504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 18)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“ایسی تو کوئی بات نہیں ہے،، میں کیوں ڈروں گی آپ سے”

رنعم نے اپنا ڈر چھپاتے ہوئے بولا مگر سچ تو یہی تو وہ واقعی اس کی روعب دار شخصیت کے آگے سے سہم سی جاتی تھی۔۔۔۔۔ رنعم کی بات سن کر کاشان کے چہرے کے تاثرات بدلے

“تو تم نہیں ڈرتی ہوں مجھ سے” کافی کا مگ ٹیبل پر رکھ کر سامنے پڑی چھریوں میں سے سب سے بڑی چھری اٹھا کر وہ اس سے پوچھتا ہوا رنعم کے قریب آیا۔۔۔۔ اس وقت کاشان کے چہرے کے تاثرات بالکل پتھریلے تھے جنھیں دیکھ کر رنعم کی ہنسی تھم گئی

“یہ۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ کاشان”

کاشان کو ہاتھ میں چھری پکڑے اپنی طرف آتا دیکھ کر رنعم کا چہرہ خوف سے فق ہوگیا وہ دیوار سے جا لگی

“شششش”

کاشان نے چھری کو اپنے ہونٹوں پر رکھ کر اسے چپ رہنے کے لئے بولا رنعم خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگی

“کاشان نہیں پلیز”

کاشان کے چہرے پر سخت تاثرات دیکھ کر رنعم نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جیسے ہی کاشان نے فضا میں ہاتھ اٹھا کر چھری کو تھرچا کرتے ہوئے رنعم پر وار کیا ویسے ہی رنعم کے حلق سے ایک دلخراش چیخ نکلی۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرا چھپا کر اپنی آنے والی موت کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔۔

مگر چند پل گزرنے کے بعد جب اس نے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹائے تو بےساختہ اس کی نظر فرش پر موٹی تازی دو حصوں میں کٹی ہوئی چھپکلی پر پڑی۔۔۔ اس سے پہلے بلند چیخ دوبارہ اس کا گلا پھاڑ کر نکلتی کاشان نے چھری نیچے پھینک کر ہاتھ اسکے ہونٹوں پر رکھا

“مانا کے اس وقت گھر میں انکل کے سوا کوئی نہیں ہے اور انکل بھی یقیناً سو رہے ہوں گے مگر تمہاری چیخیں سن کر پڑوس والے یہاں آ سکتے ہیں”

کاشان اس کا منہ بند کرتا ہوا جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا اور آہستہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا۔۔۔۔ رنعم فوراً اسے پیچھے دھکیلتی ہوئی گھر سے باہر لان میں چلی آئی کاشان بھی کافی کا مگ تھامے اس کی پیچھے آ گیا

“آئندہ ایسا فضول قسم کا مذاق میرے ساتھ مت کرئے گا اگر مجھے ہاٹ اٹیک ہو جاتا تو”

رنعم نے اس کو اپنے پیچھے لان میں آتا دیکھ کر بولی

“مجھے نہیں معلوم تھا تم اتنی بہادر ہوں،، میں تو سمجھا کہ دوسری لڑکیوں کی طرح چھپکلی دیکھ کر تمہاری بھی جان جاتی ہوگی قسم سے میں تو تمہاری چھپکلی سے جان بچا رہا تھا”

رنعم کی جان نکال کر وہ مزے سے کافی پیتے ہوئے بولا

رنعم اس کو غصے میں گھور کر دیکھنے لگی سبز آنکھوں میں اب خوف کی جگہ غصہ ہلکورے لے رہا تھا۔۔۔ وہ رنعم کو خوفزدہ کر کے اس کا ڈر اور کافی دونوں بٹے مزے سے انجوائے کر رہا تھا

“غصہ آ رہا ہے۔۔۔۔ چلو آج چھوٹ ہے تم پر،،، تم مجھ پر غصہ کر سکتی ہو کیوکہ آج میں بہت خوش ہوں برا نہیں مانوں گا۔۔۔ بعد میں تو تمہیں یہ موقع ملے نہ ملے شاید”

کاشان کافی کا خالی مگ لان میں موجود ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا

“کس بات کی خوشی ہے آپ کو”

رنعم اپنا غصہ بھول کر اس کی خوشی کی وجہ پوچھنے لگی کیوکہ رنعم نے اسے اپنے سامنے کم ہی کسی بات پر خوش دیکھا تھا

“کیوکہ سیرت کے شوہر کو آج اس کے بچپن کی محبت مل گئی”

کاشان نے رنعم کو دیکھ کر جواب دیا اور اس کی کنفیوز شکل دیکھ کر مسکرایا

“معلوم ہے یہ بات تو تمہارے سر پر سے گزر گئی ہوگی، ایک اور بھی وجہ ہے جس پر میں خوش ہو تم وہ وجہ پوچھو مجھ سے”

کاشان نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر اسے چئیر پر بٹھا کر خود بھی سامنے والی چیئر پر بیٹھ کر بولنے لگا

“تو آپ بتائیے دوسری وجہ کیا ہے” رنعم نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا تو کاشان نے اسکا دوسرا ہاتھ بھی تھام لیا

“آج دوپہر میں تم نے کھانا اس وجہ سے بنایا تھا ناں کہ اس دن آئسکریم پالر میں، میں نے تم سے کہا تھا”

کاشان کی بات رنعم کا دل زور سے دھڑکا وہ بے ساختہ اپنی نظر نیچے جھکا گئی

“شکر ہے شادی کے بعد کسی خانسامہ کا انتظام نہیں کرنا پڑے گا اور دوسرا تم بہت اچھی بیوی ثابت ہونے والی ہو جو شوہر کی ہر بات مانے”

کاشان اس کے شرمائے گھبرائے روپ کو دلچسپ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا

“بھیا نہیں آئے ابھی تک کافی دیر ہو گئی ہے”

رنعم نے گھبرا کر موضوع تبدیل کرتے ہوئے کہا

“آج تمہارا بھیا اپنی نائٹ ڈیوٹی کو بھرپور طریقے سے انجوائے کر رہا ہوگا”

کاشان نے اس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا وہ ابھی بھی اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے بیٹھا تھا

“کیا میں اس وقت تم سے کچھ اور بھی طلب کر سکتا ہوں”

کاشان اس کے ہاتھوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے لو دیتی نگاہوں اسے دیکھ کر کہنے لگا

“کل میرا پیپر ہے مجھے چلنا چاہیے”

رنعم نے جھجھکتے ہوئے کاشان کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکالا اور جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ رات کے پہر تنہائی میں وہ اسکی بات کا مفہوم اور طلب کو سمجھتے ہوئے وہاں سے جانے لگی

“ایک منٹ رکو۔۔۔۔ اس وقت میں تم سے کوئی ایسی چیز طلب نہیں کرتا جس کی وجہ سے تمہیں یوں اٹھ کر جانا پڑے۔۔۔۔ اپنی حدود کا اچھی طرح اندازہ ہے مجھے اور یہ وضاحت میں اس لیے رے ہوں کہ آئندہ کبھی بھی تم میرے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاو یہ پہلی دفعہ تھا اس لئے کچھ نہیں کہہ رہا ہوں”

کاشان کرسی پر بیٹھا ہوا سنجیدگی سے اس کو بولنے لگا رنعم اس کی بات سن کر دوبارہ جانے لگی

“ابھی بات مکمل نہیں ہوئی ہے میری”

کاشان کی آواز پر اس کے قدم دوبارہ روکے رنعم نے مڑ کر کاشان کو دیکھا

“کل میں کھانے میں آلو قیمہ کھاو گا جو تم میرے لیے اپنے ہاتھ سے بناؤں گی”

کاشان کی فرمائش پر رنعم نے منہ کھول کر حیرت سے کاشان کو دیکھا

“کل تو میرا پیپر ہے”

رنعم کے منہ سے بے ساختہ نکلا مگر کاشان کی آنکھوں میں سنجیدگی دیکھ کر وہ خود ہی بول پڑی

“تو کیا ہوا پیپر تو کل صبح ہے،، کھانا تو آپ نے رات میں کھانا ہے شام میں بنا لوں گی کوئی مسئلہ نہیں گڈ نائٹ”

وہ خود سے ہی کہتی ہوئی تیز قدموں سے گھر کے چلی گئی

****

“ثوبی بابا کی فکر ہو رہی ہے، تمہیں یوں مجھ کو لے کر نہیں آنا چاہیے تھا” سیرت نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے ثوبان کو دیکھ کر کہا

“یار یہ فرسٹ ٹائم ڈائلیسس ہے ان کا۔۔۔۔ اتنی جلدی ہوش میں نہیں آئے گے ہلکی ہلکی غنودگی رہے گی اور کیئر ٹیکر موجود ہے وہاں پر،، میں نے اسے اپنا نمبر دے دیا ہے اگر کوئی بھی پرابلم ہوئی تو وہ کال کرے گا مجھے۔۔۔ تم صبح سے ہی ہاسپیٹل میں موجود ہوں تھوڑا ریلیکس ہو جاؤ صبح چھوڑ دوں گا تمھیں انکل کے پاس”

ثوبان ڈرائیونگ کے دوران سیرت کو مطمئن کرتے ہوئے بولا

“یہاں کیوں آئے ہیں ہم”

ثوبان نے ہوٹل کے اندر کار پارک کی تو سیرت نے اس کو دیکھ کر پوچھا

“پہلے اترو تو پھر بتاتا ہوں”

ثوبان نے خود کار سے اترتے ہوئے کہا سیرت کار سے اتری تو اپنے کیجول سے ڈریس کا جائزہ لیتے ہوۓ جھجھک کر ثوبان کو دیکھنے لگی

“اچھی لگ رہی ہو تم آؤ”

اسکی جھجھک محسوس کر کے ثوبان اس کا ہاتھ تھام اور ہوٹل کے اندر چلا گیا ریسیپشن پر کاشان کا نام لیا تو لڑکے نے غور سے ان دونوں کو دیکھا اور بوکے ثوبان کو پکڑ کر شادی کی مبارکباد دی جب وہ دونوں ہوٹل کے روم میں پہنچے دو بیڈ پر گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھی

“اف میرے خدا وہاں ابا اسپتال میں نوجود ہیں اور اس بدتمیز انسان کو اپنی لگی ہوئی ہے”

سیرت نے سوچتے ہوئے ثوبان کو گھورا

“یہ سب میرا آئیڈیا نہیں ہے کاشی نے روم بک کروایا ہے نکاح کے گفٹ کے طور پر یہ سب بھی لازمی اسی نے کروایا ہوگا”

ثوبان نے سیرت کی گھوری کو دیکھ کر فوراً وضاحت دیتے ہوئے کہا

“وہ بچپن سے ہی بدتمیز اور منہ پھٹ ہے اس کا تو مجھے اندازہ تھا لیکن آج میں تمہارے بھائی کی ایک اور خوبی سے متعارف ہوئی ہو،،، ایک نمبر کا چھچھورا بھی ہے یہ کاشی”

سیرت نے جھینپ مٹاتے ہوئے کہا تو ثوبان ہنسنے لگا

“ویسے مجھے اس کا گفٹ اور آئیڈیا اتنا برا بھی نہیں لگا، کیا خیال ہے”

ثوبان نے سیرت کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کرتے ہوئے پوچھا

“تمہیں اپنے بھائی کی طرح کوئی بھی چھچھورا پن دکھانے کی ضرورت نہیں ہے”

سیرت اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر گھورتی ہوئی بولی تو ثوبان مسکرا دیا

“وقت، موقع محل، رشتہ دیکھ کر تو بندہ رومانٹک ہو سکتا ہے۔۔۔ اب اس کو چھچھور پن کا نام مت دو پلیز”

ثوبان نے اس کے ماتھے پر اپنے پیار کی پہلی مہر سجائی تو سیرت ایک دم بدک کر پیچھے ہوئی

“ثوبی تم پٹو گے مجھ سے”

سیرت نے اسے گھورتے ہوئے پیچھے دھکیلا شاید اس کی زندگی میں ایسا پہلی دفعہ ہی ہوا تھا جو وہ یوں کسی چیز سے گھبرائی تھی

ثوبان اس کے بلش کرتے چہرے کو دیکھ کر مسکرانے لگا اور روم میں ہی کھانے کا آرڈر دیا کیوکہ ان دونوں نے رات کا کھانا نہیں کھایا تھا۔۔۔۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ثوبان نے سب سے پہلے بہروز کو کال کرکے اپنے رات گھر نہ آنے کا بتایا اس کے بعد اس نے ہی یسریٰ کو حیدرآباد کال کر کی اور اس کی خیریت پوچھی۔۔۔ اسپتال میں موجود کیئرٹیکر کو کال کرکے ناصر کی صورتحال پوچھی۔۔۔۔ سیرت صوفے پر بیٹھی اس کی ساری گفتگو سن رہی تھی فارغ ہوکر وہ سیرت کے پاس آیا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھایا اور خود بھی اس کے برابر میں بیٹھا۔۔۔ وہ اسے زندگی میں پہلی بار نروس لگی ثوبان نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما

“اپنے دل میں کبھی بھی یہ خیال مت لانا کہ میں نے مجبوری میں،، تمہارے ابا کی خواہش پر یا کسی دباؤ میں آکر تمہیں اپنی زندگی میں شامل کیا ہے۔۔۔ سیرت میرے جذبات لفظوں کے محتاج نہیں ہیں،، میں نے ہمیشہ تمہارے ساتھ کی خواہش کی ہے شریک حیات کے تصور میں تمہارا ہی چہرہ میری نظروں میں گھومتا تھا اور آج میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرکے بہت خوش اور مطمئن ہوں مگر معلوم نہیں تمہیں اس بات کا اندازہ ہو یا نہ ہو،، کہ میں جس فیملی کے ساتھ رہتا ہوں ان دونوں نے مجھے اپنی سگی اولاد کی طرح پیار کیا ہے اور یوں اچانک میرے نکاح کی خبر سن کر ہو سکتا ہے ان کی فیلینگز ہرٹ ہو اور میں مما بابا کو بالکل بھی ہرٹ نہیں کرنا چاہتا کیوکہ وہ دونوں میرے لئے والدین کا درجہ رکھتے ہیں۔۔۔۔ مجھے تھوڑا ٹائم چاہیے ہوگا ان دونوں کو ہمارے رشتے کے بارے میں،،، ساری سچویشن کے بارے میں بتانے کے لیے،،، تم میرے نکاح میں ہو میری بیوی ہو،، جب تک یہ ساری حقیقت میں اپنی فیملی کو بتا کر تمہیں بیوی کے طور پر اپنے گھر میں نہیں لے جاتا تب تک میں تم سے اپنا حق طلب نہیں کروں گا کیا تم میری پروبلم سمجھتے ہو مجھے تھوڑا سا ٹائم دو گی”

ثوبان سیرت کو ساری باتیں سمجھاتے ہوئے اس سے سوال پوچھ رہا تھا

“کیا تمہاری فیملی مجھے ایکسیپٹ کرے گی”

سیرت نے اسے دیکھ کر اپنا خدشہ ظاہر کیا۔۔۔ وہ ثوبان سے ملی تھی تب اس نے ثوبان کی باتوں سے اندازہ لگا لیا تھا وہ فیملی ثوبان کے لیے معنیٰ رکھتی ہے اسی لئے اب نکاح کے بعد سیرت کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا پتہ نہیں اس کی فیملی کا رویہ کیا ہو۔۔۔۔ اس کی بات سن کر ثوبان مسکرایا

“جب انہیں میں بتاؤں گا کہ تم میری پسند ہو تو وہ تمہیں کھلے دل سے قبول کریں گے” ثوبان نے اس کا ہاتھ اپنے لبوں پر لگاتے ہوئے کہا

بیڈ پر لیٹنے کے بعد سیرت کا سر اپنے سینے پر رکھا سیرت اس سے یسریٰ اور رنعم کے متعلق پوچھنے لگی ثوبان اسے باتیں بتانے لگا مگر تھوڑی دیر بعد اسے محسوس ہو جیسے سیرت سو چکی ہے جب اس نے سیرت کا سر تکیہ پر رکھا تو وہ بے سود سو رہی تھی سارا دن اسپتال میں رہنے سے،، تھکن کی وجہ سے شاید وہ فوراً سوگئی۔۔۔ ثوبان نے اس کی پیشانی کو لبوں سے چھوا اور لائٹ آف کر کے خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا