Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 57) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 57) Last Episode
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
آپ یوں مجھ سے دور جائیں گے تو مجھے بہت برا لگے گا درک بھائی وہ اس کے سینے سے لگی مسلسل رو رہی تھی
میں پری کا علاج کروانے جا رہا ہوں جلدی واپس آ جاؤں گا وہ اسے کسی قسم کا کوئی دلاسہ دینا نہیں چاہتا تھا لیکن مجبور تھا
مجھے آپ کی بہت یاد آئے گی وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی
مجھے یاد کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی زندگی کی طرف غور کرو میرے آنے سے پہلے بھی تمہاری زندگی بہت پیاری تھی ۔
یہ رونا دھونا بند کرو مجھے آنسو بالکل بھی اچھے نہیں لگتے وہ یہ نہیں کہ پایا تھا کہ اسے اس کی آنکھ سے بہتے آنسو اچھے نہیں لگ رہے
بس کرو روح آپی کتنا رو گی ۔
میں بھی تو اپنے رومی بے بی سے دور جا رہی ہوں کہ میری آنکھوں میں آنسو ہیں۔اسے دور کرتا درک وہاں سے باہر نکلا تو روح وہیں بیٹھ کر رونے لگی جبکہ اس کے رونے پر پری اس کے قریب آ کر کہنے لگی
اللہ تمہیں شفا دے پری اور تم ٹھیک ہو کر جلدی واپس آؤ اس کے گلے سے لگتی کہنے لگی
آمین چلونہ باہر چلو رومی کو بولو کہ مجھے کسی کرے میں کب سے منتیں کررہی ہوں بالکل میری بات نہیں مان رہا
اور تو اور مجھے کہتا ہے پرائی لڑکیوں کو کسی کرنا گناہ ہے وہ منہ بسور کر اس کی شکایت روح سے کرنے لگی ۔اس کے انداز پر روح کو ہنسی آئی
یار ہنسو نہیں بس ایک چھوٹی سی کسی ہی تو مانگ رہی ہوں۔اتنے نخرے تو کبھی تمہارے بھائی نے نہیں دکھائےجتنا تمہارا بیٹا دکھاتا ہے
اب مجھے کیا پتا میرا بھائی تمہیں کتنے نخرے دکھاتا ہے ۔تمہارے معاملے میں تو بالکل بیچارا ہی محسوس ہوتا ہے ۔روح نے ہنستے ہوئے کہاتو پری جھینپ گئی بے دھیانی میں وہ ہمیشہ ہی غلط الفاظ کا استعمال کرتی تھی
میرا وہ مطلب نہیں تھا اور اتنے بھی بیچارے نہیں ہیں وہ دیکھتی نہیں ہو کیسے ہر وقت ڈانٹتے رہتے ہیں مجھے
تم اگر وقت پر دوائیاں لے لو تو وہ تمھیں نہیں ڈانٹیں گےروح نے فورا اس کی سائیڈ لی
میں تو بھول گئی کہ میں تو درکشم صاحب کی چمچی سے بات کر رہی ہوں اس دن جب میں تمہارے گھر پہ تھی توتم نے فون کرکے بتایا تھا نا کہ میں نے میڈیسن نہیں لی تمہیں پتا ہے گھر آکر مجھے کتنا ڈانٹا انہوں نے ۔
یار تم فیل ہو تم جیسی نند نہیں چاہیے تھی مجھے چلو اب تمہی نصیب میں ہو تو تم ہی سہی چلونا باہر رومی سے کسی دلاوادوپلیز۔
اب تو میں اپنے رومی کو روز دیکھ بھی نہیں پاؤں گی۔وہ منتیں کر رہی تھی روح کوئی اس کی بات ماننی پڑی
°°°°
اس طرف بھی کسی دو پری نے اسے دیکھتے ہوئے اپنا دوسرا گال آگے گیا تو وہ اسے گھورنے لگا
ات ہی کشی تی دیل اوی تی (ایک ہی کسی کی ڈیل ہوئی تھی) وہ ماں کے ہاتھوں سے چوکلیٹ لیتے ہوئے بولا
روح نے بہت ساری منتیں کرنے کے بعد اسے لالچ دے کر پری کو کس کرنے پر منایا تھا
رویام کوئی بات نہیں مامی کو کس کر لو روح نے سمجھایا
خبردار جو مجھے مامی کہا گرل فرینڈ ہوں میں اس کی پری تڑپ کر بولی
یہ رشتہ دار یاں تم اپنے بھائی تک محدود رکھو میرے اور رویام کے بیچ میں جو رشتہ ہے اسے خراب کرنے کی ضرورت نہیں
وہ وارن کرتے ہوئے بولی روح نے فورا اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا
ویسے میری انفارمیشن کے مطابق اس کی کلاس میں بھی 1 ۔2 گرل فرینڈ ہیں روح نے بتایا تو پری اسے گھورنے لگی
ابھی اسے پلے کلاس میں جاتے ہوئے ایک مہینہ ہی ہوا تھا
کیا تم نے میرے علاوہ بھی کسی کو گرل فرینڈ بنا کے رکھا ہے وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگی
اں میلی کلاش می بت شالی گلزہے تو میلی پھریڈےے(ہاں میری کلاس میں بہت ساری گرلز ہیں جو میری فرینڈز ہیں )۔رویام نے فوراً معصومیت سے کہا
کیا یار وہ گرل فرینڈ تھوڑی نہ ہوئی ہو تو فرینڈز ہوئی وہ روح کو دیکھتے ہوئے خود کو دلاسہ دیتے انداز میں بولی
نی دب گل او اول پھریڈ او وہ گل پھریڈ اہ ہتی اے(نہیں جب گرل ہو اور فرینڈ بھی ہو وہ گرل فرینڈ ہی ہوتی ہے) رویام اس کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے بولا تو بہت چاہتے ہوئے بھی روح اپنی ہنسی نہ چھپا سکی
رویام تم صرف مجھ سے پیار کرتے ہو یاد رکھنا میں تمہاری گرل فرینڈ ہوں وہ اسے سمجھا رہی تھی
میں شرف اپلی ماما شے پیار ترتا ہوں(میں صرف اپنی ماما سے پیار کرتا ہوں )۔وہ بہت سوچ کر بولا
ارے میرے گولو ماما سے تو سب لوگ پیار کرتے ہیں لیکن میرا اور تمہارا رشتہ الگ ہے وہ اسے سمجھا رہی تھی جب کہ روح سے اپنی ہنسی کو کنٹرول نہیں ہورہی تھی
اس کا الگ ہے یہ تمہاری مامی ہوتی ہے اسے پیچھے سے درک کی آواز سنائی دی تو روح کے دل کو کچھ ہوا تھا آج پہلی بار اس نے خود کو روح کا بھائی تو نہیں کہا تھا لیکن پری کو رویام کی مامی کہہ کر اپنے رشتے کو قبول کر لیا تھا
پری پیر پٹک کر رہ گئی روح کے جذبات اس کی سوچ سے بہت دور تھے
جب ہم دونوں بڑے ہو جائیں گے نہ ہم دونوں شادی کریں گے درک کے وہاں موجود ہونے پر وہ بہت آہستہ آواز میں بولی تھی درک سفر کے لیےسامان پیک کر کے گاڑی میں رکھ رہا تھا۔تھوڑی ہی دیر میں وہ یہاں سے نکلنے والے تھے
لیتن مدے آپ شے سادی نی ترنی سادی تع می دانو تھائی سے تروں دا آپ اپلے کھلوش دیو تے پاش رہو (لیکن مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی شادی تو میں جانو سائئں سے کروں گا آپ اپنے کھڑوس دیو لے پاس رہو)وہ پہلے سے ہی فیصلہ کر کے بیٹھا تھا
روح اپنے بیٹے کو دیکھ کر عش عش کر اٹھی
گرل فرینڈ اس کی پری تھی پارٹ ٹائم گرل فرینڈز کلاس میں مل چکی تھی اور شادی اس نے جانو سائیں سے کرنی تھی ۔
یا رم اسے ٹھرکی کہتا تھا اور یہ غلط نہیں تھا ہاں لیکن یہ بات وہ یارم کے سامنے قبول نہیں کرتی تھی
°°°
آج کل شارف اپنے کام پر کم اور معصومہ پر زیادہ دھیان دے رہا تھا
آخر اپنے گھر میں آنے والے نئے بےبی کو ویلکم بھی کرنا تھا
ابھی تو بے بی کو آنے میں بہت وقت تھا لیکن شارف پھر بھی اس کا بہت خیال رکھتا تھا خضرا سے جوڑو کا غلام کہتا تھا لیکن شارف اس بات کو قبول نہیں کرتا تھا اس کا کہنا تھا کہ اگر بیوی کا خیال رکھنا جوڑو کا غلام بننا ہے
تو اسے اس بات میں کوئی اعتراض نہیں تھا ۔
جبکہ خضر بھی لیلیٰ کی ساری باتیں مانتا تھا اس کا خیال رکھتا تھا اور لیلیٰ کے سامنے تو اس کی چلتی بھی نہیں تھی
لیکن اس کے باوجود بھی شارف کی شرارتیں اور محبت بھری نیچر سب کے سامنے تھی جس کی وجہ سے آفس میں جوڑو کا غلام مشہور تھا
°°°°°
لیلیٰ ایک گھنٹہ پہلے ہی جاگ چکی تھی اور اس وقت وہ مہر کے بال بنانے میں مصروف تھی ان دونوں بہنوں میں بس یہی فرق تھا کہ ایک کے بال گھگھرلے اور دوسری کے بالکل سیدھے تھے مہر کے بال بناتے بناتے ایک گھنٹہ تو لگ ہی جاتا
اس لیے وہ اسے خضر کی غیر ماجودگی ایک گھنٹہ پہلے جگاتی تھی کیونکہ اگر خضر ہوتا تو اس کے لیے آسانی ہوجاتی
جب تک وہ اس کے بال بناتی ہے تب تک تو عنایت بالکل تیار بھی ہو جایا کرتی تھی جس دن خضر گھر پے ہوتا وہ زیادہ شور مچاتی توخضر خود بہت نرمی سے اس کے بال بنا دیتا
لیکن رات لیٹ آنے کی وجہ سے آج لیلیٰ نے اسے تنگ نہیں کیا تھا بلکہ خود ہی ایک گھنٹہ پہلے جاکر کام ختم کرنے لگی
اور اب وہ ان دونوں کو تیار کرکے خود ہی سکول چھوڑنے جانےوالی تھی۔
آج رات کووہ لوگ کسی اہم کام کے لیے جانے والے تھے واپسی بھی لیٹ ہی ہونی تھی اس لیے وہ چاہتی تھی کہ خضر ذرا آرام کر لے
پھر بعد میں اسی نے ہی یہ سب کچھ کرنا ہے
اب وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی تھی انہیں سمجھتی اور خود کو سمجھنے کا موقع دیتی خضر نے اس پر جو ستم کیا تھا اس کے بعد وہ اپنی بیٹیوں کو ذرا بھی نظرانداز نہیں کرتی تھی اور خضر کو یہ بات بے حد پسند تھی
اس حادثے کو یاد کر کے خضر کو آج بھی تکلیف ہوتی تھی لیلیٰ کی مارکا وہ درد یاد کرکے وہ آج بھی تڑپ اٹھتا لیکن اس کے بعد لیلیٰ اپنی بیٹیوں کے قریب آگئی تھی اور یہ ایک بہت اچھی بات تھی
اب وہ اپنے جذبات چھپاتی نہیں تھی بلکہ کھل کر اپنی بیٹیوں پر ظاہر کردیتی
°°°°°
آج وہ ایک بہت ہی اہم کام کے لئے جانے والا تھا آئینے کے سامنے کھڑا وہ اپنے بال بنا رہا تھا جب اچانک ہی دھیان آئینے میں بیڈ پر موجود رویام پر گیا جو اس کی پوری طرح سے نقل کر تا یقیناًاپنی ہی دھن میں تھا
یارم بالوں کی طرف ہاتھ لے کر جاتا تو وہ بھی بیڈ کر کھڑا اپنے ننھے سے ہاتھوں سے اپنے بال پیچھے کرنے لگتا
روح تو اتنا شور مچاتی تھی کہ اس کے بال کٹوائے لیکن وہ وہ تو اپنے بالوں کو ہاتھ نہیں لگانے دیتا تھا
یارم کب سے نوٹ کر رہا تھا وہ اس کی ایک ایک حرکت کی نقل اتار رہا ہے بے ساختہ ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی
اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ پورے بالوں میں گھماتے ہوئے بالوں کو جھٹکا دیا اور اسی کے انداز میں رویام نے بھی یہ حرکت کی تھی یارم نے اپریس والے انداز میں سر ہلایا
اور اپنے چہرے پر موجود داڑھی کو اپنے انگوٹھے سے سہایا
رویام نے اس کی نقل کرتے ہوئے سیم ٹو سیم یہی کام کیا تھا
یارم اپنے سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا انگلیاں چلاتا ہوا اسے بھی یہ کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا جب اچانک یارم نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو جیسے وہ چور چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا اگلے ہی لمحے وہ بیڈ پر بیٹھ چکا تھا
یہ کیا کر رہا تھا تووہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا جبکہ رویام انجان بن گیا
می تو کتھ نی تر را تا(میں تو کچھ نہیں کر رہاتھا) وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ دائیں بائیں لہراتا ہوا جواب دے کر اپنا ٹیڈی بیئر اٹھا چکا تھا مقصد کمرے سے بھاگ جانے کا تھا
کچھ نہیں کر رہا تھا کہ بچے میری نقل کر رہا تھا تو ۔۔یارم نے اسے پیچھے سے پکڑ کر واپس بیڈ پر رکھ دیا
ماما بتاو ماما بتاو( ماما بچاؤ ماما بچاؤ )رویام زمین سے واپس بیڈ تک پہنچنے تک یہی نعرہ لگاتا رہا
تجھے تو بیٹا میں بچاؤں گا یارم نےاسے بیڈ پر پھینک کر دروازے کیا قر اس کی طرف آیا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا اس نے دروازہ اندر سے لاک کیا
اب یارم میں تھا اور اس کا شکار
چل بیٹا اب میں تجھے بتاؤں گا میری نقل کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے یارم مسکراتا ہوا اس کی طرف بڑھا
یہ توکلٹ لیں اول مدے شول دیں(یہ چوکلیٹ لیں اور مجھے چھوڑ دیں)اس نے لالچ دیا
مجھے نہیں چاہیے میں تو تجھے ہی کھاؤں گا وہ کتنے اہم کام کے لئے گھر سے نکلنے والا تھا اس کے ذہن سے بالکل نکل چکا تھا اس وقت تو اسے رویام کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے تھے
می تلاو دا ماما آتر دانتے دی (میں چلا جاؤں گا ماما آ کر بہت ڈانٹے گی) وہ ڈرانے لگا
جب تک وہ آئے گی میں اپنا کام کر لوں گا وہ اچانک اسے پکڑ کر اپنے قریب کرتے ہوئے اس کے چھوٹے سے گال کو انتہائی جارحانہ انداز میں چومنے لگا
اور اس کے ساتھ ہی رویام کی چیخ اور پکار روح کے کانوں کا رستہ پہچان چکی تھی
روح کچن میں تھی جبکہ اسے کمرے سے تھوڑی تھوڑی آواز آ رہی تھی وہ رویام کو تیار کرکے کچن میں آئی تھی یارم اس وقت نہا رہا تھا۔روح نے سوچا کہ جب تک وہ اس کا ناشتہ بنائے گی تب تک وہ اس کے ساتھ رہے گا لیکن رویام نے وہیں پر یار م کا موبائل پکڑ لیا اور بیڈ پر لیٹ گیا لیکن اب تو اس کی دبی دبی آواز آ رہی تھی مطلب صاف تھا کہ وہ یارم کے شکنجے میں آ چکا ہے
یا اللہ میرا معصوم بچہ
وہ جلدی سے کمرے کی جان بھاگی جہاں پہلے ہی شونو بھونکنے میں مصروف تھا
مطلب دروازہ اندر سے لاک تھا آج تو اس کا بیٹا شاید ہی بچنا تھا
اندر سے کبھی اس کے کھکھلانے کی آواز آتی تو کبھی وہ روح کو پکار رہا ہوتا
وہ دروازہ کھٹکھٹا کر تھک چکی تھی لیکن شاید آج اس نے بچنا ہی نہیں تھا
لیکن آج رویا م رو نہیں رہا تھا بلکہ وہ یارم کا پورا پورا مقابلہ کر رہا تھا
وہ یارم کا ایک ہاتھ پکڑ کر اسے خود سے دور کرتا ہوا سیدھا کرکے اس کے اوپر بیٹھ گیا
می ارو ہو آپ بلین ہو میں اپلی رو تو لے داوں دا (میں ہیرو ہوں آپ ویلن ہیں وہ اپنی روح کو لے جاؤں گا )وہ اس کے دونوں ہاتھ پکڑتا مقابلےکی بھرپور کوشش کر رہا تھا بلکہ اس کے انداز پر یارم بہت مزے سے انجوائے کر رہا تھا
اور میں سب سے پہلے اس ویلن کو اٹھا کر لے جاؤں گا وہ اسے ایک بار پھر سے بیڈ پر پھینک تا ہوا داڑھی اس کی گردن پر چبونے لگا
لیتن ارو تو می ہونا(لیکن ہیرو تو میں ہوں نا) رویام نے بتایا جیسے مقصد اسے یہ بات سمجھانے کا ہو کے ہیرو جیتا ہے اور ویلن ہارتا ہے وہ اسے لے کر نہیں جا سکتا کیوں کہ ہیرو تو رویام ہے
تو ہیرو لڑکر جیت جائے یارم بے حد پیار سے کہتا ایک بارپھر اسے اپنے اوپر بٹھا چکا تھا
وہ یارم کے دونوں ہاتھوں پر جتنا زور ڈال سکتا تھا ڈال کر اسے بیڈ کے پاس لے گیا جس کا مطلب تھا کہ اب وہ جیت چکا ہے
اب وہ یارم کے پیٹ کے اوپر ہی ایسی ایسی اچھل کود کر رہا تھا اس کے بعد روح کو رویام کے بجائے یارم کی آواز سنائی دی
روح بچاو روح بچاؤ تمہارا بیٹا مجھے مار ڈالے گا باہر روح نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کچن کی طرف قدم بڑھائے جب اسے رویام کی آواز سنائی دی
توئی بتانے نی آئے دا روح شرف میلی اے (کوئی بچانے نہیں آئے گا روح صرف میری ہے) رویام بالکل ہیرو کی طرح پرفارم کر رہا تھا اس نے ایک نظر شونو کی جانب دیکھا اور پھر اسے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا ۔پتہ نہیں رویام اور یارم کی جنگ کب ختم ہوئی تھی
اب وہ ان کے چکر میں اور کتنی دیر بھوکی بیٹھتی
شونو بھی دونوں کو اگنور کرتا روح کے پیچھے پیچھے ہی آ گیا
°°°°
مجھے بچا لو ڈیول مجھے مار ڈالے گا اس نے خود فون کرکے مجھے کہا ہے کہ اگلی باری میری ہے صرف تم ہی مجھے بس بچا سکتے ہو وہ صارم کے سامنے ہاتھ جوڑرہا تھا
آپ فکر نہ کریں سر آپ کی ٹائٹ سیکیورٹی کا انتظام میں کر چکا ہوں ڈیول تو کیا یہاں کوئی نہیں آ سکتا آپ بے فکر ہو جائیں صارم نے یقین دلایا
کیسے بے فکر ہو جاؤں آفیسر ڈیول نے مجھے فون کیا ہے اور کہا ہے کہ اگلی باری میری ہے تو مجھے جان سے مار ڈالے گا پلیز مجھے بچا لو
میں مرنا نہیں چاہتا وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رہا تھاصارم بےحد اکتایا ہوا تھا پہلے نوجوان نسل کی تباہی کے لئے ڈرگز کا دھندا کرکے اس نے پوری یونیورسٹی میں لڑکوں کو برباد کر دیا تھا اور اب جب اس کی ٹیم کے ممبرز ڈیول کے ہاتھوں قتل ہو رہے تھے تو وہ اپنی جان کی بھیک آفیسر صارم سے مانگ رہا تھا
اپنے لیے ٹائٹ سکیورٹی کا انتظام کرنے کے باوجود بھی وہ بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا ڈیول نام کا سایہ اس کے سر پر منڈلا رہا تھا آج صبح ڈیول نے فون کرکے اسے خود کہا تھا کہ آج کی رات تمہاری زندگی کی آخری رات ہے
جتنی بری حالت میں باقی کی لاشیں ملی تھیں اسے یقین تھا وہ بھی زندہ نہیں بچے گا
اور موت بھی ایسی موت ہوگی کہ زمانہ یاد کرے گا
سر میں نے آپ کو بتایا نہ کہ میں آپ کی سکیورٹی کا انتظام کر چکا ہوں یہ آفیسرز 24 گھنٹے آپ کے ساتھ رہیں گے آپ کافی رات ہو چکی ہے مجھے چلنا چاہیے
صارم نے کہا تو آدمی اور زیادہ خوفزدہ ہوگیا
نہیں تم مت جاو مجھے تم پر بھروسہ ہے اور کسی مت روکو لیکن تم مت جاؤ مجھے یقین ہے تم مجھے بچا لو گے وہ منتیں کر رہا تھا صارم کو اچھا خاصا غصہ چڑھ گیا
ابے اوئے غلطیاں تو کرے اور رات ساری یہاں سولی پر میں چڑا رہوں میرا مطلب ہے سر میری ڈیوٹی اوور ختم ہوچکے ہیں اب میں یہاں نہیں رک سکتا وہ اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے اسے سمجھانے والے انداز میں بولا وہ اس وقت اتنا زیادہ ڈرا ہوا تھا کہ صارم کے بدتمیزانہ لہجے کو بھی اگنورکرگیا
میں چلتا ہوں میرےآفیسر آپ کے ساتھ رہیں گے یہ آپ کے سیکیورٹی کا خاص خیال رکھیں گے خدا حافظ اس سے پہلے کہ وہ اسے روکتا صارم وہاں سے نکل کر باہر آ گیا
تم لوگ یہیں پر رکنا تمہاری چائے پانی کا انتظام کر دیا ہے میں نے بالکل بھی کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے یہی باہر رہنا اس آدمی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے وہ ان دونوں کو آرڈر کرتا باہر نکل کر اپنا فون نکال چکا تھا
فون لگتے ہی وہ شروع ہوگیا
دیکھو یارم جس کو کاٹنا ہے کاٹو جس کو مارنا ہے مارو لیکن اللہ کے واسطے پہلے وارننگ مت دیا کرو یارہم لوگ پھنس جاتے ہیں کیا چپکو آدمی میرے پیچھے لگا دیا ہے جان ہی نہیں چھوڑ رہا تھا ڈیول مجھے مار ڈالے گا ڈیول مجھے مار ڈالے گا دماغ خراب کر رکھا ہے اس آدمی نے یہ کون سا طریقہ نکالا ہے تم نے بدلہ لینے کا
وہ کافی بیزار سے انداز میں بولا
یہ میرا سٹائل ہے سارا میں جسے مارتا ہوں اسے پہلے ہی بتا دیتا ہوں کہ اس کی موت قریب ہے تاکہ وہ اپنی آخری سانسیں لینے کے لئے تیار ہوجائے ۔وہ اپنے آفس میں بیٹھا ہوں لیکن انداز میں بولا
اچھا اسے کتنے بجے ٹپکنے کا ارادہ رکھا ہے تم نے صارم اس کے وفادار ساتھی کی طرح پوچھنے لگا
رات پونے دو بجے ۔یارم نے ایمانداری سے وقت بتایا کیونکہ وہ جانتا تھا صارم اسے بچانے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کر لیکن ڈیول کے ہاتھوں جسے مرنا ہے اسے مرنا ہے
اچھا ٹھیک ہے میں ڈیڑھ بجے ہیں کیمرے بند کروا دوں گا ۔جن سیکیورٹی گارڈز کو میں نے وہاں پر رکھا ہے
میرا ایک آدمی ان کو ڈیوٹی اوورز میں چیزیں فراہم کرے گااور اس میں بے ہوشگی کی دوائی ڈال دے گا لیکن یہ آدمی بچنا نہیں چاہیے ڈیول اس نے میرا جینا حرام کر رکھا ہے ۔صارم نے اسے پورا پلان بتایا تو یارم نے آئی برواچکائی
یہ میں کس سے بات کر رہا ہوں ایماندار آفیسر صارم سے یا یہ کوئی اور ہے اس کا انداز صاف مذاق اڑانے والا تھا
یارم پلیز یار اس وقت میں یہ ساری باتیں کرنے کی بالکل موڈ میں نہیں ہوں اس آدمی کو مر ہی جانا چاہیے پوری یونیورسٹی کے لڑکوں کو تباہ کر دیا ہے اس نے اور اب ہم سے یہ سکیورٹی چاہتا ہے اس سے زیادہ اہم کام ہے مجھے لیکن اوپر سے آرڈر اس کی سکیورٹی کے آرہے ہیں
تم اسے راستے سے ہٹاو تاکہ میں سکون سے اپنا کام کر سکوں ۔بے فکر ہو کے آنا یہاں تو میں کوئی خطرہ نہیں ہو گا صارم نے یقین دلایا
انسپکٹر صارم خان تم چاہے اپنا سارا زور بھی لگا دو تب بھی مجھے کہیں پر کوئی خطرہ نہیں لیکن تمہارا کام ہو جائے گا فکر مت کرو وہ اسے یقین دلایاکر فون بند کر چکا تھا صارم نے سکون کا سانس لیا
یقینا اس بندے سے اس کی جان چھوٹ ہیجانی تھی
ابے سالے میں تجھے سیکیورٹی دونگا میں تجھے خود اپنے ہاتھوں سے مار دوں لیکن میرا فرض اس چیز کی اجازت نہیں دیتا اسی لیے تو اللہ نےتم جیسے لوگوں کے لیے ڈیول جیسے لوگ بنائے ہیں تاکہ وہ تم لوگوں کے کالے کارناموں کے انعام میں تمہیں تمہارے عبرت ناک انجام تک پہنچائیں
ایک وقت تھا جب صارم اس کے کام کے خلاف تھا لیکن اب وقت ایسا آ گیا تھا کہ وہ اس کے کام کو سمجھ چکا تھا جو کام صارم وردی پہن کر نہیں کر سکتا تھا یا ر وہ بنا کسی پاور کے کرتا تھا ۔
اور سچ یہی تھا اس دنیا کو صارم جیسے ہاتھ باندھے آفیسرز کی نہیں بلکہ یارم سے آزاد ڈیول کی ضرورت تھی
°°°°°
رات ڈھائی بجے کا وقت تھا جب اس نے گھر میں قدم رکھا
اپنے کمرے میں جانے کے بجائے وہ دوسرے کمرے میں آیا ۔اور اپنے کپڑے بدل کر ریلکس ہوا ۔
اپنے خون آلودہ کپڑوں کو اس میں باہر لان میں موجود چھوٹے سے ڈبے پھینک کر آگ لگائی ۔اورآگ کے راگ بننے تک وہیں رہا
جب اسے پوری طرح سے یقین ہوگیا کہ اب کوئی ثبوت نہیں بچا وہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے لان کی طرف نکلنے والے دروازے کو بند کیا
اور سیدھا اپنے کمرے میں آگیا
روح بے حدنرمی سے رویام کو اپنے ساتھ لگائے سو رہی تھی جب کہ اسی کے انداز میں رویام اپنے ٹیڈی کو اپنے ساتھ لگائے گہری نیند میں تھا ۔
اس کے رویام کے ننھے سے وجود پر بہت پیار آیا پیار تو خیر اسے روح پر بھی بہت آیا تھا لیکن رویام کے اتنے پاس ہوتے ہوئے وہ روح پر اپنا پیار ظاہر نہیں کر سکتا تھا
آج اس کیس کا آخری گناہ گار بھی وہ موت کے گھاٹ اتار آیا تھا ۔اب وہ اپکچھ دن کا ریسٹ لے اگلے کیس کی جانب بھرنے والا تھا
لیکن اس کے لیے پہلے کی تھکن اتار نہ رو رہی تھی
وہ کتنی دیر کھڑا ان دونوں کو دیکھتا رہا کتنی حسین اور مکمل زندگی تھی اس کی ۔مصیبتیں آئیں تھیں لیکن ثابت قدم رہنے پر اللہ نے شاید ان کے امتحانات میں کمی کردی
وہ آہستہ سے بیڈ کے قریب آتے ہوئے روح کا ہاتھ رویام کے اوپر سے ہٹاتا اسے نرمی سے اٹھا کر بےبی کاٹ میں رکھا
میرا بچہ ہر وقت ماما سے چپکنا نہیں چاہئے تھوڑا موقع بابا کو بھی دینا چاہیے آخر بابا کا بھی حق ہے نہ تیری ماں پے وہ نرمی سے اس کا ماتھا چومتا اس کے بال پیچھے کرنے لگا جویارم سے ضد لگانے کے چکر میں کافی لمبے ہو گئے تھے
اگر وہ اس وقت جاگ رہا ہوتا تو روح سے ڈائریکٹ پوچھتا ماما آپ صرف میری ہونا اور وہ اس کی محبت میں کہتی میں صرف رویام کی ہوں
وہ اپنے بیٹے سے شرط نہیں لگاتا تھا ہاں لیکن اس بات پر جلن تو ہوتی تھی
وہ ہمیشہ سے روح پر صرف اپنا حق سمجھتا آیا تھا اسے کسی کے ساتھ بانٹنےکا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا ۔
لیکن اب اسے رویام کے وجود کی عادت ہو گئی تھی اور یہاں سے کمپرومائز کرنا پڑ گیا تھا ۔وہ اسے چھوڑ کر بیڈ پر آنے لگا تو وہاں رویام کی جگہ رویام کے ٹیڈی صاحب کو لیٹے دیکھا
اپنی بیوی کے پاس تو میں تیرے مالک کو بھی نہ آنے دوں سالے۔وہ ڈیڈی سے کہتا اسے رویام کے پاس لے جانے لگا
نہیں تو میرے بیٹے کے پاس بھی نہیں رہ سکتا ہم تینوں میں کسی چوتھے کی جگہ نہیں ہے ۔وہ اسے ہوا میں کک کرتا ایک بار پھر سے رویام کو دیکھنے لگا
ہاں اسے پسند نہیں تھا اس کا بیٹا ہر کسی کی طرف متوجہ ہوں ۔یا ہر کسی سے پیار کرے
۔ان دونوں کے معاملے میں وہ تھوڑا سا مطلب تھا وہ نہیں چاہتا تھا رویام روح کو اس سے زیادہ چاہے اور روح رویام کو اس سے زیادہ محبت کرے
لیکن جانتا تھا وہ تینوں ایک دوسرے کے لیے بے حد اہم ہے ۔وہ تینوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے
رویام کا ماتھا چوم کر اس نے آہستہ سے اس کا سر تک یہ ٹھیک کیا۔
چل میرا پتر اب تو چھٹی کر ۔وہ بے حد محبت سے اس کے اوپر چادر اڑاتا روح کی جانب آ گیا ۔
روح کو اپنے بے حد قریب کیے اور اس کی گردن پر لب رکھتا اس کی خوشبو اپنے سینے میں اتارنے لگا
یارم۔اس کی جسارت بھرتی محسوس کرکے روح نے اسے خود سے دور کرنا چاہا
روح میں بہت تھک گیا ہوں اس وقت کوئی نخرا نہیں وہ اس کا ہاتھ چومتا اس کے چہرے پر جھک گیا تھا
جبکہ روح جو اپنی نیند خراب ہونے پر اسے ناراضگی سے خود سے دور کرنے لگی تھی اس کی تھکن زدہ آواز سنتے ہوئے اس کے گرد اپنی باہوں کے حصار تنگ کیا ۔
یارم اس کے پور پور پر اپنی محبت کی چھاپ چھوڑتا اسے خود میں سمیٹنے لگا ۔روح لبوں پر خوبصورت سے مسکراہٹ لئے اس کی جسارتوں کو محسوس کر رہی تھی
زندگی خوبصورت تھی اور شاید یہ خوبصورت زندگی یوں ہی آہستہ آہستہ گزر جانی تھی ایک دوسرے کی باہوں میں ایک دوسرے کی فکر کرتے ہوئے ۔
روح اور یارم کی زندگی کا سفر ہے روحِ یارم بن کر ان دونوں کی زندگی کو بے حد خوبصورت بنا گیا تھا لیکن رویام کی آمد نے انہیں عشق کا مطلب سمجھ آیا۔وہ دونوں اس کا عشق تھے عشقِ یارم تھے ۔اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے میں روح نے کبھی یارم کی محبت کو کم ہوتے نہیں محسوس کیا تھا یہ محبت پہلے دن سے بڑھتی چلی جارہی تھی ۔
اور شاید یہ محبت ایسے ہی بڑھتی چلی جانی تھی بناروکے
اسے دیکھتے ہی روح اس سے محبت کر بیٹھی تھی ۔وہ کوئی عام مرد نہیں تھا ۔وہ یارم کاظمی تھا ایک دنیا مرتی تھی اس پر اور وہ اس پر مر مٹا وہ کہاں جانتی تھی ۔ایک عام سی لڑکی روح یارم بن جائے گی ۔
فاطمہ بی کہتی تھی کہ اس کی زندگی میں ایک شہزادہ آئے گا اور یارم سچ میں ایک شہزادہ تھا ۔ضروری نہیں انسان صرف شکل و صورت سے شہزادہ بنے اس کا کردار بھی اسے شہزادہ بنا دیتا ہے یارم ایک مضبوط کردار کا انسان تھا روح کو اس کی شکل و صورت سے نہیں بلکہ اسکے کردار سے محبت تھی ۔
ہمارا کردار ہی ہمیں صحیح اور غلط کا فرق سمجھ آتا ہے اللہ ہم سب کے کردار مضبوط رکھے اور ہمیشہ صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
°°°°°
