Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 12)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

وہ کب سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا جبکہ روح کا سارا دھیان کھڑکی سے باہر کی جانب تھا ۔

یارم نے پہلے روح کی اور پھر اپنی سیٹ بیلٹ باندھی۔

جہاز اڑان بھرنے کے لیے تیار تھا یارم نے روح کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھام لیا جانتا تھا کہ اسے ڈر لگے گا ۔

جب کے اس کے تحفظ بڑے انداز پرروح نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی

ڈر لگ رہا ہے یارم نے پیار سے پوچھا

تو روح نے نامیں سر ہلایا

آپ جب میرے ساتھ ہوتے ہیں نا یارم تب مجھے ڈر نہیں لگتا اس کے انداز میں ایک مان تھا جو اس پر جچتا تھا

اچھی بات ہے میرے ہوتے ہوئے تمہیں ڈر لگنا بھی نہیں چاہیے یارم کے چہرے پر مسکراہٹ کھلی تھی

۔جہاز کے اڑتے ہی اس نے روح کو اپنے مزید نزدیک کرلیا

جبکہ روح بھی اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ کر آنکھیں بند کر چکی تھی

۔کیونکہ یہ لمحہ اسے سچ مچ میں خوفزدہ کر دیتا تھا لیکن یار م کا اس کے ساتھ ہونا اس کے ڈر کو کہیں چھپا لیتا تھا

یارم یہ آئسزلینڈ کی بہن کیا بہت خوبصورت ہے روح نے اپنے دل میں مچلتے سوال کو لبوں پر لایا

تم نے تو اسے پکا ہی آئسزلینڈ کی بہن بنا دیا ہے ہاں یہ بہت خوبصورت جگہ ہے

یارم نے مسکراتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا تھا

آئیسزلینڈ سے بھی زیادہ خوبصورت روح نے ایکسائٹڈ ہو کر پوچھا

ہاں ایسا کہا جا سکتا ہے سوئٹزرلینڈ دنیا کے سب سے خوبصورت جہگوں میں سے ایک ہے

اس کا سفر کتنا لمبا ہے آئسز لینڈ تو بہت دور تھالیکن وہاں کے بارے میں تو آپ بہت کچھجانتے تھے کیا اس ملک کے بارے میں بھی آپ سب کچھ جانتے ہیں روح نےکچھ دیر کے بعد دوبارہ سوال پوچھا

ذیادہ کچھ تو نہیں ہاں کچھ کچھ چیزیں جانتا ہوں میں کیونکہ اتفاق سے میں صرف دو بار ہی اس تک جاپایا ہوں۔

سب سے پہلے تو میں تمہیں یہ بتاؤں گا کہ تمہاری فیورٹ چاکلیٹ اس ملک کی پیداوار ہے دنیا کی سب سے زیادہ چاکلیٹ یہی پر پائی جاتی ہیں اور اور یہی بنائی جاتی ہیں تمہیں اور کچھ یہاں ملے نہ ملے لیکن تمہاری فیورٹ ہر چاکلیٹ تمیں یہاں آسانی سے میسر ہو گی ۔اور یہاں پر بہت خوبصورت لوگ نہیں پائے جاتے ہیں لیکن یہ جگہ اپنی مثال خود ہے ۔

دنیا میں کچھ جہگوں کو جنت کہا جاتا ہے ان میں ایک جگہ یہ ملک بھی ہے

یہاں کرائم نہ ہونے کے برابر ہے اس کی وجہ سے یہاں کی گورنمنٹ بھی ہے

یہاں کے لوگوں کو گندگی بلکل نہیں پسند یہاں تک کہ شہر کے پہاڑ راستے اور دوسری ہر جگہ کو بہت صاف ستھرا رکھا جاتا ہے ان کے حساب سے سب سے زیادہ پلوشن گندگی اور آواز کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے رات کے وقت یہاں بالکل بھی آواز نہیں کی جاتی

یہی وجہ ہے کہ یہاں رات کے وقت نہ تو کوئی فائٹ آ سکتی ہے اور نہ ہی جا سکتی ہے

رات کے وقت یہاں لوگوں کے پالتو جانوروں کو بھی منہ پر ماسک لگا دیے جاتے ہیں تاکہ وہ آواز پیدا نہ کرے ۔

اونچی آواز میں چلانا آواز پیدا کر کے چلنا یہ سب ان کے اصولوں کے خلاف ہیں ۔جن پر سخت جرمانہ ہوتا ہے۔اور اگر ان کے اصولوں پر نہ چلا جائے تو جیل بھی ہوسکتی ہے

یارم نے مسکراتے ہوئے بتایا تو وہ اسے گھور کر دیکھنے لگی

یہ کیا بات ہوئی مطلب بول چال ہی بند ہے تو بندا اور کیا کرے روح کو ان کا یہ اصول کافی عجیب لگا تھا

رات کے وقت اور بھی تو بہت سارے کام کیے جا سکتے ہیں نہ بےبی جیسے کہ ایک دوسرے سے پیار یارم شرارتی انداز میں کہتا آنکھ دبا گیا جب کے اس کی یوں بے باک کھلے عام گفتگو پر روح کے کان کی لو تک سرخ ہو گئی

یارم کتنے بے شرم انسان ہیں آپ جگہ کا تو ہوش کر لیں وہ اپنا چہرہ جھکائے اسے ٹھی سے ڈانٹ تک نہ پائی

اپنی بیوی سے بات کرتے ہوئے کہی کا ہوش کیوں کروں ۔

اور اس میں بے شرمی والی کونسی بات ہے وہ لوگ بھی یہی سب کچھ کرتے ہوں گے ۔ورنہ رات کے وقت اور کیا کیا جاسکتا ہے خاموشی سے یارم نے شرارت سے کہا

سویا بھی تو جا سکتا ہے روح نے منہ بسور کر بتایا

ہاں یار کچھ لوگ ہوتے ہیں بے وقوف جو سو جاتے ہوں گے لیکن جس کے پاس اتنی حسین بیوی ہو اسے بھلا سونے کی کیا ضرورت ہے خیر لوگوں کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن میں نہیں سو سکتا

مجھے تو میری بیوی سے پیار کرنا ہوتا ہے وہ بھی بہت سارا اسی لیے میں سو کر ایسے چانس مس نہیں کر سکتا

آپ بہت خراب ہے یارم مجھے بات ہی نہیں کرنی آپ سے پرے ہٹیں سونے دے مجھے وہ اس سے تھوڑا فاصلہ قائم کرتے ہوئے کہنے لگی تو یارم ہنس دیا

ہاں بہت خراب ہوں میں لیکن مجال ہے جو تم مجھے تھوڑا سا پیار کر کے ٹھیک کر دو خیر سو جاؤ جتنا سونا ہے سو لو لیکن خبردار جو تم نے وہاں جا کر سونے کی ذرا سی بھی کوشش کی میں بتا رہا ہوں بہت بری طرح پیش آؤں گا

اگر تم نے میرے ہنیمون کو ذرا سا بھی بھگارنے کی کوشش کی اپنے اس سونے کی لت سے

کیا کہا آپ نے مجھے سونے کی لت ہے روح کو صدمہ ہوا

اور نہیں تو کیا ۔۔جب دیکھو سوتی ہی تو رہتی ہو مجال ہے جو کبھی جاگ کر میرے جذبات کا احترام کیا ہو اب وہ اسے تنگ کرنے لگا

یارم آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں میں اتنا بھی نہیں سوتی اور کب میں نے آپ کے جذبات کا احترام نہیں کیا

نہ صرف آپ کے جذبات کا احترام کیا بلکہ میں نے ہمیشہ آپ کے ساتھ وفا نبھائی ہے ۔کبھی آپ کی بات کی نفی نہیں کی کبھی آپ کا کوئی حکم نہیں ٹالا

بس بس میری ایکسٹرا فرمبردار بیوی یہ سب کچھ تم میرے لئے نہیں بدلے بلکہ اللہ کے حکم کی پابندی کےلئے اور جنت کے لئے کرتی ہو

اگر یہ سب کچھ اللہ کے طرف سے حکم میں شامل نہ ہو تو تم تو مجھے منہ بھی نہ لگاؤ نہ جانے کیوں وہ فضول میں ہی اسے باتوں میں لگانے لگا تھا

جی نہیں یہ سب کچھ میں اس لیئے کرتی ہوں کیونکہ میں آپ سے پیار کرتی ہوں

چھوڑو پیار کو ۔یہ سب کچھ تم اس لئے کرتی ہو کیونکہ تمہیں جنت کی خواہش ہے اور عورت دنیا میں جنت تب ہی پا سکتی ہے جب وہ اپنے شوہر کی خدمت کرے بس اسی لئے کرتی ہو تم یہ سب کچھ یارم نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جب کے شرارتی انداز اب بھی قائم تھا لیکن روح کا لب ولہجہ بدل گیا

جنت کا لالچ تو سب کو ہوتا ہے یا رم لیکن میں یہ سب کچھ آپ کے لئے کرتی ہوں ۔میں روز اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ اگر میرے نصیب میں جنت لکھی ہے تو مجھے وہاں اکیلے نہ بھیجیں میں آپ کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں گی

مجھ جیسا گناہگار بندہ جنت کے لائق نہیں ہے میں گناہوں کی دنیا میں بھٹکا ہوا ہوں روح میرے لئے خود کو مت تھکاؤ میں دنیا میں تمہارے نام لکھ دیا گیا ہوں بس اسی پر خوش ہو جاؤ ۔یارم نے آہستہ سے اپنا سر سیٹ سے لگاتے ہوئے آنکھیں موند لی

یارم آپ کو پتہ ہے ایک اچھی بیوی اپنے اچھے اعمال سے اپنے شوہر کے لیے جنت کما سکتی ہے ۔بس اس پاک ذات کو ایک ادا پسند آجائے

اگر اسے میری کوئی ادا پسند آ گئی نا تو ہم اکھٹےچلیں گے

اور اگر نہیں تو میں اپنے اللہ سے کہہ دوں گی کہ جہاں میرا شوہر ہے مجھے وہیں پر رہنا ہے وہ اس کے سینے پر سر رکھ تے ہوئے بڑے لاڈ سے بولی

اور آپ بھی زیادہ خراب نہیں ہے جنت میں جانے کے چانس آپ کے بھی ہیں بس کبھی کبھی اللہ کو خوش کرنے پر بھی غور کر لیا کریں ۔اسے نماز کی طرف لگانے کی کوشش تو وہ بہت کر چکی تھی ۔اور کبھی کبھار وہ اس کے ساتھ نماز پڑھ بھی لیا کرتا تھا ۔

لیکن اب وہ ایسی باتوں سے اسے اللہ کے قریب کرنے کی کوشش کرتی تھی

وہ اپنی ہی دھن میں بول رہی تھی جبکہ یارم آگے پیچھے کی جانب دیکھ کر مسکرایا

ویسے میرا دل تو نہیں کر رہا تمہیں یاد دلانے کا لیکن میں پھر بھی تمہیں یاد لا دیتا ہوں کہ اس وقت ہم ایک پبلک پلین میں ہیں ۔جو لوگوں سے بھرا ہوا ہے ۔اور کافی لوگ ہماری طرف متوجہ بھی ہیں

مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ہمیں دیکھتا ہے یا ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے ہاں لیکن تمہیں شاید اچھا نہ لگے

وہ آہستہ سے اس کے کان میں بولا تو روح نے آنکھیں کھولتے ہوئے ہر بھرا کے آگے پیچھے کی جانب دیکھا

سامنے پار دوسری طرف ایک بڑی عمر کا کپل بیٹھا تھا جو انہیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا جبکہ روح شرمندہ ہوگئی

لگتا ہے نئی نئی شادی ہوئی ہے آنٹی نے مسکراتے ہوئے کہا

شاید وہ کوئی انڈین کپل تھا

شادی نئی ہویا پرانی فرق نہیں پڑتا بس محبت قائم ہونی چاہیے ویسے ہماری شادی کافی پرانی ہوچکی ہے یار م نے جواب دیتے ہوئے ایک پیار بھری نگاہ پاس بیٹھی روح کو پر ڈالی تھی

بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو تم ہماری شادی کو 30 سال ہو چکے ہیں اور ہماری 30 اینورسری پر ہمارے بچے ہمیں دوبارہ ہنیمون پر بھیچ رہے ہیں

ہاہاہا ہماری محبت بھی آج بھی قائم ہے اور مرتے دم تک رہے گی کیوں ڈارلنگ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں انہوں نے مسکراتے ہوئے اپنی بیگم کی رضامندی چاہی

جس پر وہ بھی مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگی یارم کے ساتھ ساتھ روح کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی تھی

کیا خیال ہے بےبی تیس سال کے بعد کیوں نہ ہم بھی چلیں پھر سے ہنی مون پر یارم نے شرارت سے سرگوشی کی

ہاں تیسرے ہنی مون پر تیس سال کے بعد چلیں گے روح نے فاصلہ بڑھاتے ہوئے کہا

تیسرے ۔۔تیسرا تو میں کچھ ٹائم کے بعد کرنے والا ہوں ممکن ہے شاید وہ ہمارا پچاسواں ہنیمون ٹور ہو

یار م کتنی بار ہنیمون منائیں گے آپ روح نے حیرت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے پوچھا

جتنی بار تمہارے ساتھ سفر پر جاؤں گا اتنی بار پوری دنیا گھوماؤں گا تمہیں دنیا کا ایک ایک کونہ دکھاؤں گا یہ تو کچھ نہیں بےبی ابھی بہت اڑانے بھرنی ہیں ابھی ہم نے بہت لمبا سفر طے کرنا ہے

آخر ہم ہم سفر ہیں ہم قدم تو چلنا پڑے گا نا۔۔

یارم کہ انداز پر روح نے مسکراتے ہوئے ایک بار پھر سے سیٹ پر سر رکھتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں ۔

اور نہ جانے کتنی دیر اس کا معصوم چہرہ اپنے نظروں کے حصار میں لیے اس کا دیدار کرتا رہا

وہ کوئی بہت خوبصورت لڑکی یا پریوں سا حسن رکھنے والے لڑکی نہیں تھی وہ عام سے نقوش والی ایک عام سی لڑکی تھی

لیکن یارم لاظمہ کے لئے وہ پرہوں سے سے زیادہ حسین شہزادیوں سے زیادہ نازک تھی وہ اس کی روح تھی اس کے لئے سب سے اہم ترین ہستی اس کے لئے اس کے جینے کی وجہ کتنی دیر تک وہ اس کی نظریں اپنے چہرے پر محسوس کرتی رہی پھر آنکھیں کھول کر اسے دیکھتے ہوئے بولی

کیا مسئلہ ہے مسٹر کیوں سونے نہیں دے رہے مجھے کیوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گھورے جا رہے ہیں

سوری مسز میں اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے میں اپنی ڈارلنگ کو دیکھوں یا اسے اپنی آنکھوں میں بسا لوں مجھ سے سوال کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا کوئی ایسے ہی محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا تو روح نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے آہستہ سے سر واپس سیٹ پر رکھا اور اپنا دوپٹہ اپنے چہرے پر پھیلایا جس سے اگلے ہی لمحے یارم ہٹا چکا تھا

اگر سونا ہے تو ایسے ہی سو خبردار جو میری بیوی کے چہرے کو مجھ سے چھپایا وہ حکم دیتے ہوئے بولا توروح منہ بسور کر آنکھیں بند کر گئی یارم مسکراتا ہوا ایک بار پھر سے اسکے چہرے کے نقوش میں کھو سا گیا

°°°°°

اب بس کردو شارف اور کیا کیا کرو گے دنیا کے انوکھے باپ نہیں بننے جا رہے ہو تم

پوری کالونی میں شرمندہ کر کے رکھ دیا کیا سوچ رہے ہوں گے سب کہ یہ بندہ باپ بننے کی خوشی میں پاگل ہوا جا رہا ہے

خوشی کا اظہار کرنا غلط نہیں ہے لیکن پوری بلڈنگ کو سر پر اٹھا لیا ہے تم نے ہر گھر میں مٹھائی بھجوانے کی کیا تک بنتی ہے ۔۔۔؟

ابھی تو ہمیں صرف پتا چلا ہے کہ شاید ہو سکتا ہے کہ میں پریگنیٹ ہوں کوئی کنفرم نیوز نہیں آئی ہے رپورٹس کل ملیں گی

معصومہ اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی لیکن شارف کو جیسے پکا یقین تھا کہ وہ پریگننٹ ہے

اور ڈاکٹر نے بی تو یہی کہا تھا ۔تو پھر وہ خوشی کیوں نہ مناتا

لیکن معصومہ ایک بہت پریکٹیکل لڑکی تھی وہ ہر چیز کو وقت پر کرنا پسند کرتی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے کیسے سمجھائے کہ تھوڑا وقت انتظار کر لے

کل تک رپورٹس مل جائیں گی تو بعد میں خوشیاں منائے یا کچھ بھی کرے اسے کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن یہی وقت سے پہلے خوشی منانا اور پھر بعد میں اداس ہو جانا اسے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا وہ شارف سے کھل کر اظہار تو نہیں کرتی تھی لیکن شارف کے چہرے کی اداسی اس کی جان پر بن آتی تھی

لیکن اس بندے نے کہاں اس کی بات کو سمجھنا تھا وہ تو بس اپنی ہی خوشی میں پاگل ہوا جارہا تھا ویسے معصومہ کو بھی یہی لگ رہا تھا کہ وہ پریگننٹ ہے

اور اس خوشخبری کا انتظار تو وہ شادی کے بعد سے لے کر اب تک کر رہی تھی

شارف کا بھی اسے پتا تھا کہ وہ بھی اس خبر کو سن کر بہت خوش ہوگا لیکن وہ کل تک کا انتظار کرنا چاہتی تھی

اچھا تمہں درک کی کوئی خبر ہے کیا ابھی جب تم مٹھائی دینے گئے تھے تو کیا وہاں پر تھا شونو صبح سے پانچ بار اس کے دروازے تک جا چکا ہے لیکن اس کا دروازہ بند ہے معصومہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی تو شارف نے ہاں میں سر ہلایا

اتفاق سے وہ بھی سوئٹزرلینڈ گیا ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے واچ مین نے مجھے بتایا کہ بلڈنگ کے رولز پیپر پر اس نے اپنی لوکیشن بتائی ہے ۔

اور ہوٹل وغیرہ کا نمبر بھی دے کر گیا ہے کہ اگر کوئی ایمرجنسی ہو تو اسے بتا دیا جائے ۔لگتا ہے اس بار شونو کو تمہیں اکیلے ہی سنبھالنا ہوگا کیونکہ وہ کھڑوس تو جاچکا ہے اور پتہ نہیں کب لوٹے گا

شارف اسے بتا کر اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا

جبکہ معصومہ کو اس کا سوئٹرزلینڈ جانا کچھ عجیب لگا تھا ابھی کل ہی تو اس نے بتایا تھا کہ یارم اورروح سوئٹرز لینڈ جا رہے ہیں تو وہ کیا ۔۔۔اس کے دماغ میں عجیب سے بات آئی تھی لیکن اگلے ہی لمحے وہ خیال جھٹک گئی

کیا ہوگیا ہے مجھے درک کو تو میں چھ مہینے سے جانتی ہوں ۔اور سوئٹزر لینڈ میرے بابا کا تھوڑی ہے جہاں یارم اقر روح کے علاوہ اور کوئی نہیں جا سکتا وہ اپنے سر پر چپت لگاتی کچن میں جا چکی تھی ۔جبکہ شارف اب ڈاکٹر کو فون کر رہا تھا یہ حقیقت تھی کہ صبر نام کی کوئی چیز شارف کے اندر نہیں پائی جاتی تھی اور وہ بھی تب جب آنے والی کوئی خوشخبری ہو

°°°°°

وہ دونو سوئٹزر لینڈ کے ایئرپورٹ تک پہنچ چکے تھے اور اب انہیں یہاں سے لیکجیلوا جانا تھا ۔جو سوئٹزرلینڈ کا سب سے خوبصورت شہر تھا خضر پہلے ہی ان لوگوں کی وہاں ہوٹل بکنگ کروا چکا تھا

یہ جگہ بے بہت حسین تھی ہر طرف سے پہاڑ ہی پہاڑ اونچے اونچے پہاڑ اور پہاڑوں کے بیچ سے نکلتے ہوئے راستے روح کے لیے یہ نظارہ انتہائی خوبصورت تھا۔

کہیں پہار برف سے تو کہیں سبزے سے ڈھکےہوئے تھے ۔پہاڑوں کے پیچھے اور پہاڑیاں جہاں جہاں تک نظر جاتی ہے وہاں صرف پہاڑ ہی نظر آ رہے تھے ۔

کہیں کہیں سڑک پر کوئی گاڑی نظر آجاتی ورنہ لوگ پیدل چل رہے تھے اگر نہیں تو سائیکلوں پر موسم کے لحاظ سے بھی کافی سردی تھی کم ازکم دبئی جیسے گرم ملک سے نکل کر یہاں تک آنا روح کے لئے بہت اچھا ثابت ہوا تھا ۔

یارم یہاں پر گاڑیاں کم اور لوگ سائیکل زیادہ چلا رہے ہیں روح سے رہا نہ گیا تو پوچھنے لگی

ہاں بےبی میں بتایا تھا نا پلوشن ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ زیادہ تر پیدل چلتے ہیں نہیں تو سائیکلوں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ گندگی نہ پھیلے اور ان کا ماحول صاف ستھرا رہے اور اس سے صحت بھی بہت اچھی رہتی ہے یارم نے تفصیل سے بتایا

جس ہوٹل میں وہ رہائش پذیر تھے وہ جگہ پر پوری طرح سے پہاڑوں کے پیچو بیچ تھی اور ہر طرف سے خوبصورتی دیکھ کرروح بہت خوش تھی

اس نے کبھی اتنی حسین جگہ نہیں دیکھی تھی ائسزلینڈ بھی خوبصورت تھا لیکن وہاں ہر طرف صرف برف ہی برف تھی

پر یہاں تو جیسے وہ سچ مچ میں جنت میں آ گئی تھی اتنی خوبصورت جگہ دیکھ کر روح کے سفر کی تھکاوٹ بھی آڑن چھوہو چکی تھی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس جگہ کے چھپے چھپے کو اپنی آنکھوں سے دیکھے

اور یار م اس کے دل کی ہر بات کو سمجھتا تھا تبھی تو وہ کل ہی اس لے کر گھومنے نکلنے والا تھا لیکن اس سے پہلے آرام ضروری تھا

°°°°°