Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

یارم یہ کیسا ہے ۔۔۔۔؟اس نے ایک چھوچھوٹے سے بےبی ڈریس کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
روح یہ شونو کو فٹ نہیں ہو گا ۔۔یارم نے بےزاری سے کہا۔
آہووو یارم میں شونو کی بات نہیں کررہی یہ تو میں۔۔۔۔وہ کچھ کہتے کہتے مسکرائی تھی
شونو کے لیے نہیں تو پھر میرے لیے ہے کیا ۔اس کی مسکراہٹ کو وہ جان بوجھ کر اگنور کر گیا
یارم آپ بھی نا ۔ . کیا ہم ساری زندگی شونو کے ہی کپڑے خریدتے رہے گے میں تو اپنے بےبی کی بات کر رہی ہوں
اس نے شرماتے ہوئے کہا
آوووو اچھا تم یہ ہمارے ہونے والے بےبی کے لیے دیکھ رہی ہو ۔۔بہت پیارا ہے بٹ میرا نہیں خیال کہ ابھی ہمیں اس کی ضرورت ہے ۔اس کی پیاری سی مسکان کو اپنے دل میں بسائے وہ محبت سے بولا۔
ہاں پتہ نہیں ہمیہں اس کی ضرورت کب ہو گی یہ بہت خوبصورت ہے ۔۔روح نے حسرت سے کہا۔
تو پھر لے لو میری جان ۔جو چیز دل کو اچھی لگے اس کو انتظار نہیں کرواتے۔اور ان شااللہ اس کو پہننے والا بھی آ ہی جائے گا یارم نے اس کی جھکی . نظریں دیکھتے ہوئے کہا
میں فضول خرچ نہیں ہوں یارم اور یہ کتنا مہنگا بھی تو ہے اور ویسے بھی ہم بعد اس کی شاپنگ کرے گے ہی روح نے ڈریس واپس رکھتے ہوئے کہا۔
یارم کا دل چاہا کہہ دےکہ یہ جو شونو کے لیے شوپنگ کی ہے وہ بھی تو تقریباً فضول خرچی ہی ہے لیکن نہیں وہ شونو کی شان میں گستاخی برادشت نہیں کرتی تھی۔
تمہیں جو چیز پسند ہو تم اسے لے لیا کرو اس کی پمینٹ کرنا میرا کام ہے تمہارا نہیں اور ویسے بھی یہ وہ پہلی چیز ہے جو تم نے شونو کے بجائے ہمارے بچے کے لیے پسند کی ہے ۔۔میں نہیں چاہتا کہ تمہاری پسند کسی اور کے حصے میں جائےاس نے وہ ڈریس اٹھتے ہوئے اس باور کروایا تو روح مسکراتے ہوئےاس کے پیچھے چکی آئی