Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 20)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
“تم کیا کر رہے تھے اس وقت رنعم کے روم میں”
کاشان کو رنعم کے روم سے نکلتا ہوا دیکھ کر ثوبان کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے جو اس نے چھپائے بغیر کاشان سے پوچھا
“میں کیا کروں گا بھلا میں تو دیکھنے آیا تھا اس کے پاوں زیادہ تو نہیں جلے”
کاشان نے نارمل انداز اپناتے ہوئے ثوبان کو جواب دیا
“میرے روم میں آؤ” ثوبان کہتا ہوا روم میں چلا گیا کاشان نے لمبی سانس کھینچ کر اس کی پیروی کی
“دیکھو کاشی میں نے ابھی تک مما بابا سے تمہارے متعلق بات نہیں کی،، جب تک میں کوئی بھی بات نہ کرلوں تب تک تم ان خرافات سے گریز کرو”
ثوبان نے اس کو سنجیدگی سے سمجھایا صحیح بات تو یہ تھی کہ اسے یوں رات گئے کاشان کا رنعم کے روم میں جانا اچھا نہیں لگا
“اف ایسا کیا کر دیا میں نے،، تمہیں بتایا تو تھا پسند کرتا ہوں میں اسے، اس کا رونا دیکھا نہیں گیا اس لئے دیکھنے چلا آیا اور تم بات کرو گے کب۔۔۔ میرے خیال میں اب تک تمہیں آنٹی انکل سے بات کر لینی چاہیے”
کاشان نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا
“کاشی پلیز یار یہاں میں اپنی پریشانی میں الجھ کے رہ گیا ہوں،، تمہیں اپنی پڑی ہے”
کاشان کی بات سن کر ثوبان چڑ کر بولا
“اگر اتنے ہی پریشان ہو رہے ہے تو پھر نکاح کرنے کی ضرورت کیا تھی،،، یہ تو نکاح کرنے سے پہلے سوچنا تھا۔۔۔ ناصر نے تو فل ڈرامہ کر کے اس شیر کی خالہ کو تمہیں سونپ دیا اور دیکھو اسے کچھ ہو ابھی نہیں”
کاشان نے آرام سے چیئر پر بیٹھے ہوئے تبصرہ کیا۔۔۔۔ اس کی بات سن کر ثوبان نے اسے بری طرح گھورا
“شرم کرو کاشی،، تم سمجھ رہے ہو کہ سیرت کے ابا نے ڈرامہ کیا ہے اور کیا تم انتظار کر رہے تھے کہ نکاح ہوتے ہی وہ بے ضرر انسان اللہ کو پیارا ہو جائے۔۔۔ آئندہ سیرت کو الٹے سیدھے نام سے مخاطب نہیں کرنا،، مجھے اسے نکاح کر کے کوئی پریشانی یا پچھتاوا نہیں ہو رہا ہے کوئی اور بات ہے جس کی وجہ سے میں الجھا ہوا ہوں مگر تم نہیں سمجھو گے جاو اپنے روم میں ریسٹ کرو”
ثوبان نے کاشان کو ڈپٹتے ہوئے کہا اور خود بھی بیڈ پر بیٹھ گیا
“اب تمہیں پریشانیوں میں الجھا ہوا چھوڑ کر تو میں ریسٹ کرنے سے رہا،،، چلو بتاؤ کیا پریشانی ہے جس نے تمہیں الجھا دیا ہے”
چیئر سے اٹھ کر وہ ثوبان کے برابر میں بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا اور سگریٹ سلگانے لگا
“یار تم اندازہ نہیں لگا سکتے کہ سیرت کے اصلی ماں باپ کون ہیں”
ثوبان نے جس طرح کاشان کو دیکھ کر کہاں وہ بھی سب اس کو غور سے دیکھنے لگا
“اب یہ مت کہہ دینا کہ بہروز انکل اور یسریٰ آنٹی اس کے اصلی ماں باپ ہیں”
کاشان نے سگریٹ پیتے ہوئے ثوبان کو دیکھ کر کہا
“بالکل ایسا ہی ہے” ثوبان ٹہرے ٹہرے لہجے میں بولا کاشان حیرت سے اسے دیکھنے لگا
“اور تمہیں یہ سب کیسے پتہ چلا”
کاشان کو بھی سن کر حیرت ہوئی پھر ثوبان نے آج صبح والا واقعہ اس کو بتایا
“یعنیٰ تمہاری بیگم کے سگے اماں ابا تمہارے مما بابا۔۔۔ اور تمہاری بیگم میری ہونے والی بیگم کی سگی بہن۔۔۔ دلچسپ سین ہوگیا یہ تو”
سگریٹ پینے کے ساتھ جتنی سنجیدگی سے کاشان نے پورا جملہ ادا کیا،، اپنے آخری جملے پر خود ہی ہنس پڑا ثوبان چپ کر کے اسے دیکھتا رہا
“تم اتنا سیریس کیوں ہو رہے ہو یار،، یہ تو اچھی بات ہے انٹی انکل کتنے خوش ہوگے جب ان کی بچھڑی ہوئی بیٹی اتنے برسوں بعد ان کو ملے گی تو”
کاشان نے اس کو ریلیکس کرنا چاہا
“مما بابا کے لیے واقعی یہ خوشی کی خبر ہے کاشی، مگر تم سیرت کو تو بچپن سے جانتے ہو میں سیرت کے بارے میں سوچ رہا ہوں،، اس خبر پر وہ کیسا رد عمل کا اظہار کریں گی یہی سوچ رہا ہوں میں”
ثوبان نے سنجیدگی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا
“اب تم کچھ زیادہ ہی سوچ رہے ہو۔۔۔ آنا تو اسے اسی گھر میں ہے چاہے ماں باپ کو ایکسیپٹ کر کے آئے یا تمہارے رشتے آئے پھر اس میں پریشانی والی کیا ہے۔۔۔ اچھا سنو وہ کل میں یسریٰ آنٹی کو لینے چلا جاؤں گا اور رنعم بھی مل لے گی اپنی آنی سے انکل سے تم اجازت لو گے یا پھر میں لے لو”
کاشان نے لگے ہاتھوں ثوبان کو بھی آگاہ کرنا ضروری سمجھا
“رنعم کو ساتھ لے کر جانے کی کیا ضرورت ہے،، وہ روکنے جائے گی تو ہفتے بعد”
ثوبان نے اس کو دیکھ کر کہا
“نہیں اس کا پروگرام چینج ہوگیا ہے پھر میں نے سوچا کہ آنٹی کو میں ہی لے آتا ہوں اور رنعم کو بھی ساتھ لے جاو تاکہ وہ فرح آنٹی سے مل لے”
کاشان نے نارمل انداز میں کہا تو ثوبان اسے دیکھنے لگا
“وہ تو ہر سال چھٹیاں گزارنے جاتی ہے آنی کے پاس اور تھوڑی دیر پہلے تو اس نے بابا سے اجازت لی تھی اتنی جلدی سے اس کا ارادہ کیوں بدل گیا”
ثوبان کی بات پر کاشان نے اس کو گھور کر دیکھا
“ثوبی تم کیا پولیس والے بن کر مجھ سے جرح کرنے لگ گئے ہو اب اس کا کیوں ارادہ بدل گیا یہ تم خود اپنی بہن سے پوچھ لینا”
کاشان کہتا ہوں اس کے روم سے جانے لگا
“کاشی رنعم بہت نازوں سے پلی بڑھی ہے مما چاہے کتنی ہی سختی کیوں نہ برت لیں اس کے ساتھ مگر اس کی چھوٹی سی تکلیف پر وہ تڑپ اٹھتی ہیں۔۔۔۔ بابا میں رنعم کی جان بستی ہے اور ان چودہ سالوں میں، وہ مجھے بہت عزیز ہوگئی ہے۔۔۔ آگے اس کا بہت خیال رکھنا ہوگا تمہیں”
ثوبان کی بات سن کر کاشان کے باہر جاتے قدم تھمے وہ پلٹ کر ثوبان کو دیکھنے لگا
“اس کی تم فکر نہیں کرو ڈول ہے وہ میری”
بے ساختہ کاشان کی زبان سے پھسلہ جس پر ثوبان نے اس کو گھورا
“اوہ سوری میں بھول گیا تھا کسی بھائی کے سامنے اس کی بہن کو ایسا نہیں کہنا چاہیے،، ریسٹ کرو تم بھی” کاشان کہتا ہوا روم سے نکل گیا
****
“ان سب چیزوں کی کیا ضرورت تھی بھلا”
دوسرے دن شام میں ثوبان سیرت کے پاس آیا تو اس کے ہاتھ میں دو بڑے بڑے شاپر موجود تھے یقیناً وہ گھر کے لئے گروسری کا سامان لایا تھا تو سیرت نے اس کو دیکھ کر کہا
“یہ سب ہی ضرورت کی چیزیں ہیں۔۔۔ یہ بتاؤ انکل کی طبیعت کیسی ہے”
سارا سامان ٹیبل پر رکھتے ہوئے ثوبان نے سیرت سے پوچھا
“ابا کی ماشااللہ کل کے مقابلے میں کافی بہتر طعبیت ہے تم بیٹھو ابا کے پاس میں چائے لاتی ہوں”
سیرت بولتی ہوئی کچن میں چلی گئی ثوبان ناصر کے روم میں آیا اس کی خیریت دریافت کی،، ثوبان کو ناصر کی طبعیت کل کے مقابلے میں بہتر لگی مگر عمر کا تقاضہ تھا اب پہلے جیسی پھرتی اس میں نہیں رہی تھی وہ بستر پر لیٹا ہوا تھا ثوبان نے جو کئیر ٹیکر اس کے لئے ارینج کیا تھا وہ اپنی ڈیوٹی دے کر رات کو چلا جاتا یہ فلیٹ بھی ثوبان کے دوست کا ہی تھا جس میں پہلے سے فرنیچر موجود تھا اس لئے ثوبان کے کہنے پر سیرت صرف اپنے اور ناصر کے کپڑے پرانے فلیٹ سے لائی تھی
“تم اب رات کا کھانا کھا کر جانا”
سیرت ثوبان کے لیے چائے لے کر روم میں آئی تو آئستہ آواز میں اس سے کہنے لگی کیوکہ ناصر چند منٹ پہلے دوبارہ غنودگی میں چلا گیا تھا
“نہیں تم انکل کے لیے کچھ لائٹ سا کھانا بنا دو،،، ہم دونوں کھانا باہر ہی کھالے گیں تم ریڈی ہو جاؤ ہم تھوڑی دیر میں باہر جا رہے ہیں۔۔۔ تم اپنے لیے کچھ ڈریسسز اور جو بھی ضرورت کی چیزیں ہو وہ لے لینا”
ثوبان نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے اپنا پلان بتایا تو سیرت اس کے سامنے بیٹھ گئی
“ثوبی فضول خرچی کی کیا ضرورت ہے میرے پاس ساری چیزیں موجود ہیں”
سیرت نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے جواب دیا تو ثوبان نے اس کا ہاتھ تھاما
“فضول خرچی کی کیا بات ہے یہ تو تمہارا حق ہے، بیوی ہو تم میری تمھاری ساری ضرورتوں کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہے”
ثوبان سیرت کو دیکھ کر کہنے لگا تو سیرت آئستہ سے مسکرا دی۔۔۔ وہ دل میں سوچ رہی تھی یقیناً اس نے ایک اچھے انسان کا انتخاب کیا ہے
“ایک بات پوچھوں سیرت تم سے”
ثوبان نے چائے کا خالی کپ ٹیبل پر رکھ کر اب سیرت کا دوسرا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں تھاما تو سیرت سے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
“فرض کرو اگر تمہیں تمہارے ریئل پیرنٹس کا معلوم ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم کسی حادثے کے سبب ان سے بچھڑی ہو۔۔۔ تمہیں وہ اب بھی یاد کرتے ہیں تو تم کیا چاہو گی”
ثوبان نے غور سے سیرت کو دیکھ کر سوال کیا
“اگر مجھے میرے اصلی ماں باپ کا معلوم ہوجاتا ہے تو میرے لیے یہ نارمل سی بات ہوگی۔۔۔ نہ ہی مجھے اس بات سے کوئی خوشی ہوگی نہ ہی غم کیوکہ ان کے لئے میرے اندر کوئی بھی فیلنگسز نہیں ہیں۔۔۔۔۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تب سے مجھے معلوم تھا کہ ابا نے مجھے کچرے سے اٹھایا ہے مگر اماں ابا نے مجھے پالا، بالکل اسی طرح میری پرورش کی جیسے وہ اپنی سگی اولاد کی کرتے۔۔۔۔ اس لیے مجھے کبھی ایسا خیال نہیں آیا کہ کیو مجھے میرے ماں باپ کچرے کی نظر کر گئے۔۔۔ اگر کبھی آگے زندگی میں مجھ سے میرے ماں باپ کا سامنا ہوا بھی تو میرے دل میں کبھی ان کے لیے ٹھاٹھیں مارتی محبت جنم نہیں لے پائے گی،، اگر وہ مجھے یاد کرتے بھی ہوگیں تو میں انہیں یہ مشورہ دوں گی جیسے 22 سال آپ نے میرے بغیر گزار دیئے ویسے ہی اپنی باقی زندگی بھی گزار دیں کیوکہ اب اس دنیا میں میرے لئے جو بھی کچھ ہے وہ صرف یہی انسان ہے”
سیرت نے آنکھیں بند کیے ناصر کی طرف اشارہ کر کے کہا اس کی بات سن کر ثوبان چپ ہوگیا
“اب اس طرح خاموش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ابا کے ساتھ ساتھ تم بھی میری زندگی سے منسلک ہوگئے ہو اس لئے میرے لیے معنی رکھتے ہو خیر تم بیٹھو میں چینج کر کے آتی ہوں” ثوبان کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکال کر وہ دوسرے روم میں چلی گئی
*****
بہروز کی اجازت پر کاشان اور رنعم یسریٰ کو لینے کے لئے بائی روڈ حیدرآباد کے لیے نکلے،،، راستے بھر کاشان ڈرائیونگ کے دوران رنعم سے چھوٹی موٹی باتیں کرتا رہا کاشان کے سنگ یوں سفر کرنا اور اس کا یوں باتیں کرنا رنعم کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔۔ وہ اتنا زیادہ ریزرو نیچر کا بھی نہیں تھا، جتنا لگتا تھا۔۔۔ بس جن لوگوں سے اسکی اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہو جاتی وہ ان سے ہی فرینگ ہوتا۔۔۔۔ ڈرائیونگ کے دوران رنعم کی آنکھ لگ گئی تو کاشان نے اس کے آرام کے خیال سے میوزک بند کر دیا۔۔۔ کچی روڈ پر بھی وہ بہت احتیاط سے ڈرائیونگ کر رہا تھا تاکہ رنعم کی نیند ڈسٹرب نہ ہو۔۔۔۔ رنعم نیند میں بھی اسکی کیئر کرنا محسوس کر رہی تھی کل رات غلطی سے یقیناً اس کے ہاتھ سے کپ چھوٹا ہوگا بھلا وہ جان بوجھ کر اسے کیوں تکلیف پہنچائے گا۔۔۔ کچی نیند میں یہ سوچتے سوچتے وہ پوری طرح نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔۔۔ جب وہ دونوں فرح کے گھر پہنچے تو ان دونوں کو اکھٹا دیکھ کر جہاں یسریٰ خوش ہوئی وہی فرح کو ان دونوں کا ایک ساتھ یوں آنا کچھ اچھا نہیں لگا
ثوبان کی تو الگ بات تھی مگر یہ ثوبان کا بھائی فرح کو کچھ خاص پسند نہیں آیا مگر وہ پہلی دفعہ اس کے گھر آیا تھا اس لیے مسکرا کر ملتے ہوئے مہمان نوازی کے تقاضے پورے کیے۔۔۔ عاشر بھی کاشان سے اچھے طریقے سے ملا مگر وہ عاشر سے سرسری انداز میں بات چیت کر رہا تھا جسے رنعم نے تھوڑا فیل کیا
“رنعم تمہیں آنی کی یاد آرہی تھی نہ جاؤ ان سے باتیں کرو اور کھانے میں ان کی ہیلپ کرو”
رنعم عاشر کی باتوں کا جواب دینے لگی تو کاشان نے نارمل سے انداز میں رنعم کو دیکھ کر کہا رنعم مسکرا کر وہاں سے اٹھ گئی کیوکہ بے شک کاشان کا انداز نارمل تھا مگر آنکھوں وارننگ کرتی ہوئی
رات کے دس بجے وہ لوگ واپسی کے لیے نکلے واپسی کا سفر بھی اچھا گزرا مگر اب رنعم پیچھے بیٹھی ہوئی تھی اور زیادہ تر خاموشی تھی یسریٰ اور کاشان کی باتیں سن رہی تھی البتہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کاشان گاڑی کے شیشے سے نظر ڈال کر رنعم کو دیکھ کر اسمائل دے دیتا
