504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 51)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“دیکھیے میں آپ کو پچھلے بیس منٹ سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں ہم نے ایس۔پی ثوبان احمد کے آرڈرز کو فالو کرتے ہوئے کاشان کو حراست میں لیا ہے وہ ایک ذمہ دار آفیسر ہیں، اچھی پوسٹ پر فائز ہیں وہ بناء کسی وجہ کے ہمہیں اس طرح آریسٹ آرڈر نہیں دے سکتے”

انسپیکٹر جواد کافی دیر سے اپنے سامنے بیٹھے وکیل کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا جو کہ کاشان کی ضمانت کے لیے آیا تھا

“تو میں بھی آپ سے کاشان احمد کا جرم پوچھ رہا ہوں آخر کس جرم کی سزا کے بناء پر،، میرا کلائنٹ پچھلے 5 گھنٹے سے جیل میں سڑ رہا ہے۔۔۔ دیکھیئے انسپیکٹر جواد قانون آپ بھی پڑے ہوئے ہیں اور قانون کے قوانین سے میں بھی لاعلم نہیں۔۔۔ آپ بغیر کسی جرم کے عام شہری کو اس طرح لاک اپ میں بند نہیں کر سکتے یا تو آپ میری ابھی اور اسی وقت ثوبان احمد سے بات کرائے یا پھر میں آپ کی کمیشنر حشمت اللہ صاحب سے بات کراتا ہوں”

اب کے وکیل نے ذرا سختی سے جواد کو دھمکی دی

“خاور سر ثوبان نے فون اٹھایا”

جواد نے کانسٹیبل سے پوچھا جو کہ پچھلے دس منٹ سے ثوبان کا نمبر ٹرائی کر رہا تھا مگر دوسری طرف بیلز جا رہی تھی

“نہیں سر کافی دیر سے ٹرائی کر رہا ہوں مگر بیلز جا رہی ہیں”

کانسٹیبل نے جواد کو جواب دیا

“جاؤ کاشی کو لے کر آؤ”

ثوبان فون نہیں اٹھا رہا تھا اور دوسری طرف جواد کے پاس ارڈر پرچے کی صورت موجود نہیں تھے وکیل کی کمیشنر کی دھمکی کام کر گئی اس لیے جواد نے فوراً کانسٹیبل سے کاشی کو لانے کے لئے کہا۔۔۔ کاشان باہر آیا اور خونخوار نظروں سے جواد کو دیکھنے لگا

وکیل نے اپنا تعارف کروایا اور بیل کے پیپرز پر کاشان کے سائن لیے۔۔۔ بیل والے کا نام دیکھ کر کاشان چونکا۔۔۔ اپنا والٹ اور موبائل پولیس کی تحویل سے لے کر والٹ میں اپنے پیسے چیک کرتا ہوا وہ باہر نکلا

****

“رنعم”

بیل بجانے پر جب رنعم نے دروازہ نہیں کھولا تو کاشان چابی کی مدد سے دروازہ کھولتا ہوا اندر آیا اور رنعم کو پکارا

رنعم کی پکار کے ساتھ اس نے سارے کمرے چیک کیے مگر رنعم گھر پر موجود نہیں تھی ڈائننگ ہال میں آ کر بے ساختہ اس کی نظر ٹیبل پر پڑی وہاں پر گھر کی چابیوں کے ساتھ رنعم کی رینگ رکھی ہوئی تھی کاشان کو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا

پہلے وہ سمجھا کہ اسے شیرا کے چکر میں ثوبان نے انسپکٹر کو اریسٹ کرنے کے آرڈر دیئے ہیں۔۔۔۔ جواد سے دو بار اپنا جرم پوچھنے پر بھی اس نے اتنا کہا کہ تمہیں اپنا جرم خود معلوم ہے

گھر میں رنعم کی غیر موجودگی اور اس کی پہنائی ہوئی رینگ کی ٹیبل پر موجودگی کاشان کو کافی کچھ سمجھا گئی

“رنعم”

رینگ کو مٹھی میں دبوچے وہ دانت پیستا ہوا بولا۔۔۔ گھڑی اس وقت رات کا ایک بجا رہی تھی اس نے اپنے موبائل سے رنعم کا نمبر ملایا مگر اس کا نمبر سوئچ آف تھا کاشان نے ٹیبل پر زور سے مُکا مارا

کاشان نے سیرت کا نمبر ٹرائی کیا جو کہ دوسری بیل پر اٹھا لیا گیا

“کاشی تم”

سیرت نے حیرت سے پوچھا کیوکہ ثوبان نے بتایا تھا کہ وہ لاک اپ ہے پھر وہ فون کیسے کر سکتا ہے

“رنعم کہاں ہے سیرت”

کاشان نے اس کی آواز سن کر پہلا سوال کیا

“کیوں ہاتھ میں کھجلی ہو رہی ہے کوئی پٹنے والا موجود نہیں ہے تمہارے پاس”

کاشان نے رنعم کا نام لیا تو سیرت کو بہت کچھ یاد آیا وہ تلخی سے بولی دوسری طرف کاشان سارا معاملہ سمجھ گیا اسے رنعم پر بہت غصہ آیا

“اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھ کر بات کرو”

کاشان آج پہلے ہی غصے میں تھا سیرت کا یوں بولنا اسے مزید غصہ دلا گیا

“تم اپنے ہاتھ کنٹرول میں نہیں رکھو اور مجھے زبان کو کنٹرول میں رکھنے کا کہہ رہے ہو”

سیرت نے طنزیہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا

“میں تمہارا ثوبی کی وجہ سے لحاظ کررہا ہو سیرت۔۔۔۔ میں رنعم کو لینے آ رہا ہوں۔۔۔ اس سے کہو ریڈی ہو جائے”

کاشان نے سیرت سے زیادہ بات کرنا مناسب نہیں سمجھا اب اسے جو بھی کچھ پوچھنا تھا اپنی بیوی سے پوچھنا تھا

“مگر میرا دل نہیں چاہ رہا کہ میں ثوبی کی وجہ سے تمہارا لحاظ کر اور غلطی سے بھی یہاں آنے کی کوشش مت کرنا کاشی،،، اگر تم اپنا گھر بستا ہوا دیکھنا چاہتے ہو تو۔۔۔ کیوکہ رنعم کا بھائی اس وقت بہت غصے میں ہے کہیں وہ کھڑے کھڑے تم سے اسے طلاق ہی دلوا دے”

سیرت نے استزائیہ ہنستے ہوئے کہا اور اپنے برابر میں سوئے ہوئے ثوبان کو دیکھا

“تم مجھے ثوبی کا نام لے کر ڈرا نہیں سکتی ہو،، رنعم بیوی ہے میری۔۔۔ میں اس پر حق رکھتا ہوں کسی کے کہنے سے اگر میں اسے طلاق دوں گا تو یہ بھول ہے تم سب کی۔۔۔ سارے اختیارات رکھتا ہو اس پر”

اس نے سیرت کی خوش فہمی کو دور کرنا چاہا

“اختیارات کا ہی تو غلط استعمال کر بیٹھے ہو تم کاشی،، اگر حق رکھتے ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرو۔۔۔۔ ہم نے اسے تمہارے نکاح میں بیوی بنا کر دیا تھا اور تم نے اسے زرخرید غلام سمجھ لیا۔۔۔ شرم نہیں آئی تمہیں اس معصوم پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے”

سیرت اب اپنے اندر بھرا ہوا غصہ کاشان پر باتوں کی صورت نکالنے لگی

“اور کیا کیا بکواس کی ہے اس نے میرے متعلق”

کاشان کو سیرت کی باتیں شرمندگی دلانے کی بجائے مزید غصہ دلانے لگی

“تم نے جو جو گل کھلائے ہیں ناں وہ سب میں نے اس سے پوچھا ہے۔۔۔ تمہاری ساری کارستانیوں سے واقف ہوں میں۔۔۔ بیوی پر ہاتھ اٹھانا اسے ڈرانا دھمکانا۔۔۔ کہاں کی مردانگی ہے یہ کاشی”

سیرت اس سے غصے میں پوچھنے لگی

“بس تمہارے سامنے وہ مظلومیت کا رونا رو کر وہ مظلوم بن گئی۔۔۔ میں نے اسے ڈرایا دھمکایا مارا۔۔ یہ سب میں نے کیوں کیا۔۔۔ اس نے یہ نہیں بتایا تمہیں”

کاشان سیرت سے غصے میں بولنے لگا

“اگر رنعم بغیر آستین کے کپڑے پہنتی ہے۔۔۔۔ تو وہ شادی سے پہلے بھی پہنتی تھی کیا اس وقت تمہارے پاس آنکھیں موجود نہیں تھی۔۔۔۔ اگر اتنی ہی اس کی ڈریسنگ بری لگتی ہے تو پھر کر لیتے ناں کسی برقع والی سے شادی۔۔۔۔ تم نے سگریٹ سے اس کا ہاتھ جلا دیا،،، ویسے تو بڑا پیار کرتے ہو تمہیں ترس نہیں آیا اس کا ہاتھ جلاتے ہوئے۔۔۔ اگر باہر لڑکے کچھ بول رہے ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ گھر آکر بیوی کو مارنا شروع کر دو۔۔۔۔ ضروری نہیں کہ دوپٹہ نہ ہو تو لڑکے بکواس کر رہے ہو،، بغیرت لڑکے تو عبایا پہننے والی اور نقاب کرنے والی لڑکیوں کو بھی چھوڑتے ان پر بھی جملے کس رہے ہوتے ہیں تو کیا مطلب ہے اس بات کا بندہ ان لڑکیوں کو بھی مارنا شروع کردے جو اپنا چہرہ چھپاتی ہیں۔۔۔۔ کاشی ایک مرد کی مردانگی کا اندازہ اس بات سے ہرگز نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ عورت پر روعب میں ڈرا دھمکا کر رکھے،، نہ ہی اللہ نے مرد کا بلند درجہ اس لیے رکھا ہے کہ وہ اس کا غلط استعمال کرے۔۔۔ یہ تم جیسے مرد ہیں جو عورت کو پیر کی جوتی سمجھتے ہیں وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں تمہیں پیدا کرنے والی بھی ایک عورت ہے”

سیرت جب بولتے بولتے تھک گئی تو کال کاٹ دی جبکہ دوسری طرف کاشان موبائل ہاتھ میں پکڑا کافی دیر تک ویسے ہی بیٹھا رہا

*****

“آج تو کوئی بہت ہی خاص دن ہے جو آپ مجھ سے ملنے اسپیشلی میرے گھر پر آئے ہیں”

تھوڑی دیر پہلے مایا کو اس کی نوکرانی نے خبر دی کہ کوئی کاشان صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔ اتفاق سے مایا کی نوکرانی شاہدہ(یسریٰ کی نوکرانی) کی بہن تھی جس سے مایا کو سن گن پڑی کہ کاشان کی بیوی روتی ہوئی ثوبان کے پاس آگئی۔۔۔ کاشان کی امد کی خبر سنتے ہی مایا ڈرائنگ روم میں پہنچی تو وہاں پر کاشان کو اپنا منتظر پایا

“میرے لیے تو یہ دن کو خاص اسپیشل نہیں،، خیر میں اسپیشلی آپ سے اس وجہ سے ملنے آیا ہوں کیوکہ آپ آج آفس نہیں آئی اور میرے یہاں پر آنے کی وجہ یہ ہے کہ میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے میری بیل کرائی

کاشان نے مایا کو اپنے آنے کا مقصد بتایا اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا

“کاشان کیا میں آپ سے پوچھ سکتی ہوں کہ ثوبان نے آپ کے ساتھ ایسا کیوں کیا”

اس کو جاتا ہوا دیکھ کر مایا نے اسے مخاطب کیا

“نہیں پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے میرا مطلب ہے یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے”

کاشان ایک دم سنمبھل کر بولتا ہوا مایا کو دیکھنے لگا

“اگر آپس کا معاملہ ہے تو یقیناً آپ کی وائف بھی انولو ہوگی اس معاملے میں۔۔۔ کہیں اس کے کچھ کہنے پر تو ثوبان نے۔۔۔ میرا مطلب ہے”

مایا نے اپنا دماغ لڑاتے ہوئے کاشان کو دیکھ کر بات ادھوری چھوڑی

“میم میں نے پہلے ہی بتایا ہے آپ کو کہ میں اپنے پرسنل ایشوز کسی دوسرے سے ڈسکس نہیں کرتا۔۔۔ اپنے یہاں آنے کا مقصد میں آپ کو بتا چکا ہوں اب آپ اجازت دیں”

کاشان مایا کو دیکھتا ہوا بولا اور واپس جانے لگا تبھی مایا نے اس کا بازو پکڑا

“ایک منٹ کاشان میری بات سنئیے”

کاشان نے ایک نظر اپنے بازو پر مایا کا ہاتھ دیکھا

“اب بولیے”

وہ اس کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتا ہوا بولا

“مجھے نہیں معلوم کاشان آپ کا اور آپ کی وائف کا ایک دوسرے سے کیسا ریلیشن ہے مگر جہاں تک مجھے علم ہے آپ کی وائف اس وقت ثوبان کے گھر پر موجود ہے۔۔ آئی ڈونٹ نو ایسی کیا بات ہوئی جس کی وجہ سے ثوبان نے آپ کو اریسٹ کیا یقیناً رنعم کے کہنے پر ہی اس نے ایسا کیا ہوگا کیا آپ ایسی وائف ڈیزرو کرتے ہیں جو ٹپیکل عورتوں کی طرح میکے میں جاکر بیٹھ جائے اور اپنے شوہر کی برائیاں کرے،، اپنے گھر والوں کے سامنے اپنی مظلومیت کا رونا روئے اور ایک کی چار لگائے آپ کی وائف ایک آپر کلاس فیملی سے بی لانگ کرنے کے باوجود مجھے اک ٹیپیکل سوچ رکھنے والی لڑکی لگتی ہے مجھے پوری ہمدردی ہے آپ سے”

مایا کی پوری بکواس وہ ضبط کر کے خاموشی سے سنتا رہا۔۔۔ مایا کے چپ کرنے پر وہ بولا

“آپ نے میری برین واشنگ میں اپنا قیمتی وقت ضائع کیا میم رنعم میری بیوی ہے کسی تھرڈ پرسن کے باتوں میں آکر میرے دل میں اس کے لیے بدگمنانی نہیں آسکتی یہ آپ نے ٹھیک کہا کہ وہ ایک آپر کلاس فیملی سے بی لانگ کرنے کے باوجود ویسی نہیں ہے بلکہ ایک سادہ سی لڑکی ہے جو شوہر کی ہر بات ماننے سے لے کر اپنے آپ کو شوہر کی پسند میں ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔۔۔ آج کل کے دور میں واقعی کوئی لڑکی اتنی سیدھی نہیں ہوسکتی جتنی میری بیوی۔۔۔۔ اور اسے یہی بات دوسری سب لڑکیوں سے منفرد بناتی ہے۔۔۔ اس نے اپنے گھر والوں کو کیا بتایا کیا نہیں یا ایک کی چار لگائی ان سب باتوں کی فکر کرنے کی یا پھر مجھ سے ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ میں اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہوں،، ہر دوسرے میاں بیوی کی طرح میرا میری بیوی کا ہیلدی ریلیشن ہے اور میں یہاں سے ثوبان کے پاس ہی جا رہا ہوں اپنی وائف کو لینے کے لئے”

کاشان کی باتیں سن کر مایا کا چہرہ ایک دم تاریک ہوگیا اسے اپنی ساری محنت بےکار لگی اسے تو لگتا تھا چند مہینوں کے بعد کاشان کا اپنی بیوی کے حسن سے اور میرڈ لائف سے دل بھر جائے گا اور وہ اسے اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجائے گی مگر ابھی بھی اسے اپنی دال گلنا مشکل لگ رہی تھی۔۔۔ کاشان ایک بار پھر جانے لگا مایا اس کے سامنے آئی

“کاشان آج مجھے بتا کر جاو رنعم میں آخر ایسا کیا ہے جو میرے پاس نہیں ہے۔۔۔ خوبصورت میں بھی ہو،، تمہیں وہ سب کچھ میں بھی دے سکتی ہوں جو تمہاری بیوی کے پاس ہے”

مایا نے بولنے کے ساتھ ہی اپنے شرٹ کے بٹن کھولے کاشان نے غصے میں اس کو دیکھا اور زور دار تھپڑ مایا کے منہ پر رسید کیا۔۔۔ جس سے وہ ساتھ والے صوفے پر گری

“بات صرف خوبصورتی کی نہیں ہے مایا، رنعم میں خوبصورتی کے علاوہ شرم و حیا بھی موجود ہے جو تمہیں چھو کر بھی نہیں گزری۔۔۔۔ تم نے ایک دفعہ پہلے بھی اپنا اور رنعم کا موازنہ کیا تھا۔۔۔ آج میں تمہیں اپنی سوچ اور تمہاری اوقات بتاتا ہوں۔۔۔ میری نظر میں تم ایک کال گرل سے بھی زیادہ گری ہوئی لڑکی ہوں۔۔۔ جس پر میں دیکھنا تو دور کی بات تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتا تم جیسی تھرڈ کلاس عورتیں ہوتی ہیں جو کہ دوسری عورتوں کا گھر برباد کرتی ہیں۔۔۔ تم نے شاید مجھے دوسرے کی مردوں کی کیٹگری میں لے لیا ہے جو گھر میں بیوی موجود ہونے کے بعد آفس میں دوسری عورتوں سے چکر چلا رہے ہوتے ہیں یا اپنا دل بہلا رہے ہوتے ہیں۔۔۔ جیسے ہر عورت کریکٹر لیس نہیں ہوتی ویسے ہر مرد بھی کریکٹر لیس نہیں ہوتا مگر میری تازہ رائے تمہارے بارے میں یہ ہے کہ تم ایک گھٹیا کسی کی اہنچھی لڑکی ہو اور تمہاری جیسی لڑکیوں کی وجہ سے باپ بھائی شوہر غیرت کے نام پر اپنی بیوی بہن بیٹی کا قتل کر دیتے ہیں،، تف ہے تمہارے جیسی لڑکی پر”

کاشان اس کو بولتا ہوا اس کے گھر سے نکل گیا مایا اپنے سرخ گال پر ہاتھ رکھے یہ سوچ رہی تھی کہ کاشان اسے آج کون سا آئینہ دیکھا گیا