504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 48)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

ثوبان شیرا سے متعلق جو کچھ کہہ کر گیا تھا اس کی بات سن کر رنعم تو شاک ہوگئی تھی جبکہ کاشان نے بہت بے یقینی سے رنعم کو دیکھا۔۔۔۔ ثوبان کے فلیٹ سے جانے کے بعد کاشان نے فلیٹ کا دروازہ لاک کیا اور رنعم کے پاس آیا

“تم نے ثوبی کو شیرا والے واقعے کے بارے میں بھی بتا دیا جبکہ میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ یہ بات ہم دونوں کی بیچ میں رہنی چاہیے”

اگر ثوبان جانے سے پہلے شیرا کے متعلق کچھ بھی نہیں بولتا تو یقیناً کاشان رنعم سے اپنے سلوک کی معافی مانگتا مگر اب وہ اپنی نرمی کو بھول کر دوبارہ سے رنعم کو غصے میں دیکھتا ہوا بولا

“نہیں۔۔۔۔ نہیں کاشان بھیا کو بھلا میں کیوں بتاؤں گی،، مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب بھیا کو کیسے معلوم ہوا”

کاشان کے چہرے کے خطرناک تیور دیکھ کر رنعم سہم گئی اور اسے اپنا یقین دلانے لگی

“اسے کیسے معلوم ہوئی یہ بات۔۔۔ یہ بات تو ہم دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا نہیں جانتا تھا”

اب وہ رنعم کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر رنعم سے پوچھنے لگا

“کاشان میں سچ بول رہی مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب بھیا کو کیسے معلوم ہوا آپ مجھ پر اعتبار کریں پلیز”

وہ کاشان کی مٹھی سے اپنے بال آزاد کرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولنے لگی

“نہیں تم سچ نہیں بول رہی ہوں اور نہ ہی مجھے اب تم پر اعتبار ہے۔۔۔۔ یہ ثوبی کا بزی ٹائم ہوتا ہے وہ بیوقوف نہیں ہے جو اس وقت تمہارے پاس آئے۔۔۔ تم نے خود ثوبی کو کال کر کے یہاں پر بلایا پھر اسے شیرا کے متعلق بتایا اور اپنا یہ سوجھا ہوا چہرا دکھا کر اسے کل رات والی بات بھی بتائی”

رنعم کے بال چھڑانے کی کوشش میں اس نے مزید سختی سے اس کے بالوں کو دبوچا اور جھٹکا دیتے ہوئے کہا

“تم پر اعتبار کرو میں۔۔۔ تمہاری عزت بچائی تھی میں نے اس لٹیرے سے۔۔۔ اگر میں اسے نہ مارتا تو جانتی ہو تمہارے ساتھ وہ کیا سلوک کرتا۔۔۔ گھن آنے لگتی تمہیں اپنے اس وجود سے۔۔۔۔ چلو مان لیا ثوبی کا پروفیشن ایسا ہے شیرا کا کیس اس کے سامنے آیا۔۔۔ مگر وہ اتنے وثوق سے کہہ کر گیا ہے کہ اس کا ذمہ دار میں ہو جبکہ دوسری طرف اس نے یہ بھی کہا کہ شیرا ابھی ہوش میں نہیں نہ اس کا بیان لیا گیا ہے۔۔۔ یہ بات تو تمہارے علاوہ کوئی نہیں بتا سکتا۔۔۔ معلوم نہیں تمہیں اس کے اندر ایمانداری کا کتنا بڑا کیڑا ہے۔۔۔ شیرا کے منہ کھولتے ہی وہ سب سے پہلے مجھے لاک اپ کرے گا”

آج اسے رنعم پر بےپناہ غصہ آرہا تھا وہ دانت پیستا ہوا بولا اور رنعم کو دھکا دیا وہ فرش پر جا گری

“کاشان اگر آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں تو پھر میرا اعتبار کرے۔۔۔ اگر آپ نے آج مجھ پر اعتبار نہیں کیا نہ تو آئندہ میں آپ کو کبھی بھی اپنا یقین نہیں دلاو گی۔۔۔ میں سچ بول رہی ہوں”

رنعم نے بے بسی روتے ہوئے آخری جملہ چیخ کر کہا

“نہیں۔۔۔ تم سے سچ نہیں بول رہی،،، سچ تم اب بولو گی”

کاشان نے اپنی بیلٹ نکالتے ہوئے کہا

“کاش۔۔۔۔شان”

رنعم فرش پر گری پوری آنکھیں کھولے اسے خوف سے دیکھنے لگی

کاشان فرش پر گرے سرخ پھولوں کو جوتوں سے روندتا ہوا بیلٹ کر ایک سرا اپنے ہاتھ پر فولڈ کر کے رنعم کے پاس آیا۔۔۔۔ رنعم خوف کے مارے اٹھ بھی نہیں سکی وہ فرش پر بیٹھے پیچھے سرکنے لگی

جب پہلی بیلٹ رنعم کی ٹانگوں پر لگی تو اسکی چیخ نکل گئی

“کاشان نہیں پلیز” رنعم نے روتے ہوئے چیخ کر بولی اور اور ہمت کر کے اٹھی بیڈروم کی طرف بھاگ کر بیڈروم کا دروازہ بند کرنے لگی مگر دروازہ بند کرنے سے پہلے کاشان بیڈ روم کے اندر آیا اور بیڈروم کا دروازہ بند کر دیا

****

ثوبان گھر پہنچا تو اس کا دل بہت اداس تھا۔۔۔۔ زندگی میں پہلی دفعہ ایسا ہوا تھا کہ اس نے کاشان پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔ کاشان اس کا ایک ہی بھائی تھا جو اسے اپنی جان سے بھی پیارا تھا اسکو مار کر ثوبان کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی مگر وہ کرتا بھی کیا

کاشان نے کتنی بری طرح سے رنعم کو مارا تھا،،، رنعم کا چہرہ دیکھ کر ثوبان کا دل تڑپ گیا اٹھا تھا۔۔۔۔ رنعم کتنی معصوم تھی جب وہ اس کے گلے لگ کر روئی تو خود ثوبان کو مرد ہو کر رونا آگیا۔۔۔۔ اس وقت وہ کس طرح اپنے آنسو ضبط کیے ہوئے تھا۔۔۔۔ مگر کاشان کو دیکھ کر وہ اپنا ضبط کھو گیا

اس کا پیارا بھائی جو اسے سب سے زیادہ پیارا تھا وہ کیا بن رہا تھا،،،، کیا بن گیا تھا۔۔۔۔

ثوبان تو شیرا کے کیس کے متعلق رنعم سے پوچھ گچھ کرنے آیا تھا مگر اسے کیا معلوم تھا ایک دوسری کہانی وہاں پر کھلی ہوئی ہے۔۔۔۔ اگر رنعم اس کے ساتھ آجاتی تو یسریٰ لازمی اسے دیکھ کر پریشان ہوتی۔۔۔۔ اور کاشان نے جیسے رنعم سے اس کا ہاتھ چھڑایا،،، اس وقت ثوبان نے کاشان کی آنکھوں میں ایک خوف دیکھا جیسے ثوبان اس سے اس کی کوئی قیمتی چیز لے جارہا ہو۔۔۔ اسے رنعم، کاشی، یسریٰ سب کا خیال رکھنا تھا بلکے یہی تو کرتا آیا تھا وہ

گھر اگر وہ حسبِ معمول یسریٰ کے پاس تھوڑی دیر کے لیے بیٹھا۔۔ اس کا حال احوال پوچھنے کے بعد غائب دماغی میں اس کی باتیں سنتا رہا اور اس کی باتوں کا ہاں ہوں میں جواب دیتا رہا مگر تھوڑی دیر میں یسریٰ کو شاہدہ نے آکر بتایا کہ اس کی دوست ڈاکٹر فاطمہ اس سے ملنے آئی ہے ثوبان اٹھ کر اپنے بیڈ روم میں آگیا

کل رات ہی اس نے غلام بخش اور شاہدہ کو بلا کر ان دونوں سے کہا تھا کہ وہ اوپر سے نیچے والے بیڈروم میں شفٹ ہونا چاہتا ہے۔۔۔ لہذا سیرت کے ساتھ وہ دونوں سارا سامان نیچے لے آئیں۔۔۔ ثوبان جب نیچے پورشن میں اپنے بیڈ روم میں پہنچا تو سیرت کا اچھا خاصا منہ بنا ہوا تھا آج سیرت نے بھی اسے کافی کالز کی تھی مگر پہلے شیرا کے کیس کے متعلق الجھ کر وہ اس کی کالز نہیں ریسیو کر سکا۔۔۔ اس کے بعد وہ کاشان کی طرف چلا گیا اس لیے اپنا موبائل ہی سائلینٹ کردیا

“سوری یار آج کافی بزی تھا اس لیے کال ریسیو نہیں کی تمہاری کیوں کال کر رہی تھی سب خیریت ہے”

ثوبان سیرت کو پوچھتا ہوا صوفے پر ریلکس انداز میں بیٹھ گیا اور اپنا سر پیچھے ٹیک لیا

“تم بزی کب نہیں ہوتے ثوبی، کوئی نئی بات کرو۔۔۔ میری کال تو کیا تم تو مجھے ہی اگنور کیے ہوئے ہو”

سیرت انتظار میں ہی بیٹھی تھی کہ ثوبان کچھ بولے اور وہ اس کو سنائے اس کی بات سن کر ثوبان صوفے پر سیدھا ہو کر بیٹھا

“سیرت میری بات غور سے سنو پہلی بات تو یہ کہ بیکار کی باتوں پر میرے ساتھ اس وقت بحث نہیں کرنا۔۔۔ اگر کوئی ضروری بات ہے تو ڈسکس کرو،، میں تمہیں ٹائم نہیں دیتا ہوں اور ہر وقت بزی رہتا ہوں یہ رونا چھوڑ دو اب،،،، بیوی ہو تم میری کوئی منگیتر نہیں ہو جو ہر وقت ٹائم نہ دینے کا شکوہ کر رہی ہوتی ہو۔۔۔ بچی تو نہیں ہو ناں یار تم جو تمہیں احساس نہیں۔۔۔ کبھی تو احساس کر لیا کرو اگلے بندے کا۔۔۔۔ وہ باہر سے تھکا ہوا آیا ہے یا اسے کیا ٹینشن ہے۔۔۔ وہ کس پریشانی میں الجھا ہے۔۔۔ ہر وقت تمہیں اپنی پڑی رہتی ہے”

ثوبان کا موڈ آج پہلے ہی آف تھا اوپر سے سیرت کے طنز پر اس کا دماغ ہی گھوم گیا اس نے غصہ کے باوجود اپنی آواز کو نیچے رکھا تاکہ روم سے باہر نہ جائے

“خیر بیوی بنانے کے بعد بیوی اور اس کی باتیں بے کار ہی لگتی ہیں،،، ان باتوں کو چھوڑو مگر اپنے باہر کے مسئلے باہر ہی چھوڑ کر گھر میں آیا کرو اور کام کی بات یہ ہے کہ تم نے غلام بخش اور شاہدہ ان دونوں کو کیو بولا کہ سب سامان وہ نیچے بیڈ روم میں سیٹ کردیں۔۔۔۔ اوپر کیا مسئلہ تھا”

سیرت اب اس کے سامنے کھڑی ہوکر اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر اسے پوچھنے لگی کیوکہ چند دن پہلے ہی اس نے سارے بیڈروم کی سیٹنگ اپنی مرضی سے چینج کی تھی آج دوپہر جب وہ کچن میں مصروف تھی تب اسے معلوم ہوا کہ یسریٰ کی اجازت شاہدہ اور غلام بخش نے، یسریٰ کی نگرانی میں اس کا اور ثوبان کا سارا سامان نیچے بیڈروم میں شفٹ کردیا اسی وجہ سے وہ ثوبان کو کال کر رہی تھی مگر وہ اس کی کال ریسیو کرنا ضروری ہی نہیں سمجھ رہا تھا

“مما یہاں پر سارا دن اکیلی رہتی ہے ان کی تنہائی کے احساس سے نیچے شفٹ ہونے کا سوچا میں نے۔۔۔ اس میں کوئی ایسے مسئلہ والی بات نہیں ہے جو تم یوں پریشان ہو رہی ہو”

ثوبان صوفے سے اٹھتا ہوا سیرت کے پاس آیا اسے جواب دے کر اپنے کپڑے وارڈروب سے نکالتے لگا۔۔۔ سیرت کچھ بولے بغیر خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ ثوبان نے سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھا

“تم جیسے مرد کو جسے صرف بیوی کے علاوہ سارے جہاں کا خیال ہو،، شادی نہیں کرنی چاہیے”

سیرت ثوبان کو دیکھتے ہوئے بولی

“میرے خیال میں ایک لڑکی کو صرف اپنے شوہر کا ہی نہیں اس کی فیملی کا بھی احساس کرنا چاہیے۔۔۔۔ تبھی وہ اچھی بیوی بن کر اپنے شوہر کے دل پر حکومت کرسکتی ہے کیوکہ تم نے تو اپنی ماں کو، ماں سمجھنا نہیں ہے لہذا اب تم مما کا خیال میری ماں سمجھ کر رکھو اور میں اس معاملے میں تم سے لاپرواہی کی امید نہیں کروں گا۔۔۔۔ سیرت میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی من پسند بیوی کے آنے کے بعد اپنے دوسرے رشتوں کو فراموش کر دو،،، اگر تم سے یہ توقع کرتی ہو کہ میں تمہارے آگے پیچھے گھومتا رہو تو یہ تمہاری سوچ غلط ہے۔۔۔۔ تم سے محبت کرنے کے باوجود میں باقی کسی کو اگنور نہیں کرو گا۔۔۔۔ مجھے امید ہے کہ یہ بات تم آج ہی سمجھ جاو۔ ۔۔۔ ۔ مجھے دوبارہ نہیں سمجھانا پڑے”

ثوبان نے اس کو اچھی طرح باور کرایا۔۔۔۔ سیرت نے ساری بات اس کی خاموش ہوکر سنی اور ثوبان کے چپ ہونے پر اس نے ثوبان کے سینے پر مٹھی بند کر کے مکے مارنا شروع کر دیئے

“تم اچھے نہیں ہو ثوبی،، تم بالکل بھی اچھے نہیں ہو،، میرے بچپن والے ثوبی تو تم ہرگز نہیں ہو”

سیرت غصے میں کہتی ہوئی اس کے سینے پر اپنے نازک ہاتھ سے مکے برسا رہی تھی۔۔۔۔ ثوبان اس کی دونوں کلائیاں پکڑی اور اسے پیچھے صوفے پر بٹھایا خود اپنے کپڑے ہاتھ میں لیے وہ بیڈروم سے باہر جانے لگا

“کہاں جارہے ہو” سیرت بولتی ہوئی دوبارہ اس کے سامنے آئی۔۔۔ ثوبان کو سمجھ نہیں آیا آخر وہ اتنی چڑچڑی کس بات پر ہو رہی ہے

“میں تھوڑی دیر ریلیکس رہنا چاہتا ہوں اور تمہارے یہاں ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہیں ہے اس لیے روم سے باہر جا رہا ہوں”

ثوبان سیرت کو دیکھ کر بولا

“تمہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے تم یہی بیٹھو۔۔۔ اور آرام سے بیٹھ کر اپنے سارے مسئلوں کا حل تلاش کرو۔۔۔۔ جب ان مسئلوں کے حل مل جائے تو پھر اپنے لیے نئی نئی فکریں ڈھونڈو اور پھر دوبارہ سوچو کہ ان فکروں کے لئے اب کیا کرنا چاہیے بس یہی سب کچھ کرتے رہو۔۔۔۔ روم سے میں ہی چلی جاتی ہو”

سیرت روم کا دروازہ زور سے بند کرتی ہوئی بیڈروم سے باہر چلی گئی

ثوبان نے سر جھٹکا اور اپنے کپڑے صوفے پر رکھتے ہوئے خود یونیفارم میں ہی بیڈ پر انکھیں بند کر کے لیٹ گیا

مگر دس سے پندرہ منٹ گزرے تب شاہدہ نے آکر اسے بتایا سیرت بی بی باہر اچانک بےہوش ہو چکی ہیں۔۔۔ ثوبان ایک دم بیڈ اٹھا اپنی ساری پریشانیوں کو ایک طرف رکھتا ہوا بیڈ روم سے نکل کر وہ سیرت کے پاس پہنچا