Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 11)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

وہ اس کی باہوں میں سمٹتی آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی

جب کہ یارم اب بھی اسے اپنی باہوں میں بھرےاپنی محبت کی چھاپ چھوڑے جا رہا تھا ۔اس کی دیوانگئ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔

ساری رات اس نے ایک پل بھی روح کو سونے نہیں دیا تھا

اب تو صبح کی اذان ہوئے بھی کافی وقت گزر چکا تھا ۔اور اس وقت بھی وہ اسے اپنی باہوں میں لئے اپنی محبت لٹا رہا تھا

اتنے دن کی دوری کا بدلہ یارم نے اس انداز میں لے کہ روح نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔وہ تو یہ سوچ رہی تھی کہ یارم ابھی بھی اسے میڈیسن ہیں کھلانے والا ہے لیکن نہ جانے یارم کے دماغ میں رات کون سے سوچ سمائی کہ وہ اس سے اختیار کی ہر دوری کو بلا کر اسے خود میں سمیٹنے لگا

۔اس کاہر انداز شدت اختیار کئے ہوئے تھا

۔اس نے روح کو اپنے پرانے انداز میں ہی چھوا تھا ۔بنا اسے مزاحمت کا موقع دیئے وہ اسے پوری طرح خود میں قید کر گیا تھا ۔

اتنے مہینوں سے اس کی دوری کی وجہ سے روح بھی اسے مس کر رہی تھی اسی لیے تو اس کے باہیں پھیلاتے ہی وہ اس کی محبت کے سامنے ہار گئی تھی اس کے پکارتے ہی وہ کسی ٹوٹی ہوئی ڈالی کی طرح اس کی باہوں میں آسمٹی تھی ۔

وہ خود بھی تو اس کے پاس آنا چاہتی تھی ۔اسے بھی تو اس کا پرانا یارم چاہیے تھا

جو آج نہ جانے کتنے مہینوں کے بعد ملا تھا اور اب اس سے اپنا حق وصول کر رہا تھا ۔

روح ٹوٹی بکھری حالت میں اس کے پہلو میں خاموشی سے لیٹی اس کے لبوں کا لمس اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی ۔

اور وہ پھر سے مدہوش ہوتے ہوئے اس کے ہوش ٹھکانے لگانے لگا

یارم مجھے نیند آرہی ہے ۔۔۔۔روح نے اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے بتایا ۔

انداز میں بلا کی معصومیت تھی یارم نے ایک نظر اس کے حسین چہرے کو دیکھا ایسے موقعوں پر وہ اس سے نظر ملا کر بات نہیں کرتی تھی اس وقت بھی گھنی پلکیں گالوں پر سجدہ ریز تھی گال سرخی چھلک رہے تھے اس کے وجود کا ایک ایک حصہ یارم کی دیوانگی کی داستان سنا رہا تھا

بےبی تمہیں نیند بہت آتی ہے اپنی اس نیند پر قابو کرو میں اپنا سیکنڈ ہنیمون تمہاری نیند کی وجہ سے برباد نہیں کر سکتا ۔اس بار اگر تم مجھے وہاں سوتی ہوئی ملی نا تو بہت بری طرح سے پیش آؤں گا تمہارے ساتھ

اور فی الحال مجھے ڈسٹرب مت کرو ۔

فی الحال مجھے میری بیوی کو بہت سارا پیار کرنا ہے اور اسے سیدھا بھی کرنا ہے وہ کیا ہے نہ پچھلے تین مہینے میں وہ بگر گئی ہے ۔وہ کہتے ہوئے اس کی گردن پر ہونٹ رکھ چکا تھا اس کی گرم سانسوں کی تپش میں جلتی روح نے ایک بار پھر سے احتجاج کیا

یارم مجھے بہت سخت نیند آ رہی ہے ۔۔وہ بلکل بھی جھوٹ نہیں بول رہی تھی اسے سچ میں بہت نیند آئی تھی یا رم نے ساری رات اسے ایک پل کو بھی سونے نہیں دیا تھا اور اب نیند سے اس کا برا حال ہو رہا تھا لیکن یارم کو تو اس وقت صرف اور صرف اپنی تشنگی مٹانی تھی جو کل رات سے اب تک کم ہونے کی بجائےمزید بڑھتی چلی جا رہی تھی

وہ اسے پا کر بھی پیاسا تھا اس کی طلب ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی ۔اور نہ ہی شاید ختم ہونی تھی ۔لیکن روح کی اس کی نیند سے بھری سرخ آنکھیں دیکھ اسے اس پر ترس بھی آ رہا تھا لیکن وہ فی الحال اسے بخشنے کے موڈ میں بھی نہیں تھا

دس بجے مجھے آفس میں ایک ضروری کام ہے ۔میں کام پر جاؤں گا تو میرے واپس آنے تک تم اپنی نیند پوری کر لینا اور ہاں اب مجھ سے بچنے کے لیے کوئی اور بہانہ بنالو یہ نیند کا بہانہ اب پرانا ہو چکا ہے ۔اب یہ زیادہ دیر تک نہیں کام کرے گا ۔

اور اب مجھے ڈسٹرب مت کرنا ورنہ پھر تم شکایت کرو گی تو اسے وارن کرتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا تھا اس بار روح کچھ بھی نہیں بول پائی تھی

جانتی تھی کہ بولنا فضول ہے وہ اپنی کر کے ہی دم لے گا ۔

اور سچ یہ بھی تھا کہ اتنے وقت کے بعد یارم کو اتنے قریب سے محسوس کر کے وہ خود بھی اس سے دور نہیں جانا چاہتی تھی یارم کا جنون اس کی دیوانگی اس کا شدت سے بھرا لمس جو صرف اور صرف اس کے لئے تھا

وہ صرف اور صرف اسی کا تو تھا صرف اس سے محبت کرنے والا صرف اسی کو چاہنے والے صرف اور صرف روح کا یارم

وہ کیسے اسے مایوس کرتی کیسے اس سے دور جاتی وہ تو خود اس کی پناہوں میں آنے کے لئے مچل رہی تھی

اور یارم ابرِ کرم بنا اس پر برستا چلا جا رہا تھا ۔روح اس کی محبت کی بارش میں بھیگتی سارا جہاں فرموش کیے ہوئے تھی

اس وقت دل اور دماغ کی تمام ڈوریوں پر صرف اور صرف یارم کا قبضہ تھا وہ نہ تو اسے اپنے علاوہ کچھ سوچنے دینا چاہتا تھا اور نہ ہی خود اس سے دور جانا چاہتا تھا

اسے اپنی باہوں میں لے یہ وہ اس کی سانسوں پر اپنی حکومت چلا رہا تھا اپنے پچھلے 3 ماہ کی بے چینی کو مٹا رہا تھا اپنی بے قراریوں کو سکون دے رہا تھا وہ ڈر جوتین ماہ پہلے روح کو کھو جانے کا اس کے دل میں بسا تھا آج یارم اسے آپنے بے حد قریب کر کے اپنا وہ ڈر مٹا لینا چاہتا تھا

پچھلے تین مہینے جس عذاب میں اس نے کاٹے تھے ۔اس کے بعد وہ شاید ہی روح سے دور جاتا اور جتنا روح نے اسے ستایا تھا اس کے لیے یہ اتنی سی سزا تو بنتی تھی

°°°°

یارم کے منع کرنے کے باوجود بھی وہ ضد کرکے اس کے لئے ناشتہ بنانے لگی تو یارم نے بھی اسے منع نہیں کیا ۔

اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ روح پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائے گا اور وہ جیسی زندگی گزارنا چاہتی ہے ویسی ہی زندگی گزارے گی

اب اس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی بہت برداشت کر چکی تھی وہ ایک تو بیماری اور اوپر سے بے فضول کی پابندیاں اب یارم اپنی روح کو مکمل اس کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہتا تھا ۔

اس نے روح کو بول دیا تھا کیا وہ جو چاہتی ہے جیسا چاہتی ہے ویسا ہی کرے وہاں سے منع نہیں کرے گا

پہلے تو روح کو اس کی بات پر بالکل یقین نہیں آیا

لیکن جب اس نے روح کو ناشتہ بنانے کی اجازت دی تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی

اسے کو بھی بہت وقت کے بعد محسوس ہوا تھا کہ وہ ٹھیک ہو چکی ہے اب سب کچھ نارمل ہو چکا ہے

جب تک یارم فریش ہوتا تب تک روح اس کے لئے ناشتہ بنانے میں مگن ہوگئی آٹا گوندھ کر اس نے یارم کے لئے بہت محبت سے پراٹھا بنایا تھا اور اب وہ اس کے لئے ایملیٹ تیار کر رہی تھی

کہ اچانک نکھرا نکھرا سا یارم کچن میں آیا اور اسے پیچھے سے اپنی باہوں میں قید کر لیا

یارم کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔میں ناشتہ بنا رہی ہوں ۔۔۔خراب ہو جائے گا

اس کی کل رات کی جسارتوں سے وہ سمبلی ہی کہاں تھی کہ اب مزید اس کی بے باکی کو سہتی

۔لیکن یارم نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں تھی وہ اپنے ہونٹ اس کی گردن پر رکھ کر چکا تھا روح نے مڑکر اس سے فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن یا رم کی گرفت سخت ہونے کی وجہ سے وہ ہل بھی نہ سکی

یار م یہ کیا۔۔۔؟ آپ کیا کر رہے ہیں آپ تو تیار ہونے گئے تھے نا اور صرف نہا کر آگئے جائیں جلدی سے تیار ہوں آپ کو کام پر جانا ہے

پھر کل صبح کی فلائٹ سے ہم یہاں سے نکل رہے ہیں پھر کام کرنے کا بالکل وقت نہیں رہے گا جتنے بھی ضروری کام ہے آپ نے نپٹا کر آجائیں اس کی بڑھتی ہوئی بے باکیوں سے گھبرا کر روح نے اسے یاد دلایا کہ وہ کسی ضروری کام کی خاطر یہاں سے جانے والا تھا ۔لیکن یارم پر تو اس کی کسی بات کا کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا تھا

وہ توجیسے اس کی کسی بات کو سن ہی نہیں رہا تھا بس اپنے ہی کام میں مگن تھا اور اس کی بھرتی ہوئی جسارتوں پر روح کی سانسیں تیز ہونے لگیں

۔روح کا دوپٹہ اس کی کمر سے کھول کر اس سے دور کر چکا تھا اس سے پہلے کہ وہ اس رخ اپنی جانب موڑ کر مزید کوئی گستاخی کرتا اس کا فون بج نے لگا جیسے وہ نظرانداز کرتا اپنے کام میں مگن تھا

روح تو اس کے بہکانے پر گھبرا گئی تھی رات کی جسارتوں کو یاد کرتے ہوئے کوئی بہانہ سوچنے لگی کہ یارم کا فون پھر سے بجنے لگا

آور پھر مسلسل بجتے ہوئے یارم کے کام میں خلیل پیدا کر گیا اس نے غصے سے فون نکالا

روح نے سکون کا سانس لیا ۔جبکہ یارم کا موڈ بگرچکا تھا ۔

کیا ہوا شارف کوئی مر گیا ہے کیا جو تم سے صبر نہیں ہو رہا وہ غصے سے فون کان سے لگائے بولا

نہیں یارم تم نے ہی تو کہا تھا کہ کام ہوتے ہی انفارم کرو شارف اس کا غصہ دیکھ معصومیات سے بولا

انفارم کرنے کے لیے کہا تھا ڈسٹرب کرنے کے لیے نہیں بےوقوف آدمی عقل نام کی کوئی چیز نہیں ہے تم یارم کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ اپنا غصہ کیسے کنٹرول کرے

یارم انفارم کرنپتے ہوئے ڈسٹرب تو کرنا پڑتا ہے نا۔۔ شارف نے صفائی پشں کرتے ہوئے کہا۔

دماغ مت خراب کرو فون بند کرو اور اب ڈستپٹرب مت کرنا اور فون رکھتے ہوئے وارن کر رہا تھا اور شارف اس کی بات کو سمجھ گیا تھا اگر نا سمجھتا تو آج جان سے جاتا

فون بند کر کے وہ کیچن میں آیا تو روح غائب تھی

ناشتہ ٹیبل پر رکھا تھا ساتھ ایک چھوٹی سی چٹ تھی۔

خدا کا واسطہ ہے یارم اب ناشتہ کریں اور کام پر جائیں مجھے آرام کرنا ہے اس چٹ کو پڑھتے ہی یارم کا قہقہ بلند ہوا۔

بےبی تم تو بہت جلدی کپگھبرا گئی ابھی تو یہ شروعات ہے اب تمہیں پتہ چلے گا یارم کاظمی سے پگا لے کر نیندیں کیسے اڑتی ہیں

وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے میز پر رکھے ناشتے کو دیکھتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر بیٹھا اور سکون سے ناشتہ کرنے لگا

کل سے اب تک سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا وہ بہت پرسکون تھا روح کو اپنی محبت میں رنگنے کے بعد آپ اس سے سکون ملا تھا ۔

کل کی فلائٹ سے وہ لوگ سوئٹزلینڈ کے لئے روانہ ہونے والے تھے وہ جانتا تھا کہ روح ساری تیاری مکمل کر چکی ہے

ڈارلنگ تم تو یہاں مجھ سے بھاگنے لگی ہو وہاں جا کر تمہارا کیا حال ہوگا آنے والے وقت کا سوچ کر اس نے ایک نظر اپنے کمرے کے بند دروازے کی جانب دیکھا تھا ۔

ناشتہ کرنے کے بعد وہ کمرے میں آیا تو روح کو گہری نیند سوتے پایا

وہ مسکراتے ہوئے وارڈوب آپ کی طرف آیا اور اپنے کپڑے نکال کر تیار ہونے چلا گیا ۔

فی الحال تو روح کو تنگ کرنے کا بلکل کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا کل رات کی وہ اسے اچھا خاصہ تنگ کر چکا تھا ۔

اب اگلا ڈوز وہ اسے اپنے ہنیمون ٹور پر دینا چاہتا تھا محبت سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا کمرے کا دروازہ بند کر کے وہ اپنا کام نمٹانے چلا گیا آج چھوٹے موٹے سارے کام ختم کرنے تھے کیونکہ اس سے اگلا تمام وقت وہ صرف اور صرف روح کے نام کر دینا چاہتا تھا

°°°°

وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی جب اچانک اسے اپنا سر گھو متا ہوا محسوس ہوا اسے لگا وہ ان سیڑھیوں سے نیچے گر جائے گی لیکن اس سے پہلے ہی کسی نے اس کا بازو تھام کر اسے گرنے سے بچا لیا

اس نے ایک نظر اپنے بازو کی جانب دیکھا تھا جہاں درک کی سخت گرفت تھی ۔

اس کے بازو کے سہارے وہ سیدھی ہوئی تو اب بھی اپنا سر گھومتا ہوا ہی محسوس کیا

اف یہ کیا ہو گیا تھا آج سے پہلے تو معصومہ نے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا تھا

شارف ٹھیک ہی کہتا ہے مجھے الٹا سیدھا نہیں کھانا چاہیے اس نے اپنا گھومتا ہوا سر تھام کر سوچا

مجھے تمہاری طبیت ٹھیک نہیں لگ رہی میرے خیال میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس جانا چاہےمعصومہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب لگی تھی وہ کسی کی پرواہ نہیں کیا کرتا تھا اور نہ ہی اسے لوگوں کے ساتھ گلنا ملنا پسند تھا

وہ بہت کم لوگوں سے بات کرتا تھا یہاں فلیٹ کے لوگ تو اسے کھڑوس کہہ کر پکارتے تھے اور اس کی پیٹھ پیچھے کافی باتیں بھی کرتے تھے لیکن اسے کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی

وہاپنی دنیا میں مگن اپنے کام سے کام رکھنے والوں میں سے ایک تھا

لیکن معصومہ نے شونو کے ساتھ اس کا کافی لگاؤ محسوس کیا تھا اور شاید اس وقت بھی وہ شونو کے لئے ہی تھوڑی بہت انسانیت دکھا رہا تھا ورنہ یہاں اس کی بلا سے کوئی جئے یا مرے

نہیں میں ٹھیک ہوں لگتا ہے کچھ الٹا سیدھا کھا لیا

بس اسی کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے تھینک یو تم نے میری مدد کی معصومہ کہہ کر آگے بھرنے ہی لگی کہ اس کا سر ایک بار پھر سے گھوم گیا

درک نےبروقت اسے تھام لیا تھا ورنہ اس بار وہ بہت برے طریقے سے گرنے والی تھی

آؤ میں تمہیں اندر تک چھوڑ آتا ہوں تمہاری طبیعت بہت خراب لگ رہی ہے میں نہیں چاہتا کہ یہاں گر تم اپنی ہڈیاں توڑ لوپتا نہیں لڑکیوں کو کیا کریز ہوتا ہے اتنی اونچی سینڈل پہنے کا وہ بربڑاتا ہوا اس کا بازو تھام کر اسے اس کے فلیٹ تک چھوڑنے کے لئے اندر تک آیا تھا

تھینک یو سو مچ درک تم نے میری بہت مدد کی ہے وہ اس کا بازو تھا میں اسے صوفے پر بٹھا کر پلٹا ہی تھا کہ معصومہ بولی

میں نے تمہاری کوئی مدد نہیں کی معصومہ اور یہ کوئی احسان نہیں ہے تم پر تم گرتی تو مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا اور میں وہاں کھڑا تھا تو مجھے لگا کہ تم مجھے تمہاری مدد کرنی چاہیے تمہاری جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو یقینا تب بھی مدد کرتا ۔لیکن تم اتنی جلد بازی میں ہر کام کیوں کرتی ہو تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہیے وہ واٹر کولر سے پانی کا گلاس بھر کر اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہنے لگا

اپنا فون دو تمہارے شوہر کو فون کرکے تمہاری طبیعت کی خرابی کا بتا دیتا ہوں اس کے انداز میں کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں تھی وہ انجان سا شخص انجان بن کر ہی رہنا چاہتا تھا

نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں خود اسے ابھی فون کرکے بتا دوں گی ۔

تم بیٹھو نہ میں تمہارے لئے جائے بنا کر لاتی ہوں آج تم پہلی بار میرے گھر آئے ہو معصومہ نے مہمان نوازی کی خاطر کہا

اپنی حالت دیکھو لڑکی سیدھے طریقے سے چل نہیں سکتی اور تمہیں میری خاطر داری کرنی ہے ۔خیر میں چلتا ہوں تم اپنے شوہر کو انفارم کر دینا وہ اٹھ کر جاتے ہوئے کہنے لگا

ہاں ٹھیک ہے جاؤ میں بھی نہیں روکوں گی کیونکہ اب تو آنا جانا لگا ہی رہے گا اگلے بیس دن کے لیے شونو میرے پاس آ رہا ہے

انسانوں سے نہ سہی لیکن جانوروں سے کافی بنتی ہے تمہاری معصومہ نے مسکراتے ہوئے بتایا

کیوں تمہاری سہیلی کہا ہے جو اس کا ڈوگ تم یہاں لا رہی ہو

وہ اپنے شوہر کے ساتھ سوئزر لینڈ جا رہی ہےبیس دن کے لیے تب تک شونو میرے پاس ہی رہے گا تم جب چاہو اس سے ملنے آ سکتے ہو تمہارے ساتھ وہ ویسے بھی بہت اٹیچ ہے معصومہ نے خوش دلی سے کہا ۔

جب کہ وہ صرف ہاں میں سر ہلاتا اس کے گھر سے نکل گیا

°°°°°

معصومہ شونو کا بہت خیال رکھنا میں فون کرتی رہوں گی

وہ شونو کو معصومہ کے حوالے کرتے ہوئے ایک بار پھر سے ہدایات دینے لگی

تم بے فکر رہو میں اس کا بہت خیال رکھوں گی اس سے ملتے ہوئے معصومہ نے ایک بار پھر سے یقین دلایا

بس کر دو روح کوئی اپنی اولاد کو بھی رخصت کرتے ہوئے اتنا نہیں سوچتا تم جتنا تم شونو کو معصومہ کے حوالے کرنے پر سوچ رہی ہووہ پہلے بھی اس کا خیال رکھتی آئی ہے

اب چلو تمہارا یہ جذباتی سین دیکھ کر یارم دیکھو کیسے گھوررہا ہے

لیلیٰ نے اسی چٹکی کاٹتے ہوئے اس کا دھیان یارم کی جانب دلایا جو ایئرپورٹ کے باہر کھڑے مسلسل اسے گھور رہا تھا

کوئی بھی مسئلہ ہو تو مجھے فون کرنا اور شارف کا خیال رکھنا صارم کی نظر ایک بار پھر سے اس پرہے یارم نے بتایا

یہ انسپیکٹر میرے پیچھے کیوں برا ہے کیا بگاڑا ہے میں نے اس کا شارف بدمزہ ہوا

کاش میں پاکستان میں ہوتا تو فروٹ کی ریڑھی لگا لیتا کم از کم اس انسپیکٹر کی نظر سے دور تو رہتا ۔صارم کی ایک بار پھر سے اس پر نظر تھی مطلب وہ پھر سے اسے کسی نہ کسی چکر میں پھنسا کر جیل کی ہوا کھانا چاہتا تھا جیل میں وہ اس طرح اپنے ہاتھ صاف کرتا تھا یارم کے سارے بدلے اسی پر تو نکالتا تھا وہ

خیر تم کسی قسم کی کوئی بیوقوفی مت کرنا کچھ نہیں ہوتا وہ روح کو اندر چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے اسے اپنے گلے سے لگا کر ہمت دے کر بولا

معصومہ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ۔فیملی کے بارے میں نو کمپرومائز اس کی طبیعت خراب ہے یارم نے اس کا دھیان معصومہ کی طرف لگایا تو اس نے ہاں میں سر ہلایا

ہاں یہاں سے سیدھا اسے ہسپتال ہی لے کر جاؤں گا شارف نے کہا

جب کہ یارم سر ہلاتا روح کا ہاتھ تھامے ایک نئے سفر پر نکل چکا تھا

°°°°