Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 23)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
ثوبان کاشان نے ایک دوسرے کی مدد سے بہروز کو کار میں بٹھایا ثوبان بہروز کے برابر میں بیٹھا تو ڈرائیور نے فوراً کار اسٹارٹ کردی جبکہ دوسری کار میں کاشان یسریٰ اور رنعم کو لیے ثوبان کی کار کو فالو کرتے ہوئے اسپتال پہنچا
ہسپتال پہنچ کر بہروز کو فوری ٹریٹمنٹ دیا گیا مگر تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے انہیں یہ بری خبر سنائی کے بہروز کی لیفٹ سائیڈ باڈی پارٹ پیرالائز ہو چکا ہے اس خبر کے سنتے ہی یسریٰ اور رنعم نے بری طرح رونا شروع کردیا۔۔۔۔۔ ثوبان رویا تو نہیں مگر وہ بالکل چپ ہوگیا اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا سیرت کو اپنے گھر لے جانا اتنا بڑے دھچکے کا سبب بنے گا وہ بھی اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھا ہوا تھا،، کاشان ہی تھا جو یسریٰ کو تسلی دے رہا تھا چپ کرا رہا اور ڈاکٹرز کے پاس چکر لگا رہا تھا
“سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے کاشی”
بہروز کو آدھے گھنٹے پہلے پرائیویٹ روم میں شفٹ کیا گیا اس کا ادھا دھڑ مفلوج ہو چکا تھا اس کو اس حالت میں دیکھ کر یسریٰ اور رنعم نے اک بار پھر رونا شروع کردیا ثوبان اپنے آنسو صاف کرتا ہوا روم سے باہر نکلا تو کاشان اس کے پیچھے گیا، وہ ویٹنگ روم میں آکر چیئر پر بیٹھ کر کاشان سے کہنے لگا
“بیوقوفو جیسی باتیں مت کرو ثوبی جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے، تمہیں اس وقت اپنے آپ کو الزام دینے کی بجائے وہاں جا کر آنٹی اور رنعم کو سنبھالنا ہوگا اپنی فیملی مانتے ہو ناں انہیں، تو جاو ان کا حوصلہ بڑھاؤ جاکر۔۔۔ تم ہی ہمت ہار کے بیٹھ جاؤ گے تو ان لوگوں کو کون دیکھے گا” کاشان کی ہمت باندھنے پر وہ اٹھکر کر روم میں آیا یسریٰ، رنعم کو گلے لگایا اور بہروز کو بھی یقین دلایا کہ وہ جلدی ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ یسریٰ کو یقین دلایا تھوڑا مشکل وقت ہے مگر سب ٹھیک ہو جائے گا اس کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس کا بیٹا اور رنعم کا بھائی موجود ہے۔۔۔۔ ثوبان نے خود کو بھی سمجھایا کہ اسے اپنے آپ کو مضبوط رکھنا ہے اپنی فیملی کے لیے۔۔۔۔ اس کے موبائل پر بار بار سیرت کی کال آ رہی تھی مگر وہ ابھی اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا سیرت نے یسریٰ اور بہروز کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے بیشک وہ اپنے ماں باپ کا نہیں مگر اس کی مما بابا کا سوچ کر خیال کر لیتی۔۔۔۔ ثوبان نے سوچتے ہوئے سر جھٹکا اور کاشان کو مخاطب کیا
“تم ایسا کرو مما اور رنعم کو گھر لے جاؤ،، میں آج یہی بابا کے پاس رکھوں گا۔۔۔ تم گھر میں مما اور رنعم کا خیال رکھنا”
ثوبان نے گھڑی میں ٹائم دیکھا رات کے دس بج رہے تھے یسریٰ جتنی دیر تک یہاں پر رہتی اس کی حالت خراب ہوتی ثوبان اس کو اس کی بھی فکر ہونے لگی جبھی وہ کاشان سے بولا
“میرے خیال میں تمہیں بھی ریسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔ تم رنعم اور آنٹی کو لے کر گھر جاؤں،،، اسپتال میں میں رک جاتا ہوں” کاشان نے اس کی حالت کو دیکھ کر مشورہ دیا اسے پانچ ماہ کا عرصہ ہوگیا تھا ان کے گھر میں رہتے ہوئے وہ بھی یسریٰ اور بہروز کی دل سے عزت کرتا تھا کیوکہ وہ دونوں ہی اس کے ساتھ شروع دن سے اچھے تھے اور رہی رنعم کی بات وہ تو اب اس کے دل میں بستی تھی۔۔۔۔ آج اسے کتنی بار اپنے سامنے روتا ہوا دیکھ کر، وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا وہ چاہ کر بھی اس کے آنسو صاف نہیں کر سکتا تھا
“کاشی میں بابا کے بنا گھر نہیں جاؤں گا ان کو لے کر ہی گھر آؤں گا اب۔۔۔۔ تم مما اور رنعم کا خیال رکھنا مما کو سونے سے پہلے اینٹی ڈپریشن کی ٹیبلٹ دے دینا” ثوبان کے لہجے سے کاشان کو لگا کہ اب وہ اس کی بات نہیں مانے گا۔۔۔ اس لئے وہ یسری اور رنعم کو اپنے ساتھ لے کر گھر چلا گیا
اس نے راستے سے کھانا پیک کرایا۔ ۔۔۔ دونوں کو اپنے سامنے کھانا کھلا کر یسریٰ کو میڈیسن دے کر۔۔۔۔ رنعم کو یسریٰ کے پاس سونے کا کہہ کر وہ خود اپنے روم میں آ گیا
****
“سوری میم ہم پیشنٹ کو بچا نہیں سکے”
ڈاکٹر نے جب یہ خبر سیرت کو سنائی تو وہ بے یقینی سے ڈاکٹر کو دیکھتی رہی پھر وہی کرسی پر بیٹھ زور زور سے رونے لگی
آج صبح ہی وہ ثوبان کا انتظار کرکے خود ہی ناصر کو ہسپتال ڈائلیسس کے لئے لے آئی تھی یہ ناصر کا تیسرا ڈائلیسس تھا جو اس کی زندگی کا آخری ڈائلیسس ثابت ہوگا یہ سیرت کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا
ڈائلیسس کے تھوڑی دیر بعد ناصر غنودگی میں چلا گیا۔۔۔۔ ڈاکٹر نے چیک کیا اور سیرت کو آگاہ کیا کہ ناصر کوما میں جا چکا ہے۔۔۔ اس نے پریشان ہو کر دو سے تین مرتبہ ثوبان کو کال ملائی میسج سینڈ کیا آئی نیڈ یو مگر دوسری طرف شاید لمبی ناراضگی کا پلان تھا اس لیے کوئی رسپونس نہیں آیا
تھوڑی دیر پہلے ہی کوما میں ناصر کا دل بند ہوا اور وہ دنیا سے تعلق ختم کر کے چلا گیا سیرت کو بس اتنا ہوش تھا کہ اس کے موبائل پر رضوان (کیئر ٹیکر) کی کال آئی تھی شاید وہ گھر پہنچ چکا تھا تب سیرت نے روتے ہوئے اسے ناصر کے انتقال کا بتایا
رضوان شریف لڑکا تھا اور وہ جانتا تھا کہ سیرت اپنے باپ کے ساتھ اکیلی رہتی ہے اس لیے اسپتال پہنچ گیا ڈیڈ باڈی کو اسپتال سے غسل کے لئے جانا اور پھر تدفین سب مراحل اسی نے طے کیے سیرت اپنے فلیٹ میں آنے کے بعد بس آنسو بہاتی رہی اسے ہوش ہی کہا تھا،،، دل بس اس بات پر دکھ رہا تھا آج وہ دنیا میں اکیلی رہ گئی تھی کتنی عجیب بات تھی کل اسے دنیا میں لانے والے ماں باپ کا علم ہوا اور آج اسے پالنے والا باپ اس دنیا میں اکیلا چھوڑ گیا
اس وقت رات کے نو بج رہے تھے تب اس نے بیگ میں اپنے چند جوڑے ڈالے فلیٹ کی چابی پڑوس کو دے کر وہ اپنے پرانے ٹھکانے پر چلی آئی۔۔۔۔۔ مالک مکان نے ناصر کی موت کی خبر سن کر ترس کھا کر اسے دوبارہ رہنے کی اجازت دے دی
****
“یسریٰ تم نے ایک کال کر کے بتانا ضروری نہیں سمجھا بہروز کے بارے میں کہ ہسپتال میں داخل ہے۔۔۔۔ وہ تو ثوبان نے عاشر کو کل رات میسج کیا تب معلوم ہوا ہمیں کہ کیا قیامت گزر گئی ہے تمہارے اوپر”
فرح آج صبح دس بجے عاشر کے ہمراہ کراچی پہنچی تھی
“باجی مجھے تو خود اپنا ہوش نہیں تھا معلوم ہی نہیں کل کیسے اتنا بڑا طوفان آگیا”
یسریٰ نے دوبارہ سے فرح کو کل والی روداد سنائی
“اب کہاں پر ہے انعم”
فرح نے حیرت سے یسریٰ سے پوچھا
“دوبارہ چلی گئی ہم سے دور۔۔۔ اب معلوم نہیں لوٹ کر آئے گی کہ نہیں”
یسریٰ کو آج دوہرے دکھ نے گھیرا تھا تو وہ رونے لگی
“پریشان مت ہو اللہ سب بہتر کرے گا” فرح نے اسے گلے لگا کر تسلی دی۔۔۔۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ عاشر کے ساتھ اسپتال سے یسریٰ کے پاس گھر آئی تھی۔۔۔۔
شام تک ڈاکٹر بہروز کی چھٹی کر دیتے اس لیے ثوبان نے کاشان کو منع کردیا کہ وہ یوسریٰ اور رنعم کو یہاں پر مت لے کر آئے۔۔۔۔ شام تک اسے بہروز کو لے کر گھر آ جانا تھا،،، اب گھر پر ہی اسکی اچھی کئیر اور فزیوتھراپی کام آئے گی جس سے وہ جلد ریکور کرلے گا
کاشان یسریٰ اور رنعم کو لے کر تو نہیں آیا مگر تھوڑی دیر آفس کا چکر لگا کر خود اسپتال ثوبان کے پاس آگیا دو گھنٹے بعد ہی ثوبان نے اسے گھر جانے کا کہہ دیا کیوکہ وہ اپنی کنپٹی ہر تھوڑی دیر بعد دبا رہا تھا جس سے ثوبان کو محسوس ہوا اس کے سر میں درد ہو رہا ہے یا وہ بھی تھکا ہوا ہے ثوبان کے دو سے تین بار بولنے پر کاشان ہسپتال سے گھر روانہ ہوا کیوکہ اسپتال کی فارمیلٹیز پوری کر کے تھوڑی دیر بعد ثوبان کو بہروز کے ساتھ گھر ہی آنا تھا
****
کاشان نے گیٹ سے گھر کے اندر کار داخل کی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا موڈ اچھا خاصا خراب ہو چکا تھا۔۔۔۔ ثوبان سے باتوں میں اسے علم ہو چکا تھا کہ عاشر اور فرہ آئے ہوئے ہیں اور اسپتال میں بھی بہروز سے مل کر گئے تھے کاشان کا ماتھا جبھی ٹھنکا عاشر پہلے دن سے ہی اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا اس کی آنکھوں میں رنعم کے لیے خاص چمک کاشان کی آنکھوں سے چھپی نہیں رہ سکی تھی جبھی وہ اسے بری طرح چھبتا تھا۔ ۔۔۔ ایک تو ویسے ہی دوپہر سے اس کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا دوسرے گر کے لان میں عاشر اور رنعم کو ایک ساتھ کھڑے دیکھ کر اسے غصہ آنے لگا کار سے اتر کر وہ ان دونوں کے پاس پہنچا
****
“یقین کرو جس طرح تم انکل کی کل کی کنڈیشن بتا رہی ہوں،،،، اس کے مقابلے میں، وہ آج کافی بہتر لگ رہے تھے تھوڑی دیر بعد ثوبان انکل کو لے کر آ جائے گا تو تم خود دیکھ لینا تمہیں یقین ہوجائے گا”
رنعم جو بہروز کی وجہ سے پریشان تھی عاشر اسے تسلی دیتے ہوئے بولا بے ساختہ اس کی نظر رنعم کی سفید بازوؤں پر گئی جامنی رنگ کی سلیو لیز قمیز میں اس کے سفید بازو نمایاں ہورہے تھے عاشر کے دل میں خیال آیا۔۔۔۔ معلوم نہیں میری پرسنیلٹی کو دیکھتے ہوئے رنعم میرے لیے ہاں کرے گی کہ نہیں۔۔۔۔
کیوکہ گھر میں غفران (عاشر کا باپ) فرح سے یہ ذکر کر چکا تھا کہ وہ اپنی بہن سے رنعم کے رشتے کی بات کر کے آئے۔۔۔۔۔ فرح اور عاشر بھی ایسا چاہتے تھے کہ رنعم ان کے گھر آئے مگر یہ وقت اس بات کے لیے کچھ مناسب نہیں تھا اس لیے عاشر نے فرح کو ایسا کوئی بھی ذکر کرنے سے منع کردیا
ایسا نہیں تھا کہ عاشر نے پہلی دفعہ رنعم کی اسطرح ڈریسنگ میں دیکھا تھا یا اس کو ہمیشہ ایسے ہی دیکھتا ایا ہو۔۔۔۔۔ آج بس اک خیال کے تحت اس کی نظر رنعم کے بازو پر پڑی جو کہ اس نے فوراً ہٹا بھی لی مگر ان دونوں کے پاس آتے کاشان سے اس کی نظر چھپ نہیں سکی
“تمہیں میں نے کہا تھا طبیعت ٹھیک نہیں ہے تمہاری، ریسٹ کرو پھر کیوں باہر نکلی تم اپنے روم سے۔۔۔ جاو فوراً روم میں” کاشان نے قریب آتے ہی عاشر کو نظر انداز کر کے تھوڑے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے رنعم کو مخاطب کیا جس پر وہ دونوں ہی حیرت زدہ رہ گئے
“ریلیکس وہ انکل کی وجہ سے پریشان ہے،، ٹمپریچر اس کا تھوڑی دیر پہلے ہی اتر چکا ہے”
عاشر کو یوں کاشان کا آرڈر دینا اچھا نہیں لگا پھر بھی وہ کاشان کا لحاظ کر کے اسے تحمل سے بتانے لگا
“تمہیں میں نے فون پر انکل کی کنڈیشن بتائی تھی نہ کہ وہ ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔ اگر ٹھیک نہیں ہوتے ڈاکٹر ان کی چھٹی کیوں کرتے،،، اب تم بچی نہیں ہو جو ہر کوئی تمہیں بہلاتا رہے۔۔۔ اپنے روم میں جاؤ اور ریسٹ کرو”
وہ اب بھی عاشر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے رنعم کے ساتھ سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے بولا
رنعم کو کاشان کے اس طرح بات کرنے سے افسوس ہو رہا تھا کل سے کاشان اس کی اور مما کی کتنی کیئر کر رہا تھا صبح جب اسے ہلکا سا بخار محسوس ہوا تو کاشان اسے اپنے سامنے ناشتہ کرنے کے بعد میڈیسن دی اور جب وہ آفس گیا تو آفس سے بھی فون کر کے یسریٰ اور اس کے بارے میں پوچھا۔۔۔۔ اس سے نرمی سے بات کرتا رہا اور اسے یقین دلاتا رہا کہ تمہارے بابا بہت جلد ٹھیک ہوجائیں گے مگر اب سامنے آکر جس طرح عاشر کے سامنے اسے ڈانٹ رہا تھا تو رنعم کو اسے دیکھ کر رونا آنے لگا
“رنعم اب بچی نہیں ہے کاشان، جو تم اس سے یوں ڈانٹ ڈپٹ کر رہے ہو” عاشر کو کاشان کا یوں رنعم کا ڈانٹنا اچھا نہیں لگا اس لیے وہ بول اٹھا اس کے بولنے پر کاشان نے اب رخ عاشر کی طرف کیا
“یہ اب واقعی بچی نہیں ہے جو ہر کوئی اسے پیار سے بہلاتا رہے”
کاشان نے عاشر کو دیکھ کر جتانے والے انداز میں اسے باور کرایا۔۔۔۔ کاشان کی بات سن کر وہ دونوں ہی حیرت سے کاشان کو دیکھنے لگے
“کیا مطلب ہے تمہارا کاشان اپنے الفاظ پر غور کرو اور اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھو”
عاشر نے سنجیدگی سے اسے وارن کیا جبکہ رنعم تو اچھی خاصی شرمندہ ہو گئی تھی اور اس نئی صورتحال پر اور گھبرا بھی گئی تھی
“مجھے اپنی زبان پر کنٹرول رکھنے سے زیادہ ضروری ہے کہ تم اپنی آنکھوں پر کنٹرول کرو اور میرا مطلب تم اچھی طرح سمجھ گئے ہو گے”
کاشان کے بولنے پر عاشر ایک لمحے کے لئے چپ ہو گیا مگر اس سے پہلے وہ کچھ بولتا کاشان دوبارہ رنعم کی طرف مڑا
“سنائی نہیں دے رہا تمہیں روم میں جاؤ اپنے”
اب کی بار کاشان تقریباً چیخ کر بولا
رنعم اس کے چیخنے پر ایک منٹ لگائے کیے بغیر بھاگتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی۔۔۔۔۔ اس کے پیچھے کاشان عاشر کو گھورتا ہوا گھر کے اندر چلا گیا جبکہ عشر لب بھینچے اسے دیکھ کر سوچنے لگا کہ وہ امی کو کہہ کر رشتے کی بات ڈال کر ہی اب واپس جائے گا
