Ishq-E-Yaram By Areej Shah Readelle50352 Ishq-E-Yaram (Episode 56) 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Ishq-E-Yaram (Episode 56) 2nd Last Episode
Ishq-E-Yaram By Areej Shah
وہ نہا کر باہر نکلی تو رویام بیڈ پر بیٹھا اپنی آنکھیں مسل رہا تھا یقیناًابھی ابھی ہی جاگا تھا
جاگ گیا میرا بچہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے روح بہت محبت سے بولی رویام اپنے دونوں بازو اس کی طرف اٹھاتا اس کی گود میں آ چکا تھا
جبکہ یارم بیڈ پر گہری نیند میں تھا
بابا گندا بےبی تو لیت داگتا اے وہ اتھا بےبتہ نی اوتا نہ ماما (بابا گندا بے بی جولیٹ جاگتا ہے وہ اچھا بچہ نہیں ہوتا نہ ماما) وہ یارم کو دیکھتے ہوئے روح سے پوچھنے لگا
جبکہ اسےگندا بےبی کہنے پر روح کو ہنسی آئی تھی
ہاں بالکل بھی اچھے بچے نہیں ہیں وہ وقت پر نہیں جاگ سکتے جو جلدی جاگتا ہے وہ ونر ہوتا ہے جیسے میرا رویام ونر ہے
وہ اسے فریش کرنے کے لیے واش روم میں لے جاتے ہوئے بولی
تو رویام کے ڈمپلز خوشی سے کھل گئےبتھے
ماما اد اپ تا بڈےاے نا (ماما آج آپ کا برتھ ڈے ہےنا )وہ اپنے چھوٹے چھوٹے موتیوں جسے دانتوں میں برش کرتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھنے لگاروح نے حیرت سے اسے دیکھا تھا بھلا اسے کیسے پتہ کہا جس کا برتھ ڈے ہے
آپ کو کس نے بتایا روح حیرت میں گھیری اس سے پوچھنے لگی
تل باباشالف تاتوکوبل لےتے۔بت بالی پاتی او دی۔شب لود آیں دے اول توکلٹ ٹیک بی ہو دا۔می نے شوتا تا می آپ تو بتوں دا فیر می بھل دیا(کل بابا شارف چاچو کو بول رہے تھے کہ بہت بڑی پارٹی ہوگی سب لوگ آئیں گے اور چوکلیٹ کیک بھی ہوگا میں نے سوچ لیا تھا آپ کو بتاوں گا لیکن پھر میں بھول گیا )
وہ اپنی ماں کے اچھے بچے کی طرح اپنے بابا کی ساری باتیں اسے بتاتا تھا لیکن اتنی اہم بات وہ اسے بتانا ہی بھول گیا تھا
لیکن اچھا ہی ہوا ورنہ یارم کی پلاننگ دھری کی دھری رہ جاتی ۔
یارم اسے خبری کہتا تھا تو غلط نہیں تھا لیکن وہ جھوٹ نہیں بولتا تھا جو دیکھتا وہی بتاتاوہ بھی صرف روح کو
وئی بات نہیں میری جان آپ نے اب بتا دیا یہی بہت ہے وہ اسے نہلانے کے لئے اس کے کپڑے اتارتے ہوئے بولی
ماما ریام تو شم آتی اے ریام مام تے شامے نائی نائی نی ترے دا (ماما رویام کو شرم آتی ہے۔رویام ماما کے سامنے نائی نائی نہیں کرے گا) اس کے ہاتھ اپنے کپڑوں پر دیکھ کر رویام اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بےحد معصومیت سے بولا
رویام کو ساری رات شرٹ اتار کر سوتے ہوئے شرم نہیں آتی
اور نہ ہی جانوسائیں اور پری کے ساتھ فلرٹ کرتے ہوئے شرم نہیں آتی ہے
لیکن ماما کے سامنے نائی نائی کرتے ہوئے شرم آ رہی ہے ۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولی تو رویام اپنی آنکھوں سے ہاتھ بٹاتا شرارت سے کھلکھلایا
نی ریام تو شم نی ْتی ریام تقو مجاک کل لا اے(نہیں رویام کو شرم نہیں آتی رویام تو مذاق کر رہا ہے) وہ بے حد پیارے سے انداز میں بولا تو روح نے ہنستے ہوئے بے بی شیمپو نکالا
وہ تو یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو جاتی تھی کہ آخر وہ اتنی ساری باتیں لاتا کہاں سے تھا ۔دن رات اس کے سامنے جو بھی باتیں ہوتی تھی وہ بھولتا نہیں تھا اور پھر بعد میں کسی نہ کسی طرح سے ان کو استعمال بھی کرتا تھا
وہ کوئی بھی چیز بہت جلدی سیکھ جاتا تھا یقینا بڑا ہو کر وہ ایک بہت ہی ہوشیار اور ذہین بچا ہوگا ۔
روح جب بھی اس کی ذہانت دیکھتی تھی اس کی نظر اتارنا نہ بھولتی یارم کے مطابق تو اب اسے اسکول میں بھی داخل کروا دینا چاہئے تھا کیونکہ وہ بہت ہوشیار تھا آسانی سے سکول ہینڈل کر سکتا تھا اس کی بیماری کا پتہ چلنے سے پہلے یارم روح کو سکول کے لیے منا بھی چکا تھا
لیکن بیماری کے بعد اب روح نے پھر سے منع کردیا تھا وہ اتنی جلدی اس پر کسی قسم کا کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی تھی ہاں لیکن اگر وہ ایک گھنٹے کے لئے پلے کلاس میں جاتا ہے تو اسے کوئی اعتراض بھی نہیں تھا
اور خاص کر جب یارم نے یہ بتایا تھا کہ پلے کلاس میں قرآن پاک اور نماز کی تعلیم دی جاتی ہے تو روح نے فورا ہی ہاں کردیا
اور اب تو وہ اگلے ہفتے سے جوائن بھی کرنے والا تھا
اسے اچھے سے نہلا دھلا کر باہر آئی اور اب اس کے لیے اپنی پسند کے کپڑے نکال کر اسے تیار کرنے لگی
جس کے رویام چھوٹی سی نکر پہنے اب یارم کے اوپر چڑھا اس گندے بچے کو جگانے کا کام کر رہا تھا
ات داو گندے بتے کیتا شوتے او بیٹ مرررز دیتو ریام کیتا اتا بتہ اے وہ دلدی دگ کر بش کتا اے)
اٹھ جاؤ گندے بچے کتنا سوتے ہو بیڈ مینرزدیکھو رویام کتنا اچھا بچہ ہے وہ جلدی جا کر برش کرتا ہے )
وہ اس کی پیٹھ کی سواری کرتا اسے ہر ممکن طریقے سے جگانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن شاید جانتا نہیں تھا کہ اس کا باپ بھی اسی کی طرح پورا ڈھیٹ ہے
روح بھی چاہتی تھی کہ اب یارم جاگ جائے اسی لیے وہ رویام کو بالکل بھی اسے تنگ کرنے کے لئے منع نہیں کر رہی تھی
کیسے وہ ساری رات اسے جگا کے خود مزے سے سو رہا تھا یہ تو روح کے ساتھ واقعی بہت بڑی ناانصافی تھی
آج میرا بیٹا یہ پنک والی شرٹ پہنے گا اور رات پارٹی کے لیے یہ یلو والی وہ ایک شرٹ کو نکال کر باہر لاتے یلکو وہی جو رکھ آئی تھی
ماما پلی تو پھون رر تے بولونہ آد رت املے در می پاتی اے ال توکلت ٹیک بی اے اول می اس تو بی دوں دا (ماما پری کو فون کر کے بولو نہ آج رات ہمارے گھر میں پارٹی ہے اور چوکلیٹ کیک بھی ہے اور میں اس کو بھی دوں گا) اب وہ یارم کی پیٹھ پر سیدھا ہو کر لیٹا اپنی ٹانگ کے اوپر ٹانگ رکھے فلل ریلکس انداز میں روح کو آرڈر جاری کرچکا تھا
بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو آپ کے ماموں کو بھی بلانا ہے ان کو بھی تو انویٹیشن دینا ہوگا وہ فون اٹھاتی بیڈ پر ہی بیٹھ گئی
جب کہ رویام روح کی بات کو شاباشی کے طور پر لیتا خوش ہوا تھا
ہیلو اس نے فون کیا جب دوسری طرف سے درک کی آواز آئی
درک بھائی میں روح بات کر رہی ہوں آج رات میری سالگرہ ہے اور آپ پری کو لے کر پارٹی میں ضرور آئے گا ویسے تو پری کو کل ہی شارف بھائی خود ہی انوائٹ کر چکے ہیں لیکن آپ کو بھی انوائٹ کرنا تھا اسی لیے میں فون کر رہی ہوں وہ اس کی سنے بغیر اپنی کہنے لگی
میں نہیں آ سکتا اور نہ ہی اس طرح کے فصول قسم کی پارٹیز میں مجھے انٹرسٹ ہے وہ بے حد سرد انداز میں بولا لیکن روح کو بالکل اثر نہ ہوا
ایسے کیسے نہیں آسکتے آپ کو آنا ہوگا اگر آپ نہیں آئے تو میں کیک نہیں کاٹوں گی وہ ضدی انداز میں بولی
تمہارا برتھ ڈے تمہارا کیک تم کاٹو یا نہ کاٹو مجھے کیا فرق پڑتا ہے وہ اسی لہجے میں بولا
ارے ایسے کیسے فرق نہیں پڑتا فرق تو آپ کو پڑنا چاہیے اور فرق پڑے گا میں پہلے بول رہی ہوں آپ اگر نہیں آئیں گے تو میں کیک نہیں کارٹوں گی
اس کے انداز میں ایک مان تھا ایک ضد تھی جو بہنیں اپنے بھائیوں سے کرتی تھی
وہ نہیں جانتی تھی اس کا یہ مان یہ ضد دوسری طرف موجود روک بھی محسوس کر رہا ہے یا نہیں لیکن وہ اپنے بھائی کو یہ مان دینا چاہتی تھی کہ اس دنیا میں اس کے پاس ایک رشتہ ہے
وہ فون بند کر چکا تھا روح نے ناراضگی سے موبائل کو گھورا
ایسا کون کرتا ہے کم از کم خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیتے اور نہیں تو مجھے برتھ ڈے ہی وش کر دیتے وہ منہ بنا کر موبائل ایک طرف رکھتی رویام کو دیکھنے لگی لیکن نظریں ئارم کی کھلی ہوئی آنکھوں پر پڑی
یارم یہ میرے لئے بہت مشکل ہے وہ اس کے پاس لیٹتے ہوئے بے حد اساسی سے بولی تو یارم ہلکا سامسکرایا
اس دنیا میں کچھ بھی مشکل نہیں ہے روح اور رشتوں کا احساس دلانا ہرگز نہیں تم اپنی کوشش جاری رکھو آج نہیں تو کل وہ تمہاری محبت کو ضرور قبول کرے گا یارم نے کہتے ہوئے ایک جھٹکے سے رویام کا بازو پکڑا اور اسے اپنے پیٹھ سے نیچے کرتے ہوئے اپنی باہوں میں دبوچ کر اپنی داڑھی چھبونے لگا
یا رم میرے معصوم بچے نے کیا بگاڑا ہے آپ کا رویام کے چلانے پر روحاسے چھڑانے لگی
میں بھی کسی کا معصوم بچہ ہوا میں نے کیا بگاڑا ہے تم ماں بیٹے کا اور میری پیٹھ کیا اسے گھوڑے کی سواری لگتی ہے جو آرام فرما رہا تھا
یارم اس کو بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اپنے جارحانہ انداز میں اسے پیار کرتا ہوااس کے گال سرخ کرچکا تھا جبکہ روح اپنے معصوم بچے کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر چکی تھی
ماما بتاو ماما بتاو(ماما بچاؤ ماما بچاؤ )ہر تھوڑی دیر کے بعد رویام کی بس اتنی ہی آواز نکلتی اور پھر وہ یارم کے شکنجے میں آ جاتا
روح بہت کوشش کے باوجود بھی سے بچا نہیں پائی تھی
یہاں تک کہ رویام کو بچانے کے لیے اس نے یارم کے بازو پر کاٹ بھی دیا تھا
لیکن یارم اپنے بازو پر زخم دیکھتا ہوا بس اتنا کہہ گیا تمہیں تو میں رات کو دیکھوں گا اور ایک بار پھر سے اپنے بازوؤں میں مچلتے رویام کی جانب متوجہ ہو گیا جب رویام تھک ہار کر رونے لگا تو وہ اس کے پیٹ میں گدگدی کرتا اسے پھر سے کھلکھلا کر ہنسنے پر مجبور کر گیا
جتنا وہ اس کے جارحانہ پیار سے چڑتا تھا یارم کو اس سے پیار کرنے میں اتنا ہی مزا آتا تھا
اور وہ جانتی تھی کہ چاہے وہ کتنی بھی کوشش کیوں نہ کرلے یارم نے نہ تو اپنا انداز بدلنا تھا اور نہ ہی رویام نے اس سے چڑنا چھوڑنا تھا
°°°°°°
سب کو ہی پتہ چل گیا تھا کی روح جان چکی ہے کہ آج اس کا برتھ ڈے ہے اسی لئے اب ساری پلاننگ اس کے سامنے ہی ہو رہی تھی
لیکن کتنے مزے کی بات تھی وہ اس کی سالگرہ کی تیاری کر رہے تھے اور اسے بالکل اہمیت نہیں دے رہے تھے
کچن میں آج لیلیٰ اور معصومہ کا قبضہ تھا کیونکہ برتھڈے گرل کو کام کرنے کی بالکل اجازت نہیں تھی
اور اگر یارم کے سامنے وہ ہاتھ پیر ہلاتی تو اس نے سب کے سامنے اسے ڈانٹ دینا تھا پر روح اس کی ڈانٹ نہیں کھانا چاہتی تھی کیونکہ وہ ہر روز رویام کے سامنے اسے ڈانٹ کر یہ کہتی تھی کہ اس کی ماں اس کے باپ کو بھی ڈانٹ سکتی ہے اور یارم کی ڈانٹ رویام کے سامنے کھا کر اپنا ایمج خراب نہیں ہونے دے سکتی تھی
دوپہر کے وقت جب پری نے ان کے گھر میں قدم رکھا تو روح کو ایک امید تھی کہ وہ بھی اندر آئے گا لیکن جب پری نے یہ بتایا کہ ڈرائیور کے ساتھ آئی ہے تو وہ ایک بار پھر سے دل مسوس کر رہ گئی
ہاں لیکن رویام پری کے آ جانے سے بہت خوش ہو گیا تھا
پری نے اسے بتایا تھا کہ اس نے درک کو چلنے کے لیے کہا ہے لیکن درک نے ا سے اجازت دے دیں یہی بہت ہے اس کا یہاں آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ وہ تو اپنے کسی دوست کی پارٹی میں آج کلب میں گیا ہوا ہے
مطلب صاف تھا کہ اس کا وہ دوست روح سے زیادہ اس کے لئے عزیز تھا
وہ ایسا ظاہر کرنا چاہتا تھا لیکن اس پر ایسا ظاہر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا
اس نے پری کو کہہ کر بھیجا تھا کہ روح کو بتا دینا کہ وہ اپنے دوست کی پارٹی میں گیا ہے اگر روح درک کے لیے اہمیت نہ رکھتی تھی تو وہ پری کو یہ کہہ کر کیوں بھیجتا کہ” روح کو بتا دینا “مطلب کے کہیں نی کہیں تو اس کے اندر بھی جذبات تھے وہ اپنے جذبات کو کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ہارٹ لیس نہیں تھا بس خود کو ہارٹ لیس بنانا چاہتا تھا
°°°°°°
اس نے پری کو فون کرکے بتایا تھا کہ وہ بہت لیٹ آئے گا
اور وہ خود اسے لینے آئے ڈرائیور نہیں اور اسے گھر کے باہر آنے کے لئے فون کرے گا تو پری خاموشی سے گھر سے باہر آ جائے کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ باہر سے لینے کون آیا ہے لیکن گھر کے باہر پہنچ کر اس نے پہلے وقت دیکھا رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے محفل ختم ہو چکی تھی اور اس کی سالگرہ بھی
وہ اس پر یہ ظاہر کرنے میں کامیاب رہا تھا کہ روح کا ہونا نہ ہونا اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا
اس نے دو تین بار پری کو فون کیا تو اس نے فون نہیں اٹھایا کچھ سوچ کر اس نے اپنے قدم گھر کے اندر کی جانب بڑھائے تو گھر میں خاموشی تھی
اسے دیکھتے ہی شونو بھاگ کر اس کے پاس آ گیا تھا
جبکہ ساتھ ہی اس کے آگے آگے چلتا اسے روم میں لے آیا
وہ سب لوگ خاموشی سے بیٹھے تھے عجیب سکوت تھا سب نے اسے دروازے پر کھڑا دیکھا تھا
ٹیبل پر بڑا سا کیک رکھا گیا تھا جیسے ٹچ بھی نہیں کیا گیا تھا تقریبا سبھی بچے سو رہے تھے اسے دیکھتے ہی روح کے چہرے پر ایک رونق سی آ گئی تھی وہ اداسی کہیں چھپ گئی تھی
اتنی دیر لگا دی آنے میں میں نے کہا تھا نہ جب تک آپ نہیں آؤ گے میں کیک نہیں کاٹوں گی مجھے پورا یقین تھا آپ ضرور آئیں گے آپ کی بہن کی سالگرہ ہو اور آپ نہ آئے ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ اس کا ہاتھ تھامیں اس کے سینے سے آ لگی
وہ چاہ کر بھی اسے خود سے دور نہیں کر پایا تھا
ہاں لیکن بے حد سرد لہجے میں بولا میں صرف یہاں پری کو لینے آیا تھا کسی کی سالگرہ منانے کے لیے نہیں
اور اگر تم میرا ویٹ کر کے اپنی سالگرہ کا دن خراب کر چکی ہو تو تم نے بہت غلط کیا ہے تمہیں ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا میرے لیے یہ ساری باتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تم پتھر پر سر مار کر اپنا ہی سر زخمی کر رہی ہومیرے نزدیک یہ سب باتیں صرف بچپنا ہے روح
میں نہ کل تم سے کوئی رشتہ رکھنا چاہتا تھا نہ ہی آج رکھنا چاہتا ہوں
میں تم سے صرف اس لئے ملنا چاہتا تھا کہ میں تمہیں تمہاری ماں کی کچھ چیزیں لوٹآنا چاہتا ہوں
لیکن خضر نے مجھے یہ کہہ کر تم سے دور کر دیا کہ تم اپنے باپ کے قاتل سے ملنا کبھی بھی پسند نہیں کروں گی میرے دل میں تمہارے لیے کچھ نہیں تھا روج کبھی بھی نہیں میں کبھی بھی تمہارے ساتھ بھائی بہن کا رشتہ نبھانا نہیں چاہتا تھا میں تو کسی سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتا اس دنیا میں میرا بس ایک ہی راستہ ہے
اور وہ رشتہ پری سے ہے باقی مجھے دنیا کے کسی شخص سے کوئی مطلب نہیں
چلو پری وہ بے حس بنا اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر کہنے لگا
پری کو اس کا انداز بہت بُرا لگا
ایکٹنگ بہت اچھی کرتے ہیں آپ کیا خیرکیک کاٹنے تک بھی نہیں رکیں گے میں صرف آپ کا انتظار کرتی رہی کیا آپ میرے لئے اتنا بھی نہیں کریں گے اس کا انداز اتنا معصومانہ تھا کہ وہ چاہ کر بھی پیرآگے نہ اٹھا سکا
فائن اگر یہ تم نے میرے لیے کیا ہے تو میں کیک کاٹنے تک تمہارے لئے یہاں رک سکتا ہوں لیکن اس کے بعد تم اپنی یہ بے جا ضد چھوڑ کر اپنی زندگی میں آگے بھڑہو گی وہ اس کی بات مانتے ہوئے کہنے لگا اور اس کے بعد بھی وہ کہتا تھا کہ وہ روح کے لیے جذبات نہیں رکھتا صرف روح کی اداسی کے لیے وہ اس کی بات ماننے پر مجبور ہوگیا تھا
بہت کوشش کے باوجود بھی اپنے آپ کو وہ ظاہر نہیں کر پاتا تھا جو کرنا چاہتا تھا روح کے چہرے کی مسکراہٹ یارم نے اندر اپنے دل میں بسائی تھی
سب کی موجودگی میں کیک کاٹا اور ہمیشہ کی طرح ہاتھ یارم کی جانب بڑھا نے لگی لیکن یارم نے اشارے سے اس سے کیک درک کی طرف بڑھا نے کے لئے کہا تو بےساختہ ہی وہ ہاتھ پلٹ کر اچانک اس کی منہ کے قریب کیک پیس لے آئی اور بنا اس کی مزاحمت کی پرواہ کیے کہ پیسہ اس کے لبوں سے لگایا
وہ نا چاہتے ہوئے بھی مجبور ہوگیا تھا
اس نے اسے گفٹ دیا تھا اس کی ماں کا لاکٹ
روح بے حد خوش تھی آج کی اس برتھ ڈے پر اس کے خونی رشتے بھی شامل تھے
پارٹی ختم ہوتے ہی وہ اپنے آپ پر پھر سے سخت خول طاری کرتا پری کو اپنے ساتھ لے کر چلا گیا لیکن روح بہت خوش تھی اور اس کی خوشی کی وجہ یارم بہت اچھے سے جانتا تھا
کیک کاٹنے کے انتظار میں رویام صرف چاکلیٹ کھا کر گہری نیند اتر چکا تھا اس کا روح کو بہت افسوس تھا
اس لئے وہ صبح ہی اس کے لیے کیک بنانے کا ارادہ کر چکی تھی
°°°°°°
اس کے سینے پر سر رکھ درک کو ہی سوچ رہی تھی اسے اب سمجھ چکی تھی کہ وہ ویسا نہیں ہے جیسا خود کو ظاہر کرتا ہے
اور وہ دن دور نہیں جب درک بھی اسے اپنی بہن مان کر اس کے اس حسین رشتے کو قبول کرے گا
اور وہ قبول کرتا تھا وہ اس کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھتا آج جانے سے پہلے وہ اسے اس کی ماں کا ایک چاندی کا لاکٹ دے کر گیا تھا
اور اسے بتایا تھا کہ یہ اس کی ماں کا ہے روح کتنی خوش تھی اسے پا کر صرف وہی جانتی تھی اس کے پاس اپنی ماں کی کوئی چیز نہیں تھی لیکن آج درک کی وجہ سے اسے اپنی ماں کا لمس بھی محسوس ہوا
جب کہ اس کی خوشی کو محسوس کرکے یارم بھی بے حد خوش تھا بھائی جیسا بھی ہوتا تو بھائی ہے اور یہ رشتہ ایک بے حد حساس رشتہ ہے بھائی چھوٹا ہو یا بڑا لیکن بہن اپنے آپ کو اس کے ہوتے ہوئے محفوظ اور مضبوط محسوس کرتی ہے
خضر اور شارف نے کبھی اسے بھائی کی کمی محسوس نہ ہونے دی تھی لیکن درک کے آجانے کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو اور زیادہ مضبوط محسوس کرنے لگی تھی
وہ اپنی ہی سوچوں میں ڈوبی کب سے اپنے بالوں پر اس کا لمس محسوس کر رہی تھی اس کے ہاتھ روکے تو بے اختیار سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی
کتنے جلتے ہیں نا آپ مجھے سوچوں میں بھی نہیں سوچنے دیتے کسی اور کووہ شکایتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی تو یارم مسکرایا
رات کے تین بج رہے ہیں بیوی اور اس وقت تمہیں صرف اپنے شوہر کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ تم دن رات اپنی سوچوں پر کسی اور کو سوار رکھو گی اور میں یہ چیز قبول کر لوں گا تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے
روح کی سوچوں پر صرف اور صرف یارم کا حق ہے وہ اس کا سر ایک بار پھر سے اپنے سینے پر رکھتے ہوئے بولا تو وہ بے اختیار مسکرا ئی
سوچوں پر یہ کیوں روح کی آنکھوں پر
روحکے بالوں پر
روح کے لبوں پر
روح کے چہرے پر
روح کی زندگی پر
اور روح کی روح پر صرف اور صرف یارم کا حق ہے ۔
روح سر سے پاؤں تک صرف اور صرف یارم کاظمی کی ہے ۔
وہ یہ سب کچھ بھی بولنا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے ہی روح بول گئی تو وہ قہقہ لگاتے ہوئے اسے اپنے سینے میں بھنچ چکا تھا
روح تو بہت سمجھدار ہے وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا اس کے کان کی لو چوم کر بولا تو وہ مسکرا کر اس کے سینے میں اپنا آپ چھپایا گئی
°°°°°°
