوقوفی ہے
اور روح اور یارم سے میری کل ہی بات ہوئی ہے وہ دونوں بالکل ٹھیک ہیں تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
خضر نے اسے بے فکر رہنے کے لئے کہا تھا اس کا ٹینشن لینا اس کے لیے اچھا نہیں تھا اور خضر اسے یہی بات سمجھانا چاہتا تھا لیکن آج کل اس کے ذہن پر بس ایک ہی سوچ سوار تھی اور وہ سوچ تھی اس کے خواب
پچھلے کچھ دنوں سے اسے بہت عجیب و غریب خواب آ رہے تھے وہ آج کے زمانے کی لڑکی تھی ان سب چیزوں پر بالکل یقین نہیں کرتی تھی
وہ خود بھی ان سب چیزوں کو ہنس کر ٹال دیتی تھی لیکن ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اس نے یارم کے بارے میں برا خواب دیکھا تھا
سب کچھ اپنی جگہ ٹھیک تھا لیکن یارم کے بارے میں برا سوچتے ہوئے بھی اسے برا لگتا تھا اور یہاں وہ اای یارم کو خون میں لت پت بے حد زخمی درد سے تڑپتے ہوئے دیکھ چکی تھی
خضر نے تو اس کی کسی بات کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی لیکن لیلی کی پریشانی اپنی جگہ قائم تھی
۔وہ خود ایک بار یارم سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن خضر نے اسے منع کر دیا اس کا کہنا تھا کہ وہ روح کو باہر لے کر گیا ہے تو ایسے میں اسے کسی بھی قسم کی ٹینشن نہیں دینی چاہیے
اور خضر کا بھی یہی کہنا تھا کہ یارم ان سب باتوں پر یقین نہیں کرتا خوابوں خیالوں کو خوابوں خیالوں تک ہی رہنے دینا چاہیے انہیں اصل زندگی حصہ نہیں بنانا چاہیے
لیکن لیلی اپنے دل کا کیا کر دی
جو اس خواب کے بعد سے لے کر اب تک بے چینی کے زیرِ اثر تھا
°°°°°
یارم ہم وہاں سے اتنی جلدی کیوں آگئے ہمہیں وہی رہنا چاہیے تھا کتنی خوبصورت جگہ تھی وہ میرا تو واپس آنے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا
جانتا ہوں ڈارلنگ لیکن ہم صرف ایک ہی جگہ محدود ہو جانے کے لیے تو یہاں نہیں آئے ہمیں پورا سوئٹزرلینڈ گھومنا ہے اس کے لئے ہمیں وہاں سے نکلنا ہی تھا میں جانتا ہوں وہ جگہ بے حد حسین تھی اور تمہارا وہاں سے آنے کا بالکل دل نہیں کر رہا تھا
لیکن میرے خیال میں تمہیں پورے سویزرلینڈ کی خوبصورتی کو ایک نظر دیکھ لینا چاہیے
وہ اس علاقے میں صرف ایک رات کے لئے ہی گئے تھے لیکن روح کی ضد کی وجہ سے وہ تین دن وہاں رک کر آئے
اور اب بھی روح کا یہی کہنا تھا کہ اسے واپس نہیں آنا بلکہ اسی خوبصورت جگہ کا ہی ہو کر رہ جانا ہے
اس کا تو ارادہ تھا کہ وہ ہنی مون کے پندرہ کے پندرہ دن وہی پرگزارے گے لیکن یارم اسے زبردستی اپنے ساتھ واپس لے آیا
اور اب کل نہ جانے وہ اسے کہاں لے جانے کا پلان بنا رہا تھا
کیونکہ آج تو سنڈے تھا اور پورا سوئٹزرلینڈ چھوٹی پے تھا
آئسزلینڈ میں حد درجہ سردی ہونے کی وجہ سے روح نے تو کمرے سے نہ نکلنے کی قسم کھا رکھی تھی لیکن اس بار یارم نے ایسا نہیں ہونے دیا
وہ اسے جگہ کی خوبصورتی دکھانا چاہتا تھا اور وہ اسے اپنے ساتھ ہر جگہ لے کر جانا چاہتا تھا
لیکن اب روح کی آنکھوں میں اس جزیرے کی خوبصورتی کا نقشہ بن گیا تھا کسی بھی جگہ کو دیکھ کر وہ آرام سے کہہ سکتی تھی کہ یہ جگہ اس جزیرے سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے
لیکن اب یارم نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ کل صبح جہاں لے کر جائے گا وہ جگہ اس کی سوچ سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گی
اور اس جگہ کو سوچتے ہوئے روح کافی ایکسائٹڈ لگ رہی تھی
ہوٹل کے انتظامیہ نے آج ان کے ڈنر کا انتظام نیچے باہر کاٹن میں کیا تھا جہاں شام کی خوبصورتی اپنے پر پھیلائے ان کا انتظار کر رہی تھی
°°°°°°°
ہوٹل لوگوں سے بھرا ہوا تھا زیادہ تر یہاں ہنی مون کپلز ہی تھے ہر کوئی ایک دوسرے میں مگن تھا
جبکہ روح تو باری باری ان سب کپلز کو دیکھ رہی تھی
کوئی شک نہیں تھا کہ اس جگہ کی خوبصورتی نے ان کی زندگی کے ان مومنٹس کو اور خوبصورت بنا دیا تھا
ہائے روح یار کیسی ہو تم مجھ سے دوستی کرکے تم تو غائب ہی ہو گئی
دو تین بار تو میں نے ہوٹل کے مینیجر سے بھی پوچھا کہ یار روح نام کی ایک لڑکی ہے مجھے اس کے بارے میں بتا دیں ہماری دوستی ہوئی ہے
لیکن مینیجر نے بھی لاعلمی کا مظاہرہ کردیا
ویسے یہ کون تمہارے شوہر ہے کیا وہ بے تکلفی سے اس کے میز کے قریب سے چیئر گھستے ہوئے اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی جب اس نے یارم کی ناگوار نگاہوں کو خود پر دیکھا
اس کا اس طرح سے یو ان دونوں کے درمیان آ کر بیٹھنا یارم کو سخت ناگوار گزرا تھا
ہائے میرا نام خوشی ہے
اور میں تمہاری کی بیوی کی دوست ہوں
۔یار تو بہت ہی ہینڈسم ہو کیسے پٹایا تم نے اسے روح میرے ساتھ بھی شئیر کرو وہ شرارت سے کہتی روح کی طرف دیکھنے لگی
جب کہ اس کی بات نے روح کے گال تپا کر رکھ دیے تھے
او لگتا ہے تم نے نہیں اس نے تمہیں پٹا لیا ہے ہے نا وہ اس کی رنگ دیکھ کر کھلکھلاتی ہوئی یارم کو دیکھنے لگی اور اس کی آنکھوں کی ناگواری کو جان بوجھ کر نظر انداز کر گئی
ہم مسلمان ہیں مسں پٹانا نہیں بسانا جانتے ہیں ۔
بہت معذرت کے روح نے آپ کا ذکر نہیں کیا میرے سامنے اسی لئے میں نہیں جانتا کہ اس کی یہاں کوئی دوست ہے خیر آپ سے مل کر خوشی ہوئی
لیکن اس طرح کا آپ کا بنا اجازت ہمارے بیچ بیٹھنا مجھے بالکل اچھا نہیں لگا ہم بہت پرسنل باتیں کر رہے تھے
اس طرح کسی کپل کے پیچ بیٹھنے سے پہلے آپ کو ذرا سا خیال رکھنا چاہیے اور دوسری بات انجان لوگ مجھے تم نہیں آپ کہہ کر بلاتے ہیں
اور انجان لوگوں سے میں اس قدر گہرا رشتہ کبھی بناتا ہی نہیں کہ وہ آپ سے تم تک کا سفر طے کریں
آپ کی دوست اس وقت مصروف ہے آپ بعد میں بات کر لیجئے گا ۔وہ اتنے سخت لہجے میں بولا کہ کی روح شرمندگی سے سر جھکا گئی
لیکن اندر ہی اندر خوش تھی اس زبردستی کی دوست سے جان چھوٹ رہی تھی کیونکہ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ کسی سے یوں بات کرتی
اوکے مسٹر جیجو میں جارہی ہوں یہاں سے لگتا ہے کچھ زیادہ ہی پرسنل باتیں ہو رہی تھی ایم سوری مجھے اس طرح سے انٹر فیر نہیں کرنا چاہیے تھا
لیکن کیا ہے روح کو دیکھ کر میں ایکسائیڈ پر ہو کر یہاں آ کر بیٹھ گئی
ویسے میرا بوائے فرینڈ میرا ویٹ کر رہا ہوگا مجھے بھی چلنا چاہیے وہ کہتے ہوئے اٹھی اور پھر کے کان کے قریب جھکی
یار تمہارا ہسبنڈ تو بہت روڈ ہے میں تم سے بعد میں ملتی ہوں وہ اس کے گالوں کو لبوں سے چھوتے ہوئے وہاں سے چلی گئی جس پر یارم نے مٹھیاں بھیجیں
اس کی ہمت کیسے ہوئی تمہارا گال چومنے کی روح اگر آج کے بعد کسی نے بھی یہ حرکت کی نہ تو اسے جان سے مار ڈالوں گا
غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا
یارم کیا ہوگیا ہے آپ کو وہ لڑکی تھی اور لڑکیوں میں اتنا تو ہو ہی جاتا ہے
اس کے ضرورت سے زیادہ غصہ ہونے پر فوراً بولی
کبھی لیلی یا معصومہ سے ایسا ہوا ہے ۔۔۔۔۔!نہیں نہ ۔۔۔!وہ تمہاری دوست بھی ہیں لیکن انہوں نے کبھی ایسی حرکت کی جو یہ غیر زبردستی کی دوست آکر کر رہی ہے
کان کھول کر سن لو اور مجھے ان سب چیزوں سے نفرت ہے تمہارے گال میرے علاوہ اور کوئی نہیں چوم سکتا ۔
یہ حرکت صرف میں کر سکتا ہوں ۔تمہیں چھونے کی اجازت صرف میرے ہونٹوں کو ہے
وہ پھر سے سختی سے بولا تو روح اسے گھور کر رہ گئی
کیا یارم اب وہ میرا گال چوم رہی تھی تو میں منع تو نہیں کر سکتی تھی نہ روح نے وضاحت دینی چاہے
کیوں منع نہیں کر سکتی تھی تم ۔کیااتنا مشکل ہے منع کرنا
دیکھو روح جس چیز پر میرا حق ہے اس پر صرف میرا ہی حق ہے تمہیں اتنی سی بات سمجھ کیوں نہیں آتی ۔
کیوں لڑکی تمہارے اتنے قریب آئی
آئندہ اگر یہ لڑکی تمہارے اتنے پاس نظر آئی نہ تو بالکل اچھا نہیں ہوگا
یارم لڑکیاں کرتی ہیں ایسا وہ ایک لڑکی ہی تو تھی اور میں نے معصومہ اور لیلی کو بھی کبھی خود کے قریب آنے سے منع نہیں کیا روح نے پھر سے سمجھانا چاہا
وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ لڑکیوں میں یہ بات بہت عام سی ہے لیکن یارم تو اس کی کسی بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا
معصوم اور لیلیٰ بیوقوف نہیں ہیں جو میرے ہاتھوں مرنے کی خواہش کریں گی میں بہت واضح الفاظ میں ان بتا چکا ہوں کہ تمہیں چھونے کا حق صرف میرے پاس ہے اسی لیے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی ایسی حرکت کریں
یارم کا غصہ اب بھی کم نہیں ہوا تھا ویسے غصے کا یہ اثر تھا کہ وہ اس کے سامنے ایک بہت بڑا راز فاش کر چکا تھا
یارم اپ نے معصومہ اور لیلیٰ کو میرے قریب آنے سے منع کیا ہے اسی لئے وہ میرے پاس نہیں آتی مجھ سے جاتے ہوئے مل کر نہیں جاتی
یا اللہ یارم وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی یارم کی وضاحت پر لیلی ور معصومہ کا سوچتے ہوئے شرمندہ ہو کر رہ گئی
معصومہ اور لیلی اس سے ہر درجہ فری تھی لیکن کبھی بھی وہ اس کے قریب آ کر اس سے ملنے گلے میں ہاتھ ڈالنے یا گال چومنے تک قریب نہ آئیں ۔
اور وہ ہمیشہ سوچتی تھی کہ یہ عام لڑکیوں کی طرح اس سے مل کر کیوں نہیں جاتی
وہ کون ہوتی ہیں تمہارے بارے میں کچھ بھی سوچنے والی جوچیز مجھے نہیں پسند وہ نہیں پسند آج کے بعد احتیاط کرنا وہ سختی سے بولا تھا
جبکہ روح نے اپنا سر پکڑ تے ہوئے ایک نظر پیچھے ٹیبل کی جانب دیکھا جہاں وہی لڑکا اور خوشی بیٹھے ہوئے تھے اسے اپنی جانب دیکھتا پا کر خوشی نے ایکسائیڈ ہو کر اپنا ہاتھ ہلایا
روح فقط مسکرا کر چہرہ پھیر گئی اب وہ یارم کو مزید غصہ دلانے کا رسک بالکل نہیں لے سکتی تھی
°°°°°
اسے خوب سا تنگ کر کے وہ ابھی نہانے کے لیے گیا تھا
جب اس کے کمرے میں دستک ہوئی دروازہ کھولا تو سامنے خوشی مسکراتی ہوئی کھری تھی
روح نے فورا ایک نظر یارم کے واش روم کے بند دروازے کی جانب دیکھا تھا
ہائے روح کیسی ہو تم آئی ایم سوری مجھے پتا چلا کہ یہ تمہارا کمرہ ہے تو میں آگئی وہ دراصل مجھے تمہیں یہ دینا تھا
انویٹیشن کارڈ وہ ایک کارڈکی جانب بڑھاتے ہوئے بولی
تمہاری شادی ہو رہی ہے روح نے فورا کہا تھا اس کی غلطی نہیں تھی کارڈ کا شیب بھی ایساتھا
ارے نہیں بدھو میری شادی ابھی کہاں ہونے والی ہے یا کبھی ہونے والی ہے یا نہیں پتا کہ میں تمہیں دینے یہ آئی تھی آج رات نہ میرے بوائے فرینڈ کی بائیک ریس ہے
اور میں اسے چیئراپ کرنے کے لیے جا رہی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ تم اور تمھارا ہزبنڈ بھی چلو ویسے بھی آج سنڈے نائٹ ہے صبح ایک مصروف ترین دن ہوگا اسی لئے آج کوئی بھی جگہ اوپن نہیں ہے
جہاں تم جا سکوں کیونکہ یہاں کے لوگوں کا ایک اصول ہے وہ سنڈے کو چھٹی کرتے ہیں یہاں کوئی بھی انسان سنڈے کام نہیں کرتا
اسی لئے ہمارے سارے دوستوں نے یہ رئیس رکھی ہے بہت بری پلیٹ فارم پر یہ رئیس ہو رہی ہے
ویسے تو درک کبھی بھی ہارا نہیں ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس بار بھی وہی جیتے گا میں اسے چیئراپ کرنے کے لیے جا رہی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو
یقین کرو بہت مزا آئے گا
وہ اس کے دونوں ہاتھ تھامتی بول رہی تھی جب کہ روح کو تو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس لڑکی کو منع کیسے کرے
کیونکہ یہ لڑکی چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
دیکھو خوشی میں نہیں آسکتی یارم کو یہ سب کچھ پسند نہیں ہے اور بائیک ریسنگ میں مجھے بھی کوئی خاص انٹرسٹ نہیں ہے اور نہ ہی مجھے یہ سب کچھ سمجھ میں آتا ہے روح نے سمجھانے کی کوشش کی
تو یار میں ہوں نہ تمہارے ساتھ کیوں پریشان ہو رہی ہو میں تمیں سمجھا دوں گی پلیز چلو نا وہ کیا ہے نہ درک کو سپورٹ کرنے کے لیے بہت کم لوگ ہیں
صرف میں اور میرے چند دوست لیکن جس کے ساتھ درک کا مقابلہ ہے وہ بہت برا چیمپیئن ہے سب لوگوں سے سپورٹ کرنے والے ہیں اگر تم میرے ساتھ چلو گی تو میرے بوائے فرینڈ کو سپورٹ کرنے کے لیے دو لوگوں کا اضافہ ہو جائے گا
اس سے ہو سکتا ہے کہ اس میں اور ہمت آجائے اور وہ بہت اچھے سے کمپٹیشن میں پارٹیسپیٹ کر سکے
وہ منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی
لیکن روح کو انکار کرنا تھا کیونکہ یارم کو یقیناً یہ سب کچھ پسند نہیں تھا اور وہ اسے مزید غصہ نہیں دلانا چاہتی تھی پہلے بھی شام کی وجہ سے اس کا اچھا خاصا موڈ آف ہو گیا تھا
اس نے تو اسے لڑکی سے بات کرنے سے بھی منع کر دیا تھا اور اس لڑکی کو بھی واضح الفاظ میں بتایا تھا کہ اس کا اندازہ اسے پسند نہیں لیکن پھر بھی یہ لڑکی باز نہیں آ رہی تھی
تو تم چل رہی ہو نا اس نے پھر سے پوچھا
نہیں خوشی میرے لیے ممکن نہیں ہے پلیز
روح یار میرے لیے ابھی ابھی تو ہماری دوستی ہوئی ہے کیا تم اپنی نئی نئی دوست کے لئے اتنا نہیں کرسکتی وہ ایموشنل بلیک میلنگ پر اتر آئی
خوش مجھے اجازت مانگنی ہوگی اور یارم ۔۔۔۔۔
تم اتنی پیاری ہو تمہارا ہسبینڈ تمہیں اجازت دے دے گا مجھے یقین ہے اگر نہیں مانتے تو ذرا سے ضد کر لینا اس کے چہرے سے ہی لگتا ہے کہ کہ وہ تم سے بہت پیار کرتا ہے اور یقین تمھاری ساری باتیں بھی مانتا ہوگا پلیز یار میرے لیے
اچھا میں کوشش کرتی ہوں اس نے ٹالنا چاہا
کوشش نہیں وعدہ تمھیں مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا کہ تم آؤ گی اتنی آسانی سے میں جان نہیں چھوٹنے والی
دوستی کی ہے تو نبھانی تو پڑے گی تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا میں نے سنا ہے کہ مسلم کبھی اپنا وعدہ نہیں توڑتے
تمہیں بھی مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا تاکہ میں تم پر یقین کر سکوں
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی
روح کو ایسا لگا کے اس لڑکی کو یہاں سے بیچنے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے ہاں یہ تو سچ تھا کہ وہ یارم سے کوئی بھی بات منوا سکتی تھی
اسےبائیک ریسنگ میں اسے ذرا سی بھی دلچسپی نہیں تھی لیکن اس لڑکی کی خوشی کی خاطر اس نے حامی بھر لی تھی
اور اب یارم کو منانا ایک بہت ہی مشکل کام تھا
واش روم کا دروازہ کھلا تو خوشی نے مڑ کر اس کی جانب دیکھا جو بنا شرٹ تولیہ سے بال پہنچتا باہر آیا تھا
ہیلو مسٹر روڈ آپ روڈ کے ساتھ ساتھ ہاٹ بھی ہو وہ کھلے الفاظ میں تبصرہ کر گئی روح کی آنکھیں کھل گئی لیکن یارم نظرانداز کرتا آئینے کی جانب چلا گیا چہرے پر صاف ناگواری جھلک رہی تھی
ہاں ٹھیک ہے خوشی اب تمہیں یہاں سے جانا چاہیے اگلے ہی پل روحیں اس کی نظروں کے سامنے کھڑی ہوتی کہنے لگی
ہاہاہا تم کتنی جیلیس ہو رہی ہو یار میں تو صرف تمہارے ہسبینڈ کی تعریف کر رہی تھی وہ قہقہ لگاتی ہاتھ ہلاتی ایک بار پھر سے رہ کے قریب آئی لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کے گال کو چھوتی روح نے فورا اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کے آگے کرتے زبردستی اس کا ہاتھ تھام لیا تھا
اور پھر اسے کمرے کے باہر کرکے دروازے بند کر کے سانس لی
°°°°°°°
آپ کتنے بے شرم ہے ہے یارم کپڑے پہن کر نہیں آ سکتے تھے بہت زیادہ شوق نہیں ہیں آپ کو ان عورتوں کو یہ ننگا جسم دکھانے کی
وہ جلی بھونی اس کے قریب آئی تھی
سوری بےبی میں نہیں جانتا تھا کہ کمرے میں تمہارے علاوہ بھی کوئی موجود ہے آئندہ اپنی سہیلیوں کو اس وقت بلانا جب میں موجود نہ ہوں
وہ میری سہیلی نہیں زبردستی کی سہیلی ہے اور اس زبردستی کی سہیلی نے مجھ سے زبردستی کا وعدہ لے لیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ہم مسلمان اپنا وعدہ نبھاتے ہیں اسی لیے تیار رہیے گا
آج شام ہمیں یہاں جانے والے ہیں وہ کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی
روح میری کچھ اور پلیننگ ہے وہ کارڈ ٹیبل پر پھینکتے ہوئے اس کے قریب آیا
رہنے دیجئے اس پلیننگ کو وعدہ کیا ہے میں نے اور وہ ہندو لڑکی کہتی ہے کہ ہم مسلمان اپنے وعدے سے نہیں پھیرتے سو ہمیں جانا ہوگا
اور ویسے بھی وہ کہہ رہی تھی کہ آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں اور میری ساری باتیں مانتےہیں
روح مسکراتے ہوئے اس کے گلے میں بانہیں ڈالے لاڈ سے بولی
یہ بات تمہیں کسی اور نے کیوں بتائیں تمیں خود اندازہ ہونا چاہیے
اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے وہ آہستہ آہستہ اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے لبوں سے چھونے لگا
مجھے پتا ہے اسی لئے تو اس کی بات مان لی ۔وہ اس کے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے کہنے لگی ارادہ خود تیار ہونے کا تھا لیکن اس سے پہلے ہی یارم نے اسے پکڑ لیا
تم نے وعدہ کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھا نہیں اسی لئے قیمت تو چکانی ہوگی کیونکہ تم میرا پلان خراب کر رہی ہو وہ اسے باہوں میں اٹھائے بیڈ پر لایا۔
اور روح کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا ۔سوائے اس کی من مانیاں برداشت کرنے کے
°°°°°
