504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 29)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

ثوبان، بہروز اور یسریٰ کے روم سے نکل کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے روم میں جانے لگا۔۔۔۔ اس کی نظر سیرت کے روم کے دروازے پر پڑی،،، سیرت کو یہاں لانے کے بعد وہ اسے دیکھنا تو دور،، ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔ اسے اچھی طرح اس بات کا احساس تھا

شروع سے ثوبان کی عادت میں شامل تھا سونے سے پہلے وہ یسریٰ اور بہروز کے روم میں بیٹھ کر ان سے تھوڑی دیر باتیں کرتا۔۔۔۔ بہت دفعہ کوشش کرنے کے باوجود وہ بہروز اور یسریٰ کو اپنے اور سیرت کے نکاح کے متعلق بتا نہیں پایا ویسے تو اسے اندازہ تھا کہ یسریٰ اور بہروز کے لئے یہ خبر تکلیف کا باعث ہرگز نہیں بنے گی یقیناً وہ دونوں خوش ہوں گے مگر پھر بھی ایک جھجھک سی آڑے آجاتی یا تو یہ وجہ تھی کہ سیرت ان کی سگی اولاد تھی یا پھر وہ اپنے اس طرح کو خفیہ نکاح کے بارے میں بتا کر بہروز اور یسریٰ کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔ وہ بہروز کی طبیعت کو مدنظر رکھ کر کوئی رسک بھی نہیں لے سکتا تھا اس لیے فی الحال اس نے چند دنوں کے لیے خاموش رہنے میں عافیت جانی

سیرت کے روم کے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھل گیا وہ وارڈروب میں سر دیے ہوئے کھڑی تھی

ثوبان نے روم میں داخل ہوکر دروازہ لاک کیا اور چلتا ہوا اس کے پاس آیا

“تو آخرکار تم نے اپنے قیمتی وقت میں سے چند لمحے نکال ہی لئے میرے لئے”

سیرت نے دروازہ لاک کرنے کی آواز پر مڑ کر دیکھا ثوبان کو اپنے کمرے میں آتا دیکھ کر اس پر طنز کا تیر چلایا۔۔۔ سیرت کا طنز بھرا انداز دیکھ کر ثوبان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور وہ اس کے پاس آیا

“چند لمحے نہیں چندا،، اپنی پوری زندگی تمہارے نام کر چکا ہے ثوبان احمد،،، سارے گلے شکوے کرلینا آج”

وہ سیرت کو بانہوں میں لیتے ہوئے کہنے لگا

“زیادہ میرے سامنے یہاں کمرے میں آکر ڈائیلاگ مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ وہاں سب کے سامنے تو ایک نظر دیکھنا گوارا نہیں کرتے اور یہاں کمرے میں آ کر چپکے جارہے ہو دور ہٹو”

وہ اس کی بانہوں کے حصار کو توڑ کر خود کو آزاد کراتی ہوئی گویا ہوئی

“یعنیٰ تم چاہتی ہو کہ میں سب کے سامنے تم سے چپکو۔۔۔ رومینٹک میں اکیلے میں ہوسکتا ہو تمہارے ساتھ،،، اس معاملے میں، میں تھوڑا پرائیوٹ پرسن ہو”

ثوبان نے آنکھوں میں شرارت لیے اس کی بات کا جواب دیا

“فضول کی باتیں مت کرو۔۔۔۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا،، تم تو مجھے یہاں لاکر بھول ہی گئے ہو” سیرت نے اس سے شکوہ کرتے ہوئے کہا

“بھولا کہاں ہو یار،، تم خود دیکھ تو رہی ہو۔۔۔ گھر میں دو دن سے کتنا لیٹ آنا ہوتا ہے۔۔۔۔ ایک کیس میں پھنسا ہوا تھا،، پھر شوروم کو بھی دیکھنا ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس وقت بابا کو سب سے زیادہ میری ضرورت ہے”

وہ سیرت کو دونوں بازوں سے تھام کر اسے بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا

“وہی تو کہہ رہی ہوں ان سب نے میں کہاں ہوں”

ثوبان سیرت کو بیڈ پر بٹھا کر خود اس کے بیڈ پر لیٹ گیا سیرت کی بات سن کر اس نے سیرت کا ہاتھ اپنے دل پر رکھا

“یہاں ہو تم، ابھی سے نہیں بہت پہلے سے یقین نہیں آتا تو آکر چیک کرو”

وہ سیرت کا سر اپنے سینے پر رکھتا ہوا بولا

“ایس پی ثوبان احمد باتوں کے تو آپ پورے فنکار ہیں” سیرت نے اس کے سینے پر اپنی تھوڑی ٹکاتی ہوئی بولی جس پر وہ سیرت کے ساتھ خود بھی مسکرا دیا

“فنکاری تو مجھے ایک دو چیزوں میں اور بھی آتی ہے”

وہ اسکو بیڈ پر لٹا کر اس کے اوپر جھکتا ہوا بولا

“مسٹر فنکار یہ والی فنکاریاں اس وقت تک نہیں چلے گی جب تک آپ اپنی بیوی کے روپ میں مجھے اپنے مما بابا کے سامنے متعارف نہیں کروا دیتے”

سیرت اس کا ارادہ بھانپتی ہوئی اسے پیچھے کرتے ہوئے بولی

“کیا اس وقت تھوڑا سا بھی ترس نہیں کھاؤں گی مجھ پر”

ثوبان نے بہت معصوم سی شکل بنا کر اس سے پوچھا

“اس وقت میں نے تم پر ترس ہی کھایا ہوا ہے جبھی تم بیڈ پر لیٹے ہوئے ہو،، نہیں تو ابھی تک تمہیں دھکا دے کر نیچے گرا دیتی”

سیرت نے اتراتے ہوئے کہا جس پر ثوبان نے اسے گھور کر دیکھا وہ اب بیڈ سے اتر کر کھڑی ہوگئی

“شرافت سے دوبارہ اپنی جگہ پر واپس آجاو”

ثوبان اس کو بیڈ کے پاس کھڑا دیکھ کر بولا وہ خود ابھی بھی بیڈ پر لیٹا ہوا تھا

“اور تمہیں ایسا کیوں لگ رہا کہ میں تمہاری بات مانو گی”

سیرت بیڈ کے قریب کھڑی اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھے اس سے پوچھنے لگی

“کیوکہ بیوی ہوں تم میری”

ثوبان نے جتاتی ہوئی نظروں سے سیرت کو دیکھ کر کہا

“بیوی نہیں ایس پی ثوبان احمد۔۔۔۔ منکوحہ ہوں میں آپ کی،، اس لیے زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ سیدھی شرافت سے اپنے کمرے کا راستہ ناپئے”

سیرت کے بولنے کی دیر تھی مگر اگلے ہی لمحے ثوبان کے کھنچنے پر وہ بیڈ پر تھی

“ثوبی”

سیرت کو بیڈ پر گرا کر جیسے ہی ثوبان اس پر جھکا سیرت نے زور سے اس کا نام پکارا

“کیا کر رہی ہو یار رنعم کے کمرے میں آواز جائے گی”

ثوبان سیرت کا منہ بند کرتا ہوا سریز انداز میں گھورتا ہوا بولا

“اچھا ہے ناں تمہاری بہن کو بھی معلوم ہو اس کا بھیا برابر والے کمرے میں کیا چھچھور پن کر رہا ہے”

سیرت ثوبان کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹاتی ہوئی بولی

“چھچھور پن پر اگر آگیا ناں،، دو دن تک چھپتی پھیروں گی مجھ سے”

لو دیتی نظروں سے وہ سیرت کو دیکھتا ہوا بولا اور ثوبان کے اس انداز میں دیکھنے سے اور اس کی بات پر سیرت کے چہرے پر سرخی آگئی

“کاشی بالکل ٹھیک کہتا ہے۔۔۔ تمہیں واقعی ہلکا نہیں لینا چاہئیے بہت پہنچی ہوئی شے ہو تم”

اپنی جھینپ مٹاتے ہوئے سیرت بولنے لگی جبکہ ثوبان اس کے فیس ایکسپریشن کو دیکھ کر انجوائے کرنے لگا

“یہ کاشی کی اچھی بات ہے کہ وہ تمہیں وقفے وقفے سے عقلمندی کی باتیں سمجھاتا رہتا ہے۔۔۔۔ ایک بیوی کو اپنے شوہر کو واقعی ہلکا نہیں لینا چاہیے جبکہ ہمارے ساتھ تو پولیس اور چور والا بھی حساب کتاب ہے۔۔۔ اس لحاظ سے تو تمہیں مجھے بالکل بھی ہلکا نہیں لینا چاہیے”

وہ بولتا ہوا سیرت کی گردن پر جھکا

“ثوبی ہٹو بھی اب، جاو اپنے کمرے میں”

اسکی چھوٹی چھوٹی جسارتیں سیرت کے ہوش اڑا رہی تھی۔۔۔۔ تبھی سیرت اس کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی

“جب تک اپنی سستی نہیں اتار لو گا میں یہاں سے جانے والا نہیں اور اگر اب تم نے بیچ میں مداخلت کی تو تمہیں بھی اٹھا کر اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے جاو گا اسلیے چپ کر کے لیٹی رہو”

ثوبان کی دھمکی پر وہ واقعی چپ کر گئ

****

“اتنا خاموش کیوں رہنے لگے ہیں آپ بہروز۔۔۔ کیا سوچتے رہتے ہیں ہر وقت”

یسریٰ نے بہروز کو دیکھ کر سوال کیا اگر کوئی اس سے بات کر لیتا تو وہ اس کا جواب دے دیتا ورنہ سارا دن خاموش رہتا۔۔۔ ثوبان اسے ویئل چیئر کی مدد سے کمرے سے باہر لے جاتا اور تھوڑی دیر کے لیے لان میں بٹھا دیتا خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ جاتا،۔۔۔۔۔ ورنہ وہ اپنا ادھا بے جان وجود لئے بیڈ پر لیٹا رہتا۔۔۔ رنعم اس کے پاس آکر بیٹھ کر باتیں کر لیتی ثوبان کا تو روٹین تھا وہ پولیس اسٹیشن سے آنے کے بعد اس کے پاس بیٹھا تھا سارا دن کی روادات اس کو سناتا رات کا کھانا کھلا کر ہلکی پھلکی باتیں کر کے اپنے روم میں جاتا۔۔۔ کاشان بھی آفس سے آنے کے بعد پندرہ بیس منٹ اس کے پاس بیٹھ کر اس کی خیر خیریت پوچھتا

البتہ بہروز سیرت کو یسریٰ سے کہہ کر بلواتا تو سیرت لگے بندھے انداز میں اس کے پاس آکر بیٹھ جاتی۔ یسریٰ اور بہروز کو معلوم نہیں تھا ثوبان کیا کہہ کر سیرت کو ان کے پاس لایا تھا مگر یہ بات وہ دونوں جانتے تھے کہ سیرت کے دل میں ان دونوں کے لیے غم و غصہ موجود ہے،، وہ دونوں سیرت کو خود سے مخاطب کرتے،،، تو وہ جواب دیتی۔۔۔ سب لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بس رات کا کھانا کھاتی تھوڑی بہت بات چیت رنعم کے ساتھ یا کاشان سے کر لیتی

بہروز اور یسریٰ اکثر اسے خود سے مخاطب کرتے تو وہ باتوں کا جواب دیتی۔۔۔۔ بہروز اور یسریٰ اسی بات کا شکر ادا کرتے کم از کم ان کی بچھڑی ہوئی بیٹی جس کے ملنے کی وہ امید کھو چکے تھے وہ ان کے پاس موجود تھی۔۔۔ ان کی نظروں کے سامنے تھی اس لئے اس کے رویے پر دل کو ٹھیس تو لگتی مگر زیادہ سوچتے نہیں

شروع میں جب یسریٰ نے اسے انعم کہہ کر مخاطب کیا تب اس نے یسریٰ کو اس نام سے پکارنے سے منع کردیا اور خاص کر کہا کہ اس کا نام سیرت ہے لہذا اسے سیرت کہہ کر پکارا جائے

“میں آپ سے پوچھ رہی ہوں بہروز کیا سوچ رہے ہیں”

کوئی جواب نہ پا کر ایک بار پھر یسریٰ نہ اپنا ہاتھ بہروز کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے پوچھا وہ چونک کر یسریٰ کو دیکھنے لگا

“میں دونوں بیٹیوں کے بارے میں سوچ رہا ہوں”

بہروز نے یسریٰ کو دیکھ کر جواب دیا اب وہ زیادہ اٹک اٹک کر نہیں بولتا تھا الفاظ بھی اسکے پہلے کی بانسبت سمجھ میں آ جاتے تھے

“کیا سوچ رہے ہیں آپ اپنی دونوں بیٹیوں کے بارے میں مجھ سے شیئر نہیں کریں گے”

یسریٰ نے مسکرا کر اس سے پوچھا

“تم سے اور ثوبان سے بات کرنا چاہتا ہوں اس کے متعلق بلکہ ثوبان سے ذکر کیا تھا میں نے کل۔۔۔ فرح باجی نے ٹھیک کہا ہے ہمارے اوپر ایک نہیں دو بیٹیوں کی ذمہ داری ہے۔۔۔ سیرت تو ہمہیں ابھی ملی ہے ابھی اس کو دیکھ کر دل نہیں بھرا مگر رنعم کے بارے میں ہمہیں سوچنا چاہیے، اس کے مستقبل کے متعلق” بہروز کے بولنے پر یسریٰ سمجھ گئی وہ یقیناً رنعم کی شادی کے لئے فکر مند ہے

“کن باتوں کو سوچنے لگے ہیں بہروز بچیاں ابھی اتنی بڑی نہیں ہوئی کہ ان کی شادی کے متعلق سوچا جائے اور رنعم تو سیرت سے بھی دو سال چھوٹی ہے۔۔۔ آپ ٹھیک ہوجائیں ہم پھر سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے اپنی بیٹیوں کے بارے میں”

یسریٰ نے بہروز کے چہرے پر فکرمندی کے گہرے بادل منڈلاتے دیکھ کر اسے تسلی دی

“رنعم پانچ ماہ بعد پورے 21 سال کی ہوجائے گی،،، شادی کی یہی عمر ہوتی ہے میں اپنی زندگی میں اپنی دونوں بیٹیوں کے گھر بستے دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ ثوبان کا کیا ہے،، لڑکا ہے اس کی فکر نہیں اور سیرت تو ابھی آئی ہے ہمارے پاس اس لئے اسے کچھ وقت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا ہو۔۔۔ بے شک وہ ناراض ہے مگر دل کو ڈھارس رہتی ہے کہ میری بڑی بیٹی میرے پاس آ گئی ہے اور رنعم کے لیے کیوں دیر کریں جب گھر کا ہی لڑکا موجود ہے”

بہروز نے اپنی بات یسریٰ کو سمجھانے کی کوشش کی

“گھر کا لڑکا کس کے متعلق بات کر رہے ہیں آپ”

یسریٰ نے چونکتے ہوئے بہروز سے پوچھا

“باجی نے اس دن عاشر کے لیے کہا تھا تم بھول گئی۔۔۔ اپنی رنعم کے لئے ٹھیک رہے گا باجی کو فون کر کے، ، انہیں میرے خیالات کے بارے میں آگاہ کردینا”

بہروز کی بات پر جہاں یسریٰ چونکی وہی دروازے پر کھڑی رنعم کو، بہروز کی بات سن کر زوردار جھٹکا لگا

وہ بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی بجائے کاشان کے کمرے میں پہنچی اور رونے لگی کاشان تھوڑی دیر پہلے آفس سے آیا تھا وہ ابھی چینج کر کے نکلا تھا۔۔۔ اپنے روم میں رنعم کو روتا ہوا دیکھ کر اس کے پاس آیا

“کیا ہوا رنعم” کاشان اس کے رونے کی وجہ جاننے لگا اسے لگا شاید بہروز کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے،،، اس لئے جواب نہ پا کر وہ روم سے باہر جانے لگا

“بابا ٹھیک ہے کاشان”

اس کو روم سے جاتا دیکھ کر رنعم نے رونے کے درمیان کہا

“تو پھر مجھے وجہ بتاؤں گی یا پھر اس طرح روتی رہوں گی”

کاشان نے سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر پوچھا

“کاشان بابا میرے رشتے کے متعلق مما سے بات کر رہے تھے اور وہ کہیں اور میرا رشتہ۔۔۔۔”

رنعم نے روتے ہوئے کاشان کو دیکھ کر کہا تو کاشان کو رنعم کے رونے کی وجہ سمجھ میں آئی ساتھ ہی اس کی پیشانی پر چند لکیریں نمودار ہوئی

“ایسا کچھ نہیں ہوگا بلکہ میں ایسا کچھ ہونے ہی نہیں دوں گا ریلیکس”

کاشان نے قریب آ کر رنعم کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

“کاشی”

ثوبان کے زور سے پکارنے پر ان دونوں نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔ دروازے پر ثوبان کھڑا ان دونوں کو غصے میں گھور رہا تھا

“بھیا”

رنعم نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر بےساختہ کہا

“اپنے روم میں جاؤ رنعم”

ثوبان نے رنعم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا مگر اس کی نظریں کاشان پر جمی ہوئی تھی۔۔۔ کاشان بھی اب غصے میں ثوبان کو ہی دیکھ رہا تھا ثوبان کے بولنے کے ساتھ ہی رنعم جلدی سے وہاں سے چلی گئی

“کیا چل رہا تھا یہاں پر کاشی”

ثوبان نے سختی سے کاشان سے دریافت کیا

“اس گھر میں کیا چل رہا ہے ثوبی۔۔۔۔ میں نے تمہیں رنعم کے متعلق اپنی پسند سے آگاہ کردیا تھا،، اب سے نہیں بلکہ دو مہینے پہلے سے پھر آنٹی انکل اس کے لیے کسی دوسرے کا کیسے سوچ سکتے ہیں” کاشان نے غصے میں ثوبان سے سوال کیا

“وہ اس کے ماں باپ ہیں،، اس کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں اور میرے بات کرنے سے پہلے آنی رنعم کے لیے عاشر کا رشتہ ڈال گئی تھی۔۔۔ بابا نے مجھے کل ہی بتایا”

کاشان کو غصے میں دیکھ کر ثوبان اسے تحمل سے سمجھانے لگا جبکہ کاشان کو عاشر کا نام سن کر آگ ہی لگ گئی اس نے پاس پڑا ہوا گلدان پوری قوت سے دیوار پر مارا جوکہ چھناکے سے ٹوٹ گیا

“یہ کیا حرکت ہے کاشی،، تمہاری انہی فضول حرکتوں اور غصے کو دیکھتے ہوئے میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں”

ثوبان اس کو غصے میں دیکھ کر سنجیدگی سے بولا

“اس عاشر کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ رنعم کے متعلق رشتہ کا سوچے” کاشان کو یہ سوچ ہی کھولانے لگی

“جیسے تمہاری ہمت ہوئی”

ثوبان نے اس کے سینے پر اپنی انگلی سے زور ڈالتے ہوئے کہا

“صرف تم ہی رنعم کو پسند نہیں کرسکتے،،، تمہاری اجارہ داری نہیں چلے گی اس پر۔۔۔ کوئی اور بھی رنعم کے مطابق سوچ سکتا ہے، اس کو پسند کرسکتا ہے اور مما بابا کو جو سہی لگے گا اپنی بیٹی کے لیے، وہ اسی کو چنے گے”

ثوبان کو جب سے کاشان نے اپنی رنعم کی پسندیدگی کے متعلق شیئر کیا وہ پوچھتا ہی تو گیا تھا ایسا نہیں تھا کہ کاشان سے پیار نہیں کرتا تھا مگر وہ اپنے بھائی کی نیچر سے بھی واقف تھا۔۔۔ کاشان کو غصے میں آپے سے باہر آنے میں دیر نہیں لگتی تھی اور دوسری طرف رنعم کے ٹھنڈے مزاج اور سافٹ نیچر سے بھی واقف تھا

“ثوبی تم جانتے ہو نا میں نے بچپن سے ہی بہت کم چیزوں کی خواہش کی ہے” کاشان بے بسی سے ثوبان کو دیکھ کر بولا

“جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں جب تمہاری من پسند چیز تمہیں نہیں ملتی تھی تو تم اس کو کسی دوسرے کا بھی نہیں رہنے دیتے تھے جیسے منّے کی سائیکل۔۔۔ جب ابو نے تمہیں ویسی سائیکل خرید کر نہیں دلائی تو تم نے اس کے پاس بھی وہ سائیکل رہنے نہیں بلکہ توڑ دی” ثوبان نے اس کو بچپن کا واقعہ یاد کرایا۔۔۔۔۔ ثوبان کی بات پر کاشان نے لمبا سانس کھینچا

“جب میں چھوٹا تھا ثوبی مگر تب میں اور اب میں بہت فرق ہے۔۔۔ اب میں اتنی ہمت رکھتا ہوکہ اپنی من پسند چیز کو خود حاصل کر سکوں”

کاشان اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اور کمرے سے جانے کیلئے مڑنا چاہا مگر ثوبان نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روک لیا

“تو اب تم کیا کرو گے رنعم کو حاصل کرنے کے لیے، ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے”

ثوبان نے دونوں ہاتھ باندھ کر اس سے پوچھا

“دیکھو ثوبی میں اپنی زندگی کا ایک حصہ چار دیواری کی نظر کر کے باہر آیا ہوں،، تمہیں معلوم ہے نہ ہمارا بچپن صرف محرومیوں میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو ترستے ہوئے گزرا ہے۔۔۔۔ جیل سے باہر آنے کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اس حد تک مجھے اچھا لگ سکتا ہے،،، میں نے تمہیں بھائی سمجھ کر اپنی خواہش کا اظہار کیا۔۔۔ اب تم بتاؤ کیا میرا حق نہیں ہے کہ میں اپنی زندگی من پسند ساتھی کے ساتھ گزار سکو۔۔۔۔ کیا میرا حق نہیں ہے خوشیوں پر” کاشان نے ثوبان سے سوال کیا

“کاشی رنعم کا اور تمہارا مزاج بہت مختلف ہے تم دونوں میں انڈراسٹینڈنگ کیسے ہوگی جبکہ۔۔۔” ثوبان اس کے کندھے تھام کر اسے سمجھانے لگا کاشان اس کے ہاتھ اپنے کندھوں سے ہٹائے

“رنعم کا جو مزاج ہے،، جو اس کی نیچر ہے،، اسی طرح کی لڑکی پسند ہے مجھے اور اگر تم میرے متعلق آنٹی انکل سے بات نہیں کر سکتے تو یہ کام میں خود کر لوں گا”

کاشان نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا

“اس کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ میں تم دونوں کی باتیں سن چکی ہوں”

یسریٰ کی آواز پر وہ دونوں چونکے دروازے پر دونوں کی نظر بےساختہ پڑی تو وہاں پر یسریٰ کو موجود پایا۔۔۔ باتیں کرتے ہوئے ان دونوں کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ یسریٰ وہاں کب سے کھڑی ہوئی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی

“ثوبان جب تم فری ہو جاؤ تو اپنے بابا کی بات سن لینا بلا رہے تھے وہ تمہیں”

یسریٰ ثوبان سے کہتی ہوئی روم سے باہر نکل گئی