504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 2)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“دے دیا تم نے اپنے حصے کا پراٹھا اس سیرت کو”

چھٹی کے وقت پیدل گھر جاتے ہوئے کاشان ثوبان سے پوچھنے لگا

“بیچاری وہ رات سے بھوکی تھی کاشی،، ناصر نے بہت خود غرضی سے کام لیا جو اسے یتیم خانے نہیں داخل کرایا۔۔۔ وہاں رہ کر اسے دو وقت کی روٹی تو میئسر ہو جاتی” ثوبان نے اظہار خیال کیا۔۔۔ سیرت کے ساتھ سارا محلہ بھی اس بات سے واقف تھا کہ ناصر اور نسرین نے سیرت کو کچرے دان سے اٹھا کر پالا ہے

“میں تمہاری دوسری بات سے اتفاق کر سکتا ہوں، مگر پہلی بات سے ہرگز نہیں۔۔۔۔ وہ بیچاری بلکل نہیں ہے ایک نمبر کی جھوٹی ہے اور چورنی بھی”

کاشان نے پتھر اٹھا کر سامنے سے آتے پاگل کتے کو مارا تاکہ وہ دونوں گلی آسانی سے پار کر کے گھر جا سکیں

“بری بات کاشی بےشک اسے بیچاری مت کہو مگر چوری اور جھوٹی بھی مت کہو”

ثوبان کو کاشان کا سیرت کو یوں مخاطب کرنا بالکل اچھا نہیں لگا،، اچھا تو اسے اپنے باپ کا انداز بھی نہیں لگتا تھا جس طرح سے وہ اس کی ماں کو مخاطب کرتا تھا مگر اپنے باپ کے سامنے آواز اٹھانے کا مطلب ماں کے ساتھ ساتھ اپنی شامت بھی لانا تھا

“جھوٹی اور چورنی اس لیے کہا ہے کہ کل شام میں نے خود ناصر کے ہاتھ میں مرغی دیکھی جسے وہ اٹھائے گھر جا رہا تھا اور رات کو تازہ بھنی ہوئی کڑھائی کی خوشبو ان کے گھر سے آ رہی تھی مرغی چور کہیں کا،، معلوم نہیں کس کے گھر سے مرغی چرا کر لایا تھا۔۔۔۔ اور وہ تمہیں کہہ رہی تھی کہ میں کل رات سے بھوکی ہو۔۔۔۔ ایک نمبر کی فنکار ہے دیکھ لینا بڑی ہو کے ناصر سے بھی چار ہاتھ آگے نکلے گی میری مانو تو اسے دور رہو۔۔۔ روزانہ ہی مسکینوں جیسی شکل بنا کر کسی نہ کسی لنچ اڑا لیتی ہے”

کاشان نے سیرت کے اور بھی کارنامے ثوبان کو سنائیں تاکہ اپنے بھائی کی آنکھیں کھول سکے

“ہاں مجھے معلوم ہے وہ بریک میں کسی نہ کسی کا لنچ اس کے ساتھ کر رہی ہوتی ہے بلکہ تین دن پہلے اس نے سر یاسر سے بھی پیسے ادھار مانگے تاکہ وہ اسکول کی کتابیں خرید سکے” ثوبان افسوس سے کاشان کو بتانے لگا

“ہاہاہا یعنی سر یاسر کو بھی الو بنایا اچھا ہی ہوا، کچھ دن پہلے انھوں نے مجھے مرغا بنایا تھا کمر اکڑ کر رہ گئی تھی،، انہیں تو بلکل سہی لوٹا۔۔۔۔ بالشت بھر کی یہ لڑکی ہے اور کام دیکھو اس کے۔۔ بڑی ہو کر تو یہ بہت بڑی چیز نکلنے والی ہے”

کاشان نے مزے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا جو ثوبان کو پسند نہیں آیا

“کاشی تمیز سے بات کرو وہ لڑکی ہے اور کسی لڑکی کو اس طرح نہیں کہنا چاہیے”

اپنے پورے گھر میں ایک ثوبان ہی تھا جو مزاج کا ٹھنڈا تھا اپنے گھر کے افراد کے برعکس

“تم افتخار احمد کے بیٹے سے یہ توقع کر رہے ہو کہ وہ تمیز سے بات کرے۔۔۔ وہ بھی عورت ذات سے”

کاشان تلخی سے ہنسا

“یہی سمجھ لو، افتخار احمد کا بیٹا اس کے دوسرے بیٹے کو عورت کی عزت کرنا سکھا رہا ہے،،، ویسے کل تم نے مبین کو کیوں مارا۔۔۔ اگر وہ گھر آکر ابو یا امی سے شکایت کر دیتا تو” ثوبان نے اپنے غضیلے بھائی سے وجہ جاننی چاہی کچھ بھی تھا فائزہ کے ساتھ ساتھ وہ کاشان سے بھی بہت محبت کرتا تھا

“اپنے کام سے کام نہیں رکھتا مبین اس لئے پٹا مجھ سے،، کل آ کر کہہ رہا تھا اپنے ماں باپ سے بولو ہلکی آواز میں لڑا کریں کان دکھتے ہیں دونوں کے چیخنے کی آوازوں سے،، تبھی اس کے کان کے نیچے رکھ کر دیا”

کاشان ثوبان کو اپنا کارنامہ فخریہ انداز میں بتانے لگا

“صحیح تو کہہ رہا ہے وہ اور کس کے گھر سے اس طرح لڑنے مارنے پیٹنے کی آوازیں آتی ہیں بھلا”

ثوبان نے افسردگی سے کہا جس کا جواب کاشان کے پاس بھی موجود نہیں تھا باتیں کرتے کرتے وہ دونوں اسکول سے گھر پہنچے جہاں سوجھے ہوئے منہ کے ساتھ فائزہ نے اپنے دونوں بیٹوں کا استقبال کیا دونوں ہی فائزہ کی شکل دیکھ کر سمجھ گئے کہ آج پھر ابو نے ان کی ماں کو مارا پیٹا ہے اگثر ایسا ہی ہوتا تھا اور یہ وہ وقت ہوتا تھا جب وہ تینوں بلا وجہ میں ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے ہوتے تھے

ثوبان نے اسکول کا بستہ رکھ کر سب سے پہلے اپنا اور کاشی کا پلنگ جھاڑا پھر کچن میں جا کر صبح کے سنے ہوئے برتن دھونے لگا برتن دھونے کے بعد ایک پلیٹ میں آلو کی بھجیا نکال کر چنگیر سے روٹیاں لیتا ہوا وہ کاشی اور فائزہ کے پاس آیا۔۔۔۔۔ کاشان افتخار پر آیا ہوا اپنا غصہ ضبط کئے ہوئے پلنگ پر لیٹا ہوا تھا ساتھ ہی فائزہ خاموش سلائی مشین پر کپڑے سی رہی تھی۔۔۔۔ ثوبان نے کاشان کو کھانے کے لئے بلایا تو وہ سر جھٹکتا ہوا ثوبان اور فائزہ کے پاس آیا ثوبان اور کاشان کھانا کھانے لگے کبھی ایک نوالہ کاشان فائزہ کے منہ میں ڈالتا تو کبھی ثوبان۔۔۔۔ فائزہ اپنی آنکھوں سے نمی چھپاتی ہوئی چپ کر کے نوالے چبانے کے ساتھ اپنے کام میں مشغول تھی

****

“غلام بخش یسریٰ کہاں ہے”

بہروز نے گھر آتے ہی گھر کے ملازم سے اپنی بیوی کے بارے میں پوچھا جو کہ شام کے وقت گھر کے لان میں اسے اپنا استقبال کیے ہوئے نظر آتی تھی

“بیگم صاحبہ تو آج صبح سے ہی اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی صاحب جی” غلام بخش نے بہروز کو بتایا

“ٹھیک ہے میں دیکھ لیتا ہوں اور رنعم آگئی اسکول سے” اب بہروز نے اپنی چھ سالہ بیٹی کے بارے میں دریافت کیا

“رنعم بٹیا تو دوپہر میں ہی آ گئی تھی شاہدہ نے سے کھانا کھلا کر سلا دیا تھا۔ ۔۔ اب بٹیا کے ٹیوٹر آئے ہیں وہ پڑھ رہی ہے۔ ۔۔ کیا آپ کے لئے چائے بنواو صاحب”

غلام بخش نے بہروز کو تفصیل سے اگاہ کیا

“ہاں شاہدہ سے کہہ کر شام کی چائے بنواؤ میں اور یسریٰ تھوڑی دیر آتے ہیں”

بہروز غلام بخش کو کہتا ہوا سیڑھیاں چڑھتا اپنے روم میں چلا گیا جہاں یسریٰ کھڑکی کے پاس کھڑی ہوئی باہر نہ جانے کس کو دیکھ رہی تھی بہروز اندر داخل ہوا تو اس نے گردن موڑ کر بہروز کو دیکھا پھر دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی بہروز سبز انکھوں میں گہری اداسی دیکھ کر سمجھ گیا یہ کیفیت آج پھر اس واقعے کی وجہ سے ہوئی ہے ہر چھ مہینے سال بعد ایک دن ایسا ضرور آتا جو یسریٰ اس کیفیت میں گھِر کر اپنے شوہر، بیٹی اور گھر سے،، بلکہ دنیا سے بیگانے ہوکے اپنی ذات میں مگن ہو جاتی۔۔۔۔ وہ سارا دن چپ رہتی کسی سے کوئی بات نہیں کرتی نہ ہی رنعم پر توجہ دیتی۔۔۔ سارا وقت اپنے کمرے میں موجود رہتی۔۔۔۔ بہروز اپنے سر سے پولیس کیپ اتار کر ٹیبل پر رکھتا ہوا اس کے پاس آیا

“یسریٰ آج میں بہت تھکا ہوا ہو بزی دن گزرا کافی،، چائے کی شدید طلب ہو رہی ہے چلو باہر، میں شاہدہ سے چائے کا کہہ کر آیا ہوں” بہروز نے اس کو کندھوں سے تھام کر اپنائیت سے کہا۔۔۔ وہ اسے کمرے سے نکالنا چاہتا تھا تاکہ اس کا ذہن کھلے آٹھ سالوں سے وہ یہی کام کرتا آ رہا تھا جب جب یسریٰ کی اس طرح کی کیفیت ہوتی تو وہ یسریٰ پر توجہ دے کر اور ٹائم دے کر اسے اس کیفیت سے باہر نکالتا

“مجھے بہت تھکن فیل ہو رہی ہے بہروز،، سوچیں ہیں جو دماغ سے نکلتی ہی نہیں وہ سب یاد نہ کرو پھر بھی دماغ کے کسی کونے سے سوچیں خود باہر نکل آتی ہیں اور مجھے پچھتاوے میں گھیرنے لگتی ہیں کیوں اس رات میں اتنی گہری نیند سوگئی کہ صبح میری دنیا ہی ویران ہو گئی”

یسریٰ بہروز کے کندھے پر اپنا سر ٹکائے اس سے اپنے دور بیان کر رہی تھی۔۔۔۔ وہی تو تھا اس کے دکھ سکھ کا ساتھی اس کا شوہر جو اس کے دکھ کو سمجھتا تھا۔۔۔ دکھ اس واقعہ کا بہروز کو بھی بہت تھا مگر وہ یسریٰ کی حالت دیکھتے ہوئے اپنا دکھ بھول کر یسریٰ کو حوصلہ دیتا

“مت ہلکان کیا کروں خود کو بھی اور مجھے بھی۔۔۔ رنعم کو دیکھو،، مجھے دیکھو، ہم دونوں کو بھی تو تمہاری ضرورت ہے پلیز خود کو سنبھالو،، قدرت کے فیصلوں سے نہیں لڑا جا سکتا چلو شاباش آج باہر چلتے ہیں۔۔۔۔ رنعم کا بھی موڈ ہو رہا تھا آؤٹنگ کا بہت دنوں سے تم دونوں کو کہیں لے کر بھی نہیں گیا آج ڈنر بھی باہر کریں گے”

بہروز نے اسے بہلانے کے غرض سے پروگرام بنا لیا جبکہ آج اسے ایک بہت امپورٹنٹ کیس کے سلسے میں کہیں جانا تھا جب سے اس کا عہدہ بڑھا تھا۔۔۔ وہ ڈی۔ایس۔پی کی پوسٹ پر فائز ہوا تھا تب سے اس کے اوپر ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی تھی،،، اپنی مصروفیت کے باعث وہ رنعم اور یسریٰ کو ٹائم نہیں دے پا رہا تھا مگر آج اسے اپنی مصروفیت چھوڑ کر اپنی بیوی اور بیٹی کے لیے ٹائم نکالنا تھا

****

آخر وہ کیوں اتنی دی مول تھی کے ہر کوئی اسے چھوڑ کر چلا جاتا تھا آج اس کے باپ کو مرے ہوئے تیسرا دن تھا وہ بھی اس کو اس بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا افسردگی سے اس نے سوچتے ہوئے اپنا سر دوبارہ گھٹنوں میں ٹکا دیا۔ ۔۔۔

برابر والے فلیٹ سے آ کر فاطمہ کا بیٹا اسے چاولوں سے بھری پلیٹ دے گیا تھا مگر اس کی بھوک کو مرے ہوئے تین دن ہو چکے تھے کیوکہ آب کھلانے والا کوئی موجود نہیں تھا باہر کا دروازہ کھولا تو اس نے سر اٹھا کر آنے والے کو دیکھا

“دروازہ ایسے ہی کھلا چھوڑ دیا، لاک کیوں نہیں کیا”

آنے والے کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ بات کا آغاز کیسے کرے مگر کچھ نہ کچھ تو کہنا تھا اس لیے دروازہ لاک نہ کرنے کا پوچھ بیٹھا

“یہاں کون آئے گا کوئی چور تو آنے سے رہا،، ہے ہی کیا اس فلیٹ میں چرانے کو”

اس نے تلخی سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر کہا معلوم نہیں وہ ہر بار کیوں اس کے سامنے آجاتا تھا

“ابھی معلوم ہوا تہمارے آبا کا،، مجھے افسوس ہے کہ میں آ نہیں سکا”

آنے والے نے اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر کہا شاید تھوڑی دیر پہلے کافی رو چکی تھی

“تم ابھی بھی کیوں آئے ہو، کر لیا نہ افسوس اب جاؤ یہاں سے”

وہ تلخی سے کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی مگر آنے والے نے اس کی بات کا برا مانے بغیر اسے اپنے گلے سے لگا لیا، گلے لگنے کی دیر تھی وہ اب دوبارہ اس کے گلے لگ کر زاروقطار رونے لگ گئی۔۔۔۔ ایک ہاتھ سے اس کا سر تھپتھپا کر دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد ڈالے وہ اسے دلاسا دینے لگا کافی دیر رونے کے بعد جب اسے تھوڑا صبر آیا تو وہ اس سے الگ ہوئی

“اپنے گھر سے کیوں واپس آ گئی تھی”

وہ اب نرمی سے اس سے پوچھ رہا تھا

“کیا کرتی وہاں رہ کر،، بچا ہی کیا تھا وہاں”

اس نے پلنگ پر بیٹھ کر جواب دیا

“میں تمہیں لینے آیا ہوں،، آب میرے ساتھ میرے گھر چلو”

آنے والے نے اسے دیکھ کر کہا

“کون سا گھر میرا گھر یہی ہے اور میں یہی رہو گی۔ ۔۔ تمہارے ساتھ میں کہیں نہیں جانے والی”

اس نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا

“بیوی کا اصلی گھر اس کے شوہر کا گھر ہوتا ہے تم ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ چلنے والی ہو میرے گھر”

آنے والے نے اپنا اور اس کا رشتہ واضح کرتے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا

“شوہر۔۔۔ مجھے جب اپنے شوہر کی ضرورت تھی، تو میرے شوہر کو میری رتی برابر پروا نہیں تھی”

اس نے طنزیہ مسکراتے ہوئے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر کہا

“تمہیں اندازہ ہے تمہارے وہاں سے جانے کے بعد بابا کو کتنا صدمہ پہنچا کل رات میں انہیں ہسپٹل سے واپس گھر لے کر آیا ہوں پیرالائیز ہیں وہ تین دن سے،،، میں کتنا پریشان تھا تم اس بات کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی”

وہ اس کے طنزیہ لہجے کو اگنور کرتا ہوا اپنی صفائی دینے لگا جسے سن کر وہ ایک پل کے لیے چپ ہو گئی

“جب میرا باپ مر رہا تھا تو مجھے تمہاری ضرورت تھی مگر تم اپنے بابا کو دیکھتے ہوئے بیوی کو تو کیا، پوری دنیا کو بھلائے ہوئے تھے”

اس نے ایک دفعہ پھر سامنے کھڑے شخص پر طنز کیا

“غلط بات مت کرو مجھے اس وقت تمہارے ابا کی ڈیتھ کا علم نہیں تھا،، نہ ہی تم نے مجھے ایسا کچھ بتایا”

اب کی بار اس کی طنزیہ گفتگو سن کر اسے بھی غصہ آنے لگا جبھی وہ بولا

“تو تم نے کونسی میری کالز ریسیو کی ویسے میرا میسج تو پڑھا ہوگا خیر یہ تو اب فضول کی باتیں ہیں۔۔۔ اب تم مجھے صرف اس بات کا جواب دو،، تمہیں اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنا ہے یا بیوی کے ساتھ کیوکہ یہ تو طے ہے میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانے والی”

وہ کھڑی ہو کر اس کے مقابل آ کر بولی سامنے کھڑا شخص اسے حیرانی سے دیکھنے لگا

“کیا فضول بکواس کر رہی ہو تم۔۔۔۔دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا”

اب اسے اپنی بیوی پر غصہ آنے لگا

“آپشنز تمہارے پاس موجود ہیں چوائس تمہاری ہے تمہیں اپنی بیوی یا ماں باپ میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہوگا”

وہ کندھے اچکا کر بولی

“میں اپنی فیملی کو نہ کسی کے پیچھے اگنور کرسکتا ہوں نہ چھوڑ سکتا ہوں اور تم بھی اب اسی فیملی کا حصہ ہوں اس لیے یہ بچکانہ اور بے وقوفانہ باتیں مجھ سے نہیں کرو اور چپ کر کے میرے ساتھ ابھی اور اسی وقت چلو”

ساری نرمی کو ایک طرف رکھ کر اس نے اپنی بیوی کا بازو پکڑا جسے اس کی بیوی نے فوراً جھٹک دیا

“میں یہاں سے کہیں نہیں جانے والی اور تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے”

اس نے بھی سخت لہجے میں کہا سامنے کھڑے شخص نے غصہ کنٹرول کرکے اپنے لب بھینچے

“وہ میرے ماں باپ ہیں،، نہ میں انہیں چھوڑ سکتا ہوں نہ تمہیں اور رہی بات زبردستی کی تو بیوی ہو تم میری حق رکھتا ہوں تم پر سیدھی شرافت سے میرے ساتھ چلو مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کرنا” وہ اس کو وارن کرتا ہوا اس کا بازو تھامے باہر نکلنے لگا مقابل کا رونا مزاحمت کرنا سب کچھ اگنور کرتا ہوا اسے گاڑی میں بٹھا کر گاڑی اسٹارٹ کر دی