Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq-E-Yaram (Episode 19)

Ishq-E-Yaram By Areej Shah

بائیک ریس شروع ہو چکی تھی وہ دونوں ایک دوسرے سے کم نہیں تھے

کبھی ایک آگے نکل جاتا تو کبھی دوسرا

وہ تقریبا دس کلو میٹر تک رئیس پہنچ چکے تھے

یارم کو فی الحال یہ کھیل بہت آسان لگ رہا تھا

وہ کوئی رئیسر نہیں تھا ایک عام سا بندہ تھا جس سے ٹھیک سے بائیک ریسنگ آتی بھی نہیں تھی اس نے کبھی اس چیز کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی اسے بھلا ایسے بچوں جیسے شوق سے کیا لینا دینا یہ تو آج کل کے لڑکوں کا ایک کھیل تھا

اگر روح ضد نہ کرتی تو یقینا وہ اس ریس میں کبھی بھی حصہ نہیں لیتا

لیکن اسے منانے کے لیے اب یہ بھی ضروری تھا کیونکہ آج شام میں واقع ہی اس کے ساتھ زیادتی کر گیا تھا ۔

جس کا بدلہ لینے کے لئے روح نے ایک چھوٹی سی شرارت کی تھی

اور اب اس شرارت کا نتیجہ وہ یہاں بائیک پر بیٹھا بھگت رہا تھا اسے راستہ بھی ٹھیک سے نہیں پتا تھا بس سڑک پر لگی چھوٹی چھوٹی لائٹس راستہ بتا رہی تھی ۔

جو صرف اور صرف آج کی اس ریس کے لیے لگائی گئی تھی دوسری رئیس شروع ہونے میں ابھی بہت وقت تھا اس سے پہلے پہلے اس رئیس کو ختم کرنا تھا یارم کو بس یہ بتا تھا کہ ان لائٹ کے سہارے ہیں وہ جیت تک پہنچنے والا ہے

وہ جانتا تھا کہ اس کے بائیک کی اسپیڈ زیادہ تیز نہیں ہے وہ بہت نارمل سپیڈ میں بائیک چلا رہا تھا لیکن اس کے ساتھ دوسرے بائیک پر سوار درک جو کہ ایک بائیک ریسنگ چیمپئن تھا وہ اتنی سلو کیوں چلا رہا تھا یہ بات اس کی سمجھ سے باہر تھی

اگر اس کا مقصد یارم سے جیتنا تھا تو وہ کب کا آگے نکل چکا ہوتا

کیا ہوا مسٹر یارم کاظمی کیا تمہیں سمجھ نہیں آرہا راستہ وہ بالکل اس کی بائیک کے ساتھ اپنی بائیک چلاتا عجیب انداز میں پوچھنے لگا

نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے راستہ بتا ہے

اور میں تمہیں یاد بھلا دوں کہ ہم ریس کر رہے ہیں تو تمہیں آگے نکل جانا چاہیے نہ کہ اپنے مقابل کا انتظار کرنا چاہیے کہ کب وہ تم سے آگے نکل کر رئیس جیتا ہے یارم ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے بولا جب کہ اس کی بات سن کر درک مسکرا دیا تھا

تم نے خرگوش اور کچھوے کی داستان سنی ہے یقینا سنی ہوگی اگر میں تم سے آگے نکل جاؤں تو وہ خرگوش یقین میں ہوگا اور یقین مانو کے ہار ریس میں خرگوش راستے میں سوتا نہیں ہے

مجھے بچوں والا کھیل پسند نہیں ہے یارم کاظمی کھیل وہ مزہ دیتا ہے جس میں ٹکر کا مقابلہ ہو تم صرف اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے یہ رئیس کر رہے ہو تمہارے دل میں جیتنے کی خواہش نہیں ہے اور ایسی رئیس کو جیت کر مجھے بھی کوئی خاص خوشی نصیب نہیں ہوگی

اگر تم مقابلہ کرنا ہی چاہتے ہو تو ٹھیک سے کرو تاکہ مجھے جیتنے اور تمہیں ہارنے میں مزا آئے اگر اپنی بیوی کا مان رکھنے کے لئے ریس میں حصہ لے لیا ہے تو اسے جیت کے دکھاؤ

یوں بچوں جیسا گیم مت کھیلو وہ اپنی بائیک کو ریس دیتے ہوئے کہنے لگا تو اس کے بات میں یارم کو بھی دم لگا تھا

لڑکے مجھے چیلنج کر کے پچھتاؤ گے تم ہو سکتا ہے اس رئیس میں مجھے جیتنے اور تمہیں ہارنے مزا آ جائے وہ اس انداز میں بات کر رہے تھے کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں

میں تو یہی چاہتا ہوںمیں نے آج تک کار کا سواد نہیں چکھا اگر ہمت ہے تو آج ہارکے ذائقے سے روشناس کروا دو مجھے

وہ اپنی بائیک کو ریس دیتا اس سے آگے نکل چکا تھا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا

اس کی بات پر یارم مسکرایا اب وہ صاف انداز میں اسے چیلنج کر چکا تھا اور اب یارم کو بھی یہ ریس جیتنے تھی صرف روح کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بھی اپنے بائیک کو رئیس دیتے ہوئے وہ کچھ ہی پل میں اپنی بائیک کافی آگے لے آیا

اور اب یہ مقابلہ اصل میں شروع ہوا تھا وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب تھے اور فل سپیڈ میں آگے بھر رہے تھے کبھی یار م درک سے تو کبھی درک یارم سے آگے نکل آتا

وہ دونوں آدھا سفر طے کر چکے تھے سو کلو میٹر کی ریس میں تقریبا پچاس کلومیٹر سفر آگے آچکا تھا

جب کہ کسی ایک کی جیت کے انتظار میں روح اور خوشی پہلے ہی دوسرے راستے سے جیت کی مقام تک جا چکے تھے جہاں روح یارم کی جیت کا انتظار کر رہی تھی وہی خوشی کو بھی یقین تھا کہ درک جیت جائے گا

کیونکہ وہ آج تک کبھی بھی ہارا نہیں تھا جبکہ دوسری طرف تو کھیل ہی الگ تھا روح نے بس اسے تنگ کرنے کے خاطر اسے زبردستی اس ریس کا حصہ بنا دیا

جب کہ یارم نے تو کبھی ذکر بھی نہیں کیا تھا کہ اس نے کبھی بائیک چلائی بھی ہے

وہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ یارم کو بائیک چلا نہیں آتی بھی ہے یہ نہیں

اور اب وہ اپنی بیوقوفی پر پچھتا رہی تھی۔جب کہ خوشی تو بہت خوش لگ رہی تھی اسے یقین تھا کہ درک ہی جیتے گا

ان کو یہاں پہنچے ہوئے تقریبا ایک گھنٹہ ہونے والا تھا

اور ابھی تک دور دور تک کہیں بھی کھلاڑیوں کا نام و نشان نہیں تھا

بہت زیادہ لوگ نہیں تھے بس کچھ خوشی کے دوست تھے اور دوسری طرف روح بلکل اکیلی

ہاں لیکن خوشی اسے بالکل بھی اکیلا پن محسوس نہیں ہونے دے رہی تھی

وہ ایک مخلص ساتھی کی طرح اس کے ساتھ ساتھ کھڑی اسے خوش کرنے کی خاطر کوئی نہ کوئی بات چھیڑ دیتی ان کے دوست بھی برے نہیں تھے بہت نورمل سے لوگ تھے کہ شاید اکثر وہ وقت گزاری کے لیے یہ اب کرتے تھے

جب کہ بہت سارے لوگوں کو تو وہ پیچھے ہی چھوڑ آئے تھے شاید ان لوگوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا

°°°°°°

ارے ثانی تم ایک چھوٹے سے بچے کو یہاں کیوں لے آئی ۔میں نے تمہیں اکیلے آنے کے لیے کہا تھا بچہ بچارہ بوا ہو جائے گا وہ ثانیہ سے کہنے لگی جس کا اضافہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ہوا تھا

وہ دونوں سے باتوں میں مصروف تھی جب وہ بھی خوشی کے پاس آ کر رک گئی تھی اس کے ساتھ ایک چھوٹا تقریبا پانچ چھ سال کا بچہ تھا

جوکہ اس کے ہسبینڈ کی پہلی شادی میں سے تھا

وہ ایک بہت امیر شخص تھا اور اس کی بیوی اسے کسی وجہ سے چھوڑ کر چلی گئی

ایسے میں اس نے ثانیہ سے شادی کر کے اسے ایک روئیل لائف سٹائل دیا تھا اور بدلے میں صرف اور صرف اپنے بیٹے کیا خیال رکھنے کی شرط رکھی تھی

جو ثانیہ کے لئے مشکل نہیں تھا وہ بچہ اپنے تمام کام بہت آسانی سے کر لیتا تھا بس اسے سنائی نہیں دیتا تھا

وہ بچہ پیدائشی بہرے تھا جس کی وجہ سے اس کے باپ نے دوسری شادی کرلی اور ثانیہ اس کے لئے ایک اچھی ماں ثابت ہو رہی تھی

یار گھرپے کوئی نہیں تھا مجھے لگا یہ نہ ہو کہ میرے یہاں آنے کے بعد یہ جاگ جائے اور ابھی ابھی تو یہ میرے ساتھ اٹیچ ہونا شروع ہوا ہے میں اسے اس طرح سے چھوڑ نہیں سکتی

میرے ہسبنڈ کیسی میٹنگ کے سلسلے میں یہاں سے کہیں گئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مجھے اس خیال رکھنا پر رہا ہے

اور ویسے بھی اگر میں اس کا خیال نہیں رکھوں گی تو اور کون رکھے گا اخر یہ میرا بیٹا ہے ثانیہ نے محبت سے اس کی طرف دیکھا

جبکہ بچے نے مسکراتے ہوئے اپنی سوتیلی ماں کو دیکھا تھا جیسے وہی اس کا سہارا ہو

چلو یار یہ تو بہت اچھی بات ہے یہ بھی تھوڑی دیر انجوائے کر لے گا

لیکن مجھے لگتا ہے کہ اسے نیند آرہی ہے یہ خوشی اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی تو ثانیہ نے ایک نظر اسے دیکھا جو مسکراتے ہوئے کبھی روح کو تو کبھی ثانیہ کو دیکھ رہا تھا

وہ ان کے ہلتے ہوئے ہونٹوں کو دیکھ سکتا تھا لیکن ان کی بات کو سمجھ نہیں سکتا تھا

اٹس اوکے یار ابھی تھوڑی دیر میں گھر واپس چلے جاؤں گی

وہ تو میں گھر پہ بوررہی تھی تو سوچا یہی پر آ جاؤں اور درک کو جیتا ہوا دیکھ لوں تھوڑا فریش فیل کروں گی ویسے بھی آج کل سارا سارا وقت تو میرا گھر پر گزر جاتا ہے

روح کو تو وہ کافی اچھی لگ رہی تھی جو سوتیلی ماں ہونے کے باوجود اس بچے کا اتنا خیال رکھ رہی تھی بے شک دولت اور اپنے روئیل لائف سٹائل کے لئے ہی سہی لیکن اس بچے کو ایک ماں تو مل گئی تھی ۔

°°°°

یہاں کھڑےکھڑے اب روح کے پیروں میں بھی درد ہونے لگا تھا

لیکن یہ ریئس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی

بس خوشی کو ریسنگ سیٹلائٹ کے ذریعے میسج آ رہے تھے کہ اب سفر اتنے کلومیٹر باقی ہے ۔

روح تو یہاں آکر اچھی خاصی بور ہو چکی تھی اور پچھتا بھی رہی تھی اس سے تو بہتر تھا کہ وہ یارم کے ساتھ ہیں کہیں چلی جاتی

ابھی وہ اپنی سوچوں میں ہی ڈوبی ہوئی تھی کہ سامنے سے بائیک ایک ساتھ نظر آئی

دو لائٹ چل رہی تھی آگے کون تھا اور پیچھے کون دور سے سمجھنا بہت مشکل تھا اور بائیک فل سپیڈ سے آگے بڑھ رہی تھی

بائیک نظر آتے ہی خوشی اور باقی سب لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا جب کہ وہ خاموشی سے کھڑی تھی ۔

جب وہ چھوٹا بچہ اچانک سرک کے بیچوں بیچ آ گیا ثانیہ پاگلوں کی طرح شور مچانے لگیں ۔وہ جانتی تھی کہ اس کو کچھ بھی ہوا تو اس کی زندگی برباد ہو جائے گی ۔

ہیوی ریسنگ بائک میں توبریک نہیں ہوتی ۔اب کیا ہوگا ثانیہ تمہیں اختیاط کرنی چاہیے تھی خوشی پریشانی سے بولی

جبکہ ثانیہ کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ بھاگ کر بچے کو بچا لے

بائیک آگے کی طرف آرہی تھی وہ دونوں ہی بچے کو سڑک کے بیچوں بیچ سے دیکھ چکے تھے ۔ثانیہ کے چیخنے چلانے سے بچے پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا وہ اس کی بات کو نہ سن رہا تھا اور نہ ہی صرف دیکھ رہا تھا

درک بچے کی پرواہ کیے بائیک فل سپیڈ میں آگے بڑھ چکا تھا جبکہ ہارم کو پتا تھا تو بس اتنا کے مزید بائیک اگلے جانے سے یقینا اس بچے کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے

لیکن اس آدمی کو اس کی پرواہ ہی کہاں تھی اسے تو بس اپنی جیت سے مطلب تھا

لیکن یارم اتنا خود غرض نہیں تھا وہ اپنی بائیک کو سیپڈ دیتے ہوئے نہ صرف سے آگے لے گیا بلکہ ایک ہی جھٹکے میں بائیک کو چھوڑ کر بچے کو بچانے کی خاطر سڑک کے بیچوں بیچ کود گیا

جب کہ درک بنا بچے اور یارم کی پرواہ کیے اب اپنا بائیک جیت کے مقام کی طرف بڑھا لے گیا ثانیہ پاگلوں کی طرح بھاگتی ہوئی سڑک کی طرف آئی تھی جبکہ روح کا رکا ہوا سانس بحال ہوا

لیکن وہ دور سے ہی یارم کو گرتے ہوئے دیکھ چکی تھی اور اسے یقین تھا کہ یارم کو گہری چوٹ لگی ہے اسے سر سے خون بہہ رہا تھا جب کہ بچہ بالکل صحیح سلامت یارم کی باہوں میں تھا

ثانیہ نے بھاگتے ہوئے کی اپنا بچہ لیا جو کہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھا جبکہ روح اس کے پاس کھڑی اس کے سینے پر لگی چوٹ کو دیکھتی تو کبھی سر کی چوٹ کو

یارم آپ کو کا تو بہت خون بہہ رہا ہے ہمیں ڈاکٹر کے پاس کرنا چاہیے وہ آنکھوں میں نمی لئے بولی یارم بے اختیار مسکرایا

اب رونا مت شروع کر دینا میری جان میں بالکل ٹھیک ہوں

بس ذرا سی چوٹ آئی ہے

شکر ہے کہ بچے کو کچھ نہیں ہوا

اس نے بہت پیار سے روح کو جواب دیا جبکہ انتہائی سرد اور غصے بھری نظروں سے سامنے سے آتے درک کو دیکھ رہا تھا

اسے کبھی نہیں لگا تھا کہ وہ اپنی جیت کے لیے اتنی خود غرضی پر اتر آئے گا

تمہارا دماغ خراب ہو گیا تھا کیا تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اگر تم ایک انچ اس بچے کے قریب سے گزرتے تو اس کی جان جا سکتی تھی

اتنے خودغرض کیسے ہو سکتے ہو تم

مجھے ویسے بھی اس کھیل کی جیت اور ہار سے کوئی مطلب نہیں تھالیکن تمہیں ذرا بھی احساس نہیں ہے کہ اس بچے کی جان جا سکتی تھی

ایک ہی پل میں وہ مر سکتا تھا لیکن تمہیں تو بس اپنی جیت سے مطلب تھا یارم کو اس پربہت غصہ آیا تھا وہ صرف ایک کھیل دیکھنے کے لئے اتنا آگے بڑھ گیا کہ کسی زندگی کی طرح پروا نہیں

وہ اس شخص سے کبھی ایسی امید نہیں رکھ سکتا تھا

میں نے اس بچے کا ٹھیکہ نہیں رکھا ہے ویسے بھی اگر بچے سنبھال نہیں سکتے تو پیدا ہی کیوں کرتے ہیں

اور اگر پیدا کرہی لیتے ہیں تو ایسی جگہوں پر لاتے ہی کیوں ہیں

یہی پر بورڈ لگانا چاہے کے یہاں بچوں کو لانا الاؤ ہے

اور وہ بچہ مرتا ہے جیتا میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں اگر وہ میرے راستے میں ہوتا تو اپنی جیت کی خاطر میں اس کے اوپر سے بھی بائیک نکالنے میں ایک سیکنڈ نہ لگاتا

کیوں کہ اگر درک کو زندگی میں کسی چیز سے محبت ہے تو وہ صرف اور صرف اس کی جیت ہے

۔آئندہ اپنے بچے کو یہاں لے کر مت آنا وپ ثانیہ کو سخت انداز میں بولا

کتنےبے دل انسان ہو آپ۔۔بےحسی آپ کی رگ رکگ میں بھری ہے وہ بچہ مر سکتا تھا لیکن آپ کو تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا

آپ کے لیے اگر کوئی چیز اہمیت رکھتی ہے تو صرف یہ جیت اور اس بچے کا کیا آپ کو کوئی مطلب نہیں کہ اس بچے کے ماں باپ پر کیا بیتتی روح غصے سے بول تک نہیں پا رہی تھی

ہاں ہوں میں بےدل میں بچپن سے ایسا ہی ہوں سہی کہا ےم نء بےحسی میری رگ رگ میں بھری ہے اسی لئے تو سب لوگ مجھے ہارٹ لیس کے نام سے جانتے ہیں ایک ایسا انسان جس کے سینے میں دل نہیں ہے اور ایسے انسان سے اچھے کی امید رکھنی بھی نہیں چاہے

وہ روح کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا کہہ کر ایک نظر یارم کو دیکھ کر آگے بڑھ گیا یارم اس کے اشارے کو سمجھ چکا تھا

وہ اس کی بات کے مطلب کی گہرائی تک جا چکا تھا

اب ادمی کیا تھا کیا نہیں یہ بات وہ صاف الفاظ میں اسے بتا کر جارہا تھا جب اچانک رکا اور ایڑیوں کے بل گھوم کر ایک بار پھر سے روح کی طرف جھکا

تمہارا چیلنج ہارگئی تم تمہارے شوہر کو ہرا دیا ہے میں نے ہار ہی گیا میرے ہاتھوں اتنا بھی کوئی چیمپئن نہیں تھا وہ اسے دیکھتے ہوئے ہنس کر آگے بھرنے ہی لگا کہ روح کی آواز سے اسے روک لیا

غلط فہمی ہے آپ کی کہ آپ جیت گئے ہیں اور اگر آپ اسے جیت کہتے ہیں تو آپ سے بڑا لوزر میں نے آج تک نہیں دیکھا

جس طرح کی جیت کو جیت کا نام آپ نے دیا ہے اس سے بڑی کوئی ہار نہیں ہو سکتی آپ ہار گئے ہیں لیکن انسانیت جیت گئی ہے۔

اس کے پیچھے کی طرف اشارہ کیا تھا جہاں ثانیہ اپنے بچے کو گود میں لیے بہت پرسکون نظر آ رہی تھی

جبکہ روح اسے نظر انداز کرتی ایک بار پھر سے یارم کے زخم دیکھنے لگی

°°°°

وہ آہستہ آہستہ اس کے زخموں کی مرہم پٹی کر رہی تھی کیونکہ یہاں کوئی بھی کلینک اوپن نہیں تھا سنڈے ہونے کی وجہ سے پورا سویزرلینڈ سنسان گاوں کی طرح خالی پڑا تھا ۔

اسی لیے روح کو یہ سب کچھ خود کرنا پڑ رہا تھا کیونکہ یارم ہوٹل میں موجود کسی بھی ڈاکٹر یا نرس سے اپنا علاج کروانے کو تیار نہیں تھا

اور ایسے میں روح ایک اچھی بیوی ہونے کے ناطے اس کی ڈریسنگ کر رہی تھی ۔جب کہ یارم کو تو اسے تنگ کرنے کا موقع مل گیا تھا

وہ شرٹ اتار کر بیڈ پر بیٹھا ۔اور روح اس کے بلکل ساتھ بیٹھی ہوئی اس کی گردن پر موجود ننھے خون کے قطرے صاف کر رہی تھی اور یارم اسے اپنی باہوں میں لیے کبھی اس کی گردن میں منہ چھپتا تو کبھی گال کو لبوں سے چھونے لگا۔

روح شرم سے دوہری ہوتی اپنا کام مکمل کر رہی تھی۔

یارمم نے ڈریسنگ نہ کروانے کی قسم کھا رکھی تھی لیکن روح نے ضدکرکے اسے بٹھا لیا تھا اور اب وہ اسے یہاں بیٹھانےکا ہر جانا وصول کر رہا تھا کیونکہ اگر وہ یہاں سے اٹھتی تو یارم ڈریسنگ کروانے سے صاف انکار کر دیتا

بس یہی وجہ تھی کہ وہ خاموشی سے اس کی من مانیاں برداشت کر رہی تھی وہ کبھی اس کی گال چومتا تو کبھی بالوں سے کھلتا تو کبھی اس کی گردن پر جھک کر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا۔

روح ڈیسنگ مکمل کرتی اس کے قریب سے اٹھنے ہی والی تھی کہ یارم نے اس کے دونوں ہاتھ قید کرتے ہوئے خود بیڈ پر لیٹ کر اسے اپنے اوپر گرالیا

تم نے تو اپنا کام کر دیا اب مجھے بھی تو میرا کام کرنے دو یہ تو تم نے صرف ڈریسنگ کی ہے اس کا علاج بھی تو کرنا پڑے گا

وہ بہت پیار سے اسے بیڈ پر لٹاتا اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چومنے لگا جبکہ خاموش سے پڑی روح اس کی من مانیاں برداشت کر رہی تھی آج جو کچھ بھی ہوا ہے دوبارہ نہیں ہونا چاہیے روح نے تو شرارتوں سے توبہ کرلی تھی

اسے درک جیسےسے بے حس انسان سے اسے نفرت ہوتی جا رہی تھی وہ اسے ایسا تو نہیں لگا تھا جانوروں سے اتنی نرمی سے پیش آنے والا انسانوں کے لئے کس قدر عجیب جذبات رکھتا تھا

°°°°°°°