504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 9)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

کاشی کی آنکھ اپنے برابر والے گدے پر بیٹھے ہوئے مدثر کو رونے کی آواز کھلی دو دن پہلے وہ قتل کے جرم میں جیل آیا تھا اور وقفے وقفے سے کاشان اسے روتے ہوئے دیکھ رہا تھا کاشان اٹھ کر اس کے لئے پانی لینے گیا

“پی لو”

اسٹیل کا گلاس اسے تھماتے ہوئے کہا مدثر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

“کیا تمہیں اپنے قتل کرنے پر پچھتاوا ہے” کاشان نے اس کے رونے کی وجہ جانی چاہی

“بہت زیادہ اور اب ساری زندگی شاید پچھتاوے میں ہی رہنا ہے مجھے”

مدثر نے دیوار سے سر ٹیک کر کہا

“کس کو قتل کیا ہے تم نے”

کاشان کو اس لئے ہمدردی کے ساتھ تجس ہو رہا تھا کہ بہت کم لوگوں کو اس نے یہاں پر آکے پشیمان دیکھا تھا

“اپنی بیوی کو جس سے میں بہت پیار کرتا تھا”

مدثر نے اپنے اوپر ملامت کرتے ہوئے بتایا

“جب کسی کو پیار کیا جاتا ہے تو اس کی جان کیسے لی جاسکتی ہے”

کاشان نے الجھتے ہوئے اس سے سوال کیا

“غصہ حرام چیز ہے اس سے، انسان اپنے آپ کو ہی تباہ و برباد کر لیتا ہے،،، غصے میں انسان سے وہ عمل سرزد ہوجاتا ہے جس کا اس نے سوچا نہ ہو۔۔۔ مگر جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تب پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا”

مدثر کے چہرے پر اب بھی پچھتاوا تھا۔۔۔ اس نے گلاس کو دیکھ کر کاشان سے کہا

“اس سے تو پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو پیار یا پھر شادی نہیں کرنی چاہیئے کیوکہ غصہ تو ہر انسان کو آتا ہے”

کاشان نے کندھے اچکا کر کہا

“نہیں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو غصے میں بھی اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے تاکہ بعد میں پچھتانا پڑے”

مدثر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

“کاشی آٹھ گیا ہے تو، چل یہاں پر آجا دو دن بعد تو تجھے چلے جانا ہے”

آزر نیند سے اٹھتا ہوا کاشان کو دیکھ کر بولا تو وہ آزر کے پاس آگیا تین سال پہلے ہی اس کی آزر سے دوستی ہوئی تھی

“مدثر کے پاس بیٹھا تھا اس کی داستان سن رہا تھا، پچھتا رہا ہے وہ جرم کرکے”

کاشان آزر کو بتانے لگا

“پاگل ہے سالا مار پیٹ لیتا بیوی کو۔۔۔ یہ کس نے کہا تھا کہ قتل ہی کر دے،، رونے دے بےوقوف کو۔۔۔۔ تو بتا پرسوں آزاد ہوجائے گا۔۔۔ کیا ارادہ ہے باہر جاکر” آزر نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا

“کرنے کو کیا ہے یار یہاں رہتے ہوئے پڑھ لیا ہے،، باہر نکل کر نوکری ڈھونڈ لوں گا کاشان نے سوچا ہوا پلان بتایا

“اور پھر اچھی سی لڑکی ڈھونڈ کر شادی اور پھر بچے” ازر نے اس کا جملہ مکمل کیا جس پر وہ دونوں ہی ہنسے

“مجرم کو کون اپنی بیٹی دینا پسند کرتا ہے میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا” کاشان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا

“کیوں نہیں پسند کرسکتا بھئی،، تو پڑھا لکھا ہے ماشاءاللہ قد کاٹھ کا شکل صورت کا اچھا ہے۔۔۔ جب نوکری کرے گا اور شریف لوگوں کی طرح زندگی گزارے گا تو کوئی بھی آسانی سے تجھے اپنی بیٹی دے دے گا بلکہ یہ بتاؤ اگر تجھے باہر نکل کر کوئی لڑکی پسند آگئی تو”

آزر نے انکھوں میں شرارت لیے اس سے پوچھا

“خار ہے مجھے اس مخلوق سے بچپن سے ہی، شادی کی الگ بات ہے مگر خود سے پسند آ جانا ناممکن۔۔۔ ویسے بھی جیسی لڑکی اس دل کو بھائے گی وہ آج کل کے دور میں نہیں پائی جاتی۔۔۔ چھوڑو ان باتوں کو ناشتہ لینے چلتے ہیں ورنہ لائن لمبی ہو جائے گی”

کاشان بات ختم کرتے ہوئے اٹھا تو ازر بھی اٹھ گیا

****

“اکیلے باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے وہاں پر اپنی فرینڈز کے ساتھ ہی رہنا اور زیادہ کسی اجنبی سے بات مت کرنا ثوبان کار ڈرائیو کرنے کے ساتھ ساتھ برابر میں بیٹھی رنعم کو مستقل نصیحتیں کرتا جا رہا تھا

“اف بھیا آپ بھی مما بابا کی طرف سبق پڑھائے جا رہے ہیں، یہ سب باتیں مما بابا مجھے صبح پہلے ہی بھول چکے ہیں”

رنعم نے مصنوعی ناراضگی سے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا

“رنعم مما بالکل بھی ایگری نہیں تمہیں اتنے دنوں کے لئے اتنی دور بھیجنے کے لیے، مجھے اندازہ ہے میرے بولنے پر انہوں نے تمہیں اجازت دی ہے اس لیے اب تم مجھے اپنی 24گھنٹے کی اپڈیٹ دیتی رہنا

ثوبان نے ایک نظر سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر کہا پھر کار ڈرائیو کرنے لگا

“معلوم نہیں بچپن سے ہی مجھ پر اتنی پابندیاں کیوں لگائی جاتی ہیں،،، یہاں نہیں جاؤ، وہاں نہیں جاؤ یہاں ڈرائیور کے ساتھ جاؤ، اس سے بات نہیں کرو اس طرح بات نہیں کرو۔۔۔ مما بھی کتنی سختی برتنے لگی ہے مجھ پر”

رنعم نے افسوس کرتے ہوئے ثوبان سے کہا

“ان سب کے پیچھے کیا وجوہات ہیں کیا تمہیں علم نہیں اسکا،، یہ سب سختی کے طور پر نہیں احتیاط کے طور پر کیا جاتا ہے۔۔۔ مما اپنی ایک بیٹی کھو چکی ہیں اس لئے سب تمہارے لئے احتیاط برتتے ہیں کتنی مشکلوں سے تو وہ نارمل لائف کی طرف آئی ہیں”

ثوبان سے ان کے گھر کی کوئی بھی بات ڈھکی چھپی نہیں تھی۔۔۔ وہ ابھی بھی رنعم کو بہت پیار سے سمجھا رہا تھا تاکہ وہ کسی سے بدظن نہ ہو

“کتنا اچھا ہوتا نہ بھائی کے آپی بھی ہمارے ساتھ ہوتی۔۔۔ میں یہی سوچتی ہوں اللہ نے مجھے ماں باپ کے ساتھ بھائی کے رشتے سے نوازہ لیکن بہن کے ہوتے ہوئے بھی،، وہ پاس نہیں”

رنعم حسرت سے بول رہی تھی، اپنی دوستوں کی بہنوں کو دیکھ کر اس کا بھی دل چاہتا کہ کاش اس کی بہن بھی اس کے پاس موجود ہوتی

“بس دعا یہ کرو انعم جہاں بھی کہیں ہوں ساتھ خیریت کے ہو اور مما کے سامنے ایسی باتیں کرنے کی ضرورت نہیں،،، ورنہ ان کی طبیعت خراب ہونے لگی”

ثوبان نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے کہا مگر سامنے دور سے عبائے میں کوئی لڑکی ہاتھ کے اشارے سے لفٹ مانگ رہی تھی۔۔۔ کوئی مرد ہوتا تو رنعم کی موجودگی میں وہ کبھی بھی کار نہیں روکتا مگر یہاں پر ٹریفک کم ہونے کی وجہ سے اس طرح کسی لڑکی کو اگنور کر کے چلے جانا مناسب نہیں لگا پتہ نہیں کیا مسئلہ ہوگا بچاری کے ساتھ یہ سوچ کر ثوبان اس کے پاس گاڑی روکی

“ایکسکیوز می کیا مجھے”

اس نے ثوبان کو جیسے ہی دیکھا آدھا جملہ منہ میں ہی کہیں رہ گیا یوں اچانک 14 سال بعد وہ اس کے سامنے آجائے گا،، یہ سیرت کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا جبکہ دوسری طرف ثوبان کا بھی حال اس سے مختلف نہ تھا وہ بنا پلک جھپکائے اسی کو دیکھ رہا تھا

“سسٹر آپ کچھ کہنا چاہ رہی ہیں؟ کیا کوئی پرابلم ہے” ثوبان اور اس لڑکی کو چپ دیکھ کر رنعم بولی تو وہ دونوں ہی ہوش کی دنیا میں واپس آئے

“نہیں وہ مجھے دراصل ہائی وے تک لفٹ چاہیے تھی مگر اٹس اوکے میں چلی جاؤں گی”

اپنی دھڑکنوں کو اور خود کو نارمل کرتے ہوئے سیرت ایک دم بولی

“ایسے کیسے جاؤں گی”

ثوبان بے ساختہ بولا

“وہ میرا مطلب ہے آپ اتنی دور کیسے جائیں گی پلیز کار میں آ کر بیٹھ جائیں میں آپ کو آگے تک چھوڑ دیتا ہوں”

رنعم کی موجودگی کا احساس کر کے وہ ایک دم سمبھل کر بولا اسے معلوم تھا کہ یہ سیرت ہے اور یقیناً وہ بھی اس کو پہچان گئی ہوگی مگر وہ اس سے اس طرح اجنبی رویہ کیوں رکھ رہی ہے آخر۔۔۔۔

“چھوڑ دینا آپکی پرانی عادت ہے اور لفٹ آپ پہلے ہی کرا چکے ہیں، شاید اب میرے لئے جگہ نہیں بچی تھینکس”

سیرت نے سرسری نظر سے برابر میں بیٹھی خوبصورت سی لڑکی کو دیکھ کر کہا۔۔۔ اس لڑکی کو دیکھ کر اسے اپنے اندر کچھ ٹوٹا سا محسوس ہوا،،، وہ دوبارہ جانے لگی ثوبان گاڑی کا دروازہ کھول کر تیزی سے باہر نکلا

“ایکسکیوز می پلیز آپ ایک سیکنڈ میری بات سنیں”

ثوبان کے لہجے میں بے قراری محسوس کر کے سیرت کے قدم رکے وہ مڑ کر چلتی ہوئی اس کے پاس آئی ثوبان دوبارہ اس کو غور سے دیکھنے لگا،،، وہ اس کو کیسے بھول سکتا تھا یہ چہرہ تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا

“ایک سیکنڈ ہوچکا ہے مسٹر،، آپ نے مجھے کچھ کہنے کے لئے روکا ہے یا گھورنے کے لیے”

سیرت سنجیدگی سے ثوبان کو دیکھ کر بولی

“گھورنے کے لیے” غائب دماغی میں اسے معلوم ہی نہیں وہ کیا بول گیا مگر سیرت کے گھورنے پر وہ دوبارہ ہوش میں آیا

“سوری میرا مطلب تھا آپ اتنی دور تک کیسے جائے گیں سڑک کافی سنسان ہے آپ گاڑی میں بیٹھ جائیں پلیز”

پلیز کہتے ہوئے ثوبان کے لہجے میں ایسی التجا کی تھی جس کی سیرت چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکی چپ کر کے گاڑی کی طرف بڑھی،،، ثوبان نے جلدی سے کار کے پیچھے کا دروازہ اس کی لیے کھولا۔۔۔ رنعم تھوڑا کنفیوز ہو کر ان دونوں کو دیکھ رہی تھی اسے محسوس ہوا جیسے وہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں

“سسٹر آپ کمفرٹیبل ہے یا یہ سامان میں آگے رکھ لو”

رنعم نے مڑکر سیرت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

“اس کی ضرورت نہیں شکریہ”

سیرت نے رنعم کو اسمائل دے کر کہا ساتھ ہی اس کی نظر کار کے مرر پر پڑی،، جس میں دو آنکھیں ابھی تک اس کو دیکھنے میں مصروف تھی سیرت کے مرر میں دیکھنے پر ثوبان نے کار اسٹارٹ کردی مگر بار بار وہ مرر سے سیرت پر نظر ڈالتا

“کیا نام ہے آپ کا” رنعم کے سیرت سے سوال پوچھنے پر ثوبان خوش ہوا اب وہ بے قراری سا مرر میں دیکھ رہا تھا اور اس کے جواب کا انتظار کر رہا تھا سیرت نے ایک نظر مرر میں ثوبان کو دیکھا

“نیہا”

سیرت نے مسکرا کر رنعم کو جواب دیا ثوبان نے جھٹکے سے کار موڑی وہ دونوں ہی ایک دم ڈسبیلنس ہوئی،، رنعم نے اپنے آپ کو بیلنس میں رکھنے کے لئے ثوبان کے شولڈر کا سہارا لیا۔۔۔ سیرت رنعم کا نازک سا ہاتھ ثوبان کے شولڈر پر دیکھ کر نظروں کا زاویہ بدل گئی

“سوری آئی تھنک روڈ کچی ہے اس لیے”

ثوبان معذرت کرتا ہوا بولا

“میرا نام رنعم ہے اور یہ اسمارٹ اور ڈیشنگ سے میرے ڈرائیور،، ان کا نام ثوبان احمد ہے” رنعم نے مسکرا کر ثوبان کو آنکھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔ ایک زخمی مسکراہٹ سیرت کے لبوں پر آئی اب وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی گاڑی میں ایک دم خاموشی چھا گئی جسے دوبارہ رنعم کی آواز نے توڑا

“نہیا مائیڈ نہیں کریں تو یہ بیگ کے پاس باکس رکھا ہے وہ دے دیں گی”

رنعم کے کہنے پر سیرت کی نظر بیگ کے پاس رکھے بوکس پر گئی جس میں شاید کچھ کھانے کی چیز رکھی تھی

“شیور”

سیرت نے باکس رنعم کو تھمایا اس باکس میں سے رنعم نے سینڈوچ نکالے

“یہ لیجئے نیہا”

رنعم نے اس کی طرف سینڈ وچ بڑھاتے ہوئے کہا

“نہیں شکریہ” سیرت میں ہچکچاتے ہوئے رنعم کو دیکھ کر بولا

“لے لیجئے میم مل بانٹ کر کھانے سے محبت بڑھتی ہے” ثوبان کے بولنے پر سیرت نے مرر سے ثوبان کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا سیرت کو جیسے کچھ یاد آیا

“میری باتیں تمہیں یاد رہ گئی ہیں مگر شاید تم مجھے بھول گئے ہو” سیرت نے سینڈوچ کی بائٹ لیتے ہوئے سوچا

“آپ ڈرائیونگ کرتے ہوئے کیسے کھائے گے جناب،، چلیں پہلے میں آپ کو کھلا دیتی ہو”

رنعم نے خود ہی مسئلے کا حل نکالتے ہوئے کہا اور سینڈوچ ثوبان کی طرف بڑھایا ثوبان نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے بائٹ لیا، یہ منظر دیکھتے ہی سیرت کو اپنا نوالہ حلق میں اٹکتا ہوا محسوس ہوا جس سے اسے زوردار قسم کا پھندہ لگا

“ارے آپ کو کیا ہوگیا”

سیرت کے کھانسنے پر رنعم نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہی ثوبان نے بریک لگا کر کار روکی۔۔۔ اپنے پاس رکھی ہوئی بوتل جلدی سے سیرت کی طرف بڑھائی جسے سیرت نے ایک شکایتی نظر ثوبان پر ڈال کر اس کے ہاتھ سے لی اور اس میں سے پانی پینے لگی۔۔۔ سیرت کی آنکھوں میں ناراضگی کا تاثر ابھی بھی ثوبان کو الجھا رہا تھا

“یہی سے پیٹرول ڈلوالیتا ہوں”

ثوبان نے رنعم سے بول کر ایک نظر مرر سے سیرت کو دیکھا ثوبان کی نظروں سے سیرت کی انکھوں میں آئی نمی نہیں چھپ سکی تھی

“میں ذرا یعشل سے پوچھ لو کہاں تک پہنچے وہ لوگ” رنعم اپنا موبائل لے کر کار سے اتر گئی اور کال ملانے لگا سیرت نے رنعم کا جائزہ لیا۔ ۔۔ جینز کے اوپر لونگ کرتے میں وہ خوبصورت سی لڑکی تھی شاید عمر میں اس سے ٢ یا ٣ سال چھوٹی۔۔۔۔

رنعم کے اترنے پر اس سے پہلے ثوبان اس سے بات کا آغاز کرتا،، سیرت نے کار کا دروازہ کھولا اور کار سے اتر گئی

“کہاں جا رہی ہیں آپ”

اس کو جاتا ہوا دیکھ کر ثوبان بھی کار سے باہر نکلا اور اس کے راستے میں آتا ہوا پوچھنے لگا

“یہاں سے خود چلی جاو گی میں۔ ۔۔۔ جتنی آپ نے لفٹ کرادی ہے اس کا شکریہ”

سیرت بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگے

“سیرت میری بات سنو”

ثوبان اس کو جاتا دیکھ کر بولا مگر وہ رکی نہیں ثوبان آگے بڑھا کر اس کا ہاتھ پکڑا

“میں نے تم سے کچھ کہا ہے”

سیرت کو دیکھ کر وہ سنجیدگی سے بولنے لگا، کتنے سالوں بعد آج وہ اس سے ملی تھی اور جب سے ملی تھی وہ اس کی جان ہی نکالے جارہی تھی

“مگر میں سیرت نہیں، نہیا نام ہے میرا”

سیرت نے اپنا ہاتھ چھوڑاتے ہوئے کہا

“تم دنیا کو بیوقوف بنا سکتی ہوں مگر مجھے نہیں”

ثوبان اس کو دیکھ کر جتاتا ہوا بولا

“لڑکی سے بات کرنے کا اچھا بہانہ ڈھونڈا ہے آپ نے”

سیرت اس سے بات کرتے ہوئے آس پاس دیکھ رہی تھی وہ اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی

“کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا، کس بات پر خفا ہو پلیز ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں”

ثوبان نے نرمی سے بولتے ہوئے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑنا چاہتا

“کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ سمجھ میں نہیں آرہی۔۔۔ اب ہاتھ پکڑنے کی کوشش نہ تو چماٹ پڑے گا میرے ہاتھ سے”

سیرت نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور غصہ کرتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ ثوبان اسے حیرت سے جاتا دیکھتا رہ گیا