Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 33)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 33)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
روح کی ضد پر یارم آج چوتھے دن ہی اسے اپنے ساتھ واپس گھر لے کر جا رہا تھا
ڈاکٹر نے ایک ہفتے کے ریسٹ کے لئے کہا تھا
لیکن روح اپنے بچے کو ہسپتال میں نہیں رکھ سکتی تھی
اسے لگتا تھا کہ یہاں اچھے خاصے شخص کی صحت خراب ہو جائے وہ بیچارہ تو ابھی ابھی پیدا ہوا تھا اور اس کی صحت بھی کافی نازک تھی
اور وہ اپنے کمزور سے بچے کو ہسپتال میں بالکل نہیں رکھنا چاہتی تھی
اسے ہسپتال کی نرسوں کی نہیں بلکہ اپنی ماں کی ضرورت تھی
اور اوپر سے کیسے عجیب لوگ تھے اس ہسپتال کے ہر تھوڑی دیر کے بعد رویام کو اس سے دور کاٹ میں لیتا دیتے اور اسے ریسٹ کرنے کے لیے کہہ دیتے
بھلا کون کہتا ہے کسی ماں کے ساتھ ایسا ۔۔۔۔؟
اندر ہی اندر اسے اس بات کا غصہ تھا ۔کہ وہ لوگ رویام کو زیادہ دیر اس کے پاس نہیں رہنے دے رہے تھے ۔روح کا بس چلتا تو وہ تو اسے ایک سیکنڈ کے لیے بھی خود سے دور نہ کرتی
دو تین بار تو اس نے نرس سے کہہ بھی دیا کہ کاٹ کو ہی اس کے بیڈ کے پاس رکھ جائے وہ بس دور سے ہی رویام کو دیکھتی رہے گی لیکن نرس نے مسکرا دیا جیسے وہ کوئی بےوقوفی والی بات کر رہی ہو
اور جاتے ہوئے بےبی کاٹ کو بھی آگے کر کر نہیں گئی ظالم عورت
وہ تو یارم سے ضد چل گئی اور وہ اسے گھر لے آنے کے لیے تیار ہو گیا
ورنہ یہ ہسپتال والے تو اسے اس کے بچے سے ہی دور کردیتے۔ بے وقوف بے حس لوگ ایک ماں کی فیلنگز کو نہیں سمجھتے تھے (بقول روح کے)
ایک تو اتنی منتوں مرادوں کے بعد اسے ایک بچہ ملا تھا وہ بھی ان ہسپتالوں کی ظلم کی نظر ہو رہا تھا ۔
خضر اور شارف نے تو بہت منع کیا کہا کہ ابھی روح کو ہسپتال میں ہی رہنے دو ہم سب یہاں اس کا بہت خیال رکھیں گے لیکن روح کے جھوٹے آنسووں پر یارم پگھل گیا ۔
اور اب روح سکون سے واپسی کی تیاری کر رہی تھی
°°°°°
یہ سب کیا ہے ۔۔۔؟
بڑے بڑے کاٹن کو ہسپتال کے اندر رکھتے ہوئے آدمی کو دیکھ ڈاکٹر نے پوچھا
سر یہ بےبی پیمپرز ہیں
یارم کاظمی کی طرف سے آرڈر ملا ہے آدمی نے تفصیل بتائی
تو ڈاکٹر ہاں میں سر ہلاتا یارم کے پاس چلایا
سر آپ نے ہسپتال میں اتنے زیادہ پیپرز کیوں منگوائے ہیں
کیوں کہ آپ کی نرس بتا رہی تھی کہ اتنے بڑے ہسپتال میں پیپر ختم ہوگئے ہیں
اور میرے بیٹے کو بغیر پیپر کے رکھا گیا تھا مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں آئی یارم اسے گھورتے ہوئے اس انداز میں بولا جیسے کہہ رہا ہوآئندہ کبھی پیپرز ختم نہیں ہونے چاہیے
جبکہ خضر اور شارف کو ایک بار پھر سے ہنسی آنے لگی
انہوں نے یہ نظارہ لائو تو نہیں دیکھا تھا
لیکن روح نے ایسے چٹخارے دار انداز میں انہیں پوری کہانی سنائی تھی کہ ابھی تک یاد کرتے ہی انہیں ہنسی آجاتی
تھینک یو سو مچ سر ڈاکٹر شکریہ ادا کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا
جب کے یار م نے ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں خضر اور شارف اپنا قہقہ روکے ہوئے سرخ چہرے کے ساتھ کھڑے تھے
تم لوگوں کو یہاں کھڑے رہنے کے لئے نہیں بلایا ہے میں نے جاؤ روح کا سامان اٹھا کر گاڑی میں رکھو
اور ہاں اس نمونے کو بھی ساتھ اٹھا کرلے جانا
یارم نے اس انداز میں کہا کہ وہ دونوں اسے گھورنے لگے وہ کس نمونے کی بات کر رہا تھا
یارم نمونہ کون شونو تو خود اپنے پیروں پر چل سکتا ہے ۔۔۔۔۔
میں اس کتے کے بچے کی نہیں اپنے بچے کی بات کر رہا ہوں ان دونوں کے حیران ہونے پر وہ سمجھاتے ہوئے بولا
ارے یارم نے نگینہ کہاہے ہمیں سننے میں غلطی ہوگئی خضر شارف کے کندھے پر چماٹ لگاتے ہوئے بولا
تم لوگوں کے لیے وہ جو بھی ہو لیکن میرے لیے تو نمونہ ہی ہے
آتے ہی میری روح پر قبضہ کرلیا اس ایلفی کے بچے نے جب سے آیا ہے اس دنیا میں روح نے مجھ سے ایک بار نہیں پوچھا یارم آپ نے کھانا کھایا
یارم آپ نے کل سے یہی کپڑے پہنے ہیں اتارے کیوں نہیں
ابھی چار دن کا ہے اور میری جگہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے
اسے تو میں ٹھیک کروں گا بس زرا بڑا ہو جائے ابھی بہت چھوٹا ہے یارم جلدی جلدی بول رہا تھا جب ان دونوں کو حیرانگی سے خود کو دیکھتے پایا
پھر وہ اپنی باتوں پہ غور کر کے ذرا ٹھنڈے لہجے میں بولا
کیا سوچ رہے ہوں گے یہ دونوں اس نے تین چار دن کے بچے سے دشمنی پل لی ہے یارم نے سوچتے ہوئے بات بدلی اور وہ دونوں جو حیرانگی سے دیکھ رہے تھے بے ساختہ قہقہ اٹھے
یارم اتنی جیلسی یار کیا ہوگیا ہے تمہارا بچہ ہے وہ آخر روح کے ساتھ ہی رہے گا نہ خضر اس کےکاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے سمجھانے لگا
فضول بولنا بند کرو جتنا کہا ہے اتنا کرو یارم اس کا ہاتھ جھٹکتا اندر چلا گیا جب کہ خضر اور شارف کو اپنی ہنسی روکنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا
ہاہاہاہا ڈان بنا پھرتا ہے اب پتہ چلے گا بیٹا ڈان کے اوپر بھی ایک ڈان ہوتا ہے
وہ دونوں قہقہ لگاتے ہوئے سامان اٹھانے نکل گئے
°°°°°°
روح یار یارم نے کہا ہے کہ رویام گاڑی تک لے چلو تم اٹھا کر نہیں چل پاؤ گی
ابھی تمہیں خود سہارے کی ضرورت ہے
اسے شارف اٹھا لے گا اور تمہیں میں تھام کر چلوں گا صرف تمہیں صرف سہارا دوں گا گاڑی میں بیٹھتے ہی تم رویام کواپنی گود میں لے لینا
اور شارف کون سا اسے دوسری گاڑی میں لے کر جانے والا ہے جو تو اسے اٹھانے ہی نہیں دے رہی
خضرنے سمجھاتے ہوئے کہا
یارم اس کے ڈسچارج پیپر تیار کروانے جا چکا تھا
جبکہ روح اب یہ ضد کر رہی تھی کہ وہ خود اسے اپنی گود میں اٹھا کر باہر لے کر جائے گی پتا نہیں بچے کے معاملے میں روح بہت زیادہ ٹچی کیوں ہوتی جا رہی تھی
اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ ہر وقت رویام کو اپنی گود میں لے کر رکھے
وہ تو اسے ایک پل کے لئے بھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دے
شارف نے بہت آہستگی سے اس کی گود سے رویام کو اٹھایا
خضر روح کے گرد ہاتھ پھیلاتے ہوئے اس شارف کے ساتھ ہی باہر لے آیا
روح کی جزباتی طبیعت کو سمجھتے ہوئے شارف نے ایک قدم بھی اس سے فاصلے پر نہیں اٹھایا تھا وہ اس کے بالکل برابر چل رہا تھا
بلکہ ساتھ ساتھ ہیں وہ دونوں رویام کے نقش و نگار پر غور کر رہے تھے
وہ نہ صرف یارم سے بےحد ملتا تھا بلکہ اس کی آنکھوں کا کلر بھی یارم جیسا تھا اور چہرے پڑتا گہرا ڈمپل اس کے چھوٹے سےچہرے کو مزید روشن بنا دیتا تھا
روح اپنے بچے کو بچا کر رکھنا تمہارا شوہر تمہارے بیٹے سے بہت جلتا ہے ۔خضر نے ساتھ ہی اسے راز کی بات بتائی تھی
کیا ہوگیا ہے آپ کو ماموں بلا کوئی باپ اپنے بیٹے سے جل سکتا ہے ۔روح نے ہستے ہوئے کہا
تم ابھی تک یارم کاظمی کو نہیں جانتی روح وہ اپنی ملکیت پر صرف اپنا حق سمجھتا ہے
اور یہاں یہ جناب چھوٹے میاں اس کی ملکیت میں حصہ دار بننا گئے ہیں اب یہاں پر جلیسی تو بنتی ہے
خضر کا انداز مزے لینے والا تھا ۔جب کہ اس کی بات کو سمجھ کر نا چاہتے ہوئے بھی روح مسکرائی
میرے یارم اپنے بیٹے سے بہت پیار کریں گے ۔روح نے فوراً یارم کی سائیڈ لی تھی
ارے تو ہم نے کونسا کہا یارم اس سے پیار نہیں کرے گا یارم اس سے بہت پیار کرتا ہے ۔اور بے شک وہ اسے تم سے بھی زیادہ چائے گا ۔
لیکن تمہارا دھیان یارم سے بھی ہٹنا نہیں چاہیے ورنہ دبئی میں باپ بیٹے کی ایسی جنگ چھڑے گی کہ تم کبھی بھول نہیں پاؤ گی خضر کا انداز ڈرانے والا تھا
جبکہ نیچے اترتے ہی یار م نے اپنے نمونے کو اپنی گود میں لے لیا تھا اور ساتھ ہی حضرنے اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے یارم کو روح کو تھامنے کا موقع دیا
چلو نکلو تم لوگ پچھلی گاڑی میں آؤ
وہ ان دونوں کو آرڈر دے رہا تھا اور ساتھ ہی شارف کو گاڑی کا دروازہ کھولنے کا اشارہ بھی کر ڈالا
ہمہیں بھی رویام کے ساتھ چلنا ہے شارف نے کہا
جب کہ ان سے پہلے شونو گاڑی کے اندر بیٹھ چکا تھا
میں نے کہا پچھلی گاڑی میں آؤ یاتم نے سخت لہجے میں کہتے ہوئے روح کو گاڑی میں بٹھایا اور رویام کے سوئے ہوئے وجود کو آہستہ سے اس کی گود میں رکھ دیا
خضر اور شارف دور تک ان کی گاڑی کو دیکھتے رہے
یارہم سے زیادہ تو ان دونوں کی زندگی میں اس کتے کی اہمیت ہے کیسا کتا ہے اپنے باپ کی گاڑی سمجھ کر فورا بیٹھ جاتا ہے
شارف نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی
ایک تو ویسے بھی رویام کے چہرے سے نظر ہٹا نے کا دل نہیں کرتا تھا اور اوپر سے یارم نے اتنے کام دے ڈالے تھے خضر آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر پھیلاتے ہوئے اسے چلنے کا اشارہ کرنے لگا
کیونکہ یارم کا آرڈر فالو کرنے کے علاوہ کر ہی کیا سکتے تھے
°°°°°°
یارم آپ شارف بھائی کو آنے دیتے نہ ساتھ ان کا کا کتنا دل کر رہا تھا رویام کے ساتھ آنے کا آج پہلی بار سفر کے دوران روح کی نظریں نہ تو یارم کے چہرے کی طرف تھی اور نہ ہی باہر سڑک کی طرف وہ مسلسل رویام کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھی
روح مجھے تھوڑی پرائیویسی چاہیے
کتنے دن ہو گئے ہیں تمہیں ٹھیک سے دیکھا ہی نہیں وہ آہستہ سے جھک کر اس کے چہرے کو ایک ہاتھ سے تھام کر اس کے گال پرلب رکھتے ہوئے پیچھے ہٹا جب کہ اس کی بے باکی پر وہ ایک پل میں سرخ ہو چکی تھی
یارم کی کیا حرکت ہے ڈرائیونگ پر فوکس کریں وہ سرخ ہوتے ہوئے اسے ڈانٹ کر بولی جبکہ یارم مسکرایا
ادھر کیسے فوکس کروں جب ساتھ میں اتنی حسین بیوی بیٹھی ہو
اور اگر شارف کا چہرہ تمہیں اتنا ہی اداس لگ رہا تھا تو تم رویام کو اس کے حوالے کر دیتی رویام اس کے ساتھ آ جاتا لگے ہاتھ ہمارا رومانس ۔۔۔۔وہ کہتے ہوئے ایک بار پھر سے اس کے گال پر جھکا
یارم باز آ جائیں آپ رویام دیکھ رہا ہے اس نے یہ رویام کی طرف اشارہ کیا جو اپنی دونوں گول گول آنکھیں کھولے اپنے باپ کو گھورے جا رہا تھا
بڑا ہی کوئی بے شرم ہے ماں باپ کو رومانس کرتے ہوئے نہیں دیکھتے وہ اس کی آنکھیں بند کرتے اس کے چھوٹے سے چہرے پر اپناہاتھ انتہائی نرمی سے رکھ کر اٹھاتے ہوئے بولا
جبکہ اس کی حرکت پر اس کے گال کے ڈمپل نمایاں ہوئے
جیسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے روح نےاس کے گال پہ اپنے لب رکھتے ہوئے چھوا
بہت ہی غلط بات ہے روح کبھی میرے ڈمپل کو اس طرح سے نہیں چھواتم نے یار م نے اسے گھورتے ہوئے کہا
آپ کا اور اس کا بھلا کیا مقابلہ یہ تو میرا چھوٹا سا بیٹا ہے میرء جگر کا ٹکڑا ہےوہ ایک نظریارم کی طرف دیکھ کر پھر سے جانثار نظروں سے رویام کو دیکھتے ہوئے بولی
میں بھی تمہارا شوہر ہوں تمہارے دل پر میرا حق ہے بیٹے کے آجانے سے تم مجھے بھول نہیں سکتی یارم نے جیسے یاد دلایا تھا
یارم میں آپ کو نہیں بھولی کیا ہوگیا ہے آپ کو ۔۔۔
ویسے آپ ہیں کون کیا میں آپ کو جانتی ہوں یارم کی بات پر روح پہلے تو جذباتی انداز میں بولی لیکن پھر شرارت سے بات بدل گئی
گھر چلو پھر بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں اس کے انداز پر وہ مسکراتے ہوئے بولا
جب کہ سچ تو یہ تھا کہ یارم کی نظر بھی بار بار بھٹک رویام کے چہرے کی طرف جا رہی تھی
رویام کے چہرے سے نظر ہٹا نے کا اس کا بھی بالکل دل نہیں کر رہا تھا
لیکن مجبوری یہ تھی کہ اسے گاڑی بھی چلانی تھی
سب کا کہنا تھا کہ اس کے سارے نقش یارم سے ملتے ہیں
اور اگر ایسا تھا تو بے شک یارم بچپن میں بہت ہی پیارا بچہ ہوا ہوگا کیونکہ اس کا بیٹا بے حد پیارا تھا اور یہ بات وہ دل سے قبول کرتا تھا
°°°°°
یا رم نے لمبا راستہ کیا تھا اور انہیں آنے میں کافی دیر ہوگئی دوسرے راستے پر چڑھائی زیادہ تھی
اور وہ روح اور اپنے بچے کو بالکل سیفٹی سے گھر لانا چاہتا تھا
شارف اور خضر پہلے سے ہی ان کے گھر پر پہنچ چکے تھے
جبکہ لیلی اور معصومہ اپنے بچوں سمت پہلے سے ہی یہاں تھی
اور صارم بھی اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر فیملی کے ساتھ آج انہیں کے پاس تھا
سب نے بہت خوشی سے رویام کو گھرمیں ویلکم کیا
لیلی اور معصومہ نے تو پورے گھر کو ہی سجا ڈالا تھا ہسپتال میں لی گئی پہلے دن کی تصویر کو فریم کرکے گھر کی سینٹر والی دیوار پر لگایا تھا جہاں روح اور یارم ایک ساتھ بیٹھے رویام کو اپنی گود میں لیے مسکرا رہے تھے
سب کے ہاتھوں میں رویام کے لئے تحفے تھے جن سے کھیلنے کے وہ فی الحال قابل تو نہیں تھا ۔لیکن وہ سارے تحفے ایک سے بڑھ کر ایک تھے
رویام کو پہلے دن کے کپڑے خضرکے گھر سے پہنائے گئے تھے کیونکہ خضرر بہت فخر سے اس بات کو قبول کر رہا تھا کہ وہ رویا م کانانا ہے
ہاں لیکن لیلیٰ کو نانی بنتے ہوئے بہت عجیب لگ رہا تھا
اب کیا صرف 29سال کی عمر میں وہ نانی بنتی اچھی لگتی کیا لیکن اب تو ہر کسی کو بہانہ مل گیا تھا اسے چھڑنے کا
اور تو اور اب یارم اسے بلاتا رویام کی نانی کے نام سے تھا ۔
شارف رویام کواپنی گود میں لئے سب بچوں کو اس سے متعارف کروا رہا تھا
ویسے تو وہ سب اس سے مل بھی چکے تھے اور اسے غبارے باندھ کراڑانے کی کوشش بھی کر چکے تھے لیکن گھر آنے کے بعد وہ ایک نئے انداز میں اس سے ملے
مشارف صاحب کا تو کہنا تھا کہ وہ اکیلے ہیں اسی لیے اسے اپنے ساتھ ہی لے چلیں لیکن اس کی بات سن کر یارم نے کہا کہ اپنے باپ سے رابطہ کرو وہ تمہیں بہن بھائی دے سکتا ہے ہمارے بچے پر نظر رکھنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے
اب جو بھی تھا آپنے چند دن کا بچہ تھا تو اسے بھی بہت پیارا تھا
سب کے جانے کے بعد یار اسےایک کمرے میں آنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود اندر چلا گیا
روح آہستہ سے رویام کو اٹھاتی شونو کو اشارہ کرتی اس کی پیچھے چلی گئی
°°°°
یہ ایک بے حد پیارا کمرہ تھا جو کسی بچے کے لیے سجایا اور بنایا گیا تھا
اس سے پہلے کل تک یہ ایک ایکسٹرا بیڈ روم تھا جس میں ایک بیڈ اور صوفہ کے ساتھ کسی مہمان کے رہنے کی مکمل جگہ بنائی گئی تھی
کیسا لگا ہمارے رویام کا کمرا ۔۔۔۔¡یا رم نے مسکراتے ہوئے پوچھا
کمرے میں ایک منی سائز کا بیڈ تھا
ہر طرف کھلونے ہی کھلونے تھے کمرے کو پورا بلو کلر کیا گیا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ یارم کو پتہ چلا تھا کہ بیٹے کی صحت پر نیلا کلر اچھا اثر کرتا ہے جب کہ بیٹی کی صحت پر ہلکا گلابی کلر اچھا اثر کرتا ہے
بہت پیارا کمرہ ہے یارم یہ آپ نے سجایا روح کو یقین نہیں آرہا تھا
آف کورس میں نے بنایا ہے اپنے بیٹے کے لئے ویسے میں بہت اچھا ڈیزائنر نہیں ہوں لیکن ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے
وہ آہستہ رویام کو روح کی گود سے لیتے ہوئے بیڈ پر لیٹاچکا تھا
جہاں وہ پر سکون نیند کے مزے لیتا اتنا پیارا لگ رہا تھا کہ روح کا دل کیا کہ ابھی جائے اور اسے پیار کرنے لگے
روح یار یہ اتنا زیادہ سوتا کیوں ہے روح کو اپنے بے حد قریب کیے وہ سوال کرنے لگا
پتا نہیں میں نے بھی لیلی سے پوچھا تھا اس نے کہا تھا بچے ایسے ہی سوتے ہیں
سوتے ہیں اور روتے ہیں لیکن ہمارے بیٹے کی کوالٹی چیک کریں وہ صرف سوتا ہے اور مسکراتا ہے روح نے فخر سے بتایا تھا
اور واقعی یہ بات سچ تھی رویام کو ابھی تک روتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا تھا ۔بس جب اس کا رونے کا دل کرتا تو اتنی پیاری شکل بناتا کہ روح ا سے فورا اپنی گود میں لے لیتی اور وہ خود ہی چپ ہو کر مسکرانے لگ سکتا
اچھا چلو اب ہم اسے بالکل ڈسٹرب نہیں کرتے اپنے کمرے میں چلتے ہیں وہ روح کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا
ہاں تو اسے ساتھ لے کر جائیں گے یہاں اکیلےچھوڑ تو نہیں سکتے روح نے فکر مندی سے کہا
روح تو ایسے بات کر رہی ہو جیسے دوسرے کمرے میں نہیں کسی دوسرے گھر میں جا رہے ہیں یہیں پر ہی اگر روئے گا تو آواز آ جائے گی کیا یارم نے پیار سے کہتے ہوئے اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا
بالکل نہیں یارم کیا ہوگیا ہے آپ کو میں فی الحال اسے بالکل بھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتی دوسرے کمرے میں ہمارے ساتھ لے کر چلے وہیں پر سویا کرے گا ہمارے سینٹر میں روح نے اسے کرتے ہوئے کہا
کیا مطلب ہے تمہارا یہ میرے اور تمہارے بیچ میں سوئے کا ہم دونوں کے درمیان یار م شاکڈ کی کیفیت میں تھا
جبکہ روح ہاں میں سر ہلاتی رویام کو اٹھاتی آہستہ آہستہ اپنے کمرے کی جانب چل دی
یارم کو اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کا یہ چھوٹا سا نمونہ اب اس کے اور اس کی بیوی کے بیچ میں سویا کرے گا
روح تم بیکار میں پریشان ہو رہی ہویہ یارم کاظمی کا بیٹا ہے بالکل نہیں ڈرنے والا اس نے اپنے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے کہا جہاں روح بیڈ کےسینٹر میں رویام کو لیٹا چکی تھی
نہیں میں بالکل رسک نہیں لے سکتی وہ لیٹتے ہوئے بولی جب یارم آہستہ سے اپنی سائیڈ آ کر لیٹ گیا
اور یہ کب تک ہمارے بیچ میں ایسے ہی رہے گا اس نے پھر سے سوال کیا
تقریبا پانچ سال تک تو میں اسے بالکل اکیلا نہیں چھوڑنے والی یارم روح نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا جب کہ یارم خاموشی سے اپنا سر تکیے پر گرا گیا
°°°°°
