Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 53)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 53)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
“سیرت کیا ہوا تم ٹھیک ہو”
ثوبان اسے سہارا دے کر اٹھاتا ہوا بولا اور صوفے پر بٹھایا
کاشان ان تینوں کو حیرت سے دیکھنے لگا، پھر سیرت کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ کر وہ سمجھ نہیں سکا کہ اسے ہوا کیا ہے… سیرت کے ہاتھ اس نے غصے میں جھٹکے تھے جس کی وجہ سے وہ گر پڑی تھی مگر اس کے گرنے پر سب لوگ اس طرح کیوں جمع ہوگئے کاشان کو سمجھ میں نہیں آیا
“سیرت کیا ہوا تمہیں”
کاشان سیرت کی طرف بڑھتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ وہی ثوبان نے سیرت کے پاس سے اٹھ کر اس کا گریبان پکڑا
“اس کو اگر تمہاری وجہ سے کچھ بھی ہوا ناں کاشی،،، میں تمہیں معاف نہیں کروں گا کبھی بھی یہ تم یاد رکھنا”
ثوبان کاشان کا گریبان پکڑتا ہوا کہنے لگا اور دوبارہ سیرت کو یسریٰ کے کہنے پر اٹھا کر اپنے روم میں لے جانے لگا
“رنعم سیرت کو کیا ہوا ہے”
کاشان اب رنعم کا بازو پکڑ کر اس سے پوچھ رہا تھا
“آپ چلے جائے کاشان، خدارا یہاں سے چلیں جائے اس وقت”
رنعم اپنا بازو چھڑا کر چیختی ہوئی بولی کاشان نے اسے حیرت سے دیکھا اور پھر یسریٰ کو۔۔۔۔ یسریٰ اس کو بہت ملامت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی کاشان اس سے نظریں چرا گیا۔۔۔ وہ اس وقت رنعم کو لینے آیا تھا مگر اسے لیے بغیر ہی گھر سے باہر نکل گیا
کاشان کے جانے کے تھوڑی دیر بعد سیرت کی طبیعت سنبھلی تو سب نے شکر ادا کیا
سیرت اپنے روم میں تھی ثوبان پولیس اسٹیشن جانے کے بجائے سیرت کا سر اپنی گود میں رکھے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ سیرت اسے دو سے تین بار یقین دلا چکی تھی کہ وہ ٹھیک ہے مگر معلوم نہیں وہ کس ڈر سے اسے اپنے قریب سے اٹھنے نہیں دے رہا تھا۔۔۔ جب ثوبان کو محسوس ہوا کہ سیرت سوچکی ہے تب وہ اس کے سر کے نیچے تکیہ لگاتا ہوا روم کی لائٹ بند کر کے پولیس اسٹیشن چلا گیا
****
“سلام سر آپ نے یاد کیا مجھے”
ثوبان پولیس اسٹیشن میں موجود تھا سر جھکائے وہ کسی فائل پر کچھ لکھ رہا تھا تب شیرا نے اسے مخاطب کیا
“وعلیکم السلام بیٹھو”
ثوبان فائل کو ایک طرف رکھتے ہوئے شیرا کو دیکھا اس کا چہرہ کافی بگڑ چکا تھا اور ہاتھوں کی کھال گلی ہوئی جگہ جگہ سے چربی چھلک رہی تھی۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کر ثوبان سوچ میں پڑ گیا کہ وہ کاشان کو کس طرح ٹھیک کرے
“کیا کہا تھا تم نے اپنے بیان میں جس نے تمہیں مارا،، تم اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائے”
ثوبان شیرا کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“سر اس نے اپنا چہرہ ڈھکا ہوا تھا اس وجہ سے میں اس کو پہچان نہیں پایا”
شیرا نے ایک بار پھر ثوبان کو بتایا ثوبان میز کی سطح پر کہنی ٹکا کر اس کی بات غور سے سننے لگا
“تم جیسے لمبے تڑنگے آدمی کو کوئی کتے کی طرح دھو کر چلا گیا اور تم اس سے پٹتے رہے یہاں تک کہ اس کے چہرے سے نقاب ہٹانے کی بھی کوشش نہیں کی تم نے۔۔۔ بے وقوف کسی اور کو بناؤ شیرا” ثوبان اس کو دیکھتا ہوا غصے میں بولا
“سر ویسے آپ کو کیا لگتا ہے کوئی مجھے آکر کتوں کی طرح دھو کر چلا گیا،، پھر بھی میں اس کا نام چھپا رہا ہوں کیا وجہ ہو سکتی ہے۔۔۔ کہی ایسا تو نہیں کہ میں اسے خود کتے کی موت مارنا چاہتا ہوں”
شیرا اپنا داڑھی سے بھرا گال کجھاتا ہوا ثوبان کو دیکھ کر بولا۔۔۔ وہی ثوبان نے کس کر اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور شیرا کا گریبان پکڑ کر اس کو اپنے سامنے کھڑا کیا
“اگر تم نے میرے بھائی کی طرف یا میرے گھر کے کسی بھی فرد کی طرف بری نظر سے دیکھا بھی ناں شیرا۔۔۔ تو میں تمہیں اتنی اذیت بھری موت دوں گا کہ تمہاری آنے والی سات نسلیں توبہ کریں گی۔۔۔ دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے،، اس سے پہلے کہ میں تمہیں ابھی اور اسی وقت الٹا سولی پر لٹکا دوں”
ثوبان نے اسے گریبان سے پکڑ کر وارننگ دیتا ہوا زور سے دروازے کی طرف دھکا دیا وہ ثوبان کو گھورتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔ ثوبان کو سوچ سوچ کر غصہ آ رہا تھا اس نے رنعم کو اٹھایا تھا۔۔۔ ابھی وہ غصے میں سوچ ہی رہا تھا اس کے موبائل پر یسریٰ کی کال آئی۔۔۔ یسریٰ کی بات سن کر ثوبان فوراً اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتا ہوا وہاں سے نکل گیا
****
“سر میں یہاں اب پر جاب نہیں کر سکتا۔۔ میرا ریزکنیشن لیٹر آپ کو تھوڑی دیر تک مل جائے گا”
کاشان کو لگا اب اسے سے یہ جاب چھوڑ دینی چاہیے اس کو مایا کے ساتھ اپنے سلوک پر پچھتاوا ہرگز نہیں تھا بلکہ وہ اس عورت کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا تھا اس لیے کاشان نے دوسرے دن آفس میں آتے ہی شکیب الریحان کو اپنی جاب چھوڑنے کے بارے میں انفارم کیا
“رکو کاشان تمہیں جاب چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے تم جس وجہ سے جاب چھوڑ رہے ہو۔۔۔ وہ وجہ اب ہمیشہ کے لیے اپنی مدر کے پاس جا چکی ہے” شکیب الریحان نے کاشان کو دیکھ کر کہا کاشان نے غور سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا یعنی مایا کے باپ کو معلوم تھا کہ وہ مایا کی وجہ سے جاب چھوڑ رہا ہے یہ پھر کل والے واقعہ کا اسے بھی علم تھا۔۔۔ کاشان نے الجھتے ہوئے سوچا
“اگر تم سوچ رہے ہو مجھے ساری بات کا علم ہے تو یہ بات تم صحیح سوچ رہے ہو۔۔۔۔ کاشان میرے گھر کے نوکر بہت وفادار ہیں میرے۔۔۔۔ میری گھر میں غیر موجودگی کے باوجود وہ مجھے ہونے والے سب واقعات بتا دیتے ہیں۔۔۔ اولاد اگر اچھی نکلے تو والدین کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے مگر وہی اولاد خاص کر کے بیٹی مایا جیسی نکلے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔۔۔ تم اپنی جاب سے مخلص ہوں ایک رسپونسبل پرسن ہو،،، تو میں ہرگز نہیں چاہؤں گا کہ تم یہ جاب چھوڑو۔۔۔ باقی جو بھی تمہارا فیصلہ ہو تم بتا دینا”
شکیب صاحب نے کاشان کو دیکھتے ہوئے کہا کاشان ان کی بات سن کر روم سے باہر نکل گیا
ویسے بھی اسے مایا سے پرابلم تھی اپنی جاب سے نہیں۔۔۔ وہ ہمیشہ کے لئے اپنی ماں کے پاس چلی گئی تھی کم از کم اس کی شکل نہیں دیکھ دیکھنی پڑے گی۔۔۔ کاشان نے چیئر پر بیٹھے ہوئے سوچا اور اپنا موبائل نکال کر رنعم کا نمبر ملایا مگر توقع کے مطابق نمبر بند تھا
آج تین دن ہو گئے تھے رنعم کو اس کے گھر سے گئے ہوئے۔۔ کاشان اسے بہت مس کر رہا تھا اور کاشان کو جب سے معلوم ہوا تھا کہ رنعم نے شیرا سے متعلق ثوبان کو کچھ بھی نہیں بتایا تب سے وہ اپنے عمل پر اور زیادہ شرمندہ تھا اس نے غصے میں آکر رنعم کے ساتھ بد سلوکی کی وہ بہت پچھتا رہا تھا۔۔۔ معلوم نہیں اسے غصے میں کیا ہو جاتا تھا مگر کیسے بھی ہو وہ رنعم کو بہت پیار سے منالے گا کاشان کو یقین تھا اس کی ڈول مان جائے گی یہی سوچتے ہوئے اس نے لینڈ لائن پر کال کی تاکہ رنعم سے بات کر سکے تھی کسی بھی صورت اسے اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا یسریٰ نے تو اسے اجازت دے دی تھی رنعم کو بھی وہ منا لیتا مگر اصل مسئلہ ثوبان پیدا کر رہا تھا اور ایسا زندگی میں پہلی بار ہوا تھا کہ کاشان کو اپنے بھائی پر غصہ آ رہا تھا
“ہیلو کون بات کر رہا ہے”
کاشان کو شاہدہ کی آواز سنائی دی
****
دھکہ لگنے کی وجہ سے اسے تھوڑی دیر کے لیے درد محسوس ہوا مگر یسریٰ کے پوچھنے پر اور ثوبان کے اسرار کہ ڈاکٹر کے پاس چلو۔۔۔ اس نے کہا کہ وہ ٹھیک ہے سیرت کو واقعی اپنی طبیعت ٹھیک لگی
یسریٰ کے کہنے پر وہ لیٹ گئی ثوبان بھی اس کو سوتا دیکھ کر گھر سے نکل گیا مگر رات میں تکلیف سے اس کی آنکھ کھلی اس نے رنعم کا نام لے کر اسے زور زور سے پکارا۔۔۔ رنعم اور یسریٰ دونوں ہی اس کی آواز سن کر سیرت کے پاس آئی۔۔۔ سیرت کو تکلیف سے روتا ہوا دیکھ کر یسریٰ نے فوراً ڈرائیور سے کار نکالنے کو کہا
ہسپتال پہنچ کر الٹراساؤنڈ کرانے کے بعد سیرت کی کنڈیشن دیکھتے ہوئے گائنی نے ابارشن کا مشورہ دیا تب یسریٰ نے ثوبان کو کال کر کے بلایا
اسپتال سے واپسی پر صبح کے پانچ بج گئے سیرت سارے راستے روتی ہوئی آئی۔۔۔۔ رنعم، ثوبان اور سیرت کو دیکھ کر اور بھی افسردہ ہو گئی
ثوبان خود بھی خاموش تھا مگر سیرت کو روتا ہوا دیکھ کر اسے چپ کرا رہا۔۔۔ تبھی ان کے بیڈروم میں یسریٰ آئی ثوبان یسریٰ کو دیکھ کر روم سے باہر نکل گیا
“سیرت بس کرو بیٹا اس طرح مت رو،،، ثوبان کتنا پریشان ہو رہا ہے تمہیں اس طرح روتا ہوا دیکھ کر،، میں مانتی ہو تمہارا بہت بڑا نقصان ہوا ہے مگر نقصان ثوبان نے بھی تو برداشت کیا ہے ناں۔۔۔۔ میں ماں ہوں میں جان سکتی ہوں تمہارا دکھ مگر اب اسطرح رو کر خود کو مزید ہلکان مت کرو تمہاری طبیعت خراب ہوگی”
یسریٰ اسکو پیار کرتے ہوئے سمجھانے لگی
“آپ ہی تو سمجھ سکتی ہیں میرے دکھ،،، آپ نے بھی تو اپنی پہلی اولاد کو کھویا تھا میری طرح۔۔۔ مما مجھے آج آپ کا دکھ سمجھ میں آرہا ہے آج میں جان پائی آپ کتنا تڑپی ہوگیں میرے لیے”
سیرت جب یسریٰ کے گلے لگ کر روئی تو اس کے رونے میں مزید شدت آگئی یسریٰ کو بھی رونا آگیا
“شش چپ ہوجاو میری جان۔۔۔ اللہ پاک نے مجھے میری بیٹی واپس دے دی،،،، اب وہ تمہیں اور ثوبان کو بھی دوبارہ بہت جلد خوشی سے نوازے گا۔۔۔ اس کنڈیشن میں بالکل نہیں روتے آنکھوں پر زور پڑتا ہے اب بالکل خاموش ہو جاؤ” یسریٰ اس کو بہلاتے ہوئے پیار سے سمجھانے لگی اور اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرنے لگی
ثوبان جب روم میں واپس آیا تو یسریٰ اٹھ کر اس کے پاس آئی
“ناشتہ میں روم میں ہی بھیج رہی ہوں۔۔۔۔ سیرت کو بھی کرانا اور تم خود بھی کرنا۔۔۔ ماں کی دعاؤں میں بہت اثر ہوتا ہے میری دعا ہے اللہ تم دونوں کو بہت جلد دوبارہ خوشی نصیب کرے”
یسریٰ ثوبان کے گال پر ہاتھ رکھ کر اسے دعا دینے لگی ثوبان نے یسریٰ کا ہاتھ عقیدت سے ہونٹوں پر لگایا
“رنعم اور آپ بھی کچھ کھالیں رنعم نے رات کا بھی کھانا نہیں کھایا تھا اور اب آپ بھی ریسٹ کریں”
ثوبان نے یسریٰ کو دیکھ کر کہا تو وہ سر ہلا کر اس کے روم سے چلی گئی
تھوڑی دیر میں شاہدہ ان دونوں کا ناشتہ لے کر آئی۔۔۔ جو ثوبان نے سیرت کو زبردستی کرایا۔۔ اب وہ سیرت کا سر اپنے سینے پر رکھ کر لیٹا ہوا اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا
“ثوبی ابھی تو میں نے اسے محسوس کرنے شروع نہیں کیا تھا۔۔۔ اتنا کم عرصہ تھا میری خوشیوں کا”
سیرت کے بولنے پر ثوبان کے ہاتھ تھم گئے اس نے سیرت کا چہرہ اونچا کیا اور سیرت کی پیشانی کو ہونٹوں سے چھوا
“جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے میں اس کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔ تم رو مت ورنہ تمہاری طبیعت خراب ہوگی”
ثوبان اس کو بولتا ہوا اس کا سر تھپتھپانے لگا دوائیوں کے زیراثر وہ ثوبان کے سینے پر سر رکھے جلد سوگئی۔۔۔ مگر ثوبان کافی دیر تک جاگتا رہا
****
شاہدہ نے اسے فون پر بتایا تھا کہ ثوبان اور یسریٰ سیرت کو اسپتال سے گھر لے کر آئے ہیں تب کاشان ایک بار پھر سوچ میں پڑگیا سوچ میں پڑگیا سیرت کو ایسا کیا ہوا ہے وہ کچھ سوچ کر اپنی کار کی چابی اٹھاتا ہوا آفس سے نکل گیا
****
“سب کہاں پر ہے اس وقت”
کچن سے باہر نکلتی ہوئی شاہدہ کو دیکھ کر کاشان نے اس سے پوچھا
“وہ جی سب اپنے اپنے کمرے میں سو رہے ہیں”
شاہدہ نے کاشان کو دیکھتے ہوئے بتایا
“سیرت کی طبیعت کیسی ہے کیا ہوا تھا اسے”
کاشان شاہدہ سے پوچھنے لگا
“وہ جی رات کو تو میں اپنے کواٹر میں چلی گئی تھی۔۔۔ ڈرائیور ہی بتا رہا تھا کہ وہ رات میں سیرت بی بی کو اسپتال لے کر گیا تھا”
شاہدہ کاشان کو بتانے لگی
“رنعم کہاں پر ہے”
کاشان نے شاہدہ کی لاعلمی کو دیکھ کر اس سے مزید سوالات کا ارادہ ترک کیا
“وہ بھی اس وقت اپنے کمرے میں ہیں کیا ان کو بلاو”
شاہدہ ہے پھر کاشان سے پوچھا
“نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں خود دیکھ لیتا ہوں”
کاشان شاہدہ کو بولتا ہوا سیڑھیاں چڑھ گیا اور رنعم کے کمرے کا دروازہ کھولا تو کمرے میں اندھیرا ہو رہا تھا
کمرے میں داخل ہو کر دروازہ واپس بند کر کے اس نے کھڑکی سے پردے ہٹائے جس سے چھن کر روشنی کمرے میں آئی رنعم اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی گہری نیند سو رہی تھی
کل رات اس گھر میں کوئی بھی فرد نہیں سو سکا تھا بےشک وہ یسریٰ اور سیرت کے ساتھ اسپتال نہیں گئی تھی مگر بار بار یسریٰ کو فون کر کے وہ سیرت کے بارے میں پوچھے جا رہی تھی۔۔۔ اس کے لیے اپنا ہی دکھ کم نہیں تھا تو معلوم ہوا کہ ثوبان اور سیرت بھی آنے والی خوشی سے محروم ہوگئے ہیں۔۔۔ وہ ان کے اسپتال سے گھر آنے کے بعد ان دونوں کے گلے لگ کر روئی۔۔۔۔ اندر کہیں اسے کاشان کے غصے میں کیے جانے والے ردعمل پر افسوس بھی ہوا
کاشان چلتا ہوا رنعم کے پاس آیا اور بیڈ پر بیٹھا۔۔۔۔ مدھم روشنی میں وہ رنعم کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا۔۔۔ وہ سے محبت کرنے کے باوجود ہر بار غصہ میں اسے تکلیف دینے کا سبب بنتا ہے
وہ اپنی انگلی سے رنعم کے دل پر اپنے نام کی اسپیلنگ لکھنے لگا۔۔۔۔ نیند میں رنعم کو عجیب سا احساس ہوا تو ایک جھٹکے سے اسکی آنکھیں کھلی
اس نے کاشان کو اپنے بالکل قریب بیٹھے پایا۔۔۔ وہ غور سے اس کو دیکھنے لگی اسے سمجھ میں نہیں آیا وہ خواب میں کاشان کو دیکھ رہی ہے کہ حقیقت میں
“مائی ڈول”
کاشان اس کی کیفیت سمجھتے ہوئے رنعم کو اپنا احساس دلانے کے لئے اس کے ہونٹوں پر جھکا۔۔۔۔ اپنی سانسوں میں سگریٹ کی اسمیل محسوس کر کے اور خود پر کاشان کے دباؤ کے احساس سے اس کا ذہن بیدار ہوا۔۔۔
“پیچھے ہٹ جائے کاشان”
رنعم اس کو جھٹکے سے دور کر کے خود اپنا رخ دوسری طرف کرتی ہوئی بولی۔۔۔۔ مگر اتنے قریب ہونے کے بعد وہ شاید رنعم کی سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔ ۔۔ جبھی وہ رنعم کی گردن پہ جھکتا ہوا دیوانہ وار اسکی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا
“کاشان پلیز چھوڑ دیں مجھے ورنہ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی”
رنعم کے مزاحمت کرنے پر جب اس نے رنعم کے ہاتھ پکڑے تب رنعم بے بسی سے چیخ اٹھی۔۔۔ کاشان اس کے اوپر سے اٹھا۔۔۔۔ رنعم نے بیڈ سے اتر کر جلدی سے لائٹ کھولی کمرہ ایک دم روشنی میں نہا گیا
“رنعم پلیز میری بات سنو جان۔۔۔۔ آئی سویئر اور آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا وہ سب غلط فہمی میں ہوا تھا،،، میں سمجھا تھا تم نے ثوبی کو بتایا ہے۔۔۔ میں اپنی غلطی ایکسیپٹ کرتا ہوں اگر تم نے اسے بتایا بھی ہوتا، ،، تب بھی مجھے اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ رنعم آیم سوری مجھ سے غلطی ہوگئی،، آخری بار۔۔۔ صرف آخری بار مجھے معاف کردو میں یقین دلاتا ہوں آگے سے آئندہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا”
کاشان اسے اپنے رویے کی وضاحت دیتے ہوئے اس کے قریب آ کر اسے منانا چاہا
“نہیں کاشان ہر بار ایسا ہی ہوگا،، ہر بار آپ ہمیشہ میرے ساتھ ایسا سلوک کریں گے اور یوں ہی مجھ سے تلافی کیا کریں گے مگر اب نہیں،،، اب بہت ہوگیا۔۔۔۔ میں یہ سلوک ساری زندگی برداشت نہیں کر سکتی”
رنعم نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔کاشان نے محسوس کیا وہ اس سے بری طرح خفا تھی مگر وہ آج اسے اپنے ساتھ لے جائے گا کاشان نے سوچا اور اسکو بازوں سے تھامتا ہوا بولا
“تمہیں معلوم ہے ناں میں تم سے دوری برداشت نہیں کر سکتا وہ سب کچھ میرے غصے کا ری ایکشن تھا میں خود پر کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔۔۔۔ یہ بتاو کیا صرف ہر وقت غصہ ہی کرتا ہوں تم پر،، پیار نہیں کرتا کیا تم سے۔۔۔ میں کل رات کو سوچ رہا تھا بہت زیادہ غلط کر چکا ہوں اپنے غصے میں تمہارے ساتھ،،، میں خود پر کنٹرول کروں گا اب تمہیں کبھی بھی ہرٹ نہیں کروں گا پلیز جان، آج میرے ساتھ ہمارے گھر چلو تم ڈول ہو ناں میری”
کاشان نے اسے بچوں کی طرح بہلاتے ہوئے اپنی بانہوں میں لینا چاہا وہی رنعم میں جھٹک کر اس کے ہاتھ پیچھے کیے اور اس سے دور ہوئی
“کاشان مت کہا کریں مجھے ڈول، نہیں ہوں میں کوئی ڈول۔۔۔ انسان ہوں میں۔۔۔۔ مجھے ڈول کہہ کہہ کر آپ نے مجھے ڈول سمجھ لیا۔۔ میرے ساتھ ڈول جیسا بی ہیو کرنا شروع کردیا آپ نے۔۔۔ جب آپ کا دل چاہا آپ نے ڈول سے اپنا دل بہلا لیا،،، جب آپ کا دل چاہا ہے آپ نے ڈول کو توڑ دیا”
رنعم اس کو دیکھتے ہوئے بولی وہ چپ کر کے رنعم کو دیکھنے لگا
“ارے میں جیتی جاگتی انسان ہوں مجھے درد ہوتا ہے۔۔۔۔ معلوم ہے آپ کو کتنی تکلیف ہوتی ہے جب اگلے بندے سے کہا جائے اسمائل دو اور اس بندے کا اندر سے دل پھٹ رہا ہو۔۔۔ اس وقت مسکرانا کتنا مشکل لگتا ہے”
رنعم سانس لینے کے لیے رکی تو اس کی سبز آنکھوں میں نمی آنے لگی۔۔۔ کاشان ابھی بھی چپ کر کے اسے سن رہا تھا
“کاشان جب آپ مجھے مارتے ہیں نا یا پھر زبردستی میرے ساتھ۔۔۔۔ بہت تکلیف ہوتی ہے مجھے،، میں خود کو اپنی ہی نظروں میں گرا ہوا تصور کرتی ہوں۔۔۔۔ اپنے آپ سے مجھے نظریں ملاتے ہوئے شرم آتی ہے۔۔۔ آپ دعویٰ کرتے ہیں نا آپ کو مجھ سے پیار ہے۔۔۔ میں مانتی ہوں آپ سچ کہتے ہوگے۔۔ آپ کرتے ہیں مجھ سے پیار لیکن ایک بار،، صرف ایک بار مجھے سچے دل سے بتائیے گا۔۔۔ کیا میں صرف آپ کا پیار ڈیزرو کرتی ہوں عزت ڈیزرو نہیں کرتی۔۔۔ کاشان میں کوئی بدکردار لڑکی تو نہیں تھی،،، نہ ہی آپ کے ساتھ بھاگ کر شادی کی تھی میں نے،، آپ خود ہی تو بڑھے تھے ناں میری طرف میں نے تو محبت میں پہل نہیں کی تھی تو پھر آخر کیوں کروں میں آپ کا رویہ برداشت”
رنعم نے بولتے ہوئے رونا شروع کردیا کاشان نے اسے چپ کرانے کے لئے اس کے پاس آنا چاہا مگر رنعم نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے اسے روک دیا
“آپ کہتے ہیں نا کہ آپ افتخار احمد جیسے نہیں ہیں آپ کو نفرت ہے اپنے باپ سے مگر کاشان مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں آپ کے ساتھ رہ کر دوسری فائزہ بن جاؤں گی”
رنعم اپنا چہرہ چھپا کر رونے لگی
“رنعم”
کاشان نے آنکھوں میں نمی لیے اسے پکارا وہ تڑپ ہی اٹھا کر رنعم کے اس طرح بولنے پر
“آپ کی مار سے نہیں مگر آپ کا رویہ مجھے مار ڈالے گا،، میں بہت بزدل ہو کاشان،،، مجھ میں حوصلہ نہیں ہے دوسری فائزہ بننے کا”
رنعم نے اپنی سبز آنکھوں سے آنسو صاف کیے رونے کے باعث اس کی آنکھیں سرخ ہونے لگی کاشان کی آنکھوں میں نمی تھی جس کی وجہ سے اسے رنعم کا چہرہ دھندلا نظر آنے لگا
آج رنعم کے اس طرح بولنے پر اسے احساس ہوا وہ اپنے سامنے کھڑی اپنی بیوی،،، جس سے وہ بہت پیار کرتا ہے۔۔۔ اسے بری طرح توڑ چکا ہے۔۔۔ اس کا بہت زیادہ دل دکھا چکا ہے۔۔۔ رنعم چلتی ہوئی اس کے قریب آئی
“میں نے آپ سے کہا تھا ناں کاشان کہ عورت جسے اپنے دل میں ایک بار بسالے۔۔۔ وہ اس سے نفرت نہیں کر سکتی”
رنعم اپنی شہادت کی انگلی سے کاشان کے دل پر R لکھنے لگی
“آپ کا اتنا برا سلوک بھی میرے دل میں آپ کی محبت کم نہیں کر سکا مگر اس کے باوجود میں آپ کے ساتھ رہنے سے ڈرتی ہوں۔۔۔ محبت ہونے کے باوجود میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی”
اب رنعم اس کے دل پر لکھے گئے R پر اپنی انگلی سے کراس بناتی ہوئی بولی۔۔۔ کاشان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے
“رنعم نہیں پلیز”
وہ کراس بناتی ہوئی انگلی کو پکڑ کر ایک دم تڑپتا ہوا بولا
“چلیں جائیں آپ یہاں سے”
رنعم نے اپنے دونوں ہاتھ کاشان کے سینے پر رکھ کر اسے دھکا دیا اور اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا
“آپ کو پسند نہیں ہے نا کہ کوئی مجھے دیکھے۔ ۔۔۔ میں اپنی ساری زندگی اس کمرے میں آپ کے نام پر گزار دوں گی مگر میں اب آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی”
کاشان اس کی پشت کو دیکھتا ہوا اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرنے لگا ویسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا
“تم رنعم کے کمرے میں کیا کر رہے ہو کیوں آئے ہو دوبارہ یہاں پر۔۔۔ ایک دفعہ کی بات تمہیں سمجھ میں نہیں آتی ہے”
ثوبان کمرے کے اندر داخل ہوتا ہوا کاشان کے سامنے آکر اس کو گھورتا ہوا بولا
“ثوبی اس کو کہو نا کہ یہ مجھے معاف کردے دیکھو یہ مجھے معاف نہیں کر رہی ہے۔۔۔ یہ میری بات نہیں مان رہی ہے اسے کہو پلیز میرے ساتھ چلے میں کیسے رہوں گا اس کے بغیر”
وہ ثوبان کی بات کو یکسر نظر انداز کر کے خود ثوبان سے بچوں کی طرح ضد کرنے لگا
“رنعم اب تمہارے ساتھ کہی نہیں جائے گی کاشی اور آئندہ تمہیں اس کے کمرے میں آنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس گھر میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ تم دشمن ہو ہم سب کی خوشیوں کے تم نے اسے، سیرت کو، ماما کو، مجھے ہم سب کو تکلیف دی ہے قاتل ہو تو میری اولاد کے۔۔۔ بہت اچھا ہوتا جو تمہیں 14 سال کی قید کی بجائے سزائے موت ہو گئی ہوتی کم ازکم ہماری زندگیاں پرسکون ہوتی نکل جاؤ اس گھر سے” ثوبان نے کاشان کا بازو پکڑ کر اسے کمرے سے باہر نکالتے ہوئے کہا
کاشان سکتے کی کیفیت میں ثوبان کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ رنعم کے بعد اب ثوبان کے الفاظ اس کے دل میں کسی تیر کی طرح پیوست ہونے لگے
“میں آپکے ساتھ رہتے دوسری فائزہ بن جاو گی۔ ۔۔۔ تم قاتل ہو میرے بچے کے”
ان دو جملوں کی تکرار اس کے دماغ میں چلتی رہی وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہاں سے چلا گیا
