Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 7)
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
اٹھ جائیں نا یارم اور کتناسوئیں گے…؟
کیا آج مجھے بھوک مارنا ہے
آپ تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ میں ناشتہ نہ کروں ہو دوائی نہ کھاؤں اور آپ وہاں آئز لینڈ کی بہن کے پاس جا کے لڑکیاں تاریں
۔کان کھول کر سن لیں آپ ایسا میں مرتے دم تک نہیں ہونے دوں گی
میں بتا رہی ہوں میں آپ کے ساتھ چلوں گی تو مطلب چلوں گی
جلدی سے اٹھیں اور مجھے ناشتہ بنا کر دیں اگر میں نے خود بنا کر کھایا تو آپ کو اچھا نہیں لگے گا
۔پھر آپ مجھ پر بے کار میں غصہ ہوں گے
اور خود مجھے کچھ کھانے کو دے نہیں رہے وہ مسلسل اسے جھنجھوڑتے ہوئے تقریر کر رہی تھی
جب یارم نے ایک آنکھ کھولی اور پہلے گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے ساڑھے پانچ بجے جا رہی تھی
بےبی ابھی ناشتے کا وقت نہیں ہوا میری جان سو جاؤ وہ پیار سے اپنے پاس بلاتا ہوا کہنے لگا
جب روح نے فورا نفی میں سر ہلایا
نہیں آپ اٹھیں اور مجھے ناشتہ بنا کر دیں تاکہ میں دوائی کھا کر ٹھیک ہو سکوں
مجھے کسی بھی حال میں 14تاریخ تک ہونا ہے
میں آپ کے ساتھ جا رہی ہوں یاد رکھئے گا آپ کو اکیلے نہیں جانے دوں گی
ان چڑیلوں کے پاس ۔روح اسے زبردستی اٹھاتے ہوئے کہنے لگی تو یارم مسکراتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا
۔اسے پتا تھا کہ یہ پلان کام ضرور کرے گا لیکن اتنا زیادہ کام کرے گا یہ اندازہ اسے ہرگز نہیں تھا
میں ناشتہ بنا کر دیتا ہوں اتنا مت سوچو میں ہرگز تمہیں یہاں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا وہ نرمی سے اس کا گال تھپتھپاتا اٹھ کر باہر نکلا
جب کہ روح منہ بنائے اس کے پیچھے پیچھے آئی تھی
°°°°°
ابھی تک تو اسے آئزلینڈ کے نظارے نہیں بھولے تھے کہ اب وہ اس کی بہن کے نظارے برداشت کرتی ۔
اور اوپر سے یارم کا یہ کہنا کہ فل مغربی ماحول ہے وہاں وہ کسی اچھی چیز کی امید رکھ ہی نہیں سکتی تھی
یارم 14 تاریخ تو یہ آ رہی ہے ہمیں پہلے شاپنگ بھی تو کرنی ہوگی آپ کے اور شونو کے کپڑے بھی لینے ہیں مجھے اپنی بھی کچھ چیزیں لینی ہیں وہ اس کے پچھے آتے آتے بولی
شونو معصومہ کے پاس رہے گا اس نے اچانک مڑ کر کہا تو روح اس کے سینے سے آ لگی
سر پھاڑ دیا میرا وہ اپنا سر پے ہاتھ رکھے پیچھے ہٹی تو یارم نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کر لیا
اس کے اچانک ایسا کرنے سے روح دوبارہ اس کے سینے سے آ لگی تھی
یارم شونو کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں نا وہ یہاں کیسے رہے گا میرے بغیر اس کے گلے میں باہیں ڈالے وہ بہت لاڈ سے بولی تھی
بےبی تمہیں اس کتے سے دور لے جانے کے لیے تو اتنی دور جا رہے ہیں ہم وہ ہمارے ساتھ نہیں آرہا اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے اس بارے میں اور کوئی بات نہیں ہوگی
اس کے ماتھے کو چومنے کے بعد وہ جارحانہ انداز میں اس کے گال کو چومتے ہوئے اس سے دور ہٹ کر کچن کا راستہ لے چکا تھا جب کہ اتنے دنوں کے بعد یار م کا یہ پرانا انداز روح کو شرم آنے پر مجبور کر گیا
اور یارم جانتاتھا کہ اس کی اس جارحانہ جسارت کے بعد اب روح اس بارے میں اور کوئی بات نہیں کرے گی
°°°°°°
یارم جب تک اس کے لئے ناشتہ تیار کر رہا تھا روح باہر بیٹھی لسٹ تیار کر رہی تھی کہ اسے کون کون سا سامان چاہیے
اپنے اور یارم کے کپڑوں کے ساتھ اس نے اپنے بے بی کے کپڑے بھی لینے تھے ہاں وہ کتا صرف نکر اور بالکل چھوٹی سی شرٹ پہنتا تھا کیونکہ بقول روح کے اس کے بےبی کو سردی بھی تو لگ سکتی تھی ۔
وہ تو شکر تھا کہ ابھی سردیوں کا موسم نہیں آیا تھا وہ تو اسے سویٹر بھی پہناتی
اب وہ اسے معصومہ کے پاس چھوڑ کر جائے گی تو اس کا سامان بھی تو اسے دینا ہوگا اور بقول روح کے اس کے سارے کپڑے پرانے اور چھوٹے ہوچکے تھے اور اس کے بے بی کو شاپنگ کی اشد ضرورت تھی
روح ناشتہ تیار ہے وہ ٹیبل پر ناشتہ لگاتے ہوئے اسے پکار رہا تھا جب روح ہاتھ میں پیپر تھامیں کچن میں داخل ہوئی
یارم یہ لسٹ ہے ۔یہ سارا سامان یا تو آپ واپس آتے ہوئے لے آئیے گا ورنہ ہم دونوں ساتھ چل کر لے لیں گے اس نے ہمیشہ کی طرح لسٹکے ہاتھ میں تھمائی
تم جا کر لے آؤ یہ سب کچھ وہ بے حد آرام سے کہتا ہے لسٹ اسے تھما کر ٹیبل پر پانی کی بوتل رکھنے لگا تو روح بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی
یارم آپ سیریس ہیں وہ بےیقینی سے بولی
اس میں اتنا شوکڈ ہونے والی کونسی بات ہے روح۔۔۔ تمہیں باہر نکلنا چاہیے کم از کم شاپنگ پر تو اکیلے تم جا سکتی ہو
اب تو تم میرے بارے میں بھی سب کچھ جانتی ہو
میں کیا ہوں اور کون سی چیز کس انداز میں پسند کرتا ہوں
اب تمہیں یہاں قید رہنے کی ضرورت نہیں ہے باہر نکلا کرو شاپنگ پر جایا کرو اور وہ لیلیٰ کہاں جاتی ہے معصومہ کے ساتھ تھا وہ بیوٹی پالر وہاں بھی جایا کرو اپنی لائف کو انجوائے کرو باہر نکلو اس قید خانے سے وہ پیار سے اس کے لیے کرسی کھینچتا ہوا اسے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا
وہ جو اپنی حیرانگی چھپانے کی کوشش کر رہی تھی جیسےیارم نے کچھ غلط بول دیا اور اب وہ اس کی بات کی درستگی چاہتی تھی لیکن یارم کے اگلے جملے تو اسے مزید حیرانگی کی کھائیوں میں دھکیل گئے
یہ میرا گھر ہے یارم کوئی قید خانہ نییں
اورآپ کو پتہ ہے نہ میں باہر کبھی اکیلے نہیں گئی ایک باع گئی تھی تو گم ہوگئی تھی صارم بھائی ڈھونڈ کر لائے تھے مجھے اور پھر آپ کتنا غصہ ہوئے تھے یاد نہیں ہے کیا آپ کو وہ اسے یاد دلاتے ہوئے بولی تو یارم نے ہاں میں سر ہلایا
وہ سب پہلے کی باتیں تھی روح اب زندگی بدل رہی ہے لوگ آگے بھر رہے ہیں ہم سے ہمیں بھی لوگوں کے ساتھ ساتھ چلنا ہوگا اور تمہیں بھی گھر سے نکلنا چاہیے تم کیا ساری زندگی میری آس پر بیٹھی رہوگی
یارم ہوگا تو یہ کام ہوگا یارم ہوگا تو وہ کام ہوگا
ایسا ساری زندگی تو نہیں چلے گا نا روح میری جان تمہیں کچھ کام خود سے بھی لینا چاہیے وہ اب بھی سمجھانے والے انداز میں بول رہا تھا
نہیں یارم مجھے نہیں جانا کہیں بھی اکیلے آپ فارغ ہوں گے تو ہم ساتھ چلیں گے نہیں تو میں معصومہ یا لیلی میں سے کسی کے ساتھ چلی جاؤں گی وہ اس کی بات کاٹ کر بولی
تم اکیلی جاؤ گی روح یہ فیصلہ تھا یا حکم یاصرف ایک بات روح کو سمجھ نہیں آئی
اور اب سے تم اکیلے ہی جایا کرو گی
خود میں تھوڑی سی ہمت پیدا کرو روح باہر نکلا کرو ساری زندگی میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا
کیوں کہاں جا رہے ہیں آپ ۔۔۔۔؟
آپ جو اس طرح سے کہہ رہے ہیں آپ ساری زندگی میرے ساتھ رہیں گے اور مجھے کیا ضرورت ہے کہیں بھی اکیلے جانے کی جب میرے پاس میرا شوہر ہے
اور اگر کل کو تمہارا شوہر نہ رہا تو اگر کل مجھے گولی لگ جاتی ہے یا کوئی دوسرے گینگ کا آدمی میری جگہ کے لیےآ کر مجھے مار دیتا ہے تب کیا کرو گی مر جاؤ گی میرے ساتھ وہ انتہائی غصے سے بولا تھا
لیکن روح کی آنکھوں کی نمی اور پھر بے تحاشا ٹپکتے آنسو دیکھ کر یارم کو اپنی سخت بات کا احساس ہوا
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بھی کہتا وہ بنا اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں بند ہوگی اور یارم کو پتہ تھا کہ وہ یقیناً اب وہ رو رہی ہوگی
°°°°
وہ اس کے پیچھے پیچھے ہی کمرے تک آیا تھا لیکن دروازہ اندر سے لاک تھا روح بےبی سوری جان میں جانتا ہوں میری بات غلط تھی میرا طریقہ غلط تھا لیکن تم پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو میں صحیح کہہ رہا ہوں دروازہ کھولو پلیز
اچھا ٹھیک ہے میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گا پلیز دروازہ کھولو اس کی سسکیوں کی آواز باہر تک سنائی دے رہی تھی
جو یارم کو بے چین کر رہی تھی
لیکن وہ دروازہ کھولنے کا نام نہیں لے رہی تھی اس وقت سے یار م سے زیادہ برا اور کوئی نہیں لگ رہا تھا
کتنی آسانی سے یہ شخص اس سے اس کی زندگی چھنینے کی بات کر گیا ۔وہ مانتی تھی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے لیکن اس نے اسے خدا سے مانگ مانگ کر حاصل کیا تھا یہ بات وہ شخص کیسے بھول گیا
وہ کیسے بھول گیا کہ یارم تو اللہ کا دیا ہوا تحفہ تھا اس کے لیے۔
اس نے کیوں ایسی دل دکھانے والی بات
آج وہ اگر کسی کی آواز نہیں سننا چاہتی تھی کسی کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی تو وہ صرف یارم تھا آج پہلی بار اس شخص نے اس کا دل دکھایا تھا
°°°°
باہر میری اور شفا کی آواز سن کر روح نے دروازہ کھول دیا وہ اپنی اور یار م کی ناچاقی کو گھرکے ملازمہ پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی
لیکن دروازہ کھولتی ہی سامنے ہی یارم کو بیٹھے دیکھا اس کے دروازے کھولتے ہی اٹھ کر اس کے قریب آیا تھا
اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی یقینا وہ کافی دیر سے رو رہی تھی یارم کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا
یارم کو اپنی بات کی گہرائی کا احساس ہو چکا تھا شاید جن الفاظ میں اس نے روح کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی تھی وہ الفاظ بہت سخت تھے
روح میری جان آئی ایم سوری مجھ سے غلطی ہو گئی میرا وہ مطلب نہیں تھا جو تم نے سمجھا
یارم پلیز روم کے اند چل کر بات کریں میں نہیں چاہتی کہ ہماری باتیں کوئی دوسرا سنے روح نے دروازے سے اندر داخل ہوتی شفا اور میری کو دیکھ کر آہستہ آواز میں کہا
السلام علیکم سر آج آپ گئے نہیں کام پر میری نے مسکراتے ہوئے پوچھا
نہیں آج اور بہت کام ہے تم لوگ جاؤ اپنا کام کرو وہ سرد آواز میں کہتا کمرے میں داخل ہوا تو روح بھی کمرے میں داخل ہوتے دروازہ بند کر چکی تھی
یارم کا یہ انداز شفا یا میری کے لئے نیا نہیں تھا اس لئے وہ دونوں دھیان دہیے بغیر کیچن کی جانب آ گئی تھیں
°°°°
روح میں اپنی غلطی اکسیپٹ کر رہا ہوں نا تو بات کیوں نہیں کر رہی ہو مجھ سے
وہ بیڈ پر اس کے نزدیک بیٹھا اس کے دونوں ہاتھ تھامے ہوئے تھا جبکہ روح اس سے نظر نا ملاتے ہوئے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی اور اس کی باتوں کو مکمل نظر انداز کر رہی تھی
یارم کاظمی ہر چیز برداشت کرتا تھا لیکن اس کی روح اسے نظر انداز کرے یہ بات اس کی برداشت سے باہر تھی
بس بہت ہو گیا روح میں تمہیں کب سے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں اور تم میری بات پر دھیان ہی نہیں دے رہی
مانتا ہوں غلط الفاظ بول دیے ہیں لیکن بات غلط نہیں تھی میری
تمہیں تکلیف لینے کا ارادہ نہیں ہے میرا بس تمیں زندگی کی دھوپ چھاؤں سمجھانا چاہتا ہوں ۔اب وہ سختی سے کہہ رہا تھا
میں سب سمجھتی ہوں یارم مجھے کچھ اور نہیں سمجھنا اب جائیں یہاں سے مجھے آپ کا چہرہ ہی نہیں دیکھنا وہ ہاتھ اس کے ہاتھوں سے چھرواتی بیڈ پر لیٹنے لگی
کچھ نہیں سمجھتی تم میری جان نہیں سمجھ پا رہی تم بہت مشکل ہے یہ زندگی اور کیا کہا تم نے میرا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتی ایک ہی دن میں کیا اتنا برا لگنے لگا ہوں میں وہ اسے بازو سے پکڑ کر ایک بار پھر سے نہ صرف بٹھا چکا تھا بلکہ اپنے بےحد قریب کرتے ہوئے اس کے گرد بانہوں کا حصار بھی تنگ کر چکا تھا
ہاں بہت برے ہیں آپ بہت زیادہ برے اتنی گندی بات کہی بھی کیسے آپ نے اندازہ بھی ہے آپ کو کیا آج آپ نے مجھے کتنی تکلیف پہنچائی ہے یارم آپ ساری زندگی معافی مانگتے رہے تب بھی اس غلطی کی کوئی سوری نہیں ہو سکتی
نا چاہتے ہوئے بھی ایک بار پھر سے اس کی آنکھیں نم ہونے لگی اور اس کے آنسو یارم کو بے چین کرنے لگے
جانتا ہوں بہت غلط بات کر دی ہے میں نے اسی لئے تو معافی مانگ رہا ہوں آئی نو اس بات کی کوئی سوری نہیں ہوتی لیکن میری روح تو اپنے یارم کو معاف کر سکتی ہے نہ
میں وعدہ کرتا ہوں تم سے کہ میں آئندہ تمہیں کبھی نہیں کہوں گا شاپنگ کے لیے پلیز رونا بند کرو تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو نہیں دیکھ سکتا میں وہ اس کی آنسو صاف کرتے ہوئے اس کی نم پلکوں کو چوم کر اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا
جبکہ روح کو تو سسکنے کا جیسے ایک اور بہانہ مل گیا اس کے سینے سے لگ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
میں نہیں جاؤں گی اکیلی شاپنگ پرسن لیں آپ انسووں کی روانی میں کمی آئی تو اس نے انگلی اٹھا کر کہا جب کہ سر ابھی اس کے سینے پر ہی تھا
کوئی ضرورت نہیں ہے ہم ایک ساتھ چلیں گے یارم نے اس کی انگلی کو چومتے ہوئے اس کا نازک سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا
اور وہاں بھی نہیں جاؤں گی جہاں لیلیٰ اور معصومہ جاتی ہیں ۔۔۔اس نے پھر سے کہا
ہاں میری جان میں تمہیں پالر جانے کے لئے بھی کبھی نہیں کہوں گا اور ویسے بھی وہ تو یہ سب کچھ خوبصورت دیکھنے کے لئے کرتی ہیں لیکن میری روح ہے ہی خوبصورت اسے اس مصنوعی بناوٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے یارم نے اس کی بات کی تصدیق کی تھی
اور آپ کو اکیلے بھی نہیں جانے دوں گا آئس لینڈ کی بہن کے پاس ۔وہ سوں سوں کرتی اس کے سینے میں منہ چھپاتی بولی تو یارم کے لئے اپنی مسکراہٹ چھپانا مشکل ہو گیا
آف کورس میرابچہ میں اکیلا نہیں جاؤں گا ہم دونوں ساتھ چلیں گے اگر اکیلا گیا تو وہاں کی عورتیں مجھے کھاجائیں گی
اور شونوبھی ہمارے ساتھ چلے گا وہ سوں سوں کرتی لاڈ سے بولی تو اس بار یارم نے اسے گھور کر دیکھا
اگر آپ نے مجھے گھورا تو میں پھر سے رونے لگوں گی روح دھمکی دیتے ہوئے بولی
روح تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو یارم نے ذرا سختی سے کہا تھا
آپ مجھے ڈانٹ رہے ہیں ۔وہ اس کے سینے سے منہ نکالتی معصومیت سے بولی
نہیں میری جان میں تمہیں کیسے ڈانٹ سکتا ہوں وہ اسے ایک بار پھر سے اپنے سینے سے لگا گیا
ہم شونو کو لے کر چلیں گے نہ ۔۔۔۔؟اس نے معصومیت سے پوچھا
وہ معصومہ کے پاس رہے گا روح۔
اور اس بات پر چاہے تم مجھ سے ناراض ہو یار راضی لیکن اس کتے کو میں ہم دونوں کے بیچ میں نہیں آنے دوں گا ۔
وہ اٹل انداز میں بولا
اور وہ جیسے ہارتے ہوئے خاموشی سے اس کے سینے پر دوبارہ سر رکھ گئی
آپ کو کام سے دیر ہو رہی ہے نہ آپ گئے کیوں نہیں ۔۔روح نے پوچھا
تم مجھ سے ناراض تھی روح اور پھر جب تک تم آرام سے ناشتہ کرکے میڈیسن نہیں لے لیتی تب تک میں کیسے جاتا۔سارا دن ایک پل کو بھی سکون نہیں ملتا مجھے خیر تمہاری وجہ سے بہت لیٹ ہو چکا ہوں میں اٹھ کر جلدی سے ناشتہ کرو
صبح جو اتنی محبت سے تمہارے لئے ناشتہ بنایا تھا وہ ٹھنڈا ہو چکا ہے آؤ تمہیں کچھ اور بنا کر کھلاتا ہوں اپنے ہاتھوں سے وہ پیار سے اس کے دونوں ہاتھ چومتا ہوا بول اور اسے اپنے ساتھ لئے باہر آیا تھا
یہ بات تو وہ بھی سمجھ چکا تھا کہ روح کو آسان لفظوں میں یہ مشکل بات سمجھانا بہت مشکل ہے اسی لیے اس نے سوچ لیا تھا کی روح کو اپنے طریقے سے سمجھائے گا روح کو بہادر بنانے اور دنیا سے لڑنے کی ہمت دینے کے لیے اس سے اپنا طریقہ استعمال کرنا تھا اس پر غصہ کر کے اس سے ڈانٹ کر کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا تھا
°°°°
