504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 44)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“مما کیا ہوا ہے سب خیریت ہے”

دروازہ کھولتے ہی روتی ہوئی یسریٰ کو تھام کر ثوبان نے پوچھا

“ثوبان معلوم نہیں بہروز کو کیا ہوگیا ہے میری بات کا جواب نہیں دے رہے ہیں”

یسریٰ نے روتے ہوئے ثوبان سے کہا۔۔۔ سیرت بھی یسریٰ کے پاس پہنچ چکی تھی۔۔۔۔ ثوبان یسریٰ کی بات سنتے ہی کوئی جواب دیئے بغیر تیزی سے سیڑیاں اترتا ہوا بہروز کے بیڈ روم میں پہنچا وہ دونوں بھی ثوبان کے پیچھے آئیں

“بابا اٹھیں دیکھیں مما پریشان ہو رہی ہیں”

ثوبان نے بہروز کا ٹھنڈا ہاتھ تھام کر پکارا مگر وہ بے سود۔۔۔ اس نے بہروز کی نبس چیک کی

“ثوبان مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز بہروز سے کہو وہ انکھیں کھول لیں” یسریٰ رونے لگی تو سیرت میں اسے گلے لگا لیا

“کہاں جارہے ہو” ثوبان کو روم سے جاتا دیکھ کر سیرت نے اس سے سوال کیا

“ڈرائیور سے کار نکالنے کا کہتا ہوں۔۔۔ اسپتال جانا ہوگا تم مما کو دوسرے کمرے میں لے جاؤ”

ثوبان کی ضبط سے سرخ آنکھیں سیرت کو بہت کچھ سمجھانے لگی مگر وہ دل کو مضبوط کر کے ثوبان کی بات مانتے ہوئے یسریٰ کو وہاں سے لی گئی جبکہ ثوبان دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا اس کا شک غلط ثابت ہو بہروز کا بستر سے لگا کمزور وجود بھی، اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا

****

“رنعم اٹھو شاباش”

کاشان کی آواز پر رنعم کی آنکھ کھلی

“آپ نے تو رات میں کہا تھا کہ صبح لیٹ آفس جانا ہے پھر بھی کیوں اٹھا لیا ابھی سے”

رنعم نے سامنے دیوار پر لگی وال کلاک میں ٹائم دیکھا تو صبح کے ساڑھے سات بج رہے تھے

“جاو جلدی سے فریش ہو کر آؤ” کاشان نے اس کی بات کا کوئی جواب دیئے بغیر دوسرا آرڈر دیا اور خود روم سے باہر نکل گیا۔۔۔ رنعم آنکھیں زبردستی کھولتے ہوئے واش روم میں گئی کیوکہ رات کو بھی کافی دیر سے سونا ہوا تھا۔۔۔ جب وہ کچن میں آئی تو کاشان ناشتہ ٹیبل پر رکھ رہا تھا

“میں بنا لیتی ناشتہ آپ نے کیوں بنایا” رنعم نے اس کو دیکھ کر پوچھا

“ایک ہی بات ہے آو ناشتہ کریں”

کاشان نے اسے کرسی کی طرف اشارہ کیا اور خود بھی دوسری کرسی پر بیٹھ گیا

“آپ کیوں نہیں ناشتہ کر رہے ہیں” رنعم نے اسے خالی چائے پیتے ہوئے دیکھا تو پوچھنے لگی

“موڈ نہیں ہو رہا بعد میں کر لوں گا تم صحیح سے ناشتہ کرو”

کاشان کے جواب پر وہ خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی روزانہ کے برعکس کاشان خاموش تھا اس لئے رنعم نے بھی زیادہ بات نہیں کی

“یہ کپڑے کیوں نکال رہے ہیں میرے” رنعم برتن واش کر کے آئی تو کاشان کو وارڈروب سے ڈریس نکالتے دیکھ کر پوچھنے لگی

“جاو چینج کر کے آؤ پھر بتاتا ہوں” کاشان نے سنجیدگی سے کہا اب رنعم کو اس کے رویے سے پریشانی ہونے لگی

“کیا بات ہے کاشان آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں”

رنعم نے کاشان کو دیکھتے ہوئے سوال کیا

“چینج کر لو پھر ہمہیں تمہارے گھر جانا ہے۔۔۔ انکل کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ ثوبی نے تھوڑی دیر پہلے فون کر کے بتایا ہے”

رنعم کی آنکھوں میں تشویش اور پریشانی دیکھ کر کاشان نرم لہجے میں اس سے بولا رنعم اپنا موبائل اٹھانے کے ارادے سے آگے بڑھی کاشان نے اس کا ہاتھ پکڑا

“ہم چل رہے نہ رنعم،، جو جلدی چینج کر کے آو”

کاشان کے دوبارہ بولنے پر وہ کاشان کو دیکھتے ہوئے ڈریس چینج کرنے چلی گئی۔۔۔ واپس آئی تو کاشان کسی سے کال پر بات کر رہا تھا رنعم کو دیکھ کر کال کاٹی اور گاڑی کی چابی اور موبائل لے کر باہر نکلا

صبح کے وقت اپنے گھر کے سامنے گاڑیاں اور چہل پہل دیکھ کر رنعم نے نہ سمجھنے والے انداز سے کاشان کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

“رنعم انکل ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں آج صبح ہی انکی۔۔۔”

کاشان نے اپنی بات مکمل کئے بناء رنعم کو تھاما کیوکہ وہ خود ہی ہوش وخروش سے بیگانہ ہو گئی تھی

****

“بتاؤ کل ہی بیٹی کی شادی کی بہروز بھائی نے اور آج ہی صبح دل کے بند ہونے سے دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔۔ ثوبان اور اپنی بیٹی کی شادی راس نہیں آئی انہیں”

ہال میں سبھی خواتین بیٹھی تھی ایک خاتون نے سیرت کو دیکھ کر تبصرہ کیا۔۔۔ آواز اتنی بھی آہستہ نہ تھی جو سیرت نہ سن سکے مگر وہ دوسرے لوگوں کو اور موقع دیکھ کر وہ خاموش رہی جبکہ کاشان جو کسی کام کے غرض سے وہاں آیا تھا ان خاتون کی بات وہ بھی سو چکا تھا

“آنٹی میرا خیال ہے سپارہ آپ نے پڑھنا نہیں ہے اور انکل کی ڈیتھ کا افسوس آپ کر ہی چکی ہیں۔۔۔ اب بچتا ہے کھانا،،، تو اس میں ابھی کافی ٹائم ہے۔۔۔ میرے خیال میں آپ کو گھر جانا چاہیئے بریانی آپ کے گھر غلام بخش پہنچا دے گا”

کاشان کی بات پر چند خواتین نے کاشان کو دیکھا اور ان خاتون کا اچھا خاصا منہ بن گیا جن کو کاشان نے مشورہ دیا تھا۔۔۔ انہیں یسریٰ کا یہ بدتمیز سا داماد پہلے بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔ وہ کاشان کو گھورتی ہوئی باہر نکل گئی

“بیٹا یہ کیا طریقہ ہے گھر آئے مہمان سے بات کرنے کا۔۔۔ وہ یسریٰ کی دوست ہے ہمارے غم میں شریک ہونے آئی تھی”

فرح نے کاشان کو دیکھتے ہوئے کہا آج صبح ہی وہ دوبارہ واپس آئی تھی

“غم میں کہاں شریک ہونے آئی تھیں،، وہ تو مزید ہمارا غم بڑھانے آئی تھیں۔۔۔ کتنی دیر سے فضول تبصرہ کر کے ٹائم پاس کر رہی تھیں۔۔۔۔ ان کا یہاں سے جانا ہی بہتر تھا۔۔۔ یسریٰ آنٹی کہاں پر ہے نظر نہیں آرہی” کاشان نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرح سے یسریٰ کے بارے میں پوچھا

“دو منٹ پہلے ہی اسے بیڈ روم میں لٹا کر آئی ہو۔۔۔ تھوڑی دیر ریسٹ کرلے گی تو اچھا ہے ورنہ اس کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔۔ تم سب بہروز کو چھوڑ کر آ گئے”

فرح نے روہانسی انداز میں کاشان سے پوچھا وہ لوگ ابھی قبرستان سے واپس آئے تھے

“جی۔۔۔۔ آنٹی آپکو صبر سے کام لیتے ہوئے یسریٰ آنٹی کو سنبھلنا ہوگا۔۔۔ رنعم کہاں پر ہے”

فرح کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر کاشان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی رنعم کا پوچھا

وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا کیوکہ بہروز کا چہرہ دیکھ کر یسریٰ کے ساتھ ساتھ رنعم کی بھی حالت بگڑ گئی تھی۔۔۔۔ سیرت خود روتے ہوئے رنعم کو سنبھال رہی تھی جبکہ فرح نے یسریٰ کو سنبھالا ہوا تھا ثوبان کی بھی حالت ان سے مختلف نہیں تھی مگر وہ اس وقت ضبط کیے ہر ایک سے مل رہا تھا۔۔۔ بہروز پر مٹی ڈالتے ہوئے وہ بہت رویا تھا اسے کاشان اور عاشر نے چپ کرایا

“اپنے بیڈ روم میں ہیں تم لوگوں کے جانے کے بعد حالت خراب ہوگئی تھی۔۔۔ اس کو سکون کا انجکشن دیا ہے سو رہی ہے ابھی”

فرح بتاتے ہوئے ایک دفعہ پھر افسردہ ہونے لگی کاشان چپ کر کے وہاں سے چلا گیا

****

“تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے ثوبی پلیز تھوڑا سا کھانا کھا لو”

سب لوگوں کو فارغ کر کے سیرت کھانے کی ٹرے بیڈروم میں ہی لے آئی ثوبان آنکھوں پر ہاتھ رکھے بیڈ پر لیٹا تھا۔۔۔۔ سیرت نے دوپہر میں ہی شاہدہ سے کہہ کر اپنے بیڈ روم سے سارے پھول ہٹانے کا کہا تھا

ثوبان جب قبرستان سے واپس آیا تھا، تو یسریٰ ثوبان گلے لگ کر بہت روئی تھی یسریٰ کو چپ کراتے ثوبان کو بھی رونا آگیا اور ان دونوں کو اس طرح روتا دیکھ کر باقی سب کی آنکھ بھی اشکبار ہوگئی تھیں

کاشان اور فرح نے آگے بڑھ کر ان دونوں کو چپ کرایا۔۔۔ افسوس کرنے والے مہمان تو سارے واپس چلے گئے تھے غفران اور عاشر بھی حیدرآباد کے لیے نکل گئے تھے فرح یسریٰ کے پاس رک گئی تھی۔۔۔ فی الحال کاشان اور رنعم بھی وہی موجود تھے

رات کا کھانا یسریٰ رنعم کو زبردستی تھوڑا بہت کھلایا مگر ثوبان اپنے بیڈ روم میں چلا آیا تھا

سیرت ثوبان کو صبح سے ہی لوگوں کے درمیان میں خاموش بیٹھا دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس وقت رات کے نو بج چکے تھے اور سب اپنے بیڈ روم میں موجود تھے کیوکہ سب ہی صبح کے جاگے ہوئے تھے۔۔۔ سیرت کو ثوبان کی فکر ہونے لگی

“ثوبی کیا سوگئے”

کوئی جواب نہ پاکر سیرت دوبارہ بولی

“دل نہیں چاہ رہا کھانا کھانے کا ایک کپ چائے بنا دو مجھے”

سیرت کے دوسری بار بولنے پر ثوبان اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتا ہوا بولا

“خالی پیٹ تو ہرگز چائے پینے نہیں دوگی،،، چلو اٹھو جلدی سے”

ٹرے سائڈ پر رکھ کر سیرت اسے بازو سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولی ثوبان سرخ آنکھیں لیے اسی کو دیکھ رہا تھا

“آج میں دوسری بار یتیم ہوگیا سیرت” ثوبان اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپاتا ہوا بولا۔۔۔ سیرت نے ثوبان کے چہرے سے اس کے ہاتھ ہٹائے اور آنسو صاف کیے اس کا سر اپنے کندھے پر رکھا

“جس دن میرے سگے باپ کا انتقال ہوا تھا،،،، امی اور کاشی کے غم میں وہ دکھ کہیں دب گیا تھا۔۔۔ مگر آج لگ ہے جیسے کوئی قیمتی چیز مجھ سے دور چلی گئی ہو۔۔۔۔ تم اندازہ نہیں لگا سکتی سیرت، بابا میرے لئے کیا معنیٰ رکھتے تھے۔۔۔ ان کے نہ ہونے سے میں خود کو کتنا تنہا محسوس کر رہا ہوں۔۔۔ مما کو اکیلے کیسے سنبھلوں گا میں، وہ کتنی بری طرح ٹوٹ چکی ہیں”

ثوبان سیرت کے کندھے سے لگا ہوا اس سے اپنا دکھ بیان کر رہا تھا

“ثوبی تمہارے ساتھ ساتھ میں بھی تو اپنا دوسری بار باپ کھویا ہے پلیز اپنے آپ کو سنبھالو۔۔۔ تمہیں سب کو سنبھالنا ہے،،، تمھیں ہمت سے کام لینا ہے”

سیرت خود بھی روتے ہوئے اس کی ہمت باندھنے لگی

تھوڑا بہت ثوبان کو کھانا کھلا کر اس کے لئے چائے بنانے چلی گئی

****

بہروز کے انتقال کو آج پورے 15دن گزر چکے تھے آہستہ آہستہ سب کی زندگی معمول پر آنے لگی تھی فرح سوئم کر کے واپس چلی گئی تھی کیوکہ غفران اور عاشر وہاں پر اکیلے تھے جبکہ دو دن روکنے کے بعد کاشان بھی اپنے فلیٹ میں واپس آگیا تھا مگر رنعم کو اس نے ثوبان کے کہنے پر یسریٰ کے پاس ہی چھوڑا ہوا تھا۔۔۔ ڈیلی رات کو دو گھنٹے کے لئے وہ چکر لگا لیتا تھا مگر آج دوپہر میں اس نے آفس سے ہی رنعم کو تیار رہنے کا کہا تھا وہ آج رنعم کو باہر ڈنر کے بعد واپس اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا یہ بات بھی اس نے آج رنعم کو فون پر بتا دی تھی۔۔۔ اس لیے رنعم نے کاشان کے آنے سے پہلے ہی اپنی پوری تیاری مکمل کر لی تھی۔۔۔۔ اس کا تیار ہونے کا دل نہیں چاہ رہا تھا مگر کاشان کے لیے اس نے لائٹ لیمن کلر کے ایمرائڈری ہوئے ڈریس پر چھوٹے سے ائیر رنگز اور ثوبان کا دیا ہوا بریسلیٹ پہن لیا

“ہفتے بھر سے نوٹ کر رہا ہوں بہت ویک ہوگئی ہو تم۔۔۔ اپنے اوپر دھیان دو خوش رہو۔۔۔ مجھے میری ڈول پہلے جیسی چاہیے”

باہر سے ڈنر کے بعد وہ رنعم کو لے کر لونگ ڈرائیو پر نکل گیا تاکہ اس کی طبیعت بہل سکے اب وہ دونوں اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے تب کاشان نے ڈرائیونگ کے دوران رنعم کو دیکھتے ہوئے بولا

“مجھے بابا کی بہت یاد آتی ہے کاشان وہ کیوں اتنی جلدی چلے گئے ہمہیں چھوڑ کر”

رنعم کے لہجے میں افسردگی اور آنکھوں میں اداسی محسوس کر کے کاشان نے ڈرائیونگ کے دوران رنعم کا ہاتھ تھاما

“اپنے کو جانے سے دل تو اداس ہوتا ہے اور جنھیں ہم پیار کرتے ہیں وہ چلیں جائے تب جینا بھی مشکل لگتا ہے۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں انکل واقعی نیک صفت انسان تھے مگر تمہیں آنٹی کے لیے ثوبان سیرت اور مجھے دیکھ کر خوش رہنا ہوگا۔۔۔ خود کو سنبھالنا ہوگا،، میں تمہارا دکھ سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔ اپنی امی کو کھو کر مجھے ایسا لگا جیسے دنیا ختم ہو گئی ہو مگر میں ثوبان کو اور ثوبان مجھے دیکھ کر جیتا تھا۔۔۔ ہمہیں دوسروں کے لئے جینا پڑتا ہے۔۔۔ جو ہمیں پیار کرتے ہو،،، جن کو ہم پیار کرتے ہیں”

کاشان رنعم کو پیار سے سمجھا رہا تھا اچانک کار بند ہوگئی

“اس کو کیا ہوگیا روکو میں چیک کر کے آتا ہوں”

دو بار کار اسٹارٹ کرنے کے بعد جب کار نہیں چلی تو کاشان نیچے اتر کر کار کا بونٹ کھولتا ہوا چیک کرنے لگا

“کار کا انجن گرم ہو گیا ہے یہاں پانی بھی موجود نہیں ہے۔۔۔ دس منٹ کے فاصلے پر پمپ موجود ہے میں وہاں سے ابھی آتا ہوں تم کار میں بیٹھی رہنا”

کاشان اس کو سمجھاتا ہوا وہاں سے چلا گیا

رنعم کاشان کا ویٹ کر رہی تھی رات کے گیارہ بجے کا ٹائم تھا اور روڈ سنسان تھا رنعم دل ہی دل میں کاشان کے جلدی واپس آنے کی دعا کرنے لگی تبھی کسی نے کار کا شیشہ بچایا رنعم نے اس کی طرف دیکھا

یہ وہی شخص تھا جو چند دن پہلے ان کی کار کا پیچھا کر رہا تھا رنعم نے خوف کے مارے جلدی سے کاشان کو کال ملانے کی غرض سے موبائل نکالا مگر اس سے پہلے زوردار پتھر سے کار کا شیشہ ٹوٹ چکا تھا