Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 56) Last Episode (Last Part)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 56) Last Episode (Last Part)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
دوسرے دن صبح اسپتال میں سیرت اور یسریٰ اس سے ملنے کے لیے آئی۔۔۔ فرح اور عاشر بھی یہ خبر سن کر صبح ہی اسپتال پہنچے۔۔۔ آج پہلی دفعہ کاشان نے عاشر سے سہی سے بات کی۔۔۔ سب کے جانے کے بعد کاشان ایک بار پھر یسریٰ سے معافی مانگی۔۔۔ یسریٰ نے خوش دلی سے سچے دل کے ساتھ اسے معاف کردیا
آج تین دن کے بعد ثوبان کاشان کو گھر لے آیا تھا وہ ساری ناراضگی بھلائے کاشان پر توجہ دے رہا تھا اسے ایک پل کے لیے نہیں چھوڑتا۔۔۔ ضروری کام کی جواد کو انسٹرکشن دے کر اس نے مزید دو دن کی چھٹی لے لی تھی اور وہ دو دن سے کاشان کے ہی روم میں سورہا تھا
یسریٰ اور سیرت کاشان کے پاس آکر بیٹھتی اس کے کھانا کھانے کا دوا کا خیال رکھتی۔۔۔۔ سب نے اس کو معاف کردیا تھا سب پہلے کی طرح ہوچکا تھا مگر جس کا اسے سب سے زیادہ انتظار تھا،،،، اس کے ہوش میں آنے کے بعد وہ ایک دفعہ بھی اس کے پاس نہیں آئی تھی
****
رنعم پردے کی آڑھ سے باہر لان میں کاشان کو دیکھ رہی تھی،، ثوبان تھوڑی دیر پہلے اسے لان میں لے کر آیا تھا اس وقت وہ دونوں بھائی لان کی چیئر پر برجمان تھے۔۔۔۔ کاشان کے ہوش میں آتے ہی ثوبان نے سب سے پہلے یہ خبر رنعم کو سنائی تھی اور وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کتنا روئی تھی مگر یسریٰ کے لاکھ کہنے کے باوجود اسپتال نہیں گئی گھر میں بھی کاشان کو آئے دو دن ہوچکے تھے اور یسریٰ اسے سمجھائے جا رہی تھی کہ سب پرانی باتوں کو بھول جاؤ اور اپنے آنے والے بچے کی خاطر کاشان کو معاف کر دو مگر یسریٰ کو ثوبان نے منع کردیا ثوبان کا کہنا تھا کہ رنعم کو کوئی بھی اس بات کے لئے زبردستی نہیں کرے
“یوں چھپ چھپ کر پردے کی آڑھ سے کس کو تاڑا جارہا ہے”
سیرت کی آواز پر رنعم نے ایک دم چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا سیرت مسکراتی ہوئی کافی کے دو مگ ہاتھ میں تھامے رنعم کے روم میں آئی
“میں کس کو دیکھوں گی بھلا اپنے بھیا کو ہی دیکھ رہی تھی” رنعم نے اپنا کافی کا مگ سیرت کے ہاتھ سے لیتے ہوئے جواب دیا
“یہ بھیا کو بھلا کون یوں چھپ چھپ کر دیکھتا ہے”
سیرت نے معنیٰ خیزی سے رنعم کو دیکھ کر پوچھا
“ظاہری بات ہے آپی بھیا اس وقت اکیلے نہیں ہیں اور وہ جن کے ساتھ وہاں موجود ہے میں نہیں چاہتی وہ بلاوجہ میں کسی خوش فہمی کا شکار ہو”
رنعم کافی کا سپ لے کر سیرت کو وضاحت دینے لگی رنعم ابھی بھی لان میں ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ سیرت صاف محسوس کر سکتی تھی کہ وہ ابھی بھی کاشان کو ہی دیکھ رہی ہے۔۔۔ سیرت کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“ویسے رنعم،،، یہ ثوبی پر کمیز شلوار کتنا سوٹ کرتا ہے نا”
سیرت بھی کھڑکی سے باہر لان میں دیکھتے ہوئے بولی
“صحیح کہہ رہی ہیں آپ وہ اچھے لگتے ہیں کمیز شلوار میں”
رنعم کی نظریں ابھی بھی کاشان پر مرکوز تھی۔۔ سیرت کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“اور میں نے ایک بات اور بھی نوٹ کی ہے،، ویسے تو کاشی اور ثوبی کی کافی زیادہ ایک دوسرے سے شکلیں ملتی ہے مگر جو بات ثوبی کی پرسنالٹی میں ہے وہ وہ بات کاشی میں نہیں میرا مطلب ہے۔۔ ثوبی کی پرسنلٹی کے آگے کاشی کی پرسنلٹی ذرا دبتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔۔۔ تم نے بھی نوٹ کیا ہوگا ہے نا”
سیرت اپنی مسکراہٹ چھپائے ایک دم سیریس ہو کر ان دونوں کی پرسنالٹی کو ایک دوسرے سے کمپیئر کرتی ہوئی بولی
“ایسی تو کوئی بات نہیں ہے آپی بے شک بھیا کی ہائٹ اچھی ہے مگر آپ نوٹ کریں کاشان کی ہائٹ بھیا سے تھوڑی زیادہ نکلتی ہوئی ہے۔۔۔ اور بال بھی زیادہ سلکی ہیں۔۔۔ آپ نے کبھی کاشان کی آنکھوں کو غور سے نہیں دیکھا ہوگا۔۔۔ ان کے فیس پر سب سے زیادہ اٹریکٹ تو انکی آنکھیں کرتی ہیں۔۔۔ جبکہ کاشان کے مقابلے بھیا کی آنکھیں چھوٹی ہیں۔۔۔۔ ہاں کلر کہہ سکتے ہیں کہ کاشان کے مقابلے میں بھیا کا فیئر ہے مگر اس میں بھی زیادہ فرق نہیں ہے،،، انیس بیس ہی ہوگا اور ویسے بھی مردوں پر اتنا زیادہ فیئر کمپلیکشن عجیب لگتا ہے اور اس وقت غور کریں آپ زرا کاشان کی شیو کتنی بڑھ گئی ہے آج کل میں،، مگر بالکل بری نہیں لگ رہی کتنی سوٹ کر رہی ہے ان پر”
رنعم روانی سے بولتی ہوئی سیرت کو بتانے لگی اسکی نظرہں ابھی بھی کھڑکی سے باہر لان میں کاشان پر ٹکی ہوئی تھی
“وہ تو میں اچھی طرح دیکھ رہی ہوں اور غور بھی کر رہی ہو”
سیرت مسکراتی ہوئی رنعم کو دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔ رنعم نے ایک دم سیرت کو دیکھا۔۔۔ وہ چپ ہو گئی اور تھوڑی شرمندہ بھی
“پگلی کہیں کی،، جب اتنا ہی اچھا لگتا ہے،، اپنے بھیا کا بھائی تو پھر خفا کس بات پر ہو اس سے”
سیرت اب پیار سے اس کے گال کھینچتے ہوئے بولی
“آپی پلیز اب آپ مما کی طرح مت شروع ہو جائیے گا”
رنعم کھڑکی کے پاس سے ہٹ کر صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی۔۔ سیرت اس کے پاس آ کر برابر میں بیٹھ گئی
“تمہیں معلوم ہے کاشی بہت چاہتا ہے تمہیں”
سیرت رنعم کو بتانے لگے
“معلوم ہے مجھے مگر جب غصہ آ جائے تو انہیں پیار یاد نہیں رہتا صرف زبردستی کرنا ہے یا پھر رھونس جمانا یاد رہتا ہے اور ہرٹ کرنا یاد رہتا ہے”
رنعم نے اپنے ناخنوں کی نیل پالش کھرچتے ہوئے بولی
“ایک بات بتاؤ مجھے رنعم تمہاری ارینج میرج تو نہیں ہوئی نا کاشی کے ساتھ اور نہ ہی ایسا تھا کہ تمہیں اس کی نیچر کی پہلے سے خبر نہیں تھی۔۔۔ جب اس نے تم سے اظہار کیا ہوگا تم نے کیا سوچ کر اسے ہاں بولا۔ ۔۔ کیا تم اس وقت اس کے غصے سے واقف نہیں تھی،، میں نے تمہاری شادی سے پہلے دو بار نوٹ کیا کاشی کی آنکھیں دیکھ کر تم نے اپنے آپ کو اس کام کرنے سے روکا جو کاشی کو ناپسند تھا۔۔۔ یہ سب کچھ جاننے کے بعد تم نے شادی کی اس سے۔۔۔۔ میں مانتی ہوں اس نے غلط بی ہیو آپنایا تم سے شادی کے بعد مگر اس کے لیے تم نے بالکل صحیح اسٹیپ لیا جو چھوڑ کر آگئی۔۔۔ تمہاری دوری نے اسے تمہاری قدر دلائی جس سے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا مگر اب تو وہ ٹھیک ہوگیا ہے،، شرمندہ بھی ہے اپنے کیے پر۔۔۔ تو اب تمہیں بھی نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے مما بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں گھر ایسے نہیں بسائے جاتے تھوڑا سا جھکنا پڑتا ہے رشتہ کو کھونے سے تو یہی بہتر ہے اور اپنے بھیا کی باتوں پر دھیان مت دیا کرو تمہارا بھیا پاگل ہے۔۔۔ اس لیے اگر کاشی جب بھی معذرت کرے تو شرافت سے مان جانا”
سیرت اپنا بڑی بہن ہونے کا فرض نبھا کر کافی کے دونوں خالی مگ لے کر اس کے روم سے چلی گئی
****
“کب سے میسج کر رہا ہوں یار کہ روم میں آ جاؤ اب مما کی محبت میں سونا بھی ان کے پاس شروع کر دو گی کیا”
سیرت کے کمرے میں آتے ہی ثوبان بیڈ پر لیٹا ہوا اس سے بولا
وہ ایک گھنٹے پہلے ہی یسریٰ کے پاس سے اٹھ کر اپنے روم میں آیا تھا اور سرسری انداز میں سیرت کو بھی روم میں چلنے کا کہا تھا مگر وہ سنی ان سنی کر کے وہی بیٹھی رہی۔۔۔۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ دس میسج سیرت کے موبائل پر کر کے اسے کمرے میں آنے کا بول چکا تھا اور وہ ابھی بھی یسریٰ کے بھیجنے پر اپنے روم میں آئی تھی
“اگر سونا شروع بھی کردو تو کیا۔۔۔ تم بس گھسو کاشی میں”
سیرت ایک دم تنک کر بولی۔۔ جس پر ثوبان کو ہنسی آئی وہ بیڈ سے اٹھ کر چلتا ہوا سیرت کے پاس آیا اور اسے بانہوں میں لیا
“یہ غلط بات ہے تم سے اجازت لے کر دو دن کاشی کے پاس اس لئے اس کے روم میں سویا کیوکہ ابھی اسے میری ضرورت ہے دوسرا اس کا اور رنعم کا معاملہ بیچ میں اٹکا ہوا ہے”
ثوبان اس کو بول کر بہلاتا بیڈ پر لایا
“تو ان کا معاملہ بیچ میں جب تک اٹکا رہے گا جب تک تم ان کے بیچ سے نہیں نکلو گے۔۔۔ قسم سے ثوبی، تم تو کاشی سے چپک کر ہی رہ گئے ہو۔۔۔ وہ اپنی بیوی کو منائے بھی تو کیسے،، تم ہر وقت اس کے روم میں ہوتے ہو”
سیرت گھورتے ہوئے ثوبان کو بولی
“ہاہاہا وہ پورا فنکار ہے مجھے پورا یقین ہے کل جب میں پولیس اسٹیشن سے واپس گھر آؤں گا تو تم مجھے یہ نیوز دے رہی ہوگی کہ ان دونوں کے بیچ میں سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے”
ثوبان بیڈ پر لیٹ کر، سیرت کو اپنے سے قریب کر کے اس کا سر اپنے سینے پر رکھتا ہوئے بولا
“اللہ کرے ایسے ہی ہو،، مما کو بھی فکر لگی رہتی ہے رنعم کی طرف سے۔۔۔۔ کتنی بار مما نے اسے کہا جاو شوہر ہے تمہارا مگر نہیں۔۔۔ دیکھو آج میں نے سمجھایا عقل میں بات بیٹھتی بھی ہے کہ نہیں”
سیرت کی بات پر ثوبان نے سیرت کا ہاتھ اپنے سینے سے اٹھا کر ہونٹوں پر لگایا
“سب ٹھیک ہو جائے گا وہ منالے گا رنعم کو۔۔۔ بس اب ان دونوں کی باتیں چھوڑو اور مجھے یہ بتاؤ تمہیں بےبی چاہیے کہ نہیں”
وہ اب سیرت کو بیڈ پر لٹا کر اسکے اوپر جھکتا ہوا پوچھنے لگا
“ثوبی تم نے بھی نہ کوئی بےہودگی میں ڈگری لی ہوئی ہے بس ایسے ہی شروع ہو جاتے ہو”
سیرت نے اس کے گال پر چپت لگاتے ہوئے کہا
“بس اس وقت مجھے یہ ڈگری کام میں لانے دو۔۔۔ ورنہ جتنا وقت اب تم مما کے روم سے یہاں آئے میں لگاتی ہو۔۔۔ اس طرح انوشے کے آنے میں دیر ہوجانی ہے”
ثوبان باری باری اس کے دونوں گالوں کو چومتے ہوئے کہنے لگا
“اب یہ انوشے کون ہے”
سیرت نے حیرت کا اظہار کیا
“ہماری بیٹی”
ثوبان اپنی بات مکمل کر کے دوبارہ اسے بولنے کا موقع دیے بغیر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے
****
“رنعم بی بی”
رنعم اپنے بیڈ پر لیٹی موبائل میں مدر کیئر سینٹر کی سائڈ کھولے مختلف ٹپ پڑھنے میں مگن تھی تبھی شاہدہ اس کے روم میں آئی
“ہاں بولو کیا ہوا” رنعم نے موبائل سے نظر اٹھائے بغیر شاہدہ سے پوچھا
“وہ جی کاشی صاحب کہہ رہی ہیں کھانا نہیں کھاؤ گا”
شاہدہ کی بات سن رنعم نے موبائل سے نظر اٹھا کر شاہدہ کو دیکھا
“تو میں کیا کروں” رنعم دوبارہ موبائل پر نظریں جماتے ہوئے بولی
“وہ جی مجھ سے بول رہے ہیں اپنی رنعم بی بی کو جا کر بتاؤ کاشی صاحب نے نہ رات کا کھانا کھایا،،، نہ صبح کا ناشتہ کیا اور ابھی بھی کھانے سے انکار کردیا۔۔۔ وہ جی صاف میرے منہ پر بول رہے ہیں اتنا بدذائقہ کھانا وہ بالکل نہیں کھا سکتے”
شاہدہ اب مسکین شکل بناتے ہوئے بولی
“صاف جھوٹ،، کل رات کو مما نے خود ان کے لیے اپنے ہاتھ سے کھانا بنایا۔۔۔ جو بھیا نے انہیں کھلایا۔۔۔ صبح ناشتے کے خالی برتن آپی ان کے کمرے سے باہر لے کر نکلی یعنی وہ صبح ناشتہ بھی کر چکے ہیں”
رنعم اپنا موبائل بیڈ پر رکھتی ہوئی بولی
“وہ تو جی مجھے بھی معلوم ہے یہ سب، مگر جو جو انہوں نے بول کر بھیجا کہ میں آپ کو جا کر بولو،،، میں تو وہی بتا رہی ہوں آپ کو۔۔۔۔ قسم سے رنعم بی بی کتنے نخرے دکھاتے ہیں آپ کے شوہر،،، آپ کی جگہ میں ہوتی ناں ڈنڈے سے اچھی طرح تواضع کر چکی ہوتی”
شاہدہ کی بات سن کر رنعم نے گھور کر اس کو دیکھا اور بیڈ سے اٹھ کر کچن میں چلی آئی جلدی جلدی کاشان کے لیے ویجیٹیبل سوپ تیار کیا اور شاہدہ کے ہاتھ میں تھما کر خود رات کا کھانا کاشان کے لئے تیار کرنے لگی۔۔۔ دو دن سے یسریٰ یا پھر سیرت میں سے کوئی اس کے لیے کھانا بنا رہی تھی کیوکہ وہ شاہدہ کے ہاتھ کا کھانا پسند نہیں کرتا تھا اور اس وقت یسریٰ کی دوست آئی ہوئی تھی اور سیرت اپنے روم میں شاید سو رہی تھی۔۔۔ رنعم یخنی چڑھا رہی تھی تبھی شاہدہ دوبارہ سوپ سے بھرا بول واپس لے کر آئی رنعم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“وہ جی کاشی صاحب کہہ رہے ہیں یہ سوپ جس نے بنایا ہے میں اسی کے ہاتھ سے پیو گا”
شاہدہ نے دانت نکالتے ہوئے رنعم کو بولا مگر رنعم کے سیریس ہو کر دیکھنے پر اس نے اپنے دانت اندر کر لئے
“چلو دوبارہ سوپ لے کر”
رنعم بولتی ہوئی کچن سے نکلی اب اس کا رخ کاشان کے روم کی طرف تھا
*****
“شاہدہ سوپ لے جا کر ٹیبل پر رکھو”
رنعم دروازے پر کھڑی شاہدہ کو بولنے لگی۔۔۔۔ کاشان اس وقت رنعم کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ رنعم کے اس کو دیکھنے پر وہ مسکرایا
دؤاں کے زیر اثر کل رات بھی اس پر نیند کا غلبہ طاری تھا مگر وہ نیند میں بھی رنعم کی خوشبو اپنے اس پاس بکھری ہوئی صاف محسوس کر سکتا تھا۔۔۔ اسکے سیدھے کندھے سے تھوڑا نیچے،، گولی کے زخم پر،، رنعم کے ہونٹوں کا لمس،، اسے نیند بھی راحت بخش رہا تھا اور جب رنعم اپنی انگلی سے اس کے دل پر R لکھ رہی تھی،، اس چیز کو تو اس نے معلوم نہیں کتنے دنوں تک مس کیا تھا۔۔۔ رنعم کا اس کے سینے پر R بنانا اسے نیند میں بھی تقویت فراہم کر رہا تھا۔۔۔۔ صبح اٹھ کر کاشان سوچنے لگا وہ سب خواب تھا یا پھر حقیقت۔۔۔۔ مگر رنعم کے گلے کی چین اپنے بیڈ پر پڑی دیکھ کر وہ مسکرا اٹھا
“آپ کو سوپ پینا ہے یا پھر بھوکا رہنا ہے”
کاشان کو مسکراتا دیکھ کر وہ اس سے پوچھنے لگی
“اف کورس پینا ہے میری جان۔۔۔۔ بھوک لگ رہی ہے مجھے۔۔۔ اب بھلا میں خود کیسے پی سکتا ہوں۔۔۔۔ جب تم اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے میرے لیے سوپ بنا سکتی ہو تو ان ہی پیارے پیارے ہاتھوں سے مجھے یہ سوپ پلا بھی دو”
کاشان شاہدہ کی موجوگی کا لحاظ کیے بناء ڈھٹائی سے بولا۔۔۔۔ جس پر رنعم سے زیادہ خود شاہدہ شرماگئی
“بچے نہیں ہیں آپ،، جو میں اپنے ہاتھوں سے آپ کو سوپ پلاو۔۔۔ اگر زیادہ ہی اپنے لاڈ آٹھوانے کا دل چاہ رہا ہے تو شاہدہ پلا دے گی آپکو یہ سوپ”
رنعم اس کو گھورتی ہوئی روم سے جانے لگی
“سنو اپنی یہ چین لیتی جاؤ۔۔۔ رات میں جب تم سب کے سونے کے بعد،،، چوری چھپے میرے کمرے میں اگر میرے سینے کے زخم کا قریب سے معائنہ کر رہی تھی۔۔۔ تب یہ وہی گر گئی تھی میرے پاس”
کاشان اپنی شرٹ کی پاکٹ سے چین نکال کر رنعم کی طرف بڑھتا ہوا بولا۔۔۔ رنعم کا بے ساختہ ہاتھ اپنی گردن پر پڑا جہاں چین موجود نہیں تھی۔۔۔ اور شاہدہ اپنا چہرہ دوپٹے میں چھپا کر باقاعدہ ہنسنے لگی۔۔
“آف کاشان اس وقت جاگ رہے تھے اور میں۔۔۔ توبہ ہے”
وہ کاشان اور شاہدہ کو گھورتی ہوئی روم سے باہر نکلنے لگی
“ایک اور بات سنتی جاو جان”
کاشان کی آواز پر رنعم کے قدموں وہی رکے مگر وہ مڑی نہیں
“شوہر محرم ہوتا ہے بہت قریبی تعلق ہوتا ہے میاں بیوی کا آپس میں۔۔۔ اس لیے اگر اسے دیکھنے کا دل چاہے تو کھڑکی سے چھپ چھپ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں”
کاشان کی بات پر رنعم نے پلٹ کر اسے دیکھا تو وہ رنعم کو دیکھ کر ہی مسکرا رہا تھا شاہدہ بھی ہنسنے لگی رنعم چپ کر کے اس کے کمرے سے نکل گئی
“میں سوپ پلا دو آپ کو کاشی صاحب”
رنعم کے جانے کے شاہدہ مسکراتے ہوۓ کاشان سے پوچھنے لگی جس پر کاشان نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا
“زیادہ میری اماں بننے کی ضرورت نہیں ہے جاو جاکر اپنی رنعم بی بی کو بولو،، سارا سوپ کاشی صاحب کے کپڑوں پر گر گیا ہے اکر انہیں چینج کرائے”
کاشان نے گھورتے ہوئے شاہدہ کو ارڈر دیا
“مگر سوپ تو میز پر رکھا ہوا ہے” شاہدہ کاشان کی دماغی حالت پر شبہ کرتی ہوئی بولی
“جتنا بولا ہے اتنا کرو”
کاشان اس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا اور شاہدہ منہ بنا کر وہاں سے چلی گئی
رنعم جب دوبارہ کمرے میں آئی تو کاشان کی شرٹ آدھے سے زیادہ سوپ سے خراب ہو چکی تھی۔۔۔ اسے معلوم تھا یہ سب کاشان نے جان بوجھ کر کیا ہے۔۔ رنعم نے گھورتے ہوئے اسے دیکھا وہ کندھے اچکا کر اسے دیکھنے لگا
“اب شاہدہ سے میں یہ والے لاڈ تو نہیں اٹھوا سکتا ناں۔۔۔ شاباش اچھے بچوں کی طرح میرے پاس آو اور میری شرٹ چینج کرو”
وہ نرمی سے رنعم کو دیکھتا ہوا بولا اور رنعم ضبط کرکے رہ گئی
“شاہدہ جلدی سے یہ سوپ کے برتن لے کر جاو اور جاتے جاتے کمرے کا دروازہ بند کرنا مت بھولنا”
رنعم وارڈروب سے کاشان کے لیے دوسری شرٹ نکال رہی تھی۔۔ کاشان تیز آواز میں شاہدہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔۔۔ شاہدہ جو کہ دوسرے کمرے میں تھی کاشان کی آواز پر اپنے دانتوں کی نمائش کرتی ہوئی سوپ کا بول لے گئی اور دروازہ بند کر کے چلی گئی
“چلیں شرٹ اتاریں اپنی”
رنعم صاف محسوس کر سکتی تھی کہ کاشان اپنے چہرے پر آئی مسکراہٹ چھپا رہا ہے
“تم قریب آکر اتار دو،، میرے دوبارہ خود سے کوئی کام کرنے سے پھر کچھ غلط نہ ہو جائے”
وہ رنعم کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا۔۔ کتنے دنوں بعد آج وہ نظر آئی تھی کاشان کا دل چاہا وہ اسے مزید قریب سے دیکھے۔۔۔ رنعم شرٹ ہاتھ میں تھامے چلتی ہوئی اس کے قریب آئی اور بیڈ پر بیٹھ کر کاشان کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی۔۔۔ کاشان اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا رنعم بالکل سیریس ہو کر نظریں نیچے جھکائے شرٹ کے بٹن کھولنے میں مصروف تھی۔۔۔ کاشان نے اپنا الٹا ہاتھ آگے بڑھا کر رنعم کے گلے سے دوپٹہ اتار کر بیڈ پر رکھا،،، رنعم نے نظریں اٹھا کر کاشان کو دیکھا
“ڈسٹرب کر رہا ہے یہ دوپٹہ اس وقت”
کاشان رنعم کو دیکھ کر بولنے لگا پھر ایک دم سنبھلا
“میرا مطلب ہے تمہیں دوپٹہ ڈسٹرب کرے گا ناں شرٹ پہناتے ہوئے”
کاشان مسکراتا ہوا بولا رنعم اب کھڑی ہو کر آرام سے اس کی شرٹ اتارنے لگی۔۔۔ مگر سیدھے ہاتھ پر پٹی بندھے کاشان کے سینے پر اس کی نظر پڑی تو بے ساختہ رنعم اس کے زخم کو چھو کر دیکھنے لگی
“پریشان مت ہو میری جان،، میں اب بالکل ٹھیک ہوں”
کاشان اس کی دلی کیفیت کو سمجھتا ہوا رنعم کو دیکھ کر بولا تو وہ ہوش میں آئی
“جانتی ہو،، بھیا اکثر بتاتے ہیں اور خود میرا اپنا بھی تین مہینے کا تجربہ ہے، کافی ڈھیٹ ہے آپ”
رنعم کے اس طرح بولنے پر کاشان مسکرایا۔۔۔ وہ اسے شرٹ پہنچائے بغیر واشروم چلی گئی،، واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ایک برتن تھا جس میں پانی بھرا ہوا تھا اسپنج کو پانی میں ڈبو کر اس کو نچوڑتی ہوئی،،، وہ کاشان کے بازو صاف کرنے لگی۔۔۔۔ اسپنج کی ہی مدد سے بہت احتیاط سے اب وہ کاشان کا سینہ صاف کر رہی تھی۔۔ کاشان خاموشی سے اس کو دیکھ رہا تھا پھر اسے کچھ یاد آیا
“مسز کاشان مجھے بےبی گرل دینے والی ہیں یا بے بی بوائے”
وہ رنعم کے پیٹ پر ہاتھ رکھے اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ کاشان کی بات پر رنعم کا ہاتھ وہی تھم گیا۔۔۔ اسپنج کو برتن میں ڈال کر اب وہ ٹشو سے اپنے ہاتھ صاف کرتی ہوئی بولی
“میں تو بیٹے کی دعا کرتی ہوں”
رنعم کی بات سن کر کاشان مسکرایا
“چاہے بیٹا ہو یا بیٹی ماں باپ کو تو اپنی اولاد سے پیار ہوتا ہے۔۔۔ میں بہت خوش ہوں ہم دونوں کے بیچ اس نئے اضافے سے”
کاشان کی آنکھوں میں سچے خوشی کے رنگ چھلک رہے تھے رنعم اس کو احتیاط سے شرٹ پہناتے ہوئے بولی
“نہیں ہمارا بیٹا ہی ہونا چاہیے،، اگر مکافات عمل کے طور پر،، آپ کا کیا ہماری بیٹی کی طرف لوٹا تو اسے ہم دونوں کو ہی تکلیف ہوگی”
رنعم شرٹ کے بٹن بند کرتی ہوئی بولی تبھی کاشان نے زور سے رنعم کا بازو پکڑا جس پر رنعم نے کاشان کی طرف دیکھا۔۔۔ کاشان کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے جیسے رنعم کی بات سے اسے تکلیف ہوئی ہو
“ایسا کرو کچن سے ابھی چھری لے کر آؤ اور ایک ہی بار میرے دل میں اتار دو۔۔۔ یوں پل پل کی اذیت سے اب یہی بہتر ہے”
کاشان نے اس کا بازو چھوڑا اور اسے بیڈ پر اپنے قریب بٹھایا
“رنعم کیا تم سب کچھ بھلا کر میرے ساتھ ایک نئی شروعات نہیں کر سکتی۔۔ پلیز یار اپنے دل سے بدگمانی نکال دو۔۔۔ میں تمہیں پیار کے ساتھ اعتبار بھی دوں گا تم صرف ایک بار یقین کر کے دیکھ لو مجھ پر،، پلیز ایک موقع دو ہم اپنے آنے والے بچے کے ساتھ ایک نئی شروعات کرے گے میں وعدہ کرتا ہوں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا ایک اچھا شوہر ایک اچھا باپ بننے کی۔۔۔ پلیز ایک بار مجھ پر یقین کرلو”
کاشان اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے اسے التجا کرنے لگا رنعم کا دل چاہا ایک بار دوبارہ اس پر یقین کر کے دیکھے،، خود کے لیے اور اپنے بچے کے لیے۔۔۔ اس نے کاشان کے سینے پر اپنا سر رکھا
“تھینک یو”
کاشان نے رنعم کی پیشانی پر اپنے لب رکھکر آنکھیں موند لی
****
9 ماہ بعد
آج وہ بہت خوش تھا کیوکہ ثوبان نے تھوڑی دیر پہلے اسے خبر سنائی تھی کہ اس کے گھر میں ایک ننھی پری آئی ہے۔۔۔ کاشان بیٹی کی پیدائش کی خبر سن کر بے حد خوش تھا اب اسے ایئرپورٹ سے ڈائریکٹ ہاسپٹل پہنچنے کی جلدی تھی۔۔۔ آفس کے کام کے سلسلے میں تین دن پہلے وہ دوسرے شہر گیا تھا۔۔ب رنعم کی ڈیلیوری میں ایک ہفتہ باقی تھا اس لیے وہ رنعم کو ثوبان کے پاس چھوڑ کر چلا گیا تھا مگر کل آدھی رات رنعم کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی جس کے سبب اس کو ہسپتال لے جانا پڑا آج صبح ہی اس نے ایک پیاری سی بچی کو جنم دیا۔۔۔ ہسپتال کے پاس ٹیکسی رکی،، کاشان چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہسپتال کے اندر جانے لگا جہاں اس کی بیوی بیٹی اور ڈھیر ساری خوشیاں اس کی منتظر تھی
“کیا میرے جانے کا ویٹ کر رہی تھی میرے جاتے ہی ہماری بیٹی کو دنیا میں لے کر آگئی”
روم میں آنے کے بعد اس نے احتیاط سے رنعم کو بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
ان نو مہینوں میں کاشان نے رنعم کو صرف یہ پوچھ پوچھ کر تنک کیا ہوا تھا کہ ہمارا بےبی دنیا میں کب آئے گا۔۔۔ رنعم کے چار ماہ کمپلیٹ ہوئے تو اس نے بچے کی ساری شاپنگ کمپلیٹ کرلی،،، چھٹے ماہ اس نے اپنے بچے کو روم سیٹ کروا دیا اب اس کا ایک ایک دن انتظار کرنا مشکل تھا
“کاشان آپ بھی نا۔۔۔ اتنے دنوں سے صبر نہیں ہو رہا تھا اور اب جبکہ ایک ہفتے پہلے آپ کی بیٹی دنیا میں آگئی ہے تو ایسے کہہ رہے ہیں”
رنعم نے کاشان کو دیکھتے ہوئے کا کاشان نے مسکرا کر اس کے سر پر اپنے ہونٹ رکھے
“مذاق کر رہا تھا، بہت خوش ہوں میں آج۔۔۔ سب کہاں پر ہیں اور میری بیٹی کہاں پر ہے”
کاشان نے خالی جھولے کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“بھیا اور آپی نرسری گئے ہیں انکیپیٹر سے ہماری بیٹی کو لینے۔۔۔ مما کو تھوڑی دیر کے لئے گھر بھیجا ہے وہ رات سے ہی یہاں پر تھی”
رنعم کی بات سن کر کاشان نے دوبارہ اسے بیڈ پر لٹایا۔ ۔۔ کاشان کی نظر رنعم کے سوجھے ہوئے ہاتھ پر پڑی جس پر ڈرپ لگی ہوئی تھی
“ویسے تو میرا اٹھ بچوں آپ کا پکا ارادہ تھا مگر تمہاری تکلیف کا احساس کرتے ہوئے سوچ رہا ہوں میرے لئے میری ایک بیٹی ہی کافی ہے”
وہ رنعم کیا ہاتھ چومنے کے لئے نیچے جھکا تب ہی روم کا دروازہ کھلا ثوبان اور سیرت اندر داخل ہوئے۔۔۔ کاشان ان دونوں کو دیکھ کر سیدھا ہوا
“بس موقع نہ چھوڑا کرو تم کوئی”
سیرت کی زبان پھسلی مگر ثوبان کے گھورنے پر وہ چپ ہوگئی
“غلط موقعے پر تم ہمیشہ ان ٹپکتی ہو ظالم سماج بن کر”
اور کاشان نے کہا چپ رہنا سیکھا تھا وہ ثوبان کے گلے لگتے ہوئے سیرت سے بولا
اب وہ سیرت سے مبارکباد وصول کرنے کے بعد اپنی بیٹی کو سیرت کی گود میں سے لے کر،،، اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا
“کیوٹ ہے نا”
سیرت نے کاشان کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“بہت زیادہ ماشاءاللہ”
کاشان اپنی بیٹی کا ماتھا چومتا ہوا بولا
“شکر ہے میری بہن پر چلی گئی اپنے باپ پر نہیں جبھی کیوٹ ہے”
سیرت نے مسکراتے ہوئے کہا ثوبان اور رنعم بھی مسکرا دیے
“اسی لیے میں دن رات دعا کرتا ہوں میرا آنے والا بھتیجا اپنی ماں کی بجائے اپنے باپ پر جائے تبھی وہ کیوٹ بچوں کی لسٹ میں شامل ہوسکتا ہے” کاشان شرارت سے سیرت کو دیکھ کر کہا جس پر سیرت نے کاشان کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔۔ ثوبان اور رنعم ایک بار پھر ہنس دئے
سیرت کی پریگنینسی کو 6 ماہ ہوچکے تھے اور سیرت نے اپنی جلد باز طبعیت کی وجہ سے فوراً آلٹا ساونڈ میں بے بی بوائے کا معلوم بھی کر لیا تھا
“یار یہ اتنی چھوٹی کیوں ہے بڑی کب ہوگی”
کاشان اپنی بیٹی کو گود میں لے کر رنعم کے پاس بیٹھتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ اس کی بات سن کر رنعم کاشان کو حیرت سے دیکھنے لگی جب کسی سیرت نے اپنا سر پکڑ لیا
“تم کیا چاہتے ہو یہ تین گھنٹے کی پیدا ہوئی بچی ابھی تمہاری گود سے نکل کر بھاگنے لگ جائے”
سیرت کی بات پر سب ہنستی ہے
“ویسے ثوبی تم کاشی کی بیٹی کے ماموں بننا چاہو گے یا تایا”
سیرت نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“یار ویسے تو اگر کوئی ماموں بنا جائے تو اچھا نہیں لگتا مگر میں اپنی انوشے کے لئے ماموں بننے کو تیار ہوں” ثوبان نے کاشان کی گود سے بچی کو لیتے ہوئے اس کا نام بھی منتخب کر لیا اب ثوبان انوشے کو گود میں لیے سیرت کے پاس بیٹھا ہوا تھا سیرت اور ثوبان دونوں بچی سے باتیں کر رہے تھے۔۔ جبکہ کاشان مسکراتا ہوا ثوبان اور اپنی بیٹی انوشے کو دیکھ رہا تھا کاشان کو معلوم تھا بےشک اس کا بھائی اس کی بیٹی کا ماموں بن جائے مگر وہ اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے
“اتنا انمول تحفہ دینے کے لیے شکریہ”
کاشان رنعم کے کندھے کے گرد اپنے بازو حاہل کرتے ہوئے سرگوشی سے بولا
“پیار کے ساتھ ساتھ اعتبار دینے کے لیے بھی شکریہ”
رنعم نے آئستہ سے کہتے ہوئے کاشان کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا
برائے مہربانی دونوں پوسٹ کو لائک ضرور کرے گا تاکہ مجھے اپنے تین گھنٹے کی ٹائپنگ کی محنت ضائع نہ لگے۔۔۔ساتھ ہی اپکی قیمتی رائے کا بھی انتظار رہے گا
