504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 28)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“یار اس کی باتوں کو اتنا سیریس لینے کی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی ہم نے تو صرف انجوائے منٹ کے لئے اپنا ہاتھ دکھایا تھا” سیرت نے خاموش چلتے ہوئے کاشان اور سہمی ہوئی رنعم کو دیکھ کر کہا

“اس بات کو تو تم دونوں بہنوں کو چاہیے اپنی عقل میں بٹھاؤ۔۔۔۔ یہ صرف لوگوں کو بیوقوف بنانے اور پیسے بٹورنے کے ذریعے ہیں،،، دل تو چاہ رہا تھا دوسرا قتل اس عورت کا ہی کردو”

کاشان کے بولنے پر رنعم نے بے ساختہ اس کو دیکھا

“اللہ نہ کرے کاشان آپ ایسی بدفعلیں منہ سے نہیں نکالیں کوئی بھی وقت قبولیت کا ہو سکتا ہے”

رنعم نے بے ساختہ کہا

“تم ڈر گئی ہو کیا یا تمہیں اس عورت کی بات سچ لگ رہی ہے کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں ایسا کر سکتا ہوں”

کاشان کے قدم رکے وہ رنعم کے سامنے آ کر اس سے پوچھنے لگا، سیرت ان دونوں کو دیکھنے لگی

“میرا ویسا تو مطلب نہیں تھا میں ایسا تو کچھ نہیں کہہ رہی کاشان”

رنعم نے کاشان کو وضاحت دینی چاہیے

“اوہو تم دونوں راستے میں کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ہو،، میں نے کہا نہ ہم نے صرف انٹرٹینمنٹ کے لئے ہاتھ دکھایا تھا۔۔۔ غیب کا علم تو صرف اللہ کو ہوتا ہے اس لیے یہ باتیں بے معنی ہیں۔۔۔ ہم تینوں میں سے ان باتوں کو کوئی دوبارہ ڈسکس نہیں کرے گا،، چلو اب چلتے ہیں کافی دیر بھی ہوگئی ہے”

سیرت نے ان دونوں کو سیریز دیکھ کر بیچ میں مداخلت کی تو کاشان شاپنگ بیگز ہاتھ میں پکڑے آگے چلنے لگا جبکہ سیرت اور رنعم باتیں کرتی ہوئی اس کے پیچھے آ رہی تھی

اچانک ایک لڑکا سامنے سے آیا جو جان بوجھ کر سیرت سے ٹکرایا

“آندھے ہو کیا دکھائی نہیں دیتا” سیرت کی آواز پر کاشان نے مڑ کر دیکھا

“واقعی اندھا ہو ورنہ تم سے نہیں اس سے ٹکراتا”

اس لڑکے نے خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رنعم کو دیکھ کر کہا جس پر سیرت نے اسے تھپڑ مارنا چاہا مگر اس لڑکے نے سیرت کا ہاتھ پکڑ لیا کاشان ان دونوں سے چند قدم آگے چل رہا تھا تبھی وہ لڑکا اکیلی لڑکیوں کو دیکھ کر مزید بدتمیزی پر اتر آیا

کاشان جو غصے میں اس لڑکے کی طرف آ رہا تھا،، اس لڑکے نے جونہی سیرت کے ہاتھ پکڑا کاشان نے ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگز پھینکے اس لڑکے کو گریبان پکڑ اس کے منہ پر مکّوں کی تعبڑ توڑ بارش کر دی۔۔۔۔ اس لڑکے کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر کاشان اسے مارتا ہی چلا گیا

“آپی آپ روکیے کاشان کو پلیز”

رنعم کاشان کا غصے دیکھ کر ڈر ہی گئی تھی وہ گھبرا کر سیرت سے کہنے لگی

“رک جاؤ تھوڑی دیر بعد روکوں گی۔۔ اس لڑکے کو ضرورت ہے پٹنے کی”

سیرت نارمل سے انداز میں بولی اور اس لڑکے درگت کاشان کے ہاتھوں سے بنتے ہوئے دیکھنے لگی

مگر جب وہ لڑکا نیچے گر گیا اور کاشان نے اسے تب بھی پیٹنا نہیں چھوڑا تو سیرت نے آگے بڑھ کر کاشان کو روکنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی ایک تو آدمی بیچ میں آگئے اور بیچ بچاؤ کروایا۔۔۔ سیرت کاشان کو بازو سے تھام کر گاڑی تک لائی

“تمہیں کیا چلنے کی دعوت دینی پڑے گی یا گود میں اٹھا کے لانا پڑے گا” کاشان نے پیچھے مڑ کر ڈری سہمی رنعم کو دیکھتے ہوئے کہا وہ فوراً تیز قدموں سے چلتی ہوئی ان دونوں کی طرف آئی اور سیرت کو اشارے سے کار میں آگے بیٹھنے کے لئے کہا کیونکہ اس وقت اسے کاشان کے غصے سے ڈر محسوس ہو رہا تھا

گھر پہنچ کر کاشان اپنے روم میں چلا گیا۔۔۔ سیرت اور رنعم میں سے کسی نے واپسی پر ہونے والی بدمزگی یا پالمسٹ والی بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا البتہ یسریٰ نے رنعم کی ناک میں بالی دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا کیوکہ جب وہ اسے ناک چھدانے کا کہتی تو رنعم انکار کر دیتی

****

“تمہاری یہ ہیرو گیری آج کچھ زیادہ ہی نہیں ہوگئی” کاشان اپنے روم کی کھڑکی کے پاس کھڑا ہوا سگریٹ پی رہا تھا تب سیرت اس کے روم میں آتی ہوئی بولی۔۔۔۔ کاشان سیرت کی آواز پر مڑا ایک نظر اس کو دیکھا اور دوبارہ اپنی سگریٹ پینے میں مشغول ہو گیا

“دکھاؤ اپنا ہاتھ جذباتی انسان”

سیرت نے اس کا چھلا ہوا ہاتھ پکڑا اس لڑکے کو مسلسل مارنے کے باعث اس کا اپنا ہاتھ بھی چھل گیا تھا

“ایسا کچھ بھی نہیں ہوا حالات میں اس سے زیادہ لوگوں کو پیٹا ہے اور پولیس کی لاٹھیاں کھائی ہیں”

وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر سنجیدگی سے بولنے لگا۔۔۔ اس لڑکے والی بات کو لے کر شاید اس کا موڈ اب تک خراب تھا

“لاتعداد پولیس کی لاٹھیوں کھائی ہیں” سیرت نے بھاری آواز نکال کر اس کی نقل اتاری

“بڑا ہی کوئی نیک کام کیا ہے جو یوں فخر سے بتا رہے ہو۔۔۔ چلو مانا ایسی سچویشن میں انسان کو غصہ آجاتا ہے اور وہ لنگور بھی ڈیزرو کرتا تھا صحیح ٹھکائی لگائی ہے اس کی تم نے مگر ایسا تھوڑی ہوتا ہے کہ انسان اپنا سلف کنٹرول ہی کو دے”

سیرت دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ میں موجود ٹیوب اس کے چھلے ہوئے ہاتھ پر لگاتے ہوئے بولی

“تو کیا کرتا پھر وہ تم سے بدتمیزی کر رہا تھا میں کھڑا دیکھتا رہتا”

دوبارہ ہاتھ چھوڑ کر وہ سگریٹ کا کش لگاتا ہوا بولا

“یہ کب کہہ رہی ہوں میں،، بس یہی تو سمجھا رہی ہوں، اتنا غصہ بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے معلوم ہے ناں رنعم کتنا ڈر گئی تھی اس وقت”

سیرت کی بات پر اس نے ایک نظر سیرت کو دیکھا اور دوبارہ سگریٹ پینے لگا

“اچھی باتیں ہے اسے ڈر کر ہی رہنا چاہیے ویسے بھی مجھے منہ زور اور زبان چلانے والی عورتیں پسند نہیں”

سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے اس نے سیرت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا

“اووو تو یوں کہو تمہیں ڈرنے والی اور دبنے والی بیوی چاہیے”

سیرت کو اس کی سوچ پر افسوس ہوا

“سب کی اپنی اپنی چوائس ہوتی ہے” سیرت کی بات پر کاشان نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا

“یعنی اپنی بہن کو ٹرینڈ کرنے کی ضرورت ہے مجھے” سیرت نے کاشان کو دیکھتے ہوئے بولا

“کوشش کر کے دیکھ لو اسے اپنے رنگ میں ڈھالنے کا ہنر میں خوب جانتا ہوں”

اب کے کاشان نے اپنے چہرے پر آئی مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے کہا

“کاشی پٹو گے تم مجھ سے واقعی کسی دن”

سیرت جانتی تھی وہ سب مذاق میں کہہ رہا ہے ورنہ اس کی باتوں میں اور آنکھوں میں رنعم کے لئے چھلکتی ہوئی چاہت وہ صاف محسوس کر سکتی تھی

“ویسے کاشی تم نے صحیح اس لنگور کی چھترول کی ہے۔۔۔۔ قسم سے اب تو وہ اپنی بیوی کو چھیڑتے ہوئے بھی سو بار سوچے گا” سیرت اپنی بات کہہ کر خود ہی زور سے ہنس دی کاشان بھی اس کی بات پر ہنسنے لگا

تب ہی بیڈروم کا دروازہ جو پہلے سے آدھا کھلا ہوا تھا، رنعم پورا کھول کر اندر آئی ان دونوں کو ایک ساتھ ہنستا دیکھ کر اس کی نظر کاشان کے ہاتھ پر گئی جس پر سیرت آئینمینٹ لگا چکی تھی کیونکہ سیرت کے ہاتھ میں ٹیوب بھی وہ دیکھ چکی تھی۔۔۔ اپنے ہاتھ میں تھامی ٹیوب وہ چھپا گئی

“اوکے چلتی ہوں میں”

سیرت کاشان کو کہتی ہوئی رنعم کو اسمائل دے کر روم سے نکل گئی

کاشان رنعم کے چہرے کے اتار چڑھاؤ نوٹ کر چکا تھا رنعم بھی کچھ کہے بغیر روم سے جانے لگی

“وہی رکو، دروازہ بند کرو اور واپس روم میں آؤ”

رنعم نے کمرے سے جانے کے لئے پر تولے، تو اپنے عقب سے کاشان کی آنے والی آواز پر اسے روکنا پڑا۔۔۔ وہ بیڈروم کا دروازہ بند کر کے کاشان کے پاس آئی۔ ۔۔۔

“اب بولو کیا کہنے آئی تھی”

رنعم کا بازو تھام کر اسے صوفے پر بیٹھا کر، خود کونے میں رکھی چیئر کو رنعم کے سامنے رکھ کر،، اس پر بیٹھتا ہوا کاشان اس سے پوچھنے لگا

“آج آپ کا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا تو یہ آئینٹمینٹ دینے آئی مگر آپی مجھ سے پہلے ہی آپ کے زخموں پر مرہم رکھ چکی ہے اس لیے واپس جا رہی تھی”

رنعم نظریں جھکائے اسے اپنے آنے کی وضاحت دے رہی تھی اور کاشان اس کی ناک میں سجے چاندی کا تار غور سے دیکھ رہا تھا جس کا آج ہی اسکے چہرے پر اضافہ ہوا تھا اور یہ چینج سامنے بیٹھے کاشان کو کافی اچھا لگ رہا تھا

“اتنی بے اعتباری آخر کیو ہے تمہیں،، اس دن ہوٹل میں مایا کو دیکھ کر بھی تم نے اوور ری ایکٹ کیا تھا۔۔۔ آج سیرت کو دیکھ کر بھی تم شک و شبہات میں گِھر رہی ہو۔۔۔ لگتا ہے اب تمہیں اعتبار دلانا ہی پڑے گا”

بولنے کے ساتھ ہی کاشان نے رنعم کی ناک میں ڈلا تار آئستہ سے کھینچا۔۔۔ جس پر رنعم کی ہلکی سی چیخ کے ساتھ ننھی سی خون کی اک بوند بھی ناک سے نکل آئی

“یہ کون سا طریقہ ہے اعتبار دلانے کا”

اپنی ناک پر ہاتھ رکھ کر وہ ایک دم کھڑی ہوئی۔۔۔ اس کو اٹھتا دیکھ کر کاشان بھی اٹھا اور رنعم کا ہاتھ ناک سے ہٹایا

“یہ اعتبار دلانے کی کوشش نہیں بلکہ تمہارے فضول سے شک کرنے کی سزا ہے اعتبار تو میں اب دلانے لگا ہو”

رنعم کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ اس کے گلابی ہونٹوں کو دیکھ کر بولا

“کاشان آپ کیا کرنے لگے ہیں”

رنعم نے گھبرائے ہوئے انداز میں اپنے دھڑکتے دل کے ساتھ کاشان سے پوچھا

“وہی کرنے لگا ہوں جو اس وقت تم سوچ رہی ہو”

اب اس کی تھوڑی کے نیچے اپنی انگلی ٹکا کر اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے اسے مزید خود سے قریب کر کے بولا

“پلیز ایسا نہیں کریں”

رنعم نے احتجاجاً کہا اس وقت وہ کاشان کی سانسوں میں بسی سگریٹ کی اسمیل محسوس کر سکتی تھی وہ کاشان کے اتنے قریب آنے پر بری طرح گھبرا گئی

“کیوں،، تمہیں اچھا نہیں لگے گا”

وہ رنعم کا چہرہ اونچا کیے،، قریب سے اسکا چہرہ کو غور سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا رنعم نے نفی میں سر ہلایا

“میرا پیار کرنا تمہیں اچھا نہیں لگے گا”

کاشان اپنا انگوٹھا رنعم کے ہونٹوں کے پر پھیرتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا

“شادی سے پہلے آپ کو اس طرح کرنا اچھا لگے گا”

رنعم نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا۔۔۔ کاشان کے ہونٹ رنعم کے ہونٹوں کے اتنے نزدیک تھے کے رنعم کو بولتے ہوئے بھی ڈر محسوس ہو رہا تھا

رنعم کی بات سن کر کاشان چند منٹ تک غور سے اس کو دیکھتا رہا۔۔۔۔ پھر اپنے روم میں اس کو چھوڑ کر باہر چلا گیا

رنعم نے جب اپنی آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو کاشان کے روم میں تنہا پایا اپنی سانسوں کو بحال کرتی ہوئی رنعم اس کے روم کا دروازہ کھول کر باہر جانے لگی تو اپنے سامنے یسریٰ کو کھڑا پایا۔۔۔۔ جو شاید کسی کام سے کاشان کے روم میں آ رہی تھی

“تم کاشان کی روم میں کیا کر رہی ہو” رنعم کو کاشان کے روم سے نکلتا دیکھ کر یسریٰ نے چونک کر پوچھا

“انہی کو دیکھنے آئی تھی مگر وہ روم میں موجود نہیں ہیں”

یسریٰ کے اس طرح دیکھنے اور سوال کرنے پر رنعم کو گھبراہٹ ہونے لگی جبکہ ایسا پہلی دفع نہیں ہوا تھا

یسریٰ اسے اکثر کاشان کو بلانے کے لئے روم میں بھیج دیا کرتی کاشان کا روم بھی شاہدہ سے اکثر رنعم ہی صاف کراتی تھی

“ٹھیک ہے بیڈروم میں جاو بہروز پوچھ رہے ہیں تمھیں”

یسریٰ نے رنعم کو دیکھتے ہوئے کہا وہ سر ہلا کر روم سے چلی گئی

نوٹ تو یسریٰ چند دن پہلے سے کر چکی تھی رنعم کا روز کھانا بنانا اور کاشان کا صرف اسی کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھانا۔۔۔ اکثر کاشان کا رنعم کو دیکھنا اور رنعم کا نظریں جھکا لینا یہ سب کچھ یسریٰ کی نظر سے چھپا ہوا نہیں تھا یسریٰ کچھ سوچتی اپنے روم میں چلی آئی

****

“افتخار چھوڑ دو مجھے”

فائزہ افتخار کے ہاتھ اپنی گردن سے ہٹاتے ہوئے تکلیف سے بولی

“نہیں چھوڑوں گا آج میں تجھے جان سے مار ڈالوں گا” افتخار پوری قوت سے فائزہ کا گلا دباتے ہوئے بولا

“ابو امی کو چھوڑ دو،، ورنہ میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا”

13سالہ کاشان اپنے سیلن زدہ گھر کے کمرے میں موجود، بند دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتا۔۔۔۔تو کبھی کھڑکی کی جالی پکڑ کر افتخار کو دھمکی دیتا کیونکہ افتخار صحن میں کھڑا فائزہ کا گلا دبا رہا تھا اور فائزہ تکلیف سے تڑپ رہی تھی

“ابو مت مارو اسے” 13سالہ کاشان روتے ہوئے دوبارہ اپنے بے رحم باپ کو منع کرنے لگا

“کاشان نہیں پلیز۔۔۔ چھوڑیں میرا گلا” فائزہ کی شکل اچانک رنعم کی شکل میں تبدیل ہو چکی تھی وہ روتی ہوئی کاشان سے التجا کر رہی تھی

“بولو اب یہ بےہودہ کپڑے پہن کر باہر نکلو گی”

افتخار کی بجائے 27سالہ کاشان رنعم کا گلا اپنے سخت ہاتھوں سے دبوچتے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا

ان دونوں کو دیکھ کر 13سالہ کاشان جھٹکے سے کھڑکی کی جالی کو چھوڑ کر دو قدم پیچھے ہوا۔۔۔۔

وہی منظر ایک دم بدل گیا اب 13سالہ کاشان کے سامنے جیل میں ایک آدمی اپنے گھٹنوں میں سر دیے رو رہا تھا 13 سالہ کاشان کو اس سے ہمدردی محسوس ہوئی وہ گلاس میں پانی لیتا ہوا اس آدمی کے پاس آیا

“تم کیوں رو رہے ہو کس جرم میں اندر آئے ہو”

کاشان نے پانی کا گلاس اس آدمی کے سامنے بڑھاتے ہوئے پوچھا

“میں نے اپنی بیوی کو مار ڈالا ہے جس سے میں بہت زیادہ پیار کرتا تھا”

روتے ہوئے اس آدمی نے بولنے کے ساتھ اپنا سر اٹھایا۔۔۔۔۔ 13سالہ کاشان کے ہاتھ سے ایک دم پانی کا گلاس چھوٹا وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوا

“مار ڈالا میں نے اپنی رنعم کو” 27سالہ کاشان روتے ہوئے 13 سالہ کاشان کو بولنے لگا

“رنم”

کاشان رنعم کے نام کو پکار کر ایک دم چیخ اٹھا۔۔۔۔ ہاتھ آگے بڑھا کر اس نے سائیڈ پر رکھا لیمپ جلایا تو کمرے میں روشنی ہوئی۔۔۔ اے۔سی کی ٹھنڈک میں بھی اس کا پورا وجود پسینے سے شرابور ہو چکا تھا،،، وہ لمبے لمبے سانس لینے لگا اسے محسوس ہوا جیسے ہوا میں اچانک آکسیجن ختم ہوگئی ہو۔۔۔ بیڈ سے نیچے اتر کر کاشان نے اپنے بیڈ روم کی کھڑکی کھولی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا کاشان نے اپنی آنکھیں بند کرلی اس کی آنکھوں کے سامنے رنعم کا چہرا آیا

رنعم کی دونوں سبز آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھی اس کے بال بکھرے ہوئے جبکہ ہونٹ کے بائیں جانب خون نکل رہا تھا کاشان نے فوراً آنکھیں کھولیں اس کی ہارٹ بیٹ ایک بار پھر سے تیز رفتار میں چلنے لگی اسے لگا جیسے اب وہ کھبی اپنی آنکھیں بند نہیں کر پائے گا ےے

“رنعم”

کاشان کے ہونٹ ہلے وہ اپنے بیڈ روم سے نکل کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا رنعم کے بیڈ روم میں پہنچا وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا

دروازے کا ہینڈل گھمانے پر دروازہ کھل گیا رنعم اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی گہری نیند میں سو رہی تھی نائیٹ-بلب کی روشنی میں وہ اس کا چہرہ آسانی سے دیکھ سکتا تھا کاشان نے اسے محسوس کرنے کے لئے یا اپنے آپ کو اطمینان دلانے کے لئے اپنی انگلیوں کے پوروں سے رنعم کا ماتھا چھوا۔۔۔۔ کسی احساس کے تحت رنعم کی آنکھ کھلی اپنے اوپر جھکے ہوئے وجود کو دیکھ کر بے ساختہ رنعم کے منہ سے چیخ نکالنے والی تھی مگر کاشان نے اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا

“میں ہوں کاشان” کاشان نے دوسرے ہاتھ سے لیمپ جلایا تو رنعم کو اس کا چہرہ واضح نظر آیا اب رنعم کی آنکھوں میں خوف کا عنصر کم حیرت کا عنصر زیادہ تھا آہستہ سے کاشان نے اس کے ہونٹوں سے اپنا ہاتھ ہٹایا

“آپ اس ٹائم یہاں پر کیا کر رہے ہیں” رنعم نے گھڑی میں نظر ڈالی رات کے دو بج رہے تھے اس کے اٹھ کر بیٹھنے پر کاشان پیچھے سرکا

“تمہیں دیکھنے کو دل چاہ رہا تھا اس لیے آگیا”

کاشان بغور اس کا چہرہ دیکھ کر بولا وہ چاہ کر بھی اپنا بھیانک خواب اسے شیئر نہیں کر سکا

“آپ ٹھیک ہے نا کیا ہوا آپ کو”

رنعم کو وہ اپنے آپ میں نہیں لگا اس کے پیشانی پر پسینے کی بوندیں بھی نمایاں تھی جنہیں رنعم نے اپنی انگلیوں سے چھونا چاہا

“کچھ کہنا چاہتا ہوں تم سے”

کاشان نے اپنی پیشانی اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل کے مقام پر رکھا وہ رنعم کو دیکھتا ہوا بولا

رنعم چپ رہی جیسے اس کی بولنے کی منتظر ہو تبھی کاشان نے اپنی پیشانی رنعم کی پیشانی سے ٹکرائی اور اپنی آنکھیں بند کرتا ہوا بولا

“ثوبی کے علاوہ ایک تم ہی میری زندگی میں وہ ہستی موجود ہو،، جسے میں نے چاہا ہے۔۔۔ میں بہت پیار کرتا ہوں رنعم تم سے،،، تمہیں خود سے دور کرنے کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔ میں تمہیں کبھی کہیں نہیں جانے دوں گا ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا”

کاشان آنکھیں بند کیے رنعم کی پیشانی سے اپنی پیشانی جوڑے بولتا جا رہا تھا

رنعم نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما کاشان اپنی آنکھیں کھولیں

“ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں آپ،، کیا ہوا ہے، مجھے بتائیں”

رنعم نے فکرمندی سے کاشان سے پوچھا

کاشان نے اسے دونوں کندھوں سے تھام کر بیڈ پر لٹایا اور بیڈ پر رکھی چادر اس کو اڑائی

“سو جاؤ گڈ نائٹ”

کاشان اس کے بالوں میں ہاتھ پھرتا ہوا اس کے کمرے سے نکل گیا تو رنعم کاشان کا رویہکے بارے میں سوچنے لگی جو اسے بالکل سمجھ میں نہیں آیا

اپنے بیڈ روم میں آکر کاشان بیڈ پر لیٹا ہوا چھت کو گھورنے رہا آدھے سے پون گھنٹے بعد وہ دوبارہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا