Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 44)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 44)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
کیا مطلب ہے تمہارا لیلیٰ تم ہمیں اتنا مارپیٹ کر بیٹھنے کے بھی قابل نہ چھوڑ کر بچیوں کو لینے بھی نہیں چلو گی ۔۔۔۔؟
شارف جو کرسی پر بیٹھنے کی کوشش کر رہا تھا چیخ کر اٹھا اور پھر اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے پوچھنے لگا
میں تم لوگوں کے ساتھ نہیں جاؤں گی اور نہ ہی تم لوگ کہیں جا سکتے ہو یارم کے آرڈر ملنے سے پہلے اور میری وہاں نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ یارم نے مجھے منع کیا ہے اس نے کہا ہے کہ تم لوگوں نے بیوقوفی کا کام کرنے کے باوجود بھی ان دونوں کو ایک جگہ سیو جگہ پہنچا کر اچھا کام کیا ہے
اس لیے فی الحال ان دونوں کو وہی پر رہنے دو جہاں وہ دونوں سیو ہیں اور باقی جو تم نے ہم سے یہ بات چھپائی ہے اس کی سزا میں نے تم لوگوں کو دی ہے
مطلب کے ہم نے جو کام کیا وہ بالکل ٹھیک تھا تو سزا کس بات کی صارم بولا ۔کیوں کے اسے بھی یہی لگتا تھا کہ اس نے جو کیا ہے وہ بالکل غلط ہے
اوور اسماٹ بنے کی ۔لیلیٰ نے جواب دیا
اور خضر تو صرف اور صرف اپنی بچیوں کی حفاظت کرنا چاہتا تھا اور ایک باپ ہونے کے ناطے جو کچھ کرسکتا تھا اس نے کیا اور اس نے جو بھی کیا تھا اس میں کچھ بھی غلط نہیں تھا ۔
تو انہیں بے کار میں اتنی سزا کیوں ملی یارم نے انہیں اس خونی شیرنی کے آگے کیوں پھینک دیا لیلیٰ نے تو انہیں بیٹھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا اتنے اچھے سے ڈنڈے مارے تھے کہ وہ بیٹھتے ہوئے بھی تکلیف محسوس کر رہے تھے ۔
اور اب انہیں یہ پتہ چل رہا تھا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ بالکل صحیح تھا
کیونکہ تم لوگوں نے اتنی بڑی بات ہم سے چھپائی ۔ٹھیک ہے معاملہ ہماری بچیوں کا تھا تم یارم سے چھپا لیتے اسے کچھ بھی نہ بتاتے لیکن مجھے بیچ میں شامل نہ کر کے تم نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے اگر تم ایک باپ ہونے کے ناطے ان بچیوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر سکتے ہو تو ایک ماں ہونے کے ناطے مجھے بھی جاننے کا حق تھا
تمہیں بس میں نے اس بات کی سزا دی ہے اور ان دونوں کو سزا ان کے مشورے اور ساتھ دینے کی وجہ سے ملی ہے اگر تم چاہتے تو حقیقت مجھے بتا سکتے تھے اپنی پلاننگ میں مجھے شامل کر سکتے تھے لیکن تم نے ایسا نہیں کیا
ان کا جو انجام ہونا چاہیے تھا میں نے وہی کیا
فلحال کے لیے مہر اور عنایت کو وہیں رہنے دو جہاں پر وہ ہیں
اور اس کے علاوہ ایک اور بات صارم تم پچھلے دو ہفتے سے ہر جگہ ان لوگوں کو ڈھونڈ رہے تھے جو خضر کو بلیک میل کر رہے تھے لیکن یار م نے دو ہی دن میں ان لوگوں کو نہ صرف ڈھونڈ نکالا بلکہ ساری انفارمیشن نکالتے ہوئے ان کے اڈے تک جا پہنچا تو اسی بات سے اندازہ لگا لو کہ یارم کی طاقت تم سے زیادہ ہے
تم اپنا دماغ فضول میں استعمال نہ کیا کرو
تمہارا قانون ہماری کبھی کوئی مدد نہیں کر سکا الٹا یہ ہماری مدد لیتا آیا ہے ۔اگر تم اپنا دماغ لڑانے کے بجائے یارم کو ساری حقیقت بتا دیتے تو یقین کرو اب تک ہم ان لوگوں کو ان کے انجام تک پہنچا چکے ہوتے اور مہر اورعنایت ہمارے پاس ہوتیں۔
اور باقی شارف ایک بات یاد رکھنا چاہے جو بھی ہو جائے تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا اگر تم نے آئندہ اس کا ساتھ دیا نہ تو تمہارا انجام اس سے بھی زیادہ برا ہوگا
آج تم بے شک بیٹھنے کے قابل نہیں رہے لیکن اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہواگر آئندہ تم نے ایسی غلطی کی تو شاید تم اپنے پیروں پر کھڑے بھی نہ ہوسکو وہ اسے دھمکی دیتے ہوئے بولی وہ ان کے آگے پیچھے چلتی مسلسل اپنے جوتوں کی ٹک ٹک سے انہیں پوری بات بہت اچھے طریقے سے سمجھا چکی تھی
لیلیٰ سے کہیں زیادہ تو اس حال میں اس کے جوتوں کی آواز گونج رہی تھی ۔
اب تم گھر چلو گے یا تمہارا یہی رکنے کا ارادہ ہے لیلیٰ نے خضرکی طرف دیکھتے ہوئے کہا
وہ جانتی تھی کہ وہ ان کرسیوں پر کتنی بے چینی سے بیٹھے ہوئے ہیں اسی لیے طنزیہ مسکرائی
فکر مت کرو خضر میں تمہیں گھر تک آرام سے لے جاؤں گی آخر تم میرے بچوں کے باپ ہو اتنا تو کرہی سکتی ہو میں تمہارے لیے
اور ہاں شارف معصومہ یہیں باہر ہے وہ تمھیں گھر لے جائے گی اور مسٹر انسپکٹر صاحب گریٹ بیوقوف صارم تم اپنی بیوی کو بلا لو یا اپنے کسی آفسر کو ہی بلا کر چلے جاؤ
کیونکہ تم گاڑی میں بیٹھ کر نہیں بلکہ بیک سیٹ پر لیٹ کر جاؤ گے ۔
میں دعا کروں گی کہ تم لوگوں کی رات اچھی گزرے اس نے ایک نظر سائیڈ پر پڑے لکڑیوں کے ڈھیر پر ڈالی تھی ۔
شہتوت کے درخت کی بنی سٹکس تقریبا ایک درجن تو ہونگی ۔جس کو لیلیٰ نے بہت سہولت سے استعمال کیا تھا
خضرنے اٹھتے ہوئے لیلیٰ کے کندھوں کا سہارا لیا کیونکہ اس سے چلا تک نہیں جا رہا تھا لیلیٰ کو ہنسی تو بہت آئی ۔
لیکن اب اسے اس پر ترس دیا ۔
وہ جانتی تھی کہ خضر نے جو بھی کیا ہے اپنی بچیوں کی زندگی بچانے کے لئے کیا ہے لیکن اسے اس سے چھپانے کا کوئی حق نہیں تھا اگر وہ باپ تھا اپنے بچوں کا بلا سوچ رہا تھا تو وہ بھی ماں تھی جس کا پورا حق ہے اس کی بیٹیوں کی زندگی خطرے میں ہے
حضرکو یارم کو لے کر دھمکیاں دی جارہی تھی حضر نے اس سے اتنی بڑی بات چھپائی ۔
لیکن شارف اور صارم ساری بات جانتے تھے مطلب کہ وہ خضر کے لئے اس سے زیادہ قابل یقین تھے ۔اس بات کے لئے حضر کو سزا تو ملنا بنتی ہی تھی ۔جولیلٰی نے دے کر اپنا فرض پورا کیا تھا
°°°°°
ڈاکٹر حسن رویام کا مکمل چیک کرنے کے بعد رپورٹ چیک کرنے چلا گیا . لیکن جانے سے پہلے اس نے رویام کو انجیکشن دینے کا آرڈر نرس کو دیا
آپ پلیز میرے بیٹے کے سامنے انجیکشن تیار نہ کریں وہ انجکشن سے ڈرتا ہے روح نے فکرمندی سے بتایا تونرس مسکرائی
اوکے میم میں دوسری طرف جا کے کرتی ہوں ۔
پیارے بے بی کو ڈر لگتا ہے وہ رویام سے بہت پیار سے بولی تھی روح تو اس نرس کا انداز بالکل اچھا نہ لگا کبھی وہ یارم کو گھور گھور کر دیکھتی تو کبھی مسکرا مسکرا کر یارم کے پاس جانے کی کوشش کرتی
اور اب وہ رویام کے پیچھے پڑ گئی تھی
ٹھرکی نرس کہیں کی روح بڑ برائی اور اس کی یہ بڑبراہٹ یارم نے بہت غور سے سنی تھی
ٹھر کی وہ بیچاری نہیں بلکہ تمہارا بیٹا ہے دیکھ نہیں رہی کب سے اسے گھور کر لائن دے رہا ہےیارم نے فورا اس کی بات کا جواب دیا
خبردار خو میرے بیٹے کے خلاف ایک لفظ بھی کہا ۔وہ آپ کو گھور کر دیکھ رہی تھی روح نے اسے بتایا تو وہ مسکرایا
کیا بات کر رہی ہو مطلب تمہارے بیٹے کے ہونے کے باوجود کوئی مجھے دیکھ رہا تھا لگتا ہے نرس کی نظر خراب ہے ۔روح یارم سے کہتی تھی کہ اس کا بیٹا یارم سے زیادہ پیارا ہےتو لگے ہاتھ یارم نے اس بات کا بھی بدلہ لے لیا
مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے ورنہ آپ میں دیکھنے لائق ہے ہی کیا روح کہاں پیچھے ہٹنے والی تھی
واہ بیوی اپنی ٹھر کی اولاد کو کچھ مت کہنا۔ہنس ہنس کے تمہارا بیٹا اسے اپنی طرف متوجہ کرے اور الزام تم میرے سر ڈال دو ۔
رویام بیٹا بتا اسے کہ جب تو پیدا ہوا تیری نرس کے ساتھ سیٹنگ کرنے کی کتنی کوشش کی تھی تیرے باپ نے وہ تو نہ جانے کہاں چلی گئی لیکن اس کے ساتھ ہی سیٹنگ کروا سکتا ہوں تیری یہ مسکان بتا رہی ہے کہ تجھے بہت پسند آ گئی ہے وہ کیا خیال ہے شادی کرا دوں تیری اس کے ساتھ وہ رویام کو دیکھتے ہوئے ہنستے ہوئے بولا
جب کہ بخار کی شدت میں تپتے ہوئے رویام نے فورانہ میں سر ہلایا تھا
مطلب کے یہ بھی نہیں پسند پھر کس سے شادی کرے گا یارم نے ہنستے ہوئے کہا روح تو اسے گھور کر رہے گی
خدا کو مانے یار م رویام صرف ڈھائی سال کا ہے اتنی لمبی سوچیں نہیں ہیں میرے بیٹے کی ایک شریف معصوم سے بچے کے لیے ایسا کون سا باپ کہتا ہے
میں۔۔اس کے انداز پر یار م نے ہنستے ہوئے کہا
نہ جانے اس نے کس بات پر نامیں سر ہلایا تھا اور یارم پتہ نہیں اسے کس انداز میں لے گیا اور خود ان دونوں باپ بیٹے کی باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھی
میں سچ کہتا ہوں تو ایک بار نام تو لے کے تیری شادی کس کے ساتھ کرنی ہے میں اسے فوراً اپنی بہو بنا کے لے آؤں گا اور اگر تو اس کو پٹانا سکا تو تیرا باپ بہت ہینڈسم ہے کوئی نہ کوئی جھگاڑکر ہی لے گا تیرے لیے بس تو بتا کہ تجھے شادی کس سے کرنی ہے وہ بھر پور شرارتی انداز میں بولا
دانو تھائی شے (جانوسائیں سے)۔یارم کی بات مکمل ہونے پر رویام نے فورا جواب دیا کہ یارم اور روح دونوں ہی اسے حیرانی سے دیکھنے لگے
رویام کی یاداشت بہت تیز تھی یہ دو ماہ پہلے کی بات ہے جب حورم مقدم شاہ ان کے گھر میں آکر رکی اور رویام تو اس پر پوری طرح سے فدا ہو گیا تھا اسے رویام کا پہلا کرش کہا جائے تو یہ غلط نہیں تھا ۔
جو خود رویام پر پوری طرح سے فدا ہو گئی تھی اگر وہ شادی شدہ نہ ہوتی تو رویام کبھی اسے جانے نہ دیتا
اگر اس کا ٹانکا دائم شاہ کے ساتھ فٹ نہ ہوتا تو پکا میں تیری شادی اس کے ساتھ کروا دیتا یارم کے انداز پر روح نے اسے گھور کر دیکھا
وہ ڈھائی سال کا ہے ایسی سوچیں نہیں ہیں میرے معصوم شریف سے بچے کی روح نے اس کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا
روح بے۔ بی تمہارا بیٹا کتنی پہنچی ہوئی چیز ہے تمہیں بالکل اندازہ نہیں ہے
تم نے دیکھا نہیں کہ اس نرس کو کیسے دیکھ رہا تھا اور باربار مسکرا مسکرا ڈمپل شو کرتا تھا اس کا ارادہ اسے جانے دینے کا نہیں تھا وہ تو بےچاری شادی شدہ نکلی اس کا شوہر اسے لینے آ گیا ورنہ آج وہ ہماری بہو ہوتی
یارم ابھی بھی ہنستے ہوئے روح کو چھیڑنے لگا
جب نرس کمرے میں داخل ہوئی
آئی ایم سوری میں ذرا لیٹ ہوگئی مجھے ڈاکٹر نے بلایا تھا آپ کے بیٹے کی رپورٹس آ چکی ہیں لیکن ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ تفصیل سے چیک کرنا چاہتے ہیں اسی لیے آپ لوگوں کو رپورٹ کل ہی ملیں گی تو تب تک کیوں نہ ہم رویام کو انجیکشن لگا لے
مسکراتے ہوئے وہ رویام کے سامنے آکر بیٹھی تھی تو رویام نے مسکرا کرڈمپل کی نمائش کی
ماشاءاللہ بہت پیارا بچہ ہے آپ کا وہ رویام کی تعریف کرتے ہوئے انجکشن لگانے لگی
یارم نے بہت نرمی سے رویام کے دونوں بازو تھام لئے تاکہ وہ ہلے نہیں جس پر رویام نے گھور کر اپنے باپ کو دیکھا تھا شاید وہ سمجھ گیا تھا کہ اسے ہسپتال کیوں لایا گیا ہے
پلیز بےبی رونا نہیں بلکل درد نہیں ہوگا میں بالکل درد نہیں لگاتی آپ کو وہ کہتے ہوئے نرمی سے انجکشن لگانے لگی اور روح تو کب سے آنکھیں بند کیے رویام کے رونے کی آواز کا انتظار کر رہی تھی انجکشن لگنے کے بعد بھی اس کی آواز نہ آئی
بلکہ وہ تو اپنے باپ کا کہا سچ کرتے ہوئے محبت بھری نظروں نرس کو دیکھ رہا تھا
جیسے سچ مچ میں اس سے پیار ہوگیا ہو
دیکھا بلکل درد نہیں لگایا نہ میں نے وہ بہت پیار سے اس کا گال چومتے ہوئے بولی تو رویام نے شرماتے روح کے سینے میں اپنا منہ چھپا لیا
مطلب کے اس کا بیٹا شرمآ رہا تھا وہ بھی اس لڑکی سے مطلب کے وہ سچ میں ٹھرکی تھا یا رم کی بات سچی تھی اس کے انداز پر یارم نے اپنی مسکراہٹ بہت مشکل سے روکی
°°°°°°
یارم روح کو یہی رکنے کا کہتا خود گاڑی نکالنے چلا گیا کیونکہ باہر بہت زیادہ رش تھا ہسپتال کی وجہ سے یہاں پر بہت زیادہ بھیڑ ہوجاتی تھی ۔
رویام کا بخار ابھی تک اترا نہیں تھا اس لئے وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ رش میں جا کر اپنی طبیعت مزید خراب کرے
روح ڈاکٹر کے کیبن کے باہر لگے ٹیکس پر بیٹھ کر یارم کی کال کا انتظار کرنے لگی پتہ نہیں اسے آنے میں کتنا وقت لگنا تھا ۔
جب اسے یارم کی تو نہیں لیکن لیلیٰ کی کال آگئی تھی وہ صبح سے پریشان تھی اور بار بار فون کر کے رویام کی طبیعت کا پوچھ رہی تھی اس نے فون اٹھاتے ہوئے اسے رویام کے بارے میں بتایا
جبکہ رویام اس کے ساتھ بڑے آرام سے ٹانگیں لٹکائے اسی ڈیکس پر بیٹھا سامنے پر بیٹھی لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔
جو نہ صرف بہت خوبصورت تھی بلکہ بار بار اسے دیکھ کر مسکراتی جس کے بدلے میں رویام بھی مسکراتا
اپنے بیٹے کو مسکراتا دیکھ کرروح کا دھیان سامنے والی کرسی پر گیا جہاں ایک بہت ہی پیاری لڑکی بیٹھی ہوئی تھی اس کی ڈریسنگ سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ مسلمان ہے
۔آپ پاکستان سے ہیں اس لڑکی مے بہت نرمی سےسوال کیا
روح نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا جو نہ صرف دیکھنے میں مسلمان تھی بلکہ اردو میں بات بھی کر رہی تھی روح نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ لڑکی مسکرا کر رویام کی جانب متوجہ ہوئی
بہت پیارا بچہ ہے آپ کا ماشاء اللہ
وہ رویام کو دیکھتے ہوئے بہت محبت سے بولی جس پر رویام نے بھی اس کے لیے مسکراہٹ پاس کی تھی
جب اچانک ہی سائیڈ والا کیبن کا دروازہ کھلا اور وہاں سے نکلنے والے شخص کو دیکھ کر روح نے نفرت سے چہرہ پھیر لیا
ڈاکٹر نے کہا ہے اگر دوائی ٹائم پر لیتی ہو ٹھیک ہو جاؤ گی اپنا بالکل خیال نہیں رکھتی نہ تم ۔۔؟سارے طریقے آتے ہیں تمہیں مجھے ستانے کے وہ شکوہ کرتا اس کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا جب دھیان پاس بیٹھی روح پر پڑا
درک نے بس ایک نظر سے دیکھا اور پھر چہرہ پھیر گیا
سر آپ کی وائف کی رپورٹس نرس نے کمرے سے نکلتے ہوئے رپورٹ اس کے ہاتھ میں دے دیں تو روح نے حیرانگی سے دیکھا
وہ اس کی بیوی تھی اسے یاد تھا اس کی ایک گرل فرینڈ تو خوشی تھی
تو کیا اس کو چھوڑ کر اس نے اس لڑکی سے شادی کرلی کتنا آسان تھا ان کے لیے رشتہ ختم کر دینا کتنا پیار کرتی تھی وہ اس سے
اس سے شادی کی خواہشمند تھی اور یہ شخص کتنی آسانی سے کسی اور کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہا تھا روح نہ جانے کیا کیا سوچ رہی تھی جب اس کا فون بجا یارم کی کال آ رہی تھی وہ ان کو اسے باہر بلا رہا تھا اس نے آہستہ سے رویام کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور اسے لے کر باہر کی جانب چل دی جب کہ رویام پیچھے کھڑی اس پیاری سی لڑکی کو بائے بائے کر رہا تھا
اس کے انداز پر وہ لڑکی مسکرائی اور نرمی سے ہاتھ ہلا کر اسے بائےکیا
جب کے پاس کھڑا شخص بہت محبت سے اس کی یہ حرکت دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر بہت پیاری مسکراہٹ تھی جو اس کے نام سے کبھی بھی اس کے چہرے پرنہیں آئی تھی
°°°°°°
وہ باہر آ کر اسی جگہ رکی جہاں یارم نے آتے ہوئے اسے اتارا تھا جب پیچھے سے کسی نے اسے پکارا
روح یہ تم ہو مجھے یقین نہیں آرہا کتنے سالوں کے بعد مل رہی ہوتم مجھ سے مجھے لگا تھا کہ میں کبھی تمہیں دوبارہ نہیں دیکھ پاؤں گی خوشی خوشی سے چہکتے ہوئے اس کے گلے سے آ لگی
رویام کو اس لڑکی کی یہ حرکت بالکل اچھی نہیں لگی تھی اس کو بالکل پسند نہیں تھا کہ کوئی اس کی ماں سے بےوجہ چپکے اسے تو اپنے باپ کا اس کے قریب آنا پسند نہیں تھا وہ اسے پیچھے کرتے ہوئے ناپسندیدگی سے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا
روح خوشی کے اچانک سامنے آنے پر پریشان ہوئی تھی
کیسی ہو تم خوشی ۔۔روح نے خوشی سے پوچھا جب کہ خوشی کا تو سارا دھیان اس کی گود میں موجود اس بچے پر تھا
یہ بچہ تمہارا ہی ہوگا اس کی آنکھیں اور ڈمپلز بالکل تمہارے شوہر جیسے ہیں وہ ایک لمحے میں ہی اسے پہچان گئی تھی روح مسکرائی
جب وہ شخص اسے دیاآیا جو کل تک اس لڑکی کا خواب تھا لیکن آج وہ کسی اور کے ساتھ تھا کیا وہ یہ سب کچھ جانتی تھی
روح کے دماغ میں ایک سوال تھا خوشی نہ جانے ابھی کیا کیا کہتی ہے کہ پیچھے کھڑے لڑکے نے اسے پکارا
خوشی یار تم یہاں ہو جلدی چلو درک پھر سے غصہ ہوگا وہ کہتے ہوئے اس کے قریب ہی چلا گیا روح کو ایک منٹ سے بھی کم وقت لگا تھا اس شخص کو پہچاننے میں
یہ وہی شخص تھا جس سے آج سے پانچ سال پہلے یارم نے شونوکو خریدا تھا
شاید وہ شخص بھی اسے پہچان چکا تھا
تم وہی ہو نا ۔۔۔۔؟جس کے شوہر نے مجھ سے ایک کتا خریدا تھا تمہیں شاید یاد نہیں ہوگا ہم ایئر پورٹ پر ملے تھے میرا نام راکیش ہے ۔تمہارے شوہر نے اس کتے کی قیمت مجھے تیس ہزار درہم دی تھی۔ کیا تم جانتی ہو اس بارے میں۔ وہ مسکرا کر پوچھ رہا تھا
روح نے صرف ہاں میں سر ہلایا جب کہ خوشی بھی ان دونوں کی طرف متوجہ تھی
واو تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو روح یہ میرا بھائی ہے راکیش ۔یقینا یہ زوبی کے بارے میں بات کر رہا ہے
ہاں زوبی کے بارے میں ہی بات کر رہا ہوں اس پپی نے میری ساری زندگی بدل گئی تمہارے شوہر نے جو پیسے مجھے دیے تھے ان سے میرے لائف بن گئی ۔
وہ کتا درک کا تھا اور اسی نے مجھ سے کہا تھا اس کتے کو بیچنے کے لیے کیونکہ وہ جاننا چاہتا تھا کہ تمہارا شوہر تم سے کتنی محبت کرتا ہے
اور تمہارے لئے کیا کرسکتا ہے اسی لئے اس نے مجھ سے کہا تھا کہ جتنی قیمت میں اس کتے کی لگا سکتا ہوں اتنی لگاؤں تمہارے شوہر نے مجھے 25000 درہم کی آفر کی لیکن میں نے ہوشیاری دکھا کر تیس ہزار بولا لیکن اس نے انکار نہیں کیا وہ سچ میں تمہیں بے پناہ چاہتا ہے ۔تم جانتی ہو اس کتے کے اصل مالک نے مجھ سے اس رقم کا ایک پیسہ بھی نہیں لیا تھا ۔
اور ان پیسوں سے میری زندگی بن گئی
سچ کہوں ۔۔۔۔۔نہ جانے راکیش ابھی کیا کیا کہنے والا تھا جب خوشی نے اپنی ہائی ہیل اس کے پیر پردے ماری وہ اسے دیکھ کر رہ گیا لیکن خاموش ہو گیا تھا اور روح نے اس کی خاموشی کو نوٹ کیا لیکن تب تک یارم آ چکا تھا
وہ حیرت میں ڈوبی ان دونوں کو گڈ بائے کہہ دیا اور آ کر گاڑی میں ہارم کے پاس بیٹھ گئی تھی ۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا بلا درک اسے اس طرح سے اپنا کتا کیوں نہیں دے گا
شاید یہی وجہ تھی کہ وہ کتا اس سے اتنا زیادہ اٹیچ تھا ۔
اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہی یہ ساری باتیں یارم کو بتا دے دی تھی لیکن یا رم نے کہا کہ فی الحال رویام پر غور کرو اسے تمہاری زیادہ ضرورت ہے
°°°°°°
