504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 4)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“فیاض (فائزہ کا بہنوئی) کیوں آیا تھا میرے گھر پر”

جب سے کاشان نے افتخار کا گریبان پکڑ کر اسے دھمکایا تھا تب سے وہ فائزہ کے منہ زرا کم ہی لگتا تھا بلکہ زیادہ تر اب وہ گھر سے باہر رہنے لگا تھا دو دو دن بعد اس کا گھر آنا ہوتا تھا مگر اس کی فکر نہ فائزہ کو تھی نہ ثوبان اور کاشان کو کیوکہ اس کے گھر میں نہ ہونے سے کم از کم گھر میں سکون ہوتا تھا

اس وقت کاشان اور ثوبان اسکول گئے ہوئے تھی تبھی افتخار گھر میں آیا اور اپنے گھر سے نکلتے ہوئے فیاض کو دیکھ کر فائزہ سے اس کے آنے کا سبب پوچھنے لگا

“خیر خیریت معلوم کرنے آیا تھا”

فائزہ نے اس کو سرسری سے جواب دیا تاکہ دوسری کسی بات کو لے کر دوبارہ جھگڑا شروع نہ ہو جائے جبکہ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ اس کو کھری کھری سنائے آج مہینے کی 15تاریخ ہو گئی تھی مگر ابھی تک افتخار نے گھر میں راشن اور خرچے کے پیسے نہیں دیے تھے۔۔۔۔ وہ کپڑوں کی سلائی کر کے چھوٹا موٹا سامان ثوبان یا کاشان سے منگوا لیتی،،، بہن سے اپنا دل کا بوجھ ہلکا کیا تو فائزہ کی بہن نے اسے پریشان دیکھ کر تھوڑا بہت راشن گھر میں ڈلوا دیا تاکہ بچے اور فائدہ بھوکا نہ رہے اور ایسا پہلی بار بھی نہیں ہوا تھا جب اس کے بہنوئی نے مدد نہ کی ہو۔۔۔۔ اکثر افتخار لڑائی جھگڑوں میں اس کے گھر والوں کو کھینچتا تو فائزہ بھی اپنے بہنوئی کی مدد کا طعنہ ضرور دیتی

“بڑی خیر خیریت معلوم ہورہی ہے بڑی خاطر داریاں ہورہی ہیں”

افتخار نے شربت کا خالی گلاس اٹھا کر اس پر طنز کیا

“کوئی مہمان گھر میں آتا ہے تو اس کی تواضع کی جاتی ہے سوکھے منہ مہمانوں کو کون بھیجتا ہے،، گلاس دو تاکہ دھو کر رکھو پھر ایک جوڑا بھی سینا ہے مجھے”

فائزہ نے تحمل سے بات کرتے ہوئے اسے گلاس لینا چاہتا

“ہاں ہاں تو، تو بڑی مہمان نواز ہے ہر آنے والے کا دل خوش کرتی ہے چل آج اپنے شوہر کا بھی دل خوش کر دے” افتخار نے فائزہ کا دوپٹہ اتار کر اسے چارپائی پر دھکا دیتے ہوئے کہا

“یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم، تمہیں شرم آنی چاہیے اپنی بیوی پر ایسا گھٹیا الزام لگاتے ہوئے،، اپنی ساری تنخواہ تو جوئے اور نشے میں اڑا کر آرہے ہو بیوی اور بچوں کی پروا نہیں وہ جیئے یا مریں۔ ۔۔۔ راشن ڈلوانے آیا تھا وہ تاکہ ہمارا کچھ بھلا ہو جائے اور تم اتنی گری ہوئی بات کر رہے ہو تف ہے تمہارے جیسے انسان پر”

فائزہ چیختے ہوئے اٹھنے لگی اور اپنا دوپٹہ اس سے لینا چاہا

“چل نہ غصہ تھوک،، اب جیسے مجھے تو کچھ پتہ ہی نہیں ہے تیرا اور فیاض کا چکر،، مدد کی آڑ میں وہ کیا کیا وصولتا ہوگا تجھ سے بدلے میں، میں کونسا برا مان رہا ہوں بس یہی کہہ رہا ہوں آج مجھے بھی خوش کر دے جیسے روز روز اپنے یار کو خوش کرتی ہے”

افتخار نے اس کا دوپٹہ نیچے پھینکا اور دوبارہ فائزہ کو تخت پر دھکا دیتے ہوئے اس پر جھکا

“پیچھے ہٹ جاؤ افتخار کرائیت آتی ہے مجھے تم جیسے مرد سے مار ڈالوں گی نہیں تو میں تمہیں”

افتخار فائزہ کے اوپرجھکا ہوا تھا فائدہ مسلسل چیختی ہوئی اسے پیچھے ہٹا رہی تھی اسے افتخار کی سوچ سے گھن آ رہی تھی اور اب افتخار سے بھی کھینچا تانی میں وہ اسکی قمیص پھاڑ چکا تھا۔۔۔ جب فائزہ کو کچھ نہیں سوجھا تو سامنے میز پر موجود اسٹیل کا گلاس فائزہ نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا اور پوری قوت سے افتخار کے سر پر مارا

“آآآآ افتخار درد سے بلبلاتا ہوا پیچھے ہٹا اور فائزہ کے منہ پر تھپڑوں کی بارش شروع کردی

“کمینی، الو کی پٹھی شوہر سے کرائیت آرہی ہے اور غیر مردوں کے ساتھ لیٹتے ہوئے کرائیت نہیں آتی تجھے” افتخار اب اسے مسلسل گالیاں دیتا ہوا مار رہا تھا

“کمینے، الو کے پٹھے تم ہو جو اپنی پاکبازی بیوی پر الزام لگا رہے ہو، نہیں رہوں گی اب میں تمہارے ساتھ مر جاؤ تم کہیں جاکر”

فائزہ اسے پیچھے دھکیلتی ہوئی چارپائی سے اتر کر روتی ہوئی اپنا دوپٹہ گلے میں ڈالا ویسے ہی افتخار نے پیچھے سے آ کر دوپٹہ سے اس کا گلا گھوٹنا شروع کر دیا

“چھلتر باز عورت، خود گندے کام کرتی ہے اور مجھے گالی دیتی ہے تجھے نہیں رہنا میرے ساتھ، تو مجھے بھی نہیں رکھنا تجھے اپنے گھر میں”

وہ مسلسل اس کا گلا دوپٹے کی مدد سے پوری قوت سے گھوٹتا ہوا بولا

فائزہ کا ہاتھ پاوں چلانا کچھ کام نہیں آیا وہ مسلسل گلے سے عجیب سی آوازیں نکال کر اپنے بچاؤ کے لئے افتخار کا منہ اور بال نوچ رہی تھی مگر افتخار پر بھی ایک جنون طاری تھا تکلیف سے اب فائزہ کی آنکھیں باہر آنے لگی آنکھوں سے پانی کے بعد اب اس کے منہ سے اور ناک سے خون نکلنا شروع ہوگیا ہاتھوں میں موجود حرکت کی تیزی، کم ہوتے ہوتے ختم ہوگئی اور گردن ایک طرف لڑھک گئی

****

“ثوبی کاشی جلدی اپنے گھر جاؤ تمہارا باپ تمہاری ماں کو بری طرح مار رہا ہے پڑوس والے نے تو پولیس کو فون کرکے بلا لیا ہے”

ثوبان اور کاشان جو کہ اسکول سے گھر لوٹ رہے تھے بھاگتی ہوئی سیرت ان کے پاس آئی اور پھولی ہوئی سانس کے ساتھ ان دونوں کو بتانے لگی اس کی بات مکمل بھی نہیں ہو پائی تھی کہ ثوبان اور کاشان نے گھر کی طرف بھاگنا شروع کر دیا ان کے گھر کے آگے کافی رش لگا ہوا تھا

“بیٹا اندر نہیں جاؤ تم دونوں”

شاید کسی محلے کے آدمی نے ان دونوں کو کہا مگر وہ دونوں ہی گھر کے اندر داخل ہوئے زمین پیروں کے نیچے سے نکلنے کو تھی فائزہ کا بے جان وجود صحن کے بیچوں بیچ پڑا ہوا تھا اس کے کپڑے پھٹے ہوئے اور بال بکھرے ہوئے تھے ناک اور منہ سے نکلتا ہوا خون خشک ہوگیا تھا اور آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھی۔۔۔۔ اس کے پاس دیوار سے لگا ہوا افتخار بیٹھا مسلسل خوفزدہ نظروں سے فائزہ کو دیکھ رہا تھا

“امی”

وہ دونوں آگے بڑھ کر فائزہ کے بےجان وجوہ سے لپٹ کر رونے لگے۔۔۔ ثوبان نے روتے ہوئے آگے بڑھ کر چارپائی سے چادر اتار کر فائزہ کے نیم عریاں بدن پر ڈالی جب کہ کاشان آنکھوں میں غصہ لیے افتخار کو دیکھ رہا تھا

“نہیں میں نے نہیں مارا اسے،، یہ بدکردار تھی تیرے خالو سے چکر تھا اسکا”

کاشان کو ہاتھ میں ڈنڈا اٹھائے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر افتخار گھبراتا ہوا اس سے کہنے لگا

“میں نے کہا تھا نہ اگلی بار امی پر ہاتھ اٹھایا تو میں تمہیں مار دوں گا تم نے جان سے ہی مار دیا میری ماں کو”

کاشان ڈنڈے سے ایک کے بعد ایک ضربیں اپنے باپ کے سر پر لگاتا ہوا رو رہا تھا ثوبان جو کہ فائزہ سے لپٹا ہوا رو رہا تھا اس نے کاشان کے پاس آکر اسے روکنے کی بہت کوشش کی مگر آج اس پر بھی اپنے باپ کی طرح ایک جنون طاری تھا لگا تار پوری قوت سے ٨ سے ١٠ ضربیں ڈنڈے سے کاشان نے افتخار کے سر پر لگائی۔۔۔۔ گھر میں جب پولیس داخل ہوئی تو اس نے کاشان کو پیچھے ہٹایا

ایمبولینس کو فون کرکے بلایا گیا فائزہ کا مردہ وجود اور افتخار کا نیم مردہ وجود ایمبولنس میں ڈال کر اسپتال پہنچایا گیا جبکہ پولیس کاشان کو اپنے ساتھ لے گئی ثوبان روتا ہوا گھر میں تنہا رہ گیا

****

“ثوبی بریانی لائی ہو چلو دونوں مل کر کھاتے ہیں مل بانٹ کر کھانے سے محبت بڑھتی ہے”

سیرت ثوبان کے پاس آکر بولی آج پورا ایک ماہ گزر گیا تھا اس دلخراش واقعے کو گزرے ہوئے اس دن مسلسل سر پر ضربیں لگنے کی وجہ سے ایمبولینس میں ہسپتال جاتے ہوئے افتخار راستے میں دم توڑ گیا تھا جس کی وجہ سے کاشان پر قتل کا مقدمہ دائر ہو گیا مگر بچہ ہونے کی وجہ سے اور حالات اور واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے اسے 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی اس طرح اس روز ثوبان نے اپنے ماں باپ کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کو بھی کھو دیا تھا۔۔۔ فائزہ کے انتقال پر محلے والوں کو بھی افسوس تھا اسی ہمدردی کی بناء پر چند دن تک کوئی نہ کوئی ثوبان کو ایک وقت کا کھانا دے جاتا مگر کب تک۔۔۔۔ اب اسے ہی کچھ ہمت کرنی تھی،،، پڑھائی اس کی ختم ہوگئی تھی مالک مکان کی کی ہمدردی اور رحمدلی کے باعث دو کمروں کا بوسیدہ مکان سر چھپانے کے لئے میئسر تھا مگر پیٹ کرنے کے لیے وہ کبھی کسی شاپ پر چند گھنٹے کے لئے بیٹھ جاتا تو ایک وقت دیہاڑی لگا کر اپنا پیٹ بھر لیتا زندگی اس کی پہلے ہی آسان نہیں تھی مگر اب گزارا اور بھی مشکل ہو گیا تھا

“کس کو بیوقوف بنا کر لوٹا ہے جو یہ بریانی لائی ہو۔۔۔ سیرت باز آجاؤ، لڑکی ہو تم۔۔۔ الٹا کسی دن لینے کے دینے پڑ گئے تو پچھتاؤ گی”

ثوبان تلخ ہوتا ہوا بولا وہ اتنا بڑا نہ تھا مگر سمجھ بوجھ رکھنے لگا تھا اس لیے سیرت کو سمجھاتے ہوئے بولا

“ایک تو میں تمہارے لئے کھانا لائی ہوں اوپر سے تم مجھے باتیں سنا رہے ہو اور یاد رکھنا سیرت صرف صورت سے معصوم ہے پچھتانے والی ہرگز نہیں، یقین نہیں آتا تو پنگا لے کر دیکھو تمہیں بھی مزہ چکھادو گی”

چھوٹی سی سیرت نے اپنی بڑی بڑی براون آنکھیں گھما کر بولی، ثوبان نے اس کی بات پر سر جھٹکا۔۔۔ وہ دو دن پہلے ہی کسی لڑکے کی ناک توڑ کر خون نکال چکی تھی جس نے ناصر اور اسے چور کہا تھا،،، وہ سیرت کی خوبیوں سے اچھی طرح واقف تھا اسے معلوم تھا وہ سچ بول رہی ہے

“کس کو ماموں بنا کر بریانی لائی ہو” ثوبان نے سیرت کو دیکھتے ہوئے پوچھا

ایک سخت دن گزارنے کے بعد جب سیرت اس کے پاس آتی تھی تو یہ وہ لمحہ ہوتا تھا تب وہ اپنی تلخیوں سے جان چھڑا کر اسے باتیں کرتا تھا مگر وہ بھی روز نہیں آتی تھی آج بھی وہ دو دن بعد اس کے گھر آئی تھی

“بریانی والا بےوقوف تھا میری معصوم شکل پر چلا گیا زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اسے الو بنانے میں مجھے لگتا ہے زیادہ دن اس کا کاروبار نہیں چلے گا ٹھپ ہو جائے گا،، خیر چھوڑو یہ بتاؤ کاشی سے ملاقات ہوئی تمہاری”

سیرت کچن سے دو پلیٹ میں بریانی لے کر آئی ایک پلیٹ ثوبان کے سامنے رکھتے ہوئے دوسری پلیٹ سے کھاتے ہوئے وہ پوچھنے لگی

“انسپیکٹر بہت لالچی ہے پیسے لیے بناء ملاقات نہیں کرواتا”

ایک دفعہ پھر اسے پچھتاوے نے ان گھیرا

“کل اسکول سے چھٹی کر کے میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں ابھی تو کھانا کھاؤ”

سیرت نے خود بھی بریانی سے انصاف کرتے ہوئے ثوبان سے کہا۔۔۔۔ جب کہ وہ اپنے سامنے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھنے لگا جو کہ پوری اماں بنے اسے تسلی دے رہی تھی

“تمہارے جانے سے بہتر ہے کہ میں خود بھی نہ جاؤ، پولیس والے کس قسم کے ہوتے ہیں یہ تمہیں نہیں معلوم۔۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے اسکول جاؤ اور اچھے کام سیکھو”

وہ اس کو اچھے کاموں کا مشورہ دیتے ہوئے خود اس کی چوری کی لائی بریانی کھانے لگا شاید بھوک ایسی چیز ہی ہوتی ہے

“مرضی ہے تمہاری بھئی”

وہ کندھے اچکا کر بولی ثوبان نے اس کو دیکھا اور خود بھی چپ کر کے کھانے میں مصروف ہوگیا