Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 16)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
ان کا سفر کافی لمبا ہو چکا تھا
یارم اسے کہاں لے کر جا رہا تھا اسے بالکل اندازہ نہیں تھا
کیونکہ یہ جگہ اس کے لئے بہت انجان تھی اس جگہ کے بارے میں وہ کچھ بھی نہیں جانتی تھی
اب تو یارم کا ہی سہارا تھا وہ اسے جہاں بھی لے جائے اور یہاں تو کیا ہر جگہ یار م ہی اس کا سہارا تھا
ہاں لیکن تجسس ضرور تھا کہ اس بار وہ اسے کہاں لے کر جانے والا ہے
یارم اب تو آپ بتا دیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ورنہ مجھے اتنا متجسس نہ کریں کیا آپ نے کوئی پلاننگ کی ہوئی ہے پلیز پلیز بتائیں نہ مجھے ہم کہاں جانے والے ہیں روح پرجوش سی انتہائی معصومیت سے کہہ رہی تھی
اس کےاسی معصوم انداز پر تو یارم کو پیار آتا تھا اس کی روح سچ میں دنیا سے الگ تھی صبر کر جاؤ جان من جا تو رہا ہوں بس تھوڑا سا سفر اور ہے
صبر ہی تو نہیں ہوتا مجھ سے ہے ایک بات بتائیں ہم اتنا لمبا سفر کر کے جا رہے ہیں واپسی پر تو ہمیں بہت زیادہ وقت لگ جائے گا اور پھر رات میں گاڑی بھی ہم آہستہ چلائیں گے
تو پھر واپس آتے تو صبح ہو جائے گی
تین گھنٹے سے زیادہ ہوگیا ہے وقت ہمیں وہاں سے نکلے ہوئے اور ایک آپ ہیں جو مجھے کچھ بتا ہی نہیں رہے
ڈارلنگ تمہیں کس بے وقوف نے کہا کہ ہم آج واپس آنے والے ہیں
اب تو واپسی صبح ہی ہوگی ۔
اب تمہیں وہاں لے کر جانے میں اتنی محنت لگ رہی ہے توتمہیں میری محنت کا انعام بھی تو دینا ہوگا
اور انعام لیتے ہوئے ایک رات تو لگ ہی جاتی ہے یہ انتہائی بے باک اور شرارتی لہجہ پچھلے ایک ماہ میں یارم کا یہ انداز اس نے بے حد مس کیاتھا ہاں لیکن اب اس کا یہ انداز ہی سے اچھی خاصی تپ چڑا رہا تھا
اس بندے کو کسی جگہ کا لحاظ نہیں تھا
اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ لوگ انہیں دیکھ رہے ہیں ان کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں اسے تو بس اپنی روح چاہیے تھی
اور اس کی بےباکیوں پر اگر وہ اعتراض اٹھاتی تو یارم کے پاس ایک ایسا مضبوط جواب تھا
جس کے سامنے اسے خاموش ہونا ہی پڑتا
کہ تم میری بیوی ہو میرا حق ہے تم پر لوگ کون ہوتے ہیں مجھے پوچھنے والے یا ہمارے بارے میں کچھ بھی سوچنے والے
اور تمہیں بھی کوئی حق نہیں کسی اور کے بارے میں سوچنے کا بس میرے بارے میں سوچو پوری دنیا کو نظر انداز کر دو
اور یہی ایک واحد کام تھا جو روح سے نہیں ہوتا تھا
ہاں نظرانداز کرنے میں تو یارم ماہر تھا
وہ ایک روح کے علاوہ پوری دنیا کو نظر انداز کر سکتا تھا
کیونکہ روح کے علاوہ اسے کسی اور سے کوئی مطلب ہی نہیں تھا
اگر اسے زندگی میں کسی چیز کی چاہت تھی تو وہ صرف اور صرف روح کی محبت کی باقی دنیا جائے بھاڑ میں اسے کسی سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا
°°°°°°
یارم یہ کون سی جگہ ہے یہاں تو اندھیرا ہو گیا ہے
وہ گاڑی سے نکل کر کہنے لگی اسے یہاں اچھی خاصی ٹھنڈ لگ رہی تھی جب یارم نے گاڑی کی پچھلی سیٹ سے ایک ریڈ کلر کا جیکٹ اٹھا کر اسے دیا
یہ کس کا ہے روح نے فورا پوچھا
تمہارے لئے لایا تھا میں جانتا ہوں یہاں بہت ٹھنڈ ہے
جلدی سے پہنواس کو پھر چلتے ہیں یار م نے کوٹ اس کی جانب بڑھایا تو روح نے فورا تھام کر پہن لیاسردی بہت زیادہ تھی
آپ نے تو کچھ نہیں پہنا آپ کو بھی سردی لگے گی نہ روح نے فکر مندی سے کہا تویارم مسکرا دیا
میری سردی کا حل تم وہاں جاکر نکال لینا وہ شرارت سے مسکراتے ہوا گاڑی سے نکلا
یارم یہاں اتنا اندھیرا کیوں ہے یارم نے جب اس کا ہاتھ تھاما تو روح اس کے ساتھ چلتے ہوئے پوچھنے لگی
یہ جگہ شہر کی آبادی سے بہت دور ہے اسی لیے یہاں اتنا اندھیرا ہے یہاں محبت کرنے والے ہی آتے ہیں
یہ ایک جزیرہ ہے اور یہاں کے اسٹاف ممبر کسی ہوٹل کی طرح کام کرتے ہیں لیکن یہ ہوٹل نہیں ہے یہ ایک لوررپوائنٹ ہے محبت کرنے والے یہاں آ کر ملتے ہیں لیکن یہاں کی خاص بات یہ ہے کی کوئی بھی منہ اٹھا کر یہاں نہیں آ سکتا
یہ صرف ان لوگوں کو یہاں آنے دیتے ہیں جو شادی شدہ ہوتے ہیں اور اپنے ہسبینڈ یا اپنی وائف کے لیے کچھ اسپیشل پلان کرنا چاہتے ہیں
میں نے ان سے کہا کہ میں اپنی بیوی کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں تو یہ لوگ میری مدد کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور کہا کہ آپ اپنی وائف کو یہاں لے آئیں ہم سارا انتظام سنبھال لیں گے
بس پھر میں اپنی پیاری سی بیوی کو یہاں لے آیا ہوں اب چل کر دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے کیا کیا ہے
وہ سب کچھ تو ٹھیک ہے یارم لیلکن یہ لوگ خود کہاں ہیں یہاں پر تو کوئی نہیں ہے ہمارے علاوہ پہاڑ کے بیچ و بیچ بنی سیڑھیاں اوپر کی جانب جا رہی تھی اور اس راستے پر روشنی کے لیے بڑے بڑے لائٹ بالز لگائے گئے تھے
روح اس پر چلتے ہوئے وہ اپنے آپ کو کسی پری کی طرح محسوس کر رہی تھی
بے حد حسین سیڑھیاں اور سیڑھیوں کے دونوں اطراف لگے پھول جو اس طرح سے لگائے گئے تھے کہ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ پھول ان کے قدموں میں پڑے انہیں ویلکم کر رہے ہیں
ڈارلنگ وہ لوگ اپنا کام کر کے جزیرے کی دوسری جانب جا چکے ہیں تاکہ ہمیں کسی بھی قسم کی کوئی ڈسٹربنس نہ ہو
یار م کی بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے مزید زینے چڑھنے لگی لیکن سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے روح کی سانس پھولنے لگی تھی
۔شاید یہ سیڑھیوں کا سفر ابھی اس کے لیے بہت زیادہ تھا
یا رم نے اس کی پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا
یارم میں چلی جاؤں گی یہ اتنا بھی مشکل نہیں ہے روح نے فوراً کہا تھا
میں تمہاری مشکل آسان کرنے کے لیے تمہیں نہیں اٹھا رہا تو میں تمہیں اپنی بے حد قریب محسوس کرنے کے لئے اٹھا رہا ہوں
ان سیڑھیوں سے زیادہ تم میری باہوں میں سوٹ کرتی ہو یارم مسکرا کر کہتے ہوئے اسے شرمانے پر مجبور کر گیا
اور اس کی شرمیلی سی مسکراہٹ یارم کے ڈمپلز گہرے کر گئی تھی
°°°°°
سیڑھیاں چڑھ کر وہ اسے پہاڑی کی چوٹی پر لے آیا تھا ۔
جو کہ بے حد خوبصورتی سے سجائی گئی تھی
ایک چھوٹے سے شیشے نما جار میں سفید بیڈ کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا شیشے کے چاروں طرف سرخ جالی نما کپڑے سے ڈیزائننگ کی گئی تھی
پہاڑی کے کونے کی طرف ایک ٹیبل لگائی گئی تھی جس کے آگے پیچھے دو چیئر تھی
ڈش سے نکلتا دھواں اس بات کی گواہی تھی کہ کھانا ابھی ابھی لگایا گیا ہے
اور اس کی خوشبو بتا رہی تھی کہ ہر چیز روح کی پسند کی ہے
ڈنر کر لیں ڈارلنگ ویسے تو آج رات میرا تمہیں کھانے کا ارادہ ہے لیکن میرے خیال میں یہ فریضہ مجھے ڈنر کے بعد سرانجام دینا چاہیے اس کے گال کو چومتے ہوئے یارم اس کا ہاتھ تھامے میز کی جانب لے کر آیا
آپ بے حد بے شرم ہو گئے ہیں یارم آپ کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے روح نے جیسے کوئی راز کھولا تھا
مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے لیکن کوئی بات نہیں تم اس کا علاج کر سکتی ہو تمہیں بس اتنا کرنا ہے کہ بنا کسی مزاحمت کے اپنے آپ میرے پاس آ جانا ہے اس سے مجھے تمہارے ساتھ کسی قسم کی بے شرمی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی
اچھا مذاق ہے آپ کو بے شرمی سے روکنے کے لیے خود بے شرم بن جاؤں وہ اسے گھورتے ہوئے بولی تو یارم گہرا مسکرایا
اب اس کا حل تو یہی ہے وہ اب بھی باز نہیں آیا
آپ اپنے حل اپنے پاس ہیں رکھے مجھے نہیں چاہیے ایسے بے شرمی سے بھرپور حل میں ایسے ہی ٹھیک ہوں روح نے فوراً جواب دیا ۔
مطلب کے تمہیں میری بے شرمی برداشت کرنی ہوگی ۔کوئی حل نہ پاکر یارم واپس اپنے حل کی طرف آ گیا تھا
یارم بہت خراب ہیں آپ کبھی نہیں سدھر سکتے یہ آخری لیول ہے وہ اس کی معلومات میں اضافہ کرنے لگی
نہیں ڈارلنگ یہ آخری لیول نہیں ہے اگر میں آخری لیول کی طرف آ گیا نا تو تم چہرہ چھپاتی پھروگی
بس کردیں یارم کھاناکھانے دیں مجھے وہ شرم سے سر جھکاتی اسے ڈانٹے ہوئے کہنے لگی
میری جان میں نے کونسا تمہارے ہاتھ پکڑ لیے ہیں یہ تمہارے سامنےکھانا ہے کھاؤ آرام سے کھاؤ یا رم نے شرارت سے کہا
آپ خاموش ہوں گے تو میں کچھ کھا پاؤں گی نہ وہ گھور کر بولی
ہاں یار ہو گیا خاموش کچھ نہیں کہتا میں کچھ کہنے میں رکھا ہی کیا ہے مزہ تو کچھ کرنے میں ہے وہ ایک بار پھر سے بے باکی سے کہتا اسے سر جھکانے پر مجبور کر گیا
اس بار روح نے اس کی بے باکی کا کوئی جواب نہیں دیا تھا بلکہ سرجھکائے کھانا کھانے لگی اس سے مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا
اس نے بے شرمی میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی
°°°°°
ڈنر کے بعد وہ ایک بار پھر سے اس حسین نظارے کو دیکھنے لگی دور دور سے روشنیاں سی نظر آ رہی تھی جیسے کوئی شہر بسا ہو
پہاڑی کے نیچے کی طرف ایک نہر بہہ رہی تھی جس میں بے حد ستارے اور نیچے کی طرف سے آنے والی چھوٹی چھوٹی روشنیوں کا عکس تھا اور آسمان پر چمکتا وہ واحد پورا چاند جو بے حد حسین لگ رہا تھا
روح نے محسوس کیا کہ نیچے کی جانب صرف روشنی ان چھوٹی چھوٹی لائٹس کی وجہ سے یا ستاروں کی وجہ سے نہیں ہے
بلکہ وہ چھوٹے چھوٹے سے تارے تو آڑ رہے ہیں اس نے پیچھے کی جانب یارم کو کسی کو اشارہ کرتے ہوئے دیکھا
یارم آپ وہاں کیا کر رہے ہیں یہاں آ کر دیکھئے وہ ستارے چل پھر رہے ہیں دوری کی وجہ سے وہ اس چیز کی وجہ نہیں سمجھ پا رہی تھی لیکن یارم کو اس طرح کسی کو اشارہ کرتے دیکھ کر حیران ضرور ہوئی تھی
جانے من میں یہیں پر تو آ رہا تھا یہاں شاید لائٹنگ کی گئی ہے اور ہوا سے لائٹ ہل رہی ہوں گی اس لیے ایسا محسوس ہو رہا ہے وہ اس کے پیچھے آتے ہوئے کہنے لگا تو روح نے نہ میں سر ہلایا نہیں وہ کچھ اور ہے
وہ جگنو ہے ہاں وہ جگنو ہے یارم دیکھے پانی کے قریب وہ سب جگنو ہی تو ہیں جو اس طرح سے چمک رہے ہیں کتنے پیارے لگ رہے ہیں میں نے کبھی انتے سارے جگنو کو اس طرح سے چمکتے ہوئے نہیں دیکھا ماشااللہ کتنا خوبصورت نظارہ ہے
میرے اللہ کی حسین قدرت سبحان اللہ اس جگہ کو دیکھیں کتنی پیاری ہے یہ جگہ شاید یہی وہ جگہ ہے جس کے لئے کہا جاتا ہے کہ چاندنی زمین پر اترتی ہے
وہ حسرت بھری نظروں سے اس جگہ کا دیدار کرتے ہوئے چاہت سے بولی جب کہ یارم کا دھیان تو صرف اس کے چہرے پر تھا
میری چاندنی تو روز زمین پر اترتی ہے صرف میرے آنگن میں مجھے تو بس میری چاندنی سے مطلب ہے وہ اسے اپنے حصار میں لے لیتے ہوئے بولا تو روح اس کے سینے سے اپنا سر ٹکاتی اس نظارے کو آنکھ بھر کر دیکھنے لگی
یہ چاندنی صرف آپ کی ہے اور یہ صرف آپ کے آنگن میں ہی اترے گی کیونکہ اس پر صرف آپ کا حق ہے وہ مان بخشتے انداز میں بولی ۔
بالکل ٹھیک کہا تم نے جو میرا ہے وہ صرف میرا ہے میں کسی کو نہیں دوں گا وہ اسے نرمی سے اپنے حصار میں لے لیتا جیسے خود میں چھپا رہا تھا
یارم آپ وہاں کیسے اشارہ کر رہے تھے بتائیں ذرا مجھے روح کو اچانک یاد آیا تو وہ مڑ کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
میں تو کسی کو اشارہ نہیں کر رہا تھا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے وہ مکر گیا
مجھے پکا یقین ہے کہ آپ کسی کو اشارے کر رہے تھے وہ کہاں اسے مکرنے دینے والی تھی
روح چھوڑو ان باتوں کو یہ دیکھو بارہ ہونے میں صرف تین منٹ باقی ہیں کتنی رات ہوگئی نا وہ اسے باتوں میں بہلا رہا تھا
ہاں صرف تین منٹ باقی ہیں لیکن آپ کو تو کچھ یاد ہی نہیں وہ منہ بنا کر بولی تو یارم کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
تمہیں پتا ہے سال کا سب سے خوبصورت دن شروع ہونے والا ہے وہ دن جب میری روح اس دنیا میں آئی صرف میرے لیے وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا اسے مسکرانے پر مجبور کر کے اسے یاد تھا اور روح کو لگا کہ وہ بھول گیا
آپ بہت اچھے ہیں یارم وہ اس کے سینے میں سر چھپاتی لاڈ سے بولی جبکہ یارم کے ایک اشارے پر نیچے سے کچھ لوگوں اوپر کے جانب آئے
ٹیبل سے ڈنر کا سارا سامان اٹھا کر وہاں ایک خوبصورت سا کیک سجایا جس میں ایک شہزادہ اور شہزادی ایک دوسرے کے بے حد قریب کھڑے شاید حال دل سنا رہے تھے
ہیپی برتھ ڈے میری جان لیکن تمہاری اس برتھ ڈے پر میں تمہیں نہیں بلکہ خود کو دعا دوں گا اللہ تمہیں ہمیشہ میرے ساتھ رکھے
تم زندگی میں جہاں بھی جاؤ مجھے ہی پاؤ
تمہاری ہر خواہش مجھ سے شروع ہو اور مجھ پہ ختم ہو
روح یارم کا رشتہ روح ِ یارم بن کر ہمیشہ ہم دونوں کے درمیان قائم رہے
اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے یارم نے اسے خود میں چھپایا
جبکہ روح کے منہ سے سرگوشی نما آواز میں آمین ثم آمین سن کر اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
آجاؤ اس کیک کو شہید کرتے ہیں وہ اسے میز کی جانب لے جاتے ہوئے مسکرا کر بولا تو روح کھلکھلا کر اسکے اس کے ساتھ آئی
یارم میں 12 سال کی نہیں ہوں روح نے کیک پر موجود کینڈل دیکھ کر منہ بنایا
روح اسٹاف کے لوگ تھوڑے سے نکمے ہیں یا شاید تمہیں کوئی چھوٹی بچی سمجھ رہے ہیں وہ کینڈلز کو آگے پیچھے کرتا وضاحت دیتے ہوئے اسے پیچھے سے تھام چکا تھا
یارم نائف کہاں ہے ٹیبل پر چھری بھی موجود نہیں تھی
روح کیا ہے نا جتنی یہ جگہ خوبصورت ہے یہاں کے اسٹاف ممبر شاید اتنے ہی نکمے اور بھلکر ہیں لیکن میں ہوں نہ فکر ناٹ اپنی جیب سے بلیڈ نکالتے ہوئے بولا تو روح نے اسے گھور کر دیکھا
یارم مجھے چھری لا کر دیں میں اس کے ساتھ نہیں کاٹوں گی وہ بلیڈ یارم کی طرف کرتے ہوئے کہنے لگی
تم اسی کے ساتھ کیک کو شہید کروگی کیونکہ تمہارا شوہر بھی یہ کام بہت آرام سے کرتا ہے اچھی بات ہے تمہیں پریکٹس کرنی چاہیے ہو سکتا ہے فیوچر میں تمہیں بھی یہ کام کرنا پڑے
استغفراللہ یارم میں کبھی ایسا کام نہیں کروں گی اور نہ ہی مجھے لوگوں کے پرزے کاٹ کر کوئی خاص خوشی ملتی ہے اس نے فوراً جواب دیا
تمہیں ایک بار ٹرائی کرنا چاہیے روح یہ کام بہت مزے کا ہے ایک بار کوشش تو کرو بہت مزہ آئے گا آج یہ کیک کل کسی کی گردن واو یارم صاف اسے تنگ کررہاتھا
یارم انسان بن جائے مجھ سے ایسی باتیں نہ کریں اور نہ ہی مجھ سے یہ کام ہوتے ہیں وہ سہم کر بولی تم نہ چاہتے ہوئے بھی یار م کا قہقہ بلند ہوا
مذاق کر رہا ہوں یارم جانتا ہوں میری روح میں اتنی ہمت نہیں ہے لیکن کیک تمہیں اسی سے کاٹنا ہوگا کیونکہ سٹاف کے ممبر ہمہیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتے
اور میں بھی نہیں چاہتا کہ اب اس طرف کوئی اور آئے اب تو یہاں صرف میں اور تم رہیں گے
یارم کے زبردستی بلیٹڈ ہاتھ میں پکڑانے پر روح نے مجبور ہوکر ہاتھ کیک کی جانب بڑھایا
یارم شہزادہ اور شہزادی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ہم سائیڈ سے کاٹیں گے اس کا ہاتھ ڈولز کی جانب بڑھتا دیکھ کر روح نے فورا کہا تھا کہیں اس شہزادے اور شہزادی کی گردن کٹ ہی نہ جائے
اوکے بےبی ہم سائیڈ سے کاٹیں گے وہ اس کی بات مانتے ہوئے بولا
کیک کا ایک چھوٹا سا پیس کاٹ کر روح نے اس کی جانب بڑھایا تو وہی پیس تھام کر اس نے روح کے لبوں سے لگایا
یہ کیک میٹھا تب ہوگا جب تمہارے لبوں کی مٹھاس اس میں شامل ہوگی
وہ آرام سے کہتا کیک کا تھوڑا سا حصّہ اس کے منہ میں ڈال چکا تھا اور اب وہ اس کے لبوں پر جھکا
اس کے لبوں کو اپنے لبوں کے دسترس میں لیے وہ مکمل مدہوش ہو چکا تھا جب کہ روح اس کی کالر کو اپنے ہاتھ میں دبوچتی مکمل مزاحمت چھوڑ چکی تھی
یارم آہستہ سے اس کا وجود اپنی باہوں میں اٹھائے وہ اسے اس چھوٹے سے جار نما کمرے میں لے آیا
اسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے یارم نے سارے پردے گرا دیے اور اب وہ اس کے نازک سے وجود کو اپنی باہوں میں قید کرتے ہوئے چھوٹی سی لائٹ کو بھی بجھا چکا تھا
اپنے چہرے کے ایک ایک نقش پر اس کے لبوں کا لمس محسوس کرتے ہوئے وہ دھیرے سے مسکرائی
یارم میرا برتھ ڈے گفٹ اس کی سرگوشی نما آواز نے یار م کی مدہوشی کو توڑا تھا
پہلے میں اپنا گفٹ وصول کر لوں تمہارا تحفہ صبح ملے گا اس کے لبوں پہ اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے یارم نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر تکیے سے لگائے تھے
جب کہ ہر وہ مسکراتے ہوئے اپنا آپ اس کے سپرد کر چکی تھی
°°°°°°°
