Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 48)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 48)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
تم نے تو کہا تھا کہ پری کو میرا خون نہیں لگ سکتا تو اب تو میرا خون کیوں چیک کرنا چاہتے ہو وہ ڈاکٹر کو گھورتے ہوئے بولا
کیونکہ تم نے کہا تھا کہ تم پری کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جیسا کہ تم جانتے ہو کہ اس کے جسم میں خون بہت کم ہے اور کبھی بھی اسے بلڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔
حسن نے تمہید باندھی
لیکن تم نے کہا تھا کہ بی پوزیٹو بلڈ تم کہیں سے بھی ارینج کر سکتے ہو ۔وہ اب بھی اسے گھور رہا تھا
ہاں لیکن تم نے مجھے کہا تھا نہ کہ تم نہیں چاہتے کہ پری کو باہر کا خون لگے .حسن کنفیوژ ہوا
یہ تین ماہ پہلے کی بات تھی نہ وہ اب بھی اسی انداز میں بول رہا تھا ۔
دیکھو یار تمہاری مرضی ہے تم نے پری کو بلڈ دینا ہے یا نہیں لیکن تم او نیگیٹو ہو میں صرف چیک کرنا چاہتا تھا کہ اگر ایمرجنسی میں پری کو بلڈ کی ضرورت پڑے تو کیا تم دے سکتے ہو یا نہیں لیکن تمہاری مرضی کوئی زبردستی نہیں ہے میں پری کے لیے ارینجمنٹ کر لوں گا حسن جان چھڑاتے ہوئے کہا
اچھا ٹھیک ہے میں چیک اپ کروانے کے لیے تیار ہوں ۔پری کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں اور اپنی بات پر بھی قائم ہوں میں نہیں چاہتا کہ پری کو باہر کے کسی بھی شخص کا خون لگے کوشش کرو کہ میرا ہی بلیڈاس کے کام آ جائے
میں ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اسے ہمیشہ صرف اور صرف میری ہی ضرورت پڑے وہ پرسرار سے انداز میں بول رہا تھا حسن نے صرف ہاں میں سر ہلا کر نرس کو باہر آنے کا اشارہ کیا
دیکھو میں نے اسے ٹیسٹ کے لئے منا لیا ہے تم اس کا مکمل چیک اپ کرنا ہر چیز بون میرو بلیڈ گروپ یا ٹیس مجھے مکمل رپورٹ چاہیے حسن نرس کو سمجھاتے ہوئے بولا
لیکن سر ان کی اجازت کے بغیر بون میرو ٹیسٹ کرنا تو ان لیگل ہے ۔نرس پریشانی سے بولی
کیا لیگل ہے اور کیا ان لیگل یہ سب باتیں سمجھانے کا میرے پاس وقت نہیں ہے جتنا میں کہہ رہا ہوں اتنا کرو
اور رپورٹس کا انتظام ابھی کرو اور میرے آفس میں بھجوا دوں وہ اسے ایک نظر دیکھ کر اپنے روم میں چلا گیا جبکہ نرس پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی اگر اس نے کچھ پوچھ لیا تو وہ کیا جواب دے گی
°°°°°
نرس کمرے میں آئی تو وہ ویٹ کر رہا تھا
ایک تو یہ آدمی اسے بالکل بھی پسند نہیں تھا
جب بھی آتا تھا غصہ ناک پر رکھا اور ایٹیٹیوڈ ایسا تھا کہ سامنے والے کو جلا کے رکھ دے
وہ جتنا خوبصورت نوجوان تھا اتنا ہی مغرور بھی تھا ۔خود سے زیادہ اہمیت کسی اور کو دینا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا
وہ اسے تقریبا تین چار سال سے جانتے تھے ۔
وہ ایک بائک ریسر تھا اپنی جان پر کھیلتا تھا ۔اکثر اپنی باڈی پر زخم لے کر وہ اس ہسپتال میں آتا
لیکن چارمہینے پہلے اس نے اچانک ایک انجان لڑکی سے شادی کرلی ۔پہلی بار یہ لڑکی جب اس ہسپتال میں آئی تھی اس کی حالت اتنی خراب تھی کہ اسے دیکھا تک نہیں جا رہا تھا
اس کے جسم میں خون نہ ہونے کے برابر تھا ڈاکٹر نے بہت مشکل سے اس کی جان بچائی تھی ۔
اور تب سے ہی وہ ہر ہفتے اس کا چیک اپ کروانے کے لیے اسے یہاں لاتا تھا وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا تھا یا نہیں یہ کوئی نہیں جانتا تھا لیکن وہ اس کی فکر کرتا تھا وہ چاہتا تھا کہ وہ اس پر پوری طرح سے پر ڈیپنڈ ہو ۔
وہ اسے نہ تو کسی سے بات کرنے دیتا تھا اور نہ ہی خود سے ایک پل کے لئے بھی الگ کرتا ۔
اس وقت بھی وہ اس سے ہسپتال کے اسپیشل روم میں بٹھا کر اپنا چیک اپ کروانے کے لئے آیا تھا کیونکہ حسن نے اسے یہاں بلایا تھا
حسن کی پلاننگ کیا تھی یہ تو وہ نہیں جانتا تھا وہ اپنی پری کے لیے ہی اپنا چیک اپ کروا رہا تھا نرس کو لگا تھا کہ وہ اس سے کوئی سوال نہیں کرے گا کیونکہ اسی لگا تھا کہ وہ بون میرو ٹیسٹ سے انجان ہے
سر آپ اپنی شرٹ اتار دیں آپ کو انجیکشن دینا ہے ۔وہ کافی گھبرائی ہوئی تھی
ٹیسٹ تو کمپلیٹ ہو گیا ہے اب کون سا ٹیسٹ کرنا ہے اور انجکشن کی ضرورت کیوں کر رہی ہے مزید وہ سرد لہجے میں بولا
سریہ انزشیا کا ۔۔۔۔
انزشیاکا انجکشن کیوں لگایا جا رہا ہے مجھے وہ بنا کر بولا
صرف وہ دراصل آپ کا ٹیسٹ ہو رہا ہے نا ۔۔۔تو انزشیا۔
پاگل لکھا ہے میرے ماتھے پر بے وقوف سمجھتی ہو مجھے کیا میں نہیں جانتا کہ انزشیا کا انجکشن بون میرو ٹیسٹ سے پہلے دیا جاتا ہے وہ اتنے غصے سے بولا کہ نرس کانپ کر رہ گئی
سچ سچ بتاؤ ارادہ کیا ہے تمہارا ۔میرا بون میروبیچ کر پیسہ کمانے کا سوچ رہے ہو نہ تم لوگ ۔۔۔؟
نہیں سر آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہے ہم آپ کا بون میرو صرف اور صرف آپ کی وائف کے لیے چیک کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں مسلسل خون کی کمی ہے اور وہ بہت زیادہ بخار میں مبتلاہو جاتی ہیں یہ نشانیاں بلیڈ انفیکشن کی بھی ہو سکتی ہیں اور اگر ایسا ہوا تو ہمیں ان کے جسم سے سارا خون نکال کر چینج کرنا ہوگا
جس کے لیے پہلے دوسرے بندے کے بہت سارے چیک اپ کرنے پڑتے ہیں جن میں ایک بون میرو بھی ہے
نرس میڈیکل کے بارے میں جتنا کچھ جانتی تھی اس کے سامنے رکھ کر اسے مطمئن کر چکی تھی اس نے صرف ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اسے انجکشن لگانے کی اجازت دی
آنزشیا کا انجکشن لگانے کے بعد بھی بون میرو ٹیسٹ کے دوران اسے بہت تکلیف ہوتی تھی ۔
سر آپ کو آدھا گھنٹہ یہی بیڈ پر لٹناہوگا کچھ دیر کے لیے آپ اپنی ہڈیوں کو بالکل موو نہ کریں
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔وہ درد برداشت کرپرتا اٹھا
نو سر یہ بہت ضروری ہے ۔آپ کی طبیت خراب ہو سکتی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ ہسپٹال آپ کو یوں جانے کی اجازت نہیں دیتا۔وہ سمجھا رہی تھی
مجھے پری کو لنچ پر لے کر جانا ہے وہ بڑبڑایا
رپورٹس کب تک مل جائیں گی ۔۔۔؟وہ شرٹ پہنتے ہوئے سوال کر رہا تھا
سرکل شام تک آپ اپنی رپورٹس لے جائیے گا ۔اس کے کہنے پر وہ صرف ہاں میں سر ہلا تا لیٹ گیا
جبکہ نرس رپورٹس نٹ کے زریعےحسن کے کمپیرٹر میں چیکنگ کے لئے بھیج چکی تھی
°°°°°
پر تو نہیں ہیں میرے پاس لیکن ۔۔۔۔پری سے کوئی جواب نہ دیا گیا
لیتن تیا(لیکن کیا)وہ اپنی بڑی بڑی نیلی آنکھوں کو چھوٹا کر کے اسے گھورتے ہوئے بولا جیسے اس کی چوری پکڑ چکا ہو
ارے بڑے شیطان بچے ہو تم ابھی میں نے تمہیں جادو کر کے دکھایا ۔پری نے اپنی صفائی پیش کرنی چاہیے
بو تو میلے بابا بی تر لیتے ہے۔لج فج سے نیتل دیتے(وہ تو میرے بابا بھی کر لیتے ہیں۔زور فریج سے نکل دیتے )وہ اس کے جادو کو جادو ماننے سے بلکل انکاری تھا
ہاں تو تمہارے بابا پہلے فریج میں رکھتے ہوں گے پھر نکال کے دیتے ہوں گے لیکن میں نے رکھا نہیں تھا میں نے جادو سے نکالا ہے ۔
پری کو اس سے باتیں کرنے میں بہت مزا آ رہا تھا وہ اس وقت باتوں میں اتنا مصروف تھا کے ڈرپ کب ختم ہوئی اسے بالکل اندازہ نہیں تھا یقینا اگر وہ اس وقت مصروف نہ ہوتا تو اسے اتارنے کی ضد ضرور کرتا
پہلے تو یارم کی سختی کی وجہ سے وہ زیادہ ضد نہیں کرتا تھا لیکن اس کی غیر موجودگی میں رویام کسی کی نہیں سنتا تھا
اتااتی بت اے تو دوبلا نیتل تے دتھاو(اچھا ایسی بات ہے تو دوبارہ نکال کے دکھاؤ)رویام نے چیلنج دیا
اور یہاں وہ پھنس چکی تھی کیونکہ اس نے ایک ہی چاکلیٹ صبح اپنے بیگ میں رکھا تھا
میں نہیں نکالتی۔وہ کھڑوس دیو مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔اور پھر مجھے کھا جائے گا پری نے اسے پرسرار انداز میں بتایا
کھلوش یو۔(کھڑوس دیو)۔۔؟وہ اس کی بات دہراتے ہوئے بولا دتو پری نے بمشکل اس کے ہونٹوں کی حرکت دیکھی اور اپنا قہقہ روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنا ہاتھ منہ پر جمایا
ہاں وہ کھڑوس دیو جس نے یہ چاکلیٹ جادو سے میرے بیگ میں رکھی تھی اور اب جادو سے میں نے نکال کر تمہیں دے دی پری کہانی بنائی
آو کھلوش یو شب تو کا جاتا اے (وہ کھڑوس دیوسب کو کھا جاتا ہے ۔۔۔؟ )رویام نے معصومیت سے پوچھا ۔
ہاں سب کو کھا جاتا ہے اور سب سے زیادہ تمہاری طرح پیارے پیارے بچوں کو اور جو لوگ میری جادو پر یقین نہیں کرتے ان کو تو اٹھا کر لے جاتا ہے ۔
پری نے تفصیل بتاتے ہوئے اسے ڈرایا اور لگے ہاتھ اس کے پھولےپھولے سرخ گال پر جھک کر پیار بھی کر ڈالا
جس پر رویام نے اسے گھورتے ہوئے اپنے ننھے سے ہاتھ سے اپنے ننھے سے سرخ گال کو رگڑ ڈالا یقینا اس سے اس کی یہ حرکت بالکل پسند نہیں آئی تھی
کیا ہوا بےبی میرا کس کرنا اچھا نہیں لگا کوئی بات نہیں میں اپنا کس واپس لے لیتی ہوں وہ مسکراتے ہوئے ایک بار پھر سے اس کے گال پر جھکی اور پھر سے اسے کس کرتے ہوئے سیدھی ہوئی جس پر رویام نے اسے مزید گھورا
ارے ایسے کیوں گھور رہے ہو اپنی کس واپس تو لے لی میں نے پری شرارت سے مسکرا کر بولی
اسے تو یہ بچہ پہلے دن سے ہی بے حد پسند آیا تھا
اور آج تو یہ اس کے ہاتھ چڑھ چکا تھا
دیکھو پلیز تم مجھے ایسی مت گھورو ورنہ وہ کھڑوس دیو مجھے کھا جائے گا ۔پری نے معصوم سی شکل بنا کر اسے پھر سے باتوں میں لگانے کی کوشش کی
اپ میلے باباتوبتاو میلے بابا اش کھلوش یو کو ڈش ڈش تر تے مال دے دے(آپ میرے بابا کو بتاؤ وہ اس کھڑوس دیو کو ڈیش ڈیش کرکے مار دیں گے )رویام نے اسے آئیڈیا دیا تھا
ایک تو اس بچے کی مکمل باتیں اور دوسری طرف اس کی بات کرتے ہوئے مشکل الفاظ پر منہ کے ڈیزائن پری تو پوری طرح سے اس پرفلیٹ ہو گئی تھی اور سب سے خاص بات وہ غصے میں بات کرتے ہوئے بھی وہ کتنے ادب و احترام سے مخاطب کرتا تھا
پری تو کیا اس کی جگہ کوئی بھی ہو وہ رویام سے محبت نہ کرے یہ ناممکن سی بات تھی
تم اپنے بابا کو خود ہی بتا دینا ۔کہ وہ میری مدد کریں مجھے اس کھڑوس دیو سے بچائیں ورنہ وہ مجھے کھا جائے گا تم بتانا اپنے بابا کو کہ تمہاری دوست بہت بڑی مصیبت میں پھنسی ہوئی ہے تمہارے بابا میری مدد کرنے کے لئے آئیں گے نا سپائڈرمین کی طرح پری کا فی الحال اس سے باتیں ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا
می اپلے بابا کوپتو بتوں دا لیتن اپ میلی دوشت نی او ۔ال میلے بابا شپڈرمن نی شوپل من ہے(میں اپنے بابا کو بتا دوں گا لیکن آپ میری دوست نہیں ہو اور میرے بابا سپائڈر مین نہیں سپرمین ہیں )۔وہ منہ بنا کر اسے بتانے لگا
ارے میں کب سے تمہارے پاس بیٹھی تم سے باتیں کر رہی ہوں اور تم مجھے دوست ماننے کو تیار ہی نہیں ہویہ تو بہت غلط بات ہے میں نے تمہیں چاکلیٹ دی تو میں تمہاری دوست بن گئی نا چاکلیٹ کا مزہ لینے کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ ہم دوست ہیں
چلو اب جلدی سے مجھ سے دوستی کرو ورنہ میری چولکیٹ واپس کرو ۔پری اس سے دوستی کرنے کی خاطر جلدی سے کہتے ہوئے اس کے ننھے سے ہاتھ سے چوکلیٹ لینے ہی لگی تھی
تھیت اے ام دوشت ہے(ٹھیک ہے ہم دوست ہیں )وہ احسان کرتے ہوئے بولا
لیکن تب ہی کوئی کمرے میں داخل ہوا ۔رویام کامنہ دوسری جانب تھا اسی لیے وہ شخص اسے دیکھ نہیں پایا لیکن وہ پری کو چلنے کا اشارہ کر رہا تھا
او کے پیارے دوست اب مجھے بھی گھر جانا ہے ۔تمہارے ساتھ یہ پہلی ملاقات بہت اچھی رہی تھی اور نرس جی میرے دوست کا خیال رکھیے گا آپ اپنے موبائل پر بعد میں مصروف ہو جائے گا لیکن فی الحال میرے دوست کو آپ کی ذمہ داری پر یہاں چھوڑا گیا ہے وہ اس کے دونوں گال چومتی ہوئی اردو میں بولی کیونکہ وہ کچھ دیر پہلے اسے کسی سے ہندی میں فون پر بات کرتے ہوئے سن چکی تھی
جبکہ رویام نے اسے پھر سے گھورتے ہوئے اپنے ننھےسے ہاتھ سے دونوں گالوں کو سرخ کر ڈالا
ارے دوستی میں کس کرنا الاوڈ ہوتا ہے تمہیں تو کچھ بھی نہیں پتا وہ اس کے ننھے سے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے اس کا گال دوبارہ چوم کر باہر بھاگ گئی اور اب وہ اسے دور سے بائے بائےکر رہی تھی
°°°°
مجھے یقین نہیں آرہا یارم یہ دیکھو اس بندے کی %96 پرسنٹ تک رپورٹ رویام سے میچ کر رہی ہیں ۔میرا شک بلکل ٹھیک تھا یارم اگر یہ رویام کو بون میرو دینے کے لیے تیار ہوجائے تو رویام بچ سکتا ہے
مطلب کہ یہ ڈونر ہے ۔۔روح نے خوش ہو کر پوچھا۔
نہیں بھابھی یہ ڈونر تو نہیں ہے لیکن میں اسے منا لوں گا میں صرف کنفرم کرنا چاہتا تھا جو کہ ہو چکا ہے ۔
میں اس سے بات کرتا ہوں ۔حسن کافی پرجوش تھا
اسے مناو تم میں اس کی ساری زندگی اسان کردوں گا میں اس کا فل لائف خرچ اٹھوں گا ۔اسے جو چاہے وہ ملے گا یارم نے حسن کو دیکھتے ہوئے کہا ۔وہ اسے کسی بھی طرح منا لینا چاہتا تھا۔حسن نے سرہلاتا اٹھا۔
وہ اسے جلد منا لینا چاہتا تھا کیونکہ رویام کے جسم سے خون اب سکھ رہا تھا وہ دن با دن کمزور ہو رہا تھا اس کا آپریشن جلد سے جلد کرنا ضروری ہو گیا تھا
اتنے دنوں کی ناامیدی کے بعد آج انہیں تھوڑی سی امید ملی تھی ۔جو ان دونوں کے لیے کسی میجزے سے کم نہیں تھی
چلو رویام کے پاس چلتے ہیں وہ جاگ گیا ہو گا وہ روح کو دیکھتے ہوئے بولا تو روح فوراً اٹھی تھی
°°°°°
درک روکو ۔کیا تمہیں نرس نے نہیں بتایا کہ تم ایسے نہیں جا سکتے تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے تمہارا بون میروسینپل لیا گیا ہے۔حسن بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا تھا
بتایا ہے ۔۔لیکن میرا پھر بھی روکنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے سو ۔۔۔۔
یہ تمہارے لیے ضروری تھا ۔حسن نے سمجھانا چاہا ۔جبکہ پری انجان سی کھڑی انہیں سن رہی تھی
نہیں میں ٹھیک ہوں ۔۔ وہ جانے لگا
مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی تھی۔حسن نے کہا
بولو ۔اس کی ضروری بات کے چکر میں شاید وہ اہنا ٹائم برباد نہیں کرنا چاہتا تھا۔
میں تم سے اس بچے کو ملوانا چاہتا ہوں وہ صرف ڈھائی سال کا ہے تمہارا سارےسسٹم سیلز اس سے میچ کر رہے ہیں96% تم دونوں کا باڈی سسٹم ایک جیسا ہے۔وہ تمہاری مدد سے بچ سکتا ہے پلیز اس بچے کی جان بچا لو وہ تکلیف میں ہے ۔ایک ایک سانس مشکل سے لے رہا ہے
دن رات اسے انجکشن لگائیں جاتے تھے لیکن اس کے باوجود بھی اس کا درد کم نہیں ہوتا۔زرا سوچو تمہاری وجہ سے اس کا درد کم ہو گا وہ اپنی زندگی جی پائے گا ۔صرف ایک بار مل تو لو اس سے
مطلب میرا شک ٹھیک تھا تم نے اسی لیے میرے یہ سارے ٹیسٹ کیے ہیںتمہیں پتا ہے نہ میری اجازت کے بغیر میرا بون میرو کرنے پر میں تم پر کیس کرسکتا ہوں۔وہبھنا کر بولا
کردینا جو کرنا ہے کر دینا بس ایک بار میرے ساتھروم نمبر 11 میں چلو ایک بار حالت دیکھو اس کی حسن اس کی منیتں کررہا تھا۔جبکہ روم نمبر 11 کا سن کر پری نے اس کے بازو پر اپنی گرفت مضبوط کی ۔کیونکہ روم نمبر 11 سے تو وہ ابھی آئی تھی
وہ تو بہت چھوٹا سا بےبی ہے۔کون سی بمیاری ہے اس کو۔پری پریشان سی بولی
لکیمیا مطلب بلڈ کنسر حسن نے فوراً جواب دیا۔
یا اللہ اس چھوٹے سے بچے کو کنسر ہے۔۔۔؟ وہ کیسے بچے گا۔۔! پری کا انداز ایسا تھا کہ جیسے وہ پوچھ رہی ہو کہ وہ اس کے لیے کیا کر سکتی ہے۔
اُس کو صرف درک بچا سکتا ہے۔کیونکہ اب تک میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کا چیک اپ کر چکا ہوں مگر وہ کے سسٹم سیل صرف درک سے میچ کرتے ہیں ۔
اسے بس اپنا بون میرو ٹرانسفر کرنا ہوگا اسے اور وہ بچ جائے گا حسن نے تفصیل سے بتایا تو پری نے بہت امید سے اس کی طرف دیکھا ۔جیسے یقین ہو کہ وہ انکار نہیں کرے گا
کب کرنا ہے آپریشن وہ پری کو دیکھ کر حسن سے بولا ۔یہ سچ تھا کہ وہ پری کی امید کو ٹوٹنے نہیں دے سکتا تھا۔
جب تم ہاں کر دو۔حسن نے فوراً جواب دیا۔
پھر بھی کوئی وقت تو ہو گا ہی۔!نہ اٹھا کر تو کسی کابھی آپریشن نہیں کرتے ہو گے تم لوگ وہ چڑ کر بولا۔
ہاں تم کل صبح تک آ جاو میں سارا انتظام کر لوں گا
ٹھیک ہے تم تیاری کرو کوئی اور ٹیسٹ کونا ہے تو ابھی کر لو کیونکہ میں بون میرو ٹرانسفر کے بعد ایک ہفتے کے لیے جا رہا ہوں ۔
ہاں ٹھیک ہے تم کل ہی آجانا کوئی ٹیسٹ نہیں کرنا اب صرف آپریشن ہو گا۔
حسن فوراً بولا یہ نہ ہو کہ اس کے آرام کرنے کا کہنے پر وہ مکرجائے ۔ویسے بھی اسے سرپھیرے سے کوئی فالتوبات کرنی ہی نہیں چاہے ۔ٹرانسفرمیپشن کے بعدتو ویسے بھی اس کی کمر کی ہڈی نے اسے اٹھنے نییں دینا تھا۔
اس کے جانے کے بعد حسن نے روح اور یارم کو خوش خبری سنائی تھی کل ان کے بیٹے کا آپریشن ہو جاِپئے گا اور وہ بلکل ٹھیک وہ دونوں بہت خوش تھے۔لیکن آنے والے وقت سے انجان۔۔۔
°°°°°°
