504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 30)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“کیا ہوا کچھ پریشان لگ رہے ہو”

سیرت نے چائے کا مگ سائڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے ثوبان سے پوچھا۔۔۔ اس نے سیرت کو میسج پر اپنے روم میں چائے لانے کا کہا تھا

“ہاں کاشی نے مجھے واقعی پریشان کر کے رکھ دیا ہے”

ابھی وہ بہروز کے پاس اس کے بیڈ روم میں بہروز کی بات سننے کے لیے گیا تھا مگر اس کو سوتا ہوا دیکھ کر اپنے بیڈ روم میں آگیا

“یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے بچپن سے ہی اس کی حرکتیں حیران اور پریشان کرنے والی ہیں۔۔۔۔ بھائی ہو کر بھی تم اپنے بھائی کی عادتوں کو نہیں سمجھتے”

سیرت نے بات کو مذاق کا رنگ دیا جس پر ثوبان نے سنجیدگی سے دیکھا

“اچھا بتاؤ کیا ہوا ہے کیا کردیا اب کاشی نے”

ثوبان کو سیریز دیکھ کر سیرت نے اس سے پوچھا اور اس کے قریب صوفے پر بیٹھ گئی

“بتایا تو تھا تمہیں رنعم کو پسند کرتا ہے اور اب اس سے شادی کی ضد لگائے بیٹھا ہے”

ثوبان صوفے کے پیچھے اپنا سر ٹیکتے ہوئے سیرت کو بولا

“ثوبی عجیب بات کرتے ہو تم بھی، کاشی رنعم کو پسند کرتا ہے تو شادی بھی اسی سے کرے گا،، ٹائم پاس کے لئے تو پسند نہیں کیا ہوگا کاشی نے اسے اور وقت گزاری کرنے والا اس کا مزاج ہے بھی نہیں۔۔۔۔ اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے”

سیرت کو ثوبان کا پریشان ہونا بے مقصد لگا

“ان دونوں کے مزاج میں اور نیچر میں بہت فرق ہے سیرت،، تم تو بچپن سے جانتی ہو کاشی کو، اس کے مزاج کو، کس طرح بات بات پر اس کو غصہ آ جاتا ہے۔۔۔ غصے میں اسکے ری ایکشن سے کیا تم واقف نہیں ہوں،، کس طرح بچپن میں اسکول کے، محلے کے بچوں سے لڑتا جھگڑتا تھا ہر وقت،،، آئے دن اس کی شکایتیں آتی رہتی تھی۔۔۔۔ رنعم کیسے ایڈجسٹ کر پائے گی یار اس کے ساتھ وہ تو بہت سیدھی ہے”

ثوبان نے اصل وجہ بتائی جو اس کے دماغ میں گھوم رہی تھی

“میں کاشی کو بچپن سے جانتی ہوں ثوبی،،، اس کے غصے والے مزاج سے بھی واقف ہوں،، بچپن سے اس کے غصے کی وجہ تمہارے گھر کا ماحول رہا ہے اور باہر یا اسکول میں بھی کسی سے وہ تب لڑتا جھگڑتا تھا جب کوئی تمہارے ابو امی کے لڑائی جھگڑوں کو لے کر باتیں کرتا تھا یا پھر مذاق اڑاتا تھا۔۔۔ اس طرح کی باتوں پر تو انسان کو غصہ آیا ہی جاتا ہے اور رہی بات کاشی یا رنعم کے مزاج کی تو ثوبی، تمہیں نہیں لگتا تمہارے بھائی کے ساتھ کوئی نرم طعبیت اور دھیمے مزاج والی لڑکی کی زندگی گزار سکتی ہے۔۔۔ تم خود کاشی کی نیچر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات سوچو”

سیرت کی بات پر ثوبان نے صوفے سر اٹھا کر سیرت کو غور سے دیکھا

“تو کیا یہ رنعم کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی، وہ تو ہمیشہ اس کے غصے کے آگے دب کر رہے گی”

ثوبان نے سیرت کی بات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا

“زیادتی کیوں ہوگی بھلا ابھی تم نے خود ہی کہا کاشی رنعم کو پسند کرتا ہے، پاگل ہے کیا وہ جو رنعم پر بلاوجہ غصہ کرے گا۔۔۔ کاشی کو یہاں پر رہتے ہوئے پانچ ماہ ہوگئے ہیں ان 5 مہینوں میں اسے تم نے کتنی بار غصے میں لڑتے جھگڑتے دیکھا۔۔۔ اب جبکہ وہ اپنی سزا کاٹ پر آرہا ہے تمہیں اسے کیا ایک اچھا انسان بنانے میں ایک اچھا شہری بنانے میں اس کی مدد کرنی چاہئے تاکہ وہ آگے کی اپنی لائف اچھی گزار سکے۔۔۔ رنعم کو کاشی پسند کرتا ہے یہ سب سے بڑا جواز ہے ان دونوں کی انڈرسٹینڈنگ کا۔۔۔ تم نے تو بلاوجہ میں وہم پالے ہوئے ہیں ثوبی،،، اور رنعم بھی تو اس کو پسند کرتی ہے کیا وہ کسی دوسرے سے نباہ کرے گی”

سیرت کی بات سن کر ثوبان نے حیران ہو کر سیرت کو دیکھا

“اس میں بھی اتنا زیادہ حیران ہونے والی کیا بات ہے بہن کہتے ہو اسے۔۔۔ کاشی کو دیکھ کر رنعم کے چہرے پر آئی رونق اس کی آنکھوں سے چھلکتی پسندیدگی کو دیکھ کر تمہیں اندازہ نہیں ہوا کہ وہ بھی کاشی کو پسند کرتی ہے”

ثوبان کی حیرت کو دیکھ کر سیرت نے اس کو جواب دیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا تھا

“مجھے معلوم ہے تمہیں کاشی اور رنعم دونوں ہی بہت عزیز ہے اس لئے ان دونوں کی خوشی کو مدنظر رکھ کر تم ان کے لیے مما بابا سے بات کرو اور اپنے آپ کو بھی ریلیکس کرو”

سیرت نے مسکرا کر اسے مشورہ دیا جس سے ثوبان مزید سوچوں میں پڑ گیا اور اب وہ کاشی اور رنعم کی شادی سے متعلق مثبت پہلووں کو سوچنے لگا

سیرت صوفے پر ثوبان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے اس کے برابر میں بیٹھی تھی کہ اچانک کمرے کا دروازہ بجا

رنعم کے اندر آنے پر سیرت نے ثوبان کے ہاتھ پر سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور تھوڑا دور ہو کر بیٹھی

“بھیا مجھے آپ سے بات کرنی ہے”

رنعم نے ثوبان کو دیکھ کر کہا رونے کی وجہ سے اس کی سبز آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں

“میں تمہاری چائے گرم کر کے لاتی ہوں”

سیرت نے رنعم کی آنکھوں کو دیکھنے کے بعد ثوبان کو مخاطب کیا اور چائے کا مگ لے کر روم سے باہر نکل گئی

“میں نے آپ کا دل دکھایا ہے ناں۔۔۔ آئی ایم سوری”

اب سیرت کی جگہ رنعم صوفے پر آکر بیٹھی ثوبان کا ہاتھ تھامے بولنے لگی

“تمہیں معلوم ہے میں نے اور بابا نے ہمیشہ تم پر ٹرسٹ کیا ہے”

ثوبان کا لہجہ اس کے ناراض ہونے کی نشاندہی کر رہا تھا جس پر رنعم کو مزید رونا آنے لگا

“میں نے آپکے یا بابا کے ٹرسٹ کو کبھی نہیں توڑا۔۔۔۔ نہ پہل میری طرف سے ہوئی”

رنعم نے ثوبان سے نظریں ملائے بغیر سر جھکاتے ہوئے کہا

“اگر ایسی بات ہے تو پھر ٹھیک ہے،، اب تم بابا کی خواہش کا احترام کرو”

ثوبان کی بات پر تڑپ کر رنعم نے اس کو دیکھا

“بھیا میں نے آپ کا اعتبار نہیں توڑا،،، نہ ہی کوئی ایسی بات ہونے دی جس سے آپ کا سر جھکے مگر پلیز میرا اتنا بڑا امتحان مت لیں میں کاشان کے علاوہ کسی اور کے ساتھ۔۔۔۔

رنعم نفی میں سر ہلا کر رونے لگی اور ثوبان خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگا

“تمہیں کاشی کی نیچر کا اندازہ ہے ایڈجسٹ کر پاو گی اس کے ساتھ”

ثوبان رنعم کو غور سے دیکھ کر پوچھنے لگا

“مجھے نہیں معلوم کہ میں کاشان کے ساتھ ایڈجسٹ کر پاو گی یا نہیں مگر مجھے لگتا ہے میں اور کسی کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کر پاو گی۔۔۔۔ میں مر جاو گی بھیا”

رنعم اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی

“کیا بکواس ہے یہ، آئندہ ایسی فضول بات میں تمہارے منہ سے نہ سنو”

ثوبان اسکے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹا کر اسے گلے لگاتے ہوئے بولا

سیرت چائے کا مگ ہاتھ میں لیے اندر آئی تو ایک جذباتی سین اس کا منتظر تھا۔۔۔۔ ثوبان نے اسے اشارے سے رنعم کو چپ کرانے کے لیے کہا

“ارے لڑکی ابھی تھوڑی ہم تمہاری کاشی سے شادی کر رہے ہیں جو تم یوں بھائی کے گلے لگ کر رو رہی ہو”

سیرت نے رنعم کو اپنے گلے لگاتے بولا ثوبان سیرت کو گھور کر رہ گیا جس کا سیرت نے ہمیشہ کی طرح کوئی نوٹس نہیں لیا

“چلو آنسو صاف کرو اپنے۔۔۔۔ اب میں تمہیں کاشی کو رولانے کے ١٠١ ٹوٹکے بتاو گی۔۔۔۔۔ بس میرا نام نہ ڈبونا،،، کاشی کو اچھی طرح بتا دینا کہ کس کی بہن ہو تم”

سیرت رنعم کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتی ہوئی اس کو بہلا کر بولنے لگی۔۔۔۔ ثوبان مسکراہٹ چھپائے چائے کا مگ ہاتھ میں لیے ٹیرس میں چلا گیا اسے سیرت پر بھروسہ تھا کہ وہ رنعم کو اچھی طرح بہلالے گی

****

“اس طرح کیسے آفس جارہے ہو ناشتہ کر کے جاو”

صبح ناشتے کی ٹیبل پر ثوبان سیرت رنعم اور یسریٰ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے کاشان اپنے روم سے نکلا سرسری نظر سب پر ڈالتا ہوا آفس جانے کے لیے باہر نکلنے لگا تبھی یسریٰ کی آواز پر اسکے قدم رکے

“آج جلدی آفس پہنچنا ہے آنٹی ناشتے کے چکر میں دیر ہو جائے گی”

کل رات والا واقعہ کاشان کے زہن میں آیا تو اس نے یسریٰ سے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا

“جوس پینے میں کتنا ٹائم لگتا ہے آجاو شاباش”

یسریٰ کے دوسری بار کہنے پر کاشان اسے انکار نہیں کر سکا قدم اٹھاتا ہوا ٹیبل کے پاس آیا اور کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا

“ثوبان ذرا جوس کا جگ پکڑاو”

اتفاق سے جوس کر جگ ثوبان کے قریب رکھا ہوا تھا یسریٰ نے اسے جگ پکڑانے کا کہا۔۔۔۔ ثوبان نے جب جگ اٹھا کر کاشان کی طرف بڑھایا تو کاشان نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔۔ وہ شاید کل والی بات کو لے کر ثوبان سے اب تک خفا تھا

“جوس نہیں چائے دے دیجئے مجھے”

ثوبان کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو اگنور کر کے وہ یسریٰ سے کہنے لگا

کاشان کے اس طرح بولنے پر جہاں ثوبان کو جگ واپس رکھتے ہوئے ہنسی آئی وہی سیرت اور یسریٰ نے بھی اپنے چہرے پر آئی مسکراہٹ جلدی سے چھپالی۔۔۔ بس رنعم کاشان کو سنجیدگی سے دیکھنے لگی

یسریٰ نے کاشان کو چائے سے بھرا کپ تھمایا جو وہ خاموش کر کے پینے لگا

شاید ایسے زندگی میں پہلی بار ہوا تھا جو یوں کاشان ثوبان سے ناراض ہوا تھا۔۔۔۔ ثوبان ناشتہ کرتا ہوا سوچنے لگا

“اوکے میں یونیورسٹی کے لیے نکلتی ہو”

ڈرائیور کی موبائل پر کال آنے پر رنعم نے سب کو مخاطب کیا اور خدا حافظ کہہ کر باہر نکل گئی

کاشان بھی چائے کا کپ خالی کر کے یسریٰ کو خدا حافظ کر کے باہر نکلا

“کاشان ایک منٹ رکیے مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے کل بھیا نے۔۔۔۔”

کاشان کو باہر آتا دیکھ کر رنعم اس کی طرف آئی وہ نہیں چاہتی تھی کہ کاشان کا دل ثوبان سے خراب ہو

“اس دن میں نے بالکل ٹھیک کہا تھا تمہارا بھیا واقعی الو کا پٹھا ہے”

کاشان جو رنعم کی بات سننے کے لئے مڑا مگر ثوبان کا نام سن کر رنعم کی بات کو کاٹتے ہوئے غصے میں بولا اور کار میں بیٹھ کر آفس کے لیے نکل گیا

****

“بابا آپ نے بلایا تھا”

ثوبان نے بہروز کے روم میں آتے ہوئے کہا

کل بہروز جلدی سوگیا تھا اس لیے ثوبان کی اس سے بات نہیں کر سکی۔ ۔۔ثوبان تھوڑی دیر پہلے ہی پولیس اسٹیشن سے گھر واپس آیا تھا فریش ہو کر سیدھا بہروز کے روم میں آگیا۔۔۔ یسریٰ بھی وہی موجود تھیں

“رنعم کے بارے میں بات کرنے کے لیے بلایا تھا”

بہروز کی آواز پر بے ساختہ ثوبان کی نظریں یسریٰ پر پڑی وہ بھی ثوبان کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ کل کاشی کے روم سے جانے کے بعد ثوبان اور یسریٰ کے درمیان اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی

“آپ بات کریں میں سن رہا ہوں”

ثوبان نے بہروز کو دیکھتے ہوئے کہا

“بیٹا پرسوں میں نے تمہیں فرا باجی کے متعلق بتایا تھا انہوں نے عاشر کے لیے رنعم کی بات کی ہے۔۔۔ بہت پہلے سے ہم تینوں کے درمیان جب یہ بات ہوئی تھی تب تم نے خود سے عاشر کا نام لیا تھا۔۔۔۔ اب میں سوچ رہا ہو جلد ہی رنعم کے فرض سے سبکدوش ہو جاؤ اور عاشر یقیناً رنعم کے لیے اچھی چوائس ثابت ہوگا۔۔۔ رنعم کے بھائی ہونے کے ناطے میں تم سے مشورہ کر رہا ہوں تمہیں اعتراض تو نہیں” بہروز نے ٹہر ٹہر کر اپنی بات مکمل کی

“ماں ہونے کے ناطے مجھے اعتراض ہے اس رشتے پر۔۔۔ بہروز معاف کیجیے گا مگر میں عاشر اور رنعم کے رشتے پر بالکل مطمئن نہیں ہو اور یہ بات میں نے تب بھی کہی تھی جب ہم تینوں کے درمیان پہلے بھی بات ہوئی تھی”

یسریٰ نے بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے بولا

“یسریٰ میں رنعم کی شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اگر تمہیں عاشر پر اعتراض ہے تو پھر ایسا کون ہے تمہاری نظر میں،، جس پر تم مطمئن ہوں اور جو رنعم کو خوش رکھے آگے کی زندگی میں”

ثوبان پر سے نظریں ہٹا کر بہروز نے اب یسریٰ سے سوال کیا

“وہی بہروز جس کا میں نے ایک بار پہلے بھی نام لیا تھا کاشان۔۔۔ وہ رنعم کے لیے موضوع لگا مجھے،،، ہر لحاظ سے۔۔۔ وہ رنعم کو پسند کرتا ہے۔۔۔ اس بات کا اندازہ تو مجھے تھا مگر کل یقین ہوگیا اور جب وہ رنعم کو پسند کرتا ہے تو یقیناً اسے خوش بھی رکھے گا اور رنعم اس کے ساتھ خوش رہے گی کیونکہ یہ پسند یکطرفہ ہرگز نہیں ہے مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہے۔۔۔ جنم دیا ہے میں نے رنعم کو،،ماں ہوں میں اسکی۔۔۔ اس کا چہرہ پڑھ سکتی ہوں”

یسریٰ نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے کہا

“مما آپ کو عاشر پر کیوں اعتراض ہے” ثوبان نے کچھ سوچتے ہوئے یسریٰ سے سوال کیا

“ایک ماں اپنی اولاد کے لیے ہر لحاظ سے پرفیکٹ انسان پسند کرتی ہے۔۔۔ میں تمہارے لیے بھی ایسی لڑکی چاہو گی جو ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہو،، تمہارے ساتھ جچے۔۔۔۔ اس کی ایجوکیشن، اس کا فیملی بیک گراونٹ میں ہر چیز دیکھنا چاہو گی۔۔۔۔ کاشان عاشر کے مقابلے رنعم کے ساتھ سوٹ کرے گا،،، مگر بات صرف ظاہری خوبصورتی کی نہیں ہے مجھے غفران بھائی کی باتیں بھی عجیب لگتی ہیں۔۔۔ ان کی لالچی فطرت سے تم بھی واقف ہوں۔۔۔ وہ ابھی بھی اپنے منہ سے شوروم کی باتیں کر رہے تھے۔۔۔ انہیں بہروز کی طعبیت سے زیادہ یا رنعم کے رشتے کے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ اب شوروم کو کون دیکھے گا۔۔۔۔ جائیداد کا حصہ پہلے ہی بچوں میں تقسیم ہو جانا چاہیے،، اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں وہ۔۔۔۔ اب بھلا آنکھوں دیکھی مکھی کون نگل سکتا ہے”

یسریٰ کی بات پر بہروز چپ ہو گیا کیونکہ غفران ایسی ہی نیچر کا مالک کا تھا۔۔۔۔ بہروز کو دیکھنے وہ اس کے پاس تو آیا نہیں۔۔۔۔ فون کر کے طبیعت معلوم کی تو بار بار یہی مشورہ دیا کہ بچوں کو ان کا حصہ ابھی سے دے دو آگے تمہاری زندگی کتنی ہے اس کا بھروسا نہیں۔۔۔۔

“مما مجھے آپ لوگوں کی دعائیں اور محبت کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے میرے لیے ہر سب سے زیادہ قیمتی آپ دونوں کی ذات ہے”

ثوبان ان دونوں کو دیکھ کر کہنے لگا

“میں جانتی ہوں ثوبان۔۔۔ مگر میں پھر بھی یہی سمجھتی ہو کہ لالچی فطرت انسان کے گھر اپنی بیٹی دی جائے جس کا شادی سے پہلے ہی منہ کھلا ہوا ہو اس کا بھلا بعد میں کیا حال ہوگا۔۔۔ خیر میں تو اس رشتے سے ذرا بھی خوش نہیں ہو بہروز” یسریٰ نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا

“اور مسز حامد نے مجھے رنعم کے تین چار رشتے بتائے تھے جو ہر لحاظ سے رنعم کے لئے مناسب ہیں۔۔۔۔ مگر میں پھر بھی ان پر کاشان کو ترجیح دو گی”

یسریٰ نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے کہا

“ٹھیک ہے کاشان اور رنعم کی اگر خوشی اور مرضی شامل ہے تو پھر بات ہی ختم ہوجاتی ہے میں اسی مہینے کے آخر میں میں ان دونوں کی شادی کر دینا چاہتا ہو،، کیا خیال ہے”

بہروز نے ان دونوں کو دیکھ کر پوچھا

“اب ایسی بھی کیا جلدی ہے بہروز بیس دن میں بھلا شادی کی جاتی ہے۔۔ کتنے انتظامات ہوتے ہیں” بہروز کی بات سن کر یسریٰ ایک دم بوکھلا گئی۔۔۔ وہی ثوبان بھی چونکا

“سب ہو جاتا ہے بیس دن کم نہیں ہوتے تم اور ثوبان مل کر سب ارینجمنٹ دیکھ لینا۔۔۔ ساتھ ہی سب رشتے داروں کو بھی کاشان اور رنعم کے رشتے سے آگاہ کردینا”

بہروز کی بات سن کر ثوبان اٹھ کھڑا ہوا اس کا ارادہ اپنے جذباتی بھائی کے پاس جاکر اسے خوشخبری سنانے کا تھا جو کل سے ہی منہ لٹکائے اس سے سیدھے منہ بات نہیں کر رہا تھا