Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Last updated: 19 January 2026
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
"کس کے آگے انکار کر رہی ہو تم۔۔۔۔ معلوم ہے تمہیں شوہر کے حقوق اور اس کے احکامات" وہ رنعم کے بال مٹھی میں جکڑے، سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے غصے میں رنعم سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ شادی کے بعد رنعم کاشان کو پہلی دفعہ اس روپ میں دیکھ کر سہم گئی وہ خوف کے مارے اسے یہ تک نہ بول سکی کہ اس نے کتنی زور سے اس کے بالوں کو جکڑا ہوا ہے جو اسے تکلیف دے رہے ہیں
"جواب دو، کیا بول رہا ہوں میں" کاشان بالوں کو جھٹکا دے کر زور سے چیخا تو رنعم کانپ گئی
"سس۔۔۔۔ سوری میں تھک گئی تھی آج" رنعم نے کانپتی آواز کے ساتھ اپنی صفائی پیش کی وہ تو سمجھ رہی تھی۔۔۔ ان دس دنوں میں اس نے کھبی کاشان کو منع نہیں کیا وہ سمجھی اس کا شوہر اس کی تھکن کا احساس کرتے ہوئے اس کی بات سمجھے گا مگر شاید وہ اس بات کو اپنی توہین اور انا کا مسئلہ سمجھ بیٹھا تھا
"تھوڑی دیر پہلے کیا بولا تھا میں نے،،، کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر میں کمپرومائز نہیں کر سکتا تب سمجھ میں نہیں آیا تمہیں" کاشان چیختا ہوا بولا اور بولنے کے ساتھ وہ اس کی شرٹ پھاڑ چکا تھا
"کاش۔۔۔۔ کاشان سو۔۔ری" یہ کونسا روپ تھا کاشان کا،، وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ کر خوف سے بولی
"بیوی ہو تم میری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہو جو تم مجھے یوں نخرے دکھاؤ آئندہ کبھی میرے ہاتھ جھٹکے یا مجھے انکار کیا تو میں تمہارا وہ حشر کرو گا جو تمہاری سوچ ہوگی" وہ رنعم کو تنبہی کرتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچ کر اس پر جھکا
رنعم کو اس کی دسترس میں دس دنوں والی نرمی کے آثار کہیں بھی محسوس نہیں ہوئے۔۔۔۔ بلکہ اسکا ہر عمل ہر انداز سختی اور جنونیت اختیار کئے ہوئے تھا۔۔۔۔ رنعم نے دو بار اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر خود کو چیخنے سے باز رکھا۔۔۔ جب کاشان کا جنون ختم ہوا تو وہ اٹھا۔۔۔ رنعم نے کانپتے ہاتھوں سے چادر سے خود کو ڈھکا۔۔۔۔ ملامت بھری نظر اس نے کاشان پر ڈالی
شاید اس کے اندر کی آگ اب تلک نہیں بجھی تھی تبھی اس نے اٹھ کر ٹیبل پر رکھی ہوئی بوتل سے منہ لگایا غٹاغٹ پانی پیا۔۔۔ ٹراؤزر پہنے بغیر شرٹ کے وہ کاشان کا چوڑا سینہ دیکھنے لگی،،، اس کے سینے پر موجود بال، رنعم کو مردانگی کی علامت لگتے تھے مگر آج اپنی بیوی کو یوں بےبس کر کے اس نے کونسی مردانگی کی مثال قائم کی تھی وہ سمجھنے سے قاصر تھی
بیڈ سے نیچے آدھی لٹکی ہوئی اپنی پھٹی شرٹ اٹھانے کے لئے رنعم نے آگے ہاتھ بڑھایا تو کاشان نے فوراً قریب آکر رنعم سے اس کی شرٹ جھپٹی اور دور اچھال کر پھینکی
"ابھی میں نے اجازت دی ہے تمہیں" وہ اب بھی غصہ میں رنعم کو گھورتا ہوا پوچھ رہا تھا شاید پانی بھی اس کے اندر کی آگ اور غصے کو ٹھنڈا نہیں کر پایا
ایک بار دوبارہ وہ بیڈ پر رنعم کے قریب آیا اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکھڑ کردوبارہ وہ رنعم پر جھکا۔۔۔۔ رنعم نے اپنے دونوں ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست کیے اور آنکھیں بند کر
لی...
