504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 15)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“بابا پلیز مما سے کہہ دیں نا کہ وہ مان جائیں،، باقی بھی تو ساری فرینڈز جارہی ہے کون سا میں دوسرے شہر جا رہی ہوں”

کاشان صبح ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو رنعم بہروز سے کہیں جانے کی ضد کر رہی تھی وہ سب کو سلام کرتا ہوا رنعم پر سرسری نظر ڈال کر ناشتے کے لیے چیئر پر بیٹھ گیا

“رنعم بابا بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں،، کریم نے پرسوں کی چھٹی مانگی ہے، بابا رات میں کار ڈرائیو نہیں کرسکتے اور میری کل اور پرسوں نائنٹ ہے۔۔۔ویسے بھی تمہارے سیمسٹرز ہیں اگلے ہفتے سے، دوستوں کی منگنیاں اٹینڈ کرنا چھوڑو اور پڑھائی پر توجہ دو”

ثوبان نے رنعم کو بہروز سے ضد کرتا دیکھ کر اسے سنجیدگی سے ٹوکا وہ شاذ و نادر ہی رنعم کی کوئی بات ٹالتا تھا مگر جو بات منع کر دیتا تھا اس کا مطلب تھا کہ اب اس کام کا رنعم بالکل نہ سوچے۔۔۔۔ رنعم کو لگا اب وہی یشعل کی منگنی میں نہیں جا پائے گی اس لیے منہ لٹکا کر چپ کر کے ناشتہ کرنے لگی

“اگر کوئی مسئلہ ہے تو میں چھوڑ دیتا ہوں رنعم کو،، پرسوں میں فری ہوگا”

رنعم کی اتری ہوئی شکل دیکھ کر کاشان نے چائے کا کپ تھامے اپنی بات مکمل کی اور چائے کا گھونٹ بھرا۔۔۔ رنعم سمیت سب سر اٹھا کر اس کو دیکھنے لگے

“ارے نہیں بیٹا تمہیں پریشان ہونے کی ضررورت نہیں ہے رنعم کے تو آئے دن کہیں نہ کہیں کہ پروگرام بنتے ہیں اور ویسے بھی ثوبان ٹھیک کہہ رہا ہے اس کے سمسٹر بھی اسٹارٹ ہونے والے ہیں”

بہروز نے سہولت سے منع کرتے ہوئے کہا

“خیر پریشان ہونے کی تو کوئی بات نہیں ہے۔ ۔۔ ثوبی نے اپنی اور آپ کی نہ جانے کی وجہ بتائی میں فری تھا تو اس لیے جانے کی پیشکش کر دی”

کاشان نے کندھے اچکا کر کہا اور دوبارہ ناشتہ کرنے لگا

“ٹھیک ہے کاشان اگر تمہیں کوئی پرابلم نہیں ہے تو پھر رنعم کو چھوڑ آنا اور لے کے بھی آ جانا،،، تم بھی تو گھر کے فرد ہو”

یسریٰ کے بولنے پر ثوبان اور بہروز یسریٰ کو دیکھنے لگے جبکہ رنعم نے زور سے چہکتے ہوئے یسریٰ کو دیکھ کر تھینکس کہا پھر اس کی نظر کاشان پر پڑی وہ اس کے خوش ہونے پر اسکو اسمائل دیتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔ کاشان کے دیکھنے پر رنعم کے لب سکھڑے اور دوبارہ اپنا ناشتہ کرنے لگی۔۔۔۔

کل آنی کے آنے پر کتنی بدتمیزی سے وہ اسے بیڈروم میں لے گیا تھا کتنی زور سے اسکا بازو پکڑا تھا اپنے ہتھوڑے کے ماند سخت ہاتھوں سے اور کس طرح اس کو ڈرا رہا تھا۔۔۔۔

رنعم کی نظر میں وہ صرف ثوبان سے شکل میں مشابہت رکھتا،، نیچر تو اس کی باکل جلادو جیسی تھی۔۔۔۔ اوپر سے غصے وہ اسے دیکھتا بھی ایسے کھا جانے والی نظروں سے تھا جیسے سالم ہی نگل لے گا۔۔۔۔ جو بھی تھا وہ اس کے بھیا جیسا بالکل نہیں تھا

“کاشی رنعم کو بہت احتیاط سے چھوڑ کر آنا اور لے کر آنا آج کل حالات ٹھیک نہیں ہیں، خیال رکھنا اس کا”

ثوبان کاشان کو دیکھ کر کہنے لگا تو کاشان سر ہلا کر آفس کے لئے نکل گیا

****

“اور مسٹر کاشان کیسے ہیں آپ۔۔۔۔۔ کوئی پروبلم تو نہیں آپ کو کسی طرح کی آفس میں

مایا 15 دن کے بعد اپنی مدد کے پاس سے پاکستان واپس لوٹی تھی اور یہ پندرہ دن کاشان آفس میں بڑا ریلیکس تھا کیوکہ اسے مایا بالکل بھی پسند نہیں تھی اور کسی سے تو نہیں مگر کاشان نے نوٹ کیا تھا وہ اس سے کافی فری ہو کر بات کرتی تھی اس لیے وہ اسے عجیب چپکو ٹائپ لڑکی لگتی۔۔۔ اس کے برخلاف اس کے والد شکیب صاحب اچھے نیک انسان تھے،، جنہوں نے اسے اپنے آفس میں اس کا کام دیکھتے ہوئے اسے مینیجر کا عہدے فائز کیا اور ساتھ ہی پرکشش سیلری بھی اس کو پے کر رہے تھے۔۔۔۔ مایا کو وہ بہت حد تک شکیب صاحب کی وجہ سے برداشت کر رہا تھا

“نو میم مجھے کوئی پرابلم نہیں اور پرابلم ہوگی بھی تو میں اپنی پرابلم خود سولو کرنے کا عادی ہوں،، آپ ٹینشن نہیں لیں یہ کچھ اہم پوائنٹس ہیں انہیں دیکھ لیں کل کی میٹنگ میں اس کو ڈسکس کیا جا سکتا ہے”

کاشان نے بے کار باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فائل اس کے سامنے بڑھاتے ہوئے کہا اور کام کی بات کی

“جی یہ تو میں دیکھ لیتی ہوں مگر آپ پہلے مجھے یہ بتائے آج شام میں آپ بزی تو نہیں”

مایا نے فائل ایک ادا سے تھام کر سائڈ پر رکھی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی کہنی ٹیبل پر ٹکا کر ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھتے ہوئے بولی

“پوائنٹز کی ڈسکشن زیادہ ضروری تھی،، اگر آپ وہ مجھ سے ڈسکس کر لی تھی کہ وہ زیادہ اچھا ہوتا،، خیر آفس ٹائم کے بعد میں کہیں نہیں جاتا”

کاشان نے بےزاریت شو کرتے ہوئے اسے جواب دیا اور اسکا یو بیزار ہونا بھی مایا کو پسند آیا

“یہ آفس کی باتیں، میٹنگ کی باتیں تو ہوتی رہیں گیں۔ ۔۔ مجھے آپ سے کچھ دوسری باتیں کرنی ہے،،، آج آپ میرے ساتھ ڈنر کر رہے ہیں ہوٹل میں بک کر لیتی ہو”

مایا نے کونفیڈنس سے کاشان کو دیکھتے ہوئے کہا

“بات اگر آفس کے کام سے ریلیٹڈ ہے تو آپ آفس آرز میں ہی کرلیں ورنہ فالتو کی باتوں کے لیے تو میرے پاس وقت نہیں ہے اور رہی بات ہوٹل کے ڈنر کی تو اس کے لئے معذرت کیوکہ ہوٹلنگ مجھے خاص پسند نہیں”

اس کی بڑھتی ہوئی جرات کو دیکھ کر کاشان نے دو ٹوک انکار کر کے بات ختم کردی اور روم سے نکل گیا

“دکھا لو نخرے کاشان احمد آنا تو تمہیں میرے پاس ہی ہے”

مایا اسے باہر جاتا دیکھ کر سوچتی ہوئی مسکرا دی

****

وہ ساری کلاسز اٹینڈ کر کے چند منٹ پہلے ہی فری ہوئی تھی تب اس کا موبائل بجا

“اووو کریم کتنی جلدی آ گیا ہے”

رنعم نے بیگ سے موبائل نکالتے ہوئے سوچا مگر اننون نمبر کو دیکھ کر وہ سوچ میں پڑ گئی کون ہو سکتا ہے

“رنعم بائر آو جلدی” کال ریسیو کرتے ہی ہیلو بولنے سے پہلے رنعم کو اپنے کانوں میں آواز سنائی دی

“کون بول رہا ہے” رنعم نے ناسمجھی سے پوچھا

“کاشان بات کر رہا ہوں تمہاری یونیورسٹی کے باہر تمہارا ویٹ کر رہا ہوں جلدی آؤ”

کاشان نے کہہ کر کال کاٹ دی

آج مایا کی وجہ سے اس کا موڈ خراب ہورہا تھا مگر رنعم کا خیال آتے ہی اس کی یاد بھی آئی،،، کریم سے یونیورسٹی کی ٹائمنگ اور رنعم کا نمبر لے کر کریم کو منع کرتا ہوا وہ خود رنعم کی یونیورسٹی اس کو لینے پہنچ گیا۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں اسے رنعم یونیورسٹی کے گیٹ سے نکلتی ہوئی نظر آئی،،، ریڈ کلر کی شارٹ قمیض کے ساتھ ہم رنگ دوپٹہ گلے میں ڈالے،، وائٹ ٹراؤزر پہنی وہ اسے اپنی طرف آتی دکھائی دی

“تھوڑی دیر میں کریم آتا ہوگا مجھے لینے کے لیے”

کاشان نے کار کا دروازہ کھولا تو اس نے کھڑکی سے جھاگتے ہوئے کہا

“وہ نہیں آئے گا اسے میں منع کر چکا ہوں کار میں بیٹھو” کاشان نے رنعم کو دیکھتے ہوئے جواب دیا

“مگر اسے آپ نے کیوں منع کیا”

رنعم نے حیرت سے پوچھا

“ساری باتیں اس گرمی میں تمہیں یہی کھڑے ہو کر پوچھنی ہیں کار میں بیٹھو”

کاشان نے دوبارہ سنجیدگی سے بولا بلکہ آرڈر دیا

رنعم تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کار میں بیٹھ گئی۔۔۔ ویسے بھی یعشل کی انگیجمنٹ میں اسی کے ساتھ جانا تھا،، آج صبح ہی تو سب کے منع کرنے پر اس نے یہ عنایت رنعم پر کی تھی۔۔۔۔

رنعم کے بیٹھتے ہی کاشان نے کار اسٹارٹ کر دی، کار میں مکمل خاموشی تھی کاشان نے ڈرائیونگ کے درمیان رنعم پر نظر ڈالی وہ ہاتھ میں موجود ٹشو کو بار بار انگلی میں رول کر رہی تھی کاشان سمجھ گیا شاید وہ نروس ہو رہی ہے

“پر ایسے تو کام نہیں چلے گا”

کاشان نے سوچا پھر کچھ خیال آنے پر اس نے کار گھر سے دوسرے سائڈ پر موڑی

“ہم یہاں کیو آئے ہیں”

آئسکریم پارلر کے پاس گاڑی روکی تو رنعم نے پریشان ہوکر کاشان سے پوچھا

“لوگ یہاں کیوں آتے ہیں چلو اترو گاڑی سے”

کاشان بولنے کے ساتھ ہی خود بھی کار کا دروازہ کھول کر اتر گیا ناچار رنعم کو بھی کار سے اترنا پڑا

یہ شخص اسے عجیب ہی لگتا تھا جب بھی اس سے ٹکراو ہوتا تھا ہمیشہ روعب جماتا تھا۔۔۔۔ ہنس کر بات تو وہ صرف باقی گھر والوں سے کرتا تھا۔۔۔۔۔ معلوم نہیں میں نے کیا بگاڑا ہے اس کا،، کاش اچھی شکل اچھی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا اخلاق بھی اچھا ہوتا تو بھلا کیا ہو جاتا۔۔۔ رنعم کار سے اترنے کے بعد اس کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی

“آپ نہیں کھائیں گے ایسکریم”

اپنے سامنے آئس کریم کا باول دیکھ کر رنعم نے جھجھکتے ہوئے کاشان سے پوچھا جو کہ اسی کو دیکھ رہا تھا

“آئس کریم مجھے کچھ خاص پسند نہیں ہے، تم بتاؤ آئسکریم کے علاوہ تمہیں اور کیا کیا پسند ہے”

اجنبیت کی دیوار گرانے کے غرض سے کاشان نے اس سے سوال کیا

“مجھے بارش میں بھیگنا پسند ہے، موویز دیکھنا پسند ہے، سنگنگ، مما کے ہاتھ کا چاومن، بھیا کے ساتھ بیٹمنٹن کھیلنا اور لونگ ڈرائیو،،، فرینڈ کے ساتھ آؤٹنگ شوپنگ وغیرہ وغیرہ اور آپ کو کیا پسند ہے”

شاید دوستی کا آغاز ان میں ہو چکا تھا اس لیے رنعم نے آئس کریم کھاتے ہوئے اس سے پوچھا

“مجھے یہ تمہاری آنکھوں کا کلر پسند ہے”

کاشان کے سنجیدگی سے بولنے پر رنعم کا منہ میں جاتا ہوا چمچا وہی رک گیا وہ چپ کر کے اسے دیکھنے لگی

“کیا ہوا”

کاشان نے دوبارہ اس کو نروس دیکھ کر سوال کیا

“گھر چلیں”

رنعم نے گھبرا کر کہا

“ہہممم چلتے ہیں آئس کریم کھاؤ پہلے اپنی”

کاشان نرمی سے اس کو دیکھ کر بولا۔۔۔۔ اس وقت رنعم کو رہ رہ کر کاشان کے نرم لہجے اور خود سے باتیں کرنے پر حیرت ہو رہی تھی

“اب نہیں کھائی جائے گی”

رنعم نے ٹیبل کو گھورتے ہوئے بولا

“اب کیوں نہیں کھائی جائے گی،،، اب ایسا کیا ہوگیا ہے”

وہ اس کی کیفیت سے لطف اٹھاتا ہوا بولا

“مما ویٹ کر رہی ہوگی مجھے مما کے پاس جانا ہے”

رنعم اس کی باتوں اور دیکھنے کا انداز سے کنفیوز ہونے لگی

“اور شادی کے بعد کیا ہوگا مما کو کیا جہیز میں لے کر جاؤ گی”

کاشان اس کو دیکھتا ہوا نرمی سے پوچھ رہا تھا

“آپ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں مجھ سے”

رنعم نے اپنی ہتھیلیوں میں آئی نمی کو ٹشو میں جزب کرتے ہوئے کہا

“کیوں تمہیں ایسی باتیں اچھی نہیں لگ رہی”

کاشان نے مسکراہٹ چھپا کر اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو رنعم نے بغیر اسے دیکھے نفی میں سر ہلایا

“اچھا تو پھر بتاؤ کیسی باتیں کرو تم سے”

کاشان کی بات پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا کاشان کو لگا اور وہ اس سے اور کچھ بولے گا تو وہ یہی بیٹھ کر رونا شروع کر دے گی

“چلو ایسی ویسی باتیں چھوڑو کام کی بات سنو ایک ماہ ہے تمہارے پاس یا تو کوکنگ کی کلاس لے لو یا گھر میں کوک سے کھانا بنانا سیکھ لو”

کاشان کی بات پر رنعم نے نظریں اٹھا کر کاشان کو دیکھا

“مگر کیوں”

سبز آنکھوں میں حیرت سمائے اس نے پوچھا

“اس لئے کہ مجھے گھر کا بنا ہوا کھانا پسند ہے”

کاشان کہنے کے ساتھ ہی اٹھا تو رنعم بھی اٹھ کے اس کے پیچھے چل دی اور اس کی بات پر غور کرنے لگی

“روح افزاہ راحتِ جان۔۔۔ بہت زور و سے پیاس لگی ہے”

وہ دونوں آئسکریم پارلر سے باہر نکلے دو لڑکے وہی کھڑے رنعم کو دیکھ کر ہانکنے لگے وہ یقیناً رنعم کے لال کپڑوں کو دیکھ کر اس پر فقرہ کس رہے تھے کاشان کو غصہ آنے لگا

“جاؤ کار میں بیٹھو”

کاشان نے رنعم کو کار کی چابی دیتے ہوئے کہا۔۔۔ رنعم نے اس کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے، چپ کر کے اس کے ہاتھ سے چابی لی اور وہاں سے چلی گئی اس کے جانے کے بعد کاشان ان لڑکوں کے پاس آیا اور آنے کے ساتھ ہی فقرہ کسنے والے لڑکے کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا۔۔۔ لڑکا بالکل جھینگر سا تھا جبھی ایک تھپڑ میں نیچے گر گیا

“کچھ تشفی ہوئی یا اور بجھاو تیری پیاس”

راہ چلتے آدمی نے کاشان کو پکڑا کاشان اپنا آپ چھڑا کر اسے پوچھنے لگا وہ لڑکا معافی مانگتا ہوا وہاں سے بھاگ نکلا۔۔۔۔

کاشان آ کر گاڑی میں بیٹھا اور کار اسٹارٹ کر دی،،،: گھر آنے تک رنعم نے کن انکھیوں سے دو بار کاشان کو دیکھا اس کے چہرے پر سخت تاثرات چھائے ہوئے تھے جسے دیکھ کر رنعم نے اسے مخاطب کرنے کی ہمت نہیں کی۔۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے والی نرمی اب سنجیدگی میں حائل ہو گئی تھی

“اگر وہ اچھے سے بات کرے تو شاید اتنا برا بھی نہیں لگے”

رنعم کن انکھیوں سے اس کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی

گھر کے پاس گار رکی تو رنعم کار سے اتر گئی