Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 14)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
کاشان آفس سے گھر پہنچا تو گھر میں کافی چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔ ڈرائنگ روم سے ہنسنے کی آوازوں پر وہ متوجہ ہوا،،، یسریٰ، ثوبان اور رنعم کے ساتھ دو نئے چہرے اور بھی موجود تھے
“کاشان آو تمہیں فرح باجی سے ملواتی ہوئی”
یسریٰ کی نظر کاشان پر پڑی تو، یسریٰ نے اسے ڈرائنگ روم میں آنے کو کہا۔۔۔ کاشان کو ناچار ہی وہاں آنا پڑا
“یہ ہے کاشان فرح باجی ثوبان کا بھائی، جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا اور کاشان یہ میری بڑی بہن ہیں فرح باجی”
یسریٰ کے تعارف کرانے پر کاشان اس کی بہن سے اچھے طریقے سے ملا
“کاشان یہ عاشر ہے آنی کا بیٹا”
ثوبان نے کاشان سے عاشر کا تعارف کرایا تو کاشان کے چہرے پر ایک دم سنجیدگی آئی عاشر نے مسکرا کر اس کے آگے ہاتھ بڑھایا
“ثوبان سے کافی ذکر سنا ہے تمہارا” عاشر نے خوش اخلاقی سے کہا،، تو کاشان چہرے پر بغیر مسکراہٹ لآئے اس سے ہاتھ ملایا
“اچھا ثوبی نے تمہارا کوئی خاص ذکر نہیں کیا مجھ سے”
عاشر اس کے ہاتھ کی سختی،، اس کے آنکھوں میں بھی صاف محسوس کر گیا مگر کچھ بولا نہیں
“ایکسکیوز می آتا ہوں تھوڑی دیر میں”
کاشان کہتا ہوا اپنے روم میں آگیا اسے فرح یا عاشر کا آنا برا نہیں لگا بلکہ رنعم کا عاشر کے برابر میں بیٹھنا ہنس کر اس کے ہاتھ پر تالی مار کر بات کرنا برا لگا تبھی اس کا موڈ خراب ہوگیا۔۔۔ ابھی بھی کاشان کو اپنے روم میں عاشر کے قصے سنانے اور رنعم کے ہنسنے کی آواز آ رہی تھی جو اسے برداشت نہیں ہوئی وہ اپنے روم سے نکل کر دوبارہ ڈرائنگ روم میں آیا
“رنعم تمہاری فرینڈ کی کال آئی ہے لینڈ لائن پر”
ڈرائنگ روم کے دروازے پر کھڑے ہوکر کاشان نے رنعم کو مخاطب کیا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔ رنعم نے چونک کر کاشان کو جاتا دیکھا کیوکہ کاشان نے اسے پہلی دفعہ ہی کسی دوسرے کے سامنے مخاطب کیا تھا بڑے فرینک انداز میں
“ابھی آئی”
رنعم عاشر اور ثوبان کو کہہ کر ڈرائنگ روم سے نکل کر ہال میں آئی۔۔۔۔ اوپر جاتی سیڑھیوں کے پاس فون اسٹینڈ پر فون کا ریسیور اٹھا
“ہیلو”
رنعم نے فون کا ریسیور کان سے لگا کر کہا تو پیچھے سے کاشان نے آکر ریسیور اس کے ہاتھ سے لے کر واپس کریڈل کر رکھا اور اس کا بازو تھام کر سیڑھیاں چڑھنے لگا
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ،،، کیا ہوگیا آپ کو چھوڑیں میرا بازو”
کاشان کے اس عمل پر رنعم کو حیرت ہوئی مگر کاشان ایسا پوز کر رہا تھا جیسے اسے رنعم کی آواز نہیں آ رہی ہو وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگ رہا تھا جس کی وجہ سے رنعم بھی اس کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے پر مجبور تھی۔۔۔ وہ کاشان کے ہاتھوں کی سختی اپنے بازو پر محسوس کر سکتی تھی رنعم کو اس کے بیڈ روم میں لاکر اس کا بازو چھوڑا اور بیڈروم کا دروازہ بند کر کے اور اس کے قریب آنے لگا
“یہ کیا بدتمیزی ہے میں بھیا کو بولو گی”
رنعم نے اپنا سرخ بازو دیکھتے ہوئے کاشان کو ثوبان کا نام لے کر دھمکی دی
“پیپر کب سے اسٹارٹ ہیں تمہارے”
اس کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے وہ رنعم سے اپنی بات کا جواب طلب کرنے لگا۔۔۔ کاشان کے مزید قریب آنے سے وہ دیوار سے جا لگی اور جلدی سے بولی
“نیکسٹ ویک”
رنعم کے دیوار سے لگنے پر کاشان نے دونوں ہاتھ دیوار پر ٹکا کر اس کے فرار کا راستہ بند کیا
“اب تم مجھے باہر ہنستی ہوئی یا باتیں کرتی ہوئی نظر نہ آؤ۔۔۔ اپنے روم میں رہ کر پیپر کی تیاری کرو”
آنکھوں میں سختی اور چہرے پر سنجیدگی لیے وہ رنعم کو بولنے لگا۔۔۔۔ وہ خاموش کر کے حیرت سے اسے دیکھے گئی
“سمجھ میں آرہی ہے تمہیں میری بات یا مزید سمجھاؤ”
رنعم کے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے پر کاشان اپنا چہرہ اس چہرے کے قریب لاکر پوچھنے لگا۔۔۔ تو رنعم نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ کاشان نے سرسری نظر اس کی سرخ بازو پر ڈالی جہاں اس کے انگلیوں کے نشانات موجود تھے اور روم سے نکل گیا
رنعم اس کے رویے پر حیران رہ گئی ساتھ ہی اسے غصہ آنے لگا آخر وہ شخص ہوتا کون ہے اس پر روعب جمانے والا وہ اب آنی کے جانے کے بعد ثوبان سے اس کی شکایت کرنے کا ارادہ رکھتی تھی مگر ازلی بزدلی کی وجہ سے وہ اس وقت اپنے روم سے باہر نہیں نکلی۔۔۔۔
ڈنر کے وقت بھی یسریٰ اس کو روم میں بلانے آئی تو بکس بند کر کے وہ ڈائننگ ٹیبل پر آئی،،
سب اپنی اپنی کرسیوں پر برجمان تھے۔۔۔ کاشان کے سامنے والی کرسی خالی تھی وہ چپ کر کے اس پر بیٹھ گئی
“یہ کیا ہم تمہارے گھر تم سے ملنے آئے ہیں تم اپنے کمرے میں جاکر بیٹھ گئی”
فرح نے رنعم کو دیکھ کر شکوہ کیا
“نہیں آنی ایسی بات نہیں ہے پیپر ہونے والے ہیں تو پڑھ رہی تھی”
رنعم کے جواب پر کاشان نے سر اٹھائے بغیر آنکھیں اٹھا کر رنعم کو دیکھا تو وہ کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی
“چلو پڑھ پڑھ کر تھک گئی ہو گی،،،، کیا ارادہ ہے باہر جاکر آئسکریم کھاتے ہیں”
عاشر نے مسکرا کر رنعم کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو بےساختہ رنعم کی نظریں کاشان کی طرف اٹھی وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا
“نہیں عاشر بھائی آج واقعی تھک گئی ہو موڈ نہیں ہو رہا پھر کبھی سہی” رنعم نے زبردستی کا مسکرا کر عاشر کو کہا تو ثوبان اور عاشر حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
“رنعم یہ تم ہی ہو نہ یا کوئی ہے، بھئی آج کا دن تو اس تاریخ کے سنہری حرفوں میں لکھا جائے گا رنعم نے آئسکریم کھانے سے انکار کردیا”
عاشر کے بولنے پر کاشان کے علاوہ سب ہی ہنس دیئے
“اس بات کا مطلب میری بہن واقعی تھک گئی ہے”
ثوبان نے بھی ٹکڑا لگایا
“او ہو پریشان مت کرو اب اسے تم دونوں مل کر”
فرح نے عاشر اور ثوبان کو ٹوکا
****
“یسریٰ تم ایک جوان بیٹی کی ماں ہوں مگر پھر بھی عقل تمہیں چھو کر نہیں گزری، تم کیسے ایک جوان جہاں لڑکے کو اپنے گھر میں رکھ سکتی ہو” فرح نے آج کاشان کو دیکھا تو اپنی بہن کو عقل دلانے کی کوشش کی
“باجی وہ ثوبان کا بھائی ہے اس لحاظ سے کوئی غیر نہیں ہے،،، اگر اس کا کردار مشکوک ہوتا یہ وہ ایسا ویسا ہوتا ہے تو ثوبان خود ہی اسے یہاں پر کبھی لانے پر راضی نہیں ہوتا”
یسریٰ نے رسانیت سے بہن کو سمجھایا
“وہ تو ٹھیک ہے مگر پھر بھی ثوبان کی طرح نہیں لگتا مجھے”
فرح نے یسریٰ کو اپنی رائے دی
“میرے ثوبان کی طرح تو کوئی ہو بھی نہیں سکتا،،،، آخر کو بیٹا جو ہے وہ میرا”
یسریٰ نے مسکرا کر کہا تو فرح بھی مسکرا دی
“اس میں کوئی شک نہیں بہت پیارا بچہ ہے،،، لگتا ہی نہیں تمہاری اولاد نہیں۔۔ بلکل سگی اولاد لگتا ہے بہروز اور تمہاری خیر میں آج تم سے یہاں رنعم کے بارے میں بات کرنے آئی ہوں اور اس بات میں اپنے بھائی صاحب کی مرضی سمجھو اور عاشر کی تو بہت زیادہ۔۔۔۔ یسریٰ میں چاہتی ہوں کہ رنعم کو عاشر کی دلہن بنا کر اپنے گھر لے جاؤ”
فرح نے یہاں پر اپنے آنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا
“باجی رنعم کے لئے فی الحال ایسا کچھ سوچا نہیں میں نے یا بہروز نے، ابھی تو وہ پڑھ رہی ہے”
یسریٰ نے ٹالنے کے انداز میں کہا وہ اپنے بہنوئی کی نیچر کو بھی اچھی طرح جانتی تھی اور دوسرا وہ اپنی بیٹی کے لیے ہر لحاظ سے پرفٹکٹ انسان چاہتی تھی
“چلو جب بھی کبھی ایسا سوچو تو عاشر کو اپنے دماغ میں رکھنا”
فرح کی بات پر وہ خاموش ہو گئی
****
“ابھی تک جاگ رہے ہو سوئے نہیں”
کاشان ثوبان کے روم میں اس سے بات کرنے کی غرض سے آیا تو وہ اسے روم کے ٹیرس پر کھڑا دیکھائی دیا کاشان چلتا ہوا وہی آگیا
“نیند نہیں آرہی تھی یار”
ثوبان نے تاروں کو دیکھ کر جواب دیا
“نیند نہیں آ رہی تھی تو یقیناً کسی کی یاد آرہی ہوگی اور جس کی یاد میں تم یہاں کھڑے ہوکر تارے گن رہے ہو،، اس کا ایڈریس مجھے معلوم ہے مگر کیا ہے نہ ایک چھوٹا سا کام تمہیں بھی میرا کرنا ہوگا”
کاشان کے بولنے کی دیر تھی ثوبان نے اس کی طرف مڑ کر بے ساختہ اس کو شانوں سے پکڑاا
“سیرت سے ملے ہو تم کاشی،،، کیسی ہے وہ اور کہاں ہے پلیز جلدی بتاؤ”
کتنا پریشان تھا وہ جب سے اس نے سیرت کے بارے میں سنا تھا وہ یہی سوچ رہا تھا آخر کہاں ڈھونڈیں اسے
“دھیرج میرے بھائی آرام سے، یار تم تو مجھ سے بھی زیادہ بے قرار نکلے”
کاشان نے اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے کہا پھر اپنی اور سیرت کی کل والی ملاقات کے بارے میں ثوبان کو بتایا اور ساتھ ہی اس کا ایڈریس بھی دیا
“مگر ابھی بھی سوچ لو، پہلے وہ غرانے والی بلی تھی اور اب تو پنجے بھی رکھتی ہے” کاشان نے مسکراتے ہوئے ثوبان کو آگاہ کیا۔۔۔۔ ثوبان آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرنے لگا کہ اسے سیرت کے بارے میں علم ہوا
“تمہیں نہیں معلوم کاشی، وہ کتنی بیوقوف ہے پتہ نہیں کیا کیا کرتی پھر رہی ہے”
ثوبان نے تاسف سے کہتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
“مجھے تو یہ سب بچپن سے معلوم تھا میں نے تمہیں کہا تھا نہ کہ ناصر کی بیٹی ایک دن بہت آگے جائے گی”
کاشان نے ہنستے ہوئے پاکٹ سے سگریٹ نکالی اور لائٹر نکال کر سگریٹ سلگانے لگا
“چھوڑی نہیں تم نے سگریٹ پینا اچھی عادت نہیں ہے یہ کاشی”
ثوبان نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
“عادتیں اچھی ہو یا بری انہیں جاتے جاتے وقت تو لگتا ہے”
کاشان چاند کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“اچھا تم بتاؤ کیا کہہ رہے تھے تھوڑی دیر پہلے، کون سا کام پڑ گیا ہے تمہیں، کسی چیز کی ضرورت ہے یا کچھ چاہیے”
ثوبان نے کاشان کی طرف دیکھ کر پوچھا کاشان ابھی بھی چاند کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ سگریٹ کا دھواں منہ سے خارج کرتا ہوا بولا
“ہاں رنعم چاہیے مجھے،،، شادی کرنا چاہتا ہوں میں اس سے”
کاشان نے فوراً اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا جس پر ثوبان بالکل ہی چپ ہوگیا
“اچھی لگنے لگی ہے وہ مجھے ثوبی، بالکل اس چاند کی طرح،،، اس کی چمک مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے۔۔۔ میرے دل کے ہر کونے کو روشن کردیا ہے اس چمک نے۔۔۔۔ مگر وہ اس چاند کی طرح مجھ سے کوسوں دور بھی ہے”
کاشان چاند کو دیکھ کر باتیں کر رہا تھا جبکہ ثوبان اس کو دیکھے جارہا تھا
“میں جانتا ہوں آنٹی انکل کبھی ایسے شخص، جس کا ماضی تاریک ہو،،، اسے اپنی بیٹی نہیں دینا چاہیں گے۔۔۔۔ بھلا ایسے شخص کو کون اپنی بیٹی دینا چاہیے گا جو قتل کے جرم میں جیل کاٹ کر آیا ہوں۔۔۔۔۔ مگر پھر بھی میں کیا کرو ثوبی،،، جانے انجانے میں میرا دل اس چاند کو پانے کی خواہش پر بیٹھا ہے اور مجھے لگتا ہے یہ خواہش میری تم پوری کر سکتے ہوں پلیز میری بات کو آنٹی انکل کے بیٹے کی طرح نہیں میرے بھائی بن کر سوچنا آرام سے”
سیگریٹ کا ٹکڑا پھینکتا ہوا وہ ثوبان کے کندھے پر اپنے سخت ہاتھوں کا دباؤ ڈال کر وہاں سے چلا گیا
اب ثوبان دوبارہ اکیلا کھڑا اس چاند کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس کا بھائی اسے سیرت کے مسئلے سے نکال کر،،، اسے دوسری الجھن میں الجھایا گیا
وہ رنعم کی خواہش کرتا ہوا ثوبان کو بالکل چھوٹا سا بچہ لگا
“کیا مجھے کاشی کی بات ماننی چاہیے،،، مما تو راضی ہوجائے گیں۔۔۔ کیا بابا راضی ہوگے؟ ؟؟
ثوبان سوچنے لگا
“اور رنعم،،، وہ ایڈجسٹ کر پائے گی کاشی کی نیچر کے ساتھ”
ثوبان یہ سب باتیں سوچ کر مزید الجھ گیا
