Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 31)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 31)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
دو دن سے یار م سے بات چیت بالکل بند تھی آج وہ لیلیٰ کی بیٹیوں کی برتھ ڈے پارٹی سے واپس آئی ۔
تو اسے اپنی طبیعت میں کچھ غیر معمولی محسوس ہوا
لیکن یارم سے ناراض تھی اسی لیے اسے بتانا ضروری نہیں سمجھا فی الحال وہ اسے احساس دلانا چاہتی تھی کہ وہ اس سے خفا ہے اور کیوں خفا ہے
لیکن یارم نے اس کی ناراضگی کو بالکل ہی نظرانداز کر دیا تھا وہ بہت نارملی اس سے بات کرتا تھا جیسے کوئی بات ہوئی ہی نہ ہو
ابھی بھی اسےکمرے میں جانے کا کہہ کر وہ آفس روم میں چلا آیا جبکہ وہ اپنے کمرے میں منہ پھولا کر چلی گئی ۔اس کی ناراضگی کو وہ بہت اچھے سے سمجھ رہا تھا
۔لیکن کچھ بھی بولا نہیں وہ کافی پرسکون تھا ۔
ایک ماہ پہلے وہ ڈاکٹر سے مل چکا تھا ۔ڈاکٹر اب روح کی کنڈیشن کافی بہتر بتا رہے تھے اب ممکن تھا کہ اس کی ذہنی حالت اس پر برا اثر نہیں ڈالتی ۔لیکن پھر بھی وہ کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا روح کی ضد کے سامنے اب وہ بھی ہارنےلگا تھا
خضر اور شارف کت بچے دیکھ کر کہیں نہ کہیں دل میں اپنے بچے کی خواہش بھی انگڑائی لینے لگی تھی ۔پچھلے تین سال سے روح کے پاس بس ایک ہی موضوع تھا اس سے لڑنے کے لیے ۔
اب اسے کوئی بہانہ ہی نہیں دیتا تھا لڑائی کرنے کا ناراض ہونے کا اور یہاں آ کر وہ خاموش ہو جاتی کیونکہ ان اسے کہیں نہ کہیں سے یہ بات پتہ چل چکی تھی
کہ یارم بچہ کیوں نہیں جاتا
اور پچھلے تین سال میں وہ دس بار اپنا مکمل چیک اپ کرواکے رپورٹس اس کے سامنے رکھ چکی تھی ۔
لیکن یارم تو پھر بھی یارم تھا وہ اسے منانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔
اور اب جب روح اپنا زیادہ تر وقت لیلیٰ اور معصومہ کے بچوں کے ساتھ گزارتی تو یارم کو بھی شدت سے احساس ہوا تھا کہ اب انہیں اپنے بچے کے بارے میں سوچنا چاہیے
۔وہ جب بھی گھر واپس آتا تو روح وہ کا موڈ اچھا ہوتا
وہ اس کی ساری باتیں لیلی اور معصومہ کے بچوں کے بارے میں ہی باتیں کرتی تھی ۔اور انہی سب باتوں کے اینڈ پر وہ کہتی کہ کاش ہمارا بھی بچہ ہوتا
تو وہ رات کو بھی میرے پاس ہی رہتا
میں اسے اپنے پاس سلاتی
اور یہی سب باتیں یارم کو بھی اچھی لگتی تھی
اسکے دل میں بھی کہیں نہ کہیں بچے کی خواہش تھی جو زبان پر نہیں لاتا تھا ۔اب تو پچھلے ایک مہینے سے روح اسے خوب ناراضگی دکھا رہی تھی
کبھی وہ مان جاتی کبھی پھر سے ناراض ہو جاتی اس بیچاری کا بھی یارم کے علاوہ اور کون تھا
اس لیے یارم سے روٹھنا اس کے بس سے باہر تھا اور اس معاملے میں بھی یارم بھی ذرا سخت طبیعت تھا
وہ اسے اپنے آپ سے زیادہ دیر روٹھنے نہیں دیتا تھا
°°°°°
رات کو کمرے میں آیا تو روح کو واش روم میں ووٹنگ کرتے دیکھا وہ پریشانی سے اس کے پاس آیا تھا
روح میری جان تم ٹھیک تو ہو تمہاری طبیعت خراب ہو رہی ہے میں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں وہ اس کی پیٹھ سہلاتے ہوئے بولا
وہ جو اس سے کافی ناراض تھی اس کی فکر مندی پر اسے دلاسہ دینے لگی
میں ٹھیک ہوں وہ کیا ہے نہ لیلی نے مجھے اورنج جوس پلایا تھا جس کے بعد سے نہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا اب میں ٹھیک ہو جاؤں گی آپ فکر نہ کریں وہ اس کا سہارا لیتی باہر بیڈ تک آئی
نہیں روح تمہیں بےاحتیاطی نہیں کرنی چاہیے اور جوس سے ایسا کچھ نہیں ہوتا تمہاری طبیعت خراب ہے میرے خیال میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس چلا چاہیے یارم فکر مندی سے بول رہا تھا
اچھا بابا صبح چلوں گی ابھی مجھے سخت نیند آ رہی ہے وہ ہار مانتے ہوئے بولی کیوں کہ جانتی تھی کہ یارم اتنی آسانی سے اس کی جان نہیں چھوڑنے والا
ٹھیک ہے لیکن صبح میں تمہیں خود لے کر جاؤں گا میرے جانے کے بعد تم چیٹنگ کرو گی جاؤ گی ہی نہیں اس معاملے میں تو ویسے بھی یارم کو اس پر بھروسہ نہیں تھا روح اسے گھور کر رہ گئی
اس میں آج بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اکیلی گھر سے باہر نکلتی شاپنگ کے لیے لیلیٰ اور معصومہ اسے باہر لے کر جاتی تھی
اور گھومنے پھرنے لانچ یا ڈنر پر یار م اسے اپنے ساتھ لے کر جاتا ۔وہ آج بھی اتنی ہی بزدل تھی جتنی کے پہلے یارم کی روح آج بھی ویسی ہی تھی لیکن اسے کوئی کمزور نہیں کہہ سکتا تھا
وہ لڑتی نہیں تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ لڑنا جانتی نہیں تھی
اپنی زندگی میں کسی قسم کا کوئی دکھ کوئی تکلیف کوئی پریشانی نہیں چاہتی تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ دکھ تکلیف یا پریشانیوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتی
وہ ہر قسم کے حالات کو فیس کرسکتی تھی ۔لیکن وہ یہ سب کچھ تب کرتی جب یارم اس کے ساتھ نہ ہوتا لیکن وہ تو ہر قدم پر اس کے ساتھ تھا ہر پل اس کے ساتھ چلتا تھا وہ کیسے اپنی روح کو اکیلا چھوڑ دیتا ۔
روح کے راستے میں آنے والی ہر مصیبت کو پہلے یارم جیسی چٹان کا سامنا کرنا تھا اور یارم کو یقین تھا کہ اس کے بعد بھی اس کی روح اکیلی نہیں ہوگی خضر شارف صارم سب اس کے ساتھ تھے اور کہیں نہ کہیں” وہ’ بھی
ہاں اب اسے یہ ڈر نہیں تھا کہ اس کے جانے کے بعد اس کی روح اکیلی ہو جائے گی اسے پتا تھا کہ اس سے جڑے رشتے اس کی روح کو محفوظ رکھیں گے اس کی روح کی حفاظت کریں گے
°°°°°°°°
بہت بہت مبارک ہو شی از پریگنیٹ ۔۔ڈاکٹرروح کا مکمل چیک اپ کرنے کے بعد یارم سے کہنے لگی
جبکہ روح کبھی ڈاکٹر تو کبھی یارم جانب دیکھ رہی تھی اسے تو سامنے والی کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا
یارم ڈاکٹر نے ابھی ابھی کیا بولا وہ ڈاکٹر کو نظرانداز کرتی یارم سے پوچھنے لگی
وہی جو تم نے سنا روح یارم مسکرا کر بولا
یارم مطلب ہمارا بےبی۔۔۔
مطلب ہمارا بچہ اس دنیا میں آنے والا ہے میرا اور آپ کا یارم میرا اپنا بےبی جو 24 گھنٹے میرے پاس رہے گا اور رات کو سوئے گا بھی میرے پاس وہ بچوں کی طرح خوش ہوتی اس کی شرٹ کو جھنجوڑ چکی تھی جب کہ یارم نے ایک نظر ڈاکٹر کی جانب دیکھا جو چہرہ نیچے جھکائے مسکرائے جا رہی تھی
بےبی وہی ہمارا اپنا بےبی آنے والا ہے وہ ہنستے ہوئے بولا تو روح بے اختیار ہی اس کے سینے سے آ لگی
یارم میں بہت خوش ہوں بہت زیادہ میرا بے بی دنیا میں آنے والا ہے میں اس کا بہت خیال رکھوں گی
میں اس سے بہت پیار کروں گی وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا دیکھے گا آپ میرا بے بی سب سے پیارا ہوگا
وہ خیالوں کی دنیا میں نہ جانے کہاں سے کہاں نکل چکی تھی جب کہ یارم جہاں اس کی بات پر مسکرا رہا تھا وہی اس کی نم آنکھوں نے اسے پریشان کر دیا
یارم اس بار ہم اپنے ہونے والے بی کا بہت خیال رکھیں گے کوئی گڑبڑ نہیں ہونے دیں گے سب کچھ اچھا اچھا ہوگا اس بارے میں کچھ بھی برا نہیں ہونے دوں گی
پہلی خوشی کو یاد کرتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھی
یارم م نے آہستہ سے اس کے آنسو صاف کیے
اس بار کچھ بھی غلط نہیں ہوگا ہم دونوں اپنے بچے کو اس دنیا میں ویلکم کریں گے ہم دونوں مل کر اس کا خیال رکھیں گے اسے پیار کریں گے اور وہ ہمارا بےبی ہوگا پر ہمیشہ ہمارے پاس رہے گا
اس کا ہاتھ چومتے ہوئے اس نے ڈاکٹر کی جانب دیکھا اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے روح کو اپنے ساتھ لے آیا
روح تو ابھی سے اتنی ایکسائٹڈ ہو رہی تھی کہ حد نہیں جبکہ اس کی خوشی سوچ کر یارم نھی بے حد خوش تھا ۔
اس کا یہ پیارا سا انداز سیدھا یارم کے دل میں اتر رہا تھا
°°°°°°
خضر معصومہ لیلیٰ شارف ۔اپنے بچوں سمیت شام سے پہلے ان کے گھر ٹپک چکے تھے
سب نے ہی روح کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنی طرف سے گفٹ بھی دیے تھے ۔
جبکہ شونوتو ان کی خوشی کو نہ سمجھتے ہوئے بھی ناچ ناچ کر خوش ہو رہا تھا جیسے ان کی خوشی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہو
جو بھی تھا لیکن روح کا پہلا بچہ تو وہی تھا
جس سے اسے بہت زیادہ محبت تھی۔
اور اس کی موجودگی کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کرسکتی تھی
°°°°°°
دن تیزی سے گزرنے لگے تھے
یارم ہر وقت اس کے آس پاس رہتا اس کا خیال رکھتا
لیلیٰ اور معصوم اس کی نرس بنی ہوئی تھی
اس کا حد سے زیادہ خیال رکھتی اور اسے کوئی بھی الٹا سیدھا کام کرنے ہی نہیں دیتی
ڈاکٹر کے مطابق اس کی ذہنی کنڈیشن بہت اچھی تھی لیکن صحت پھر بھی ڈاؤن تھی
جس کی چلتء لیلی اسے روز کسی نہ کسی چیز کا ملک شیک بنا کر دیتی
جس کو دیکھتے ہی روح کو ووٹنگ ہونے لگتی
لیلی کا کہنا تھا کہ ایک بار پیٹ کے اندر چیز چلی جائے پھر باہر آئےبھاڑ میں جائے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
اس کے لئے روح کو کھانا تو پڑے گا ۔
ویسے تو خود بھی اپنا بہت خیال رکھتی تھی کیونکہ خود اسے اس بچے کی بے حد ضرورت تھی لیکن پھر بھی لیلیٰ اور معصومہ کی اسپیشل ٹریٹمنٹ کی وجہ سے وہ اسی بیزار ہو چکی تھی
اور یارم بھی اس کا حد سے زیادہ خیال رکھتا
اب تو اس نے نیا شوشا چھوڑ دیا تھا
کہ وہ اس کے ساتھ آفس چلا کرے وہاں وہ خود اس کا خیال رکھے گا اور وہ 24 گھنٹے اس کی نظروں کے سامنے رہے گی
لیکن روح کو یہ منظور ہرگز نہیں تھا وہ اپنی زندگی یا رم کی بورنگ روٹین کی نظر نہیں کر سکتی تھی
یہاں یارم کی نظروں سے بچ کر وہ جو تھوڑی بہت بے احتیاطی یا اچھل کود کرتی تھی یار م نے وہ بھی بند کروا دینی تھی
اس لیے اس نے بہت بہانے لگائے تھے یارم کے ساتھ نہ جانے کے یارم کا تو کہنا تھا کہ اس کی زندگی بہت انٹرسٹنگ ہے
وہ تو شکر تھا کہ لیلہ نے کہہ دیا کہ خون خرابہ دیکھ کر روح کی صحت پر خراب اثرات پڑ سکتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ روح کی صحت بھی بگڑجائے ۔
لیلیٰ پراعتبار کرنا تو وہ بہت پہلے سے ہی چھوڑ چکا تھا اسی لئے اس معاملے میں بھی اس نے ڈاکٹر کی رائے لی تھی
اور ڈاکٹر کا بھی یہی کہنا تھا کہ کوشش کی جائے کہ روح کے سامنے خون کا ایک قطرہ بھی بہے اور اسے ایک جگہ بند بھی نہ کیا جائے کھلی اور تازہ فصا میں رکھا جائے تاکہ بچے کی صحت پر اچھا اثر پڑے
کھلی فضا والی بات یارم کو بالکل اچھی نہیں لگی تھی کیوں کہ کام زیادہ ہو جانے کی وجہ سے یارم آج کل رات کو فارغ ہوتا
اور ایسے میں روح وقت لیلی کے ساتھ گزار رہی تھی جس سے لیلی اسے ہر طرف لے کر جاتی ۔لیلی کے ساتھ کوئی دشمنی تو نہیں تھی
لیکن روح کو عادت کی اپنے دن بھر کی ساری مصروفیات یا رم سے شیئر کرنے کی
اور وہ رات کے ایک ڈیڑھ بجے تک لیلیٰ کی گردان نہیں سن سکتا تھا
لیکن آج کل اسے مجبوری میں یہ بھی کرنا پڑ رہا تھا
°°°°°
یارم مجھے آئسکریم کھانی ہے رات کے ساڑھے تین بجے وہ بیڈ پر چوکڑی مارے آرام سے بیٹھی ہوئی تھی
میرا بچہ میں ابھی لے کے آتا ہوں وہ اس کا ہاتھ چوم تھا اس کے پاس سے اٹھنے ہی والا تھا
مجھے فریج والی نہیں کھانی باہر والی کھانی ہے وہ معصومیت سے کہہ رہی تھی
اد کی پریگنسی کو چھ مہینے گزر چکے تھے اپنی صحت کمزور ہونے کی وجہ سے وہ کہیں سے بھی چھ ماہ کی پریگنٹ لیڈی نہیں دکھتی تھی
بےبی رات کے ساڑھے تین بجے تمہارے لیے آئس کریم کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں یارن نے مسکین صورت بنائی تھی
آجکل روح کی روٹین یہ ہوچکی تھی کس کا دن سوتے ہوئے اور ساری رات جاگتے ہوئے گزرتی اور آدھی رات کو کبھی اسےکوئی مووی دیکھنے کا دل کرتا تو کبھی وہ کچی کیریاں کھانے ضد لے کر بیٹھ جاتی
اور جب تک یارم اس کی ضد کو پواا نہ کرتا تب تک وہ نہ خود سوتی تھی نہ اسے سونے دیتی تھی
یارم ہاں میں سر ہلاتا باہر آیا اور فون اٹھا کر صارم کو کال کرنے لگا
رات کو ساڑھے تین بجے یار م کی کال نے اسے پریشان کیا تھا
یارم سب خیریت تو ہے تم اس وقت فون کیوں کر رہے ہو وہ گہری نیند سے جاگا تھا
تمہاری وردی کا تھوڑا فائدہ ہوسکتا ہے کیا یارم نے سوال کیا
میں سمجھا نہیں تم کیا کہنا چاہتے ہو صارم سچ میں نہیں سمجھا تھا
مجھے ابھی اور اسی وقت اپنی بیوی کے لئے آئس کریم چاہیے لا کر دے سکتے ہو
آبادی سے باہر ایک ریسٹورنٹ ہے ساتھ میں آئس کریم پالر بھی ہے تمہیں وہاں سے آسانی سے مل جائے گی میں اتنی رات کو روح کو اکیلے چھوڑ کر نہیں جا سکتا
خضر کو میں نے کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر بھیجا ہوا ہے ۔شارف کو مشارف نے اٹھنے نہیں دینایار م نے تفصیل سے بتایا
صارم نے ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھا
انکار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔اتنے دور جانے سے بہتر تھا کہ وہ اپنی وردی کا تھوڑا بہت ٹشن دکھا کر یہیں کہیں پاس ہے کوئی پالر کھلوالے ۔اور شاید یارم نے بھی وردی کی بات اسی لئے کی تھی
میں تقریبا پندرہ بیس منٹ میں لے کر پہنچتا ہوں صارم نے فون بند کرتے ہوئے کہا اور پھر 15 منٹ کے بعد آئسکریم اس کے گھر تک بھی پہنچا گیا
جسے کھا کر روح پرسکون ہو کر سوئی تھی ۔ڈاکٹر نے ویسے تو آئس کریم یا ایسے ہی چھوٹی موٹی چیزیں بند کر رکھی تھی ۔لیکن یارم روح کو کسی بھی چیز کے لئے ترسا نہیں سکتا تھا اسی لئے ایک حد تک جس سے اسے یا اس کے ہونے والے بچے کو نقصان نہ پہنچے دیتا رہتا تھا ۔
°°°°°
ڈاکٹر نے ڈیلیوری کی ڈیٹ دے دی تھی لیکن آجکل روح کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی ابھی اس نو مہینے مکمل نہیں ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود بھی روح کی طبیعت حد درجہ خراب رہنے لگی تھی جس کی وجہ سے یارم بہت پریشان تھا
وہ روح کے لیے ڈاکٹرز کی پوری ٹیم رکھ چکا تھا
جو اس کی ننھی سی ننھی سے ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی
جو اس کی زرا سی تکلیف پر بھاگ کر اس کے پاس آتے تھے لیکن یہ درد تو قدرت کا نظام تھا جسے سہنا سب عورتوں کے لئے ایک برابر تھا
یارم ہر وقت اس کے پاس رہتا تھا وہ کام پر جانا بھی چھوڑ چکا تھا روح سے زیادہ اہم تو اس کے لئے کچھ بھی نہیں تھا اور اب تو اس کا بچہ بھی اس کی اہمیت کا طلبگار تھا
وہ ہر وقت اس کا سایہ بنے اس کے ساتھ ساتھ رہتا تھا
ابھی بھی روح آنکھیں موندے ہوئی تھی یارم اس کے سرہانے بیٹھا اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا
اسے محسوس کرتے ہوئے وہ مسکرائی تھی لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد اسے درد شروع ہونے لگا نرس نے اسے فوراً ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا جس پر یارم نے عمل کیا تھا
°°°°°
مسٹر یارم پیشنٹ کی حالت بہت خراب ہے ہم پیشنٹ کو پہلے ہی بتا چکے تھے
بچے یا مدر میں سے کسی ایک کو بچانا مشکل ہو جائے گا لیکن انہوں نے ہماری بات کو سیریس نہیں لیا اور آپ سے بھی یہ بات شیئر کرنے سے منع کردیا
ہمیں جس چیز کا ڈر تھا وہی ہو رہا ہے ہم دونوں میں سے کسی ایک کو ہی بچا پائیں گے آپ ان پر سائن کر دیں
آپ کو کس کی جان سے زیادہ عزیز ہے ۔جبکہ دوسرا پیپر اس بات کی گارنٹی ہے کہ اگر کوئی بھی آپریشن میں جان سے جاتا ہے تو ہسپتال ذمہ دار نہیں ہوگا ڈاکٹر اس کے ہاتھ میں پکڑا کر آگے جا چکی تھی
وہ ابھی تک اس کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ جانتی تھی کہ اس کی جان کو خطرہ ہے لیکن پھر بھی اس نے یہ بات یارم سے نہیں شئیر کی
تو کیا یہ بچہ اس کے لیے اتنا اہم تھا
لیکن اس کے لئے
اس کی روح اہم تھی اسے روح سے زیادہ اہم تو اس کے لیے اپنی جان بھی اہمیت نہیں رکھتی تھی
۔لیکن اگر اس نے روح کو بچا لیا اور یہ بچہ نہ رہا تو کیا روح اسے معاف کرے گی کیا وہ دوسری بار اپنا بچہ کھونے کا حوصلہ پیدا کر سکے گی
اور وہ بھی اس کنڈیشن میں کہ وہ کبھی دوبارہ ماں بھی نہیں بن سکتی ۔آج پہلی بار یارم کو لگ رہا تھاکے اس کا سب کچھ لٹ رہا ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکتا
خضر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
تو یارم نے بنا اس کی طرف دیکھے اپنی روح کو بچانے کے لئے پیپر پر سائن کر دیے
°°°°°°°
