Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 31)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 31)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
کاشان کے ساتھ رنعم کی شادی کا ذکر گھر میں ہوا تو گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں گھر کا ہر فرد ہی کاشان اور رنعم کی شادی سے خوش تھا
ثوبان نے بھی اپنے تمام تر وہم اور خدشات کو پسِ پشت ڈال کر شادی کے انتظامات کے لئے بھاگ دوڑ شروع کر دی کیوکہ اب سب کچھ اسی کو دیکھنا تھا البتہ جب یہ خبر فرح کو معلوم ہوئی تو اس نے یسریٰ سے فون پر تھوڑی بہت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے شکوہ کیا مگر یسریٰ نے اسے یہ کہہ کر سمجھایا کہ بچوں کی مرضی اور خوشی کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے جس پر فرح یہ کہہ کر چپ ہو گئی کہ وہ رنعم کو کافی سیدھا سمجھتی تھی مگر اس کے باوجود فرح فطرتاً اپنے شوہر جیسی نہیں تھی اس نے بہروز کو مبارکباد دی اور رنعم کو دعا دی کہ وہ کاشان کے ساتھ خوش رہے
جبکہ غفران نے برا مناتے ہوئے مبارکباد تو دور کی بات۔۔۔ ان لوگوں سے صاف کہہ دیا کہ عاشر کا رشتہ نہ کر کے آپ نے ہماری انسلٹ کی۔۔۔ غفران شادی میں شرکت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا
دوسری طرف عاشر کو اپنے ریجکٹ ہونے کا دلی قلق ہوا مگر وہ ایک جذباتی انسان نہیں پریکٹیکل انسان تھا اس لئے تمام گھر والوں کو خوش دلی سے مبارکباد دی اور شادی نے آنے کا وعدہ کیا
***
“ثوبان آپ کے لیے بارات کے دن کا ڈریس لے کر آیا ہے کہہ رہا تھا بابا کو دکھا دیئے گا اگر پسند نہیں آئے تو پرابلم نہیں وہ دوسرا لے آئے گا۔۔۔ مارکیٹ کے چکر تو اب روز ہی لگ رہے ہیں”
یسریٰ نے روم میں آتے ہوئے بہروز سے کہا
“ثوبان کی لائی ہوئی چیز مجھے پسند نہیں آئے ایسا ہو سکتا ہے بھلا،، وہ خود کیوں نہیں آیا آج میرے پاس”
بہروز نے لاکر سے جیولری نکالتی ہوئی یسریٰ سے پوچھا
“رنعم کو لے کر گیا ہے فرنیچر سلیکٹ کرنے کے لئے اس وجہ سے نہیں آ سکا آپ کے پاس،، کہہ رہا تھا لیٹ ہو جائے گا تو میں آپکو کو کھانا کھلا دو۔۔۔ سارا کام ہی اس پر پڑ گیا ہے ابھی”
یسریٰ نے جیولری کے ڈبے بیڈ پر رکھتے ہوئے مصروف انداز میں بہروز کو بتایا
“اور کاشان وہ کہاں پر ہے وہ بھی آج نظر نہیں آیا”
بہروز نے یسریٰ سے پوچھا اس کی بات پر یسریٰ نے سر اٹھا کر بہروز کو دیکھا
“کاشان کی تو مجھے منتطق ہی نہیں سمجھ میں آئی اچھا بھلا ہمارا اتنا بڑا گھر ہے۔۔۔ اگر اپنا روم پسند نہیں ہے کوئی دوسرا روم اپنے اور رنعم کے لیے دیکھ لیتا۔۔۔ بلاوجہ میں فلیٹ لے لیا اب اس میں شفٹ ہو رہا ہے”
کل کھانے کے بعد جب رنعم کے علاوہ سب ہی ہال میں موجود تھے تب کاشان نے شادی کے بعد اپنا فلیٹ میں شفٹ ہونے کا بتایا اور یہ بھی کہ آج ہی وہ فلیٹ پسند کر کے آ گیا ہے۔۔۔۔ اس خبر پر یسریٰ بالکل خوش نہیں تھی
“تم بھی عیجیب بات کرتی ہو،، مجھے تو اس میں کوئی برائی نہیں لگی بلکہ خوشی ہوئی اس کی سوچ پر۔۔۔ غفران کی لالچی طبیعت کی وجہ سے اپنی بیٹی وہاں نہیں دی اب ہونے والا داماد کی خودداری کو سرہانے کی بجائے اس پر منہ بنا رہی ہو”
بہروز نے یسریٰ کو سمجھاتے ہوئے کہا
“بس رنعم آنکھوں کے سامنے رہتی تو دل کو سکون رہتا خیر 15 منٹ کی ڈرائیو پر ہی فلیٹ ہے کاشان کا زیادہ دور بھی نہیں ہے۔۔۔ وہ تو شکر ہے اس بات پر اسے آپ نے چپ کروا دیا ورنہ وہ تو شاید فرنیچر وغیرہ لینے کا بھی ارادہ نہیں رکھتا تھا بھلا ہم یہ سب کہاں لے کر جائے گے ہمارے بچوں کا ہی تو ہے سب”
یسریٰ نے سر جھٹکا کر کہا بہروز مسکرا دیا
“یہ زیور کیوں نکال کر بیٹھ گئی ہو” بہروز نے یسریٰ کو اب زیور کے ساتھ سر کھپاتے دیکھا، تو بول اٹھا۔۔۔ سہی معنوں میں وہ آج خوش لگ رہا تھا ان اس لئے خود سے ہی بار بار مخاطب کر رہا تھا
“آج کل اتنی ہیوی جیولری کا کہاں فیشن ہے سوچ رہی ہوں اس بھاری سیٹ کے بدلے رنعم کے لیے تین دن چھوٹے سیٹ بنوا دو اور دو ڈائمنڈ کے سیٹ تو موجود ہیں ہی۔۔۔ برات والے دن کا بس ہیوی سیٹ کا ارڈر دے دیا ہے۔۔۔۔ یہ دیکھیں میں نے بارہ چوڑیاں سیرت کے لئے رکھی ہیں اور یہ نورتن کے جھمکے،، میں منہ دکھائی میں ثوبان کی بیوی کو دوں گی”
یسریٰ بہروز کو ایک ایک چیز دکھا کر بتانے لگی
“چند دنوں بعد رنعم اپنے گھر کی ہوجائے گی تو ہمہیں سیرت کا بھی سوچنا پڑے گا۔۔۔۔ وہ پھر دوبارہ اپنے گھر چلی جائے گی”
بہروز کی بات پر یسریٰ مسکرانے لگی
“سیرت آپ کو یا مجھے کہیں چھوڑ کر نہیں جائے گی بے فکر رہے۔۔ چلیں آپ کے فیزیوتھراپسٹ کے آنے کا ٹائم ہوگیا ہے”
یسریٰ ساری چیزیں سائڈ پر رکھتی ہوئی بہروز سے کہنے لگی
****
“اتنے دن سے کہاں چھپی پھر رہی ہو مجھ سے” یونیورسٹی سے آنے کے بعد رنعم کچن میں اپنے لیے کھانا نکال رہی تھی تبھی عقب سے کاشان کی آواز سنائی دی رنعم نے مڑ کر دیکھا تو وہ بالکل اس کے قریب کھڑا تھا
“ایسی تو کوئی بات نہیں ہے، یہی تو ہوتی ہو سب کے سامنے”
رنعم کاشان کو ایک نظر دیکھکر پلکیں جھگاتی ہوئی بولی
“سب کے سامنے، مگر میرے سامنے نہیں۔۔۔ کیا وجہ ہے اس کی”
وہ رنعم کے چہرے پر آئے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔ جب سے ان دونوں کی شادی کا ذکر گھر میں چلا تھا تب سے رنعم نے گھر کے اس حصے میں جانا کم کر دیا تھا جہاں کاشان کی موجودگی کے امکان زیادہ ہوتے۔۔۔ کھانے کے وقت زیادہ تر ان دونوں کا سامنا ہوتا اس میں بھی کاشان نظر اٹھا کر رنعم کو دیکھ لیتا مگر رنعم سر جھکا کر کھانا کھا رہی ہوتی اس کی وجہ یقیناٗ فطری جھجھک اور شرم وحیاء تھی۔۔۔۔ کاشان جانتا تھا مگر اس وقت رنعم کا اپنے قریب اس طرح پلکیں جھکائے کھڑے ہونا،،، یہ منظر اسے دلفریب لگا اس کی بات کا جواب دئیے بغیر وہ یونہی چپ کھڑی رہی تب کاشان نے اسے دوبارہ مخاطب کیا
“تم خوش ہو”
کاشان رنعم کا ہاتھ تھامے پوچھ رہا تھا اس وقت رنعم کے دھڑکنوں کی رفتار نارمل سے کہیں زیادہ ہو چکی تھی اس نے اثبات میں سر ہلایا
“اور آپ”
رنعم نے نظر اٹھا کر کاشان کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
“میں اتنا خوش ہوں کہ دل چاہتا ہے اس خوشی کا عملی طور پر اظہار تمہارے سامنے کرو مگر مجھے یقین ہے میرے اس طرح کرنے سے تم یہی کچن میں بے ہوش ہو جاؤ گی”
اپنی مسکراہٹ چھپائے کاشان نے رنعم کو دیکھ کر کہا اسکی بات سن کر ایک بار پھر رنعم اپنی پلکیں جھکا لیں۔۔۔ اس کا ہاتھ جو کاشان کے ہاتھ میں تھا کاشان اس میں لرزش صاف محسوس کر سکتا تھا،، کاشان کو اس کی شائے نیچر پسند تھی
“مما بتا رہی تھیں ہم شادی کے بعد یہاں نہیں رہیں گے سب کے ساتھ،، مطلب آپ نے فلیٹ لیا ہے”
رنعم نے جھجھکتے ہوئے پوچھا
“اففف یعنیٰ تمہیں شادی کے بعد بھی مما کے پاس رہنا ہے تھوڑا رحم کرو یار میرے اوپر”
کاشان نے حیرت سے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا
“کاشان میں ویسے ہی پوچھ رہی تھی”
رنعم نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
“لیا ہے فلیٹ اور اس کی دو وجہ ہیں پہلی یہ کہ مجھے گھر داماد بن کر رہنا پسند نہیں اور دوسری وجہ یہ کہ مجھے اپنے اور تمہارے درمیان کوئی تیسرا نہیں چاہیے۔۔۔ پرائیویسی چاہتا ہوں میں”
وہ اس کا ہاتھ چھوڑ کر اپنی انگلی رنعم کی تھوڑی کے نیچے رکھ کر، اسکا چہرہ اونچا کرتے ہوئے بولا
“آہم آہم کیا میں اندر آ جاؤ،، اگر تم دونوں کو برا نہ لگے تو”
سیرت نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے مسکرا کر پوچھا
“برا لگے بھی تو تمہیں کون سا فرق پڑنا ہے۔۔۔۔ اندر تو تم آ چکی ہوں”
سیرت کی آواز پر کاشان رنعم کے پاس سے دور ہٹا جبکہ رنعم شرمندہ ہوگئی۔۔۔ سیرت مسکراتے ہوئے اندر آئی
“قسم سے کاشی تمہیں یوں مجنوں والے اسٹائل میں دیکھ کر عجیب سا لگ رہا ہے۔۔۔ کاشان احمد جس کے سر پر ہر وقت غصہ سوار رہتا ہو،، وہ رومینٹک بھی ہوسکتا ہے یقین نہیں آرہا”
سیرت کاشان کو چھیڑتے ہوئے بولی مگر ازلی ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاشان کو اس کی باتیں چھو کر بھی نہیں گزری مگر رنعم پانی پانی ہو گئی
“کیوں رومانٹک ہونے کا ٹھیکہ صرف تمہارے مجنوں نے لیا ہوا ہے”
کاشان نے سیریس ہو کر سیرت سے پوچھا جس پر رنعم نے چونک کر جبکہ سیرت میں گھور کر کاشان کو دیکھا
“شرم کرو بدتمیز انسان”
سیرت کو ہرگز توقع نہیں تھی وہ یوں رنعم کے سامنے اپنا کھول دے گا جبکہ اس سے ہر بات کی توقع لگائی جا سکتی تھی
“فی الحال تو شرمانے کے دن کسی اور کے ہیں”
سیرت سے کہتا ہوا رنعم پر ایک نظر ڈال کر وہ کچن سے چلا گیا۔۔۔۔ رنعم اب مشکوک نظروں سے سیرت کو دیکھنے لگی
“پاگل ہے یہ کچھ بھی بولتا رہتا ہے اس کی باتوں کو زیادہ سیریس نہیں لیا کرو”
رنعم کے گھررنے پر سیرت اس کو بولی اور خود بھی کچن سے چلی گئی
****
“کیسی ہو”
ثوبان تھوڑی دیر پہلے ہی پولیس اسٹیشن سے گھر آیا تھا،،، بہروز کی خیر خیریت پوچھ کر وہ روم میں آیا تو اس کے پیچھے سیرت آگئی
“میں ٹھیک ہوں مگر شاید تم کافی بزی ہو گئے ہو دو دن سے”
سیرت نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا تو ثوبان مسکرایا۔۔۔ ڈھیر سارے کام ہونے کی وجہ سے وہ دو دن سے اس کے پاس رات میں نہیں آرہا تھا
“یار شادی کا گھر ہے ڈھیر سارے ارینجمنٹ ہیں مجھے ہی دیکھنا ہے سب۔۔۔ ایک طرف بھائی ہے تو دوسری طرف بہن”
ثوبان نے اس کا چہرہ تھامتے ہوئے اس اپنی ذمہ داریوں کا بتایا
“اور ایک طرف بیوی بھی ہے اس کے بھی کچھ حقوق و فرائض ہوتے ہیں” سیرت اس کو دیکھ کر شکوہ کرنے لگی
“میں تو حقوق و فرائض ادا کرنا چاہتا ہوں ہر دفعہ تم ہی روک دیتی ہو”
سیرت کو بانہوں میں لیتے ہوئے وہ ذو معنی انداز میں بولا
“ہر وقت شروع مت ہوجایا کرو ثوبی۔۔۔ مجھے برات کے فنکشن کا ڈریس لینا ہے اور وہ دلانے کے لئے تم ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ چل رہے ہو”
سیرت نے اسے پیچھے کرتے ہوئے اپنا کام بتایا
“برات کے دن کا ڈریس مما لے کر آئی تو تھیں تمہارے لئے”
ثوبان نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
“ہاں مگر مجھے وہ خاص پسند نہیں آیا تو میں نے انہیں واپس کردیا اور انہیں بتا دیا کہ میں ثوبی کے ساتھ جا کر لے لوں گی”
سیرت نے نراٹھے پن سے اسے اپنا کارنامہ بتایا
“سیرت مما کا دل رکھنے کے لئے ان سے لے لیتی تمہارے لئے اتنا پسند کر کے لے کر آئی تھی۔۔۔ بے شک نہ پہنتی مگر انہیں واپس تو نہ کرتی
ثوبان نے اسے افسوس سے دیکھتے ہوئے کہا
“ہر ایک کا دل کا خیال بس میں ہی یہاں پر رکھو اور میرے دل کا کیا ہے۔۔۔۔ تم بھی تو بس اپنے گھر والوں کا سوچتے ہو ہر وقت،، ان سب کے آگے تو، میں تمہیں نظر ہی نہیں آتی”
سیرت نے برا مناتے ہوئے کہا اس کا موڈ اچانک خراب ہوچکا تھا
“کس کے دل کا خیال رکھا ہے تم نے سیرت۔۔۔ ابھی مما کو ڈریس واپس کرنے کا کارنامہ تم نے خود مجھے بتایا۔۔۔ میں جب شاپنگ کے لئے مما اور رنعم کو لے کر جا رہا تھا،،، رنعم تم سے بھی پوچھنے آئی تھی تو تم نے ان لوگوں کے ساتھ جانے سے کیوں انکار کردیا”
ثوبان بھی ماتھے پر شکنیں لیے اس سے شکوہ کیا
“تم رنعم کو اکیلے فرنیچر سلیکٹ کرنے کے لئے لے کر گئے،، مجھ سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا پھر میں کیوں پورے ٹبر کے ساتھ شاپنگ کرنے جاتی اس لیے منع کردیا میں نے”
سیرت بغیر لحاظ کیے ثوبان سے بولی
“شادی رنعم کی ہو رہی ہے فرنیچر اس کو یوز کرنا ہے تو میں اپنے ساتھ اسی کو لے کر جاو گا۔۔۔۔ اگر تمہیں بھی ساتھ چلنا تھا تو چلتی،، منع کس نے کیا تھا مگر میرا نہیں خیال کہ رنعم کے فرنیچر کے لئے خاص طور پر تمہیں چلنے کا انویٹیشن دیا جاتا اور جنھیں تم ٹبر کہہ رہی ہو وہ تمہاری ماں اور بہن ہے اس لیے آئندہ کچھ بھی بولتے ہوئے لینگویج سوچ سمجھ کر یوز کرنا”
ثوبان نے سنجیدگی سے اور سخت لہجے میں سیرت کو باور کرایا جس پر سیرت کو مزید پتنگے لگے
“بھاڑ میں جاؤ تم اور سب لوگ۔۔۔ اب میں کبھی تم سے شاپنگ کا نہیں کہو گی اور کیوکہ میرے پاس بارات کے ایوینٹ کا ڈریس نہیں ہے اس لیے میں بارات میں شرکت بھی نہیں کروں گی”
سیرت منہ بنا کر اسے دھمکاتی ہوئی روم سے نکل گئی ثوبان اس کی باتوں پر سر جھٹک کر رہ گیا
“بھیا آپی کو کیا ہوا ہے”
رنعم نے ثوبان کے روم میں آکر اس سے پوچھا کیوکہ رنعم چائے لے کر ثوبان کے روم میں آ رہی تھی تو سیرت نن فن کرتی ہوئی اس کے روم سے نکل رہی تھی
“نئی بات نہیں ہے،، اکثر اسی طرح اسے بچپن سے ہی جن چڑھ جاتے ہیں۔۔۔ تھوڑی دیر میں خود ہی سیٹ ہو جائے گی۔۔۔ تم ایسا کرو مما سے کہہ کر بابا کا کھانا ریڈی کروا دو انہیں کھانا کھلا کر،،، مجھے سیرت کے ساتھ باہر جانا ہے اس کی ایک دو چیزیں رہ گئی تھی” ثوبان چائے کا کپ رنعم سے لے کر سپ لیتے ہوئے اس سے بولا
رنعم اچھا کہتی ہوئی روم سے باہر نکل گئی
****
موڈ ٹھیک کرو سیرت اپنا،،، ایسی کوئی خاص بات نہیں ہوئی ہے جس کا ایشو بنا کر اس طرح منہ بنایا جائے” ڈرائیونگ کے دوران ثوبان نے سیرت کا ہاتھ تھاما تو سیرت نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تب ہی بھی ثوبان سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ اس کو منا کر۔۔۔ سوری کہہ کر برات کے لئے اسکو ڈریس دلانے لے جا رہا تھا
موڈ صرف میرا ہی تمہارا بھی خراب ہے منہ صرف میرا ہی نہیں تھوڑی دیر پہلے تمہارا بھی بنا ہوا تھا مجھے لگتا ہے میری تو کوئی ویلیو ہی نہیں ہے” سیرت نے اس کو دیکھتے ہوئے دوبارہ شکوہ کیا۔۔۔ جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی اسے یہی لگتا تھا کہ ثوبان صرف گھر والوں کو ہی ٹائم دیتا ہے۔۔۔ وہ اسے یہاں لاکر بھول گیا ہے
“دوبارہ فضول باتیں شروع کرنے کیا مطلب،،، سیرت تمہاری ویلیو نہیں ہوتی تو اتنی تھکن کے باوجود تمہیں یہاں لے کر نہیں آتا”
وہ آج شام میں گھر لوٹا تو کافی تھکا ہوا تھا۔۔۔ آج اس کا گھر میں ریسٹ کرنے کا ارادہ تھا مگر سیرت کی ناراضگی کو خاطر میں لاتے ہوئے وہ اسکو ڈریس دلانے کے لئے لے کر آگیا
“بہت بہت شکریہ آپ کا ایس پی ثوبان احمد جو آپ نے مجھ ناچیز کی خاطر،، اپنی تھکن کو نظر انداز کرتے ہوئے مجھے یہاں لے کر آئے۔۔۔ بندی اس احسان کا بدلہ واقعی نہیں چکا سکتی”
اس کے تازہ تازہ طنز پر ثوبان کھل کر ہنسا
“ایس پی ثوبان احمد اس ناچیز بندی سے آج رات کو، اس احسان کا بدلا لینے کا اور اپنی تھکن اتارنے کا پورا ارادہ رکھتا ہے”
وہ ڈرائیونگ کے دوران سیرت کی طرف دیکھتا ہوا کہنے لگا اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر سیرت بلش کر گئی
“چھچھورپن کے مظاہرے ذرا کم کیا کرو، سامنے دیکھ کر کار چلاؤ کہیں ٹکرا ہی نہ دینا”
ثوبان کی نظروں سے کنفیوز ہو کر سیرت نے جھینپتے ہوئے کہا جبکہ ثوبان مسکرا کر سامنے دیکھنے لگا
ایک بوتیک میں جاکر سیرت نے دس سے پندرہ ڈریس ٹرائے کیے مگر ثوبان ہر ڈریس میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتا۔۔۔ کافی دیر بعد ثوبان کو ایک ڈریس صرف “صحیح” لگا جسے سیرت نے پہلی فرصت میں خرید لیا
