504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 7)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“کاشی چھوڑ اسے وہ مر جائے گا”

آذر پورا زور لگا کر کاشان کو پکڑتا ہوا پیچھے ہٹا رہا تھا مگر کاشان بختاور کی گردن چھوڑنے کو تیار نہیں تھا وہ اس کو مار مار کر لہولہان کر چکا تھا۔۔۔ آخر آزر کی کوشش رنگ لائی اور وہ کاشان کو پیچھے ہٹانے میں کامیاب ہوا مگر پیچھے ہٹتے ہوئے بھی کاشان بختاور کے پیٹ میں لات رسید کرنا نہیں بولا

“کیا کر رہا ہے تو، ہوا کیا ہے آخر مجھے بتا”

آذر اس کو وہاں سے دور لے جاکر پوچھنے لگا

“میری ماں کو گالی دی ہے اس نے” دیوار پر مکہ جڑھ کر اسکا غصہ کنٹرول نہیں ہوا تو واپس بختاور کے پاس جانے لگا

“رک جا کاشی نہیں تو سزا کے طور پر اندھیری کوٹھری میں رات گزارنے پڑے گی اور کون سا اس سالے کے گالی دینے سے تیری ماں کو گالی چپک گئی”

آزر اس کو ایک دفعہ پھر پکڑ کر پیچھے دھکیلتا ہوا بولا۔۔۔ اب کاشان آسمان کو دیکھتا ہوا لمبے لمبے سانس لینے لگا تاکہ اس کے غصے میں کمی آجائے

“وہ سالا چمپو 3 بٹہ 4 (چرس بیچنے) کے چکر میں اندر آیا ہے اسے تیرے غصے کا علم نہیں ہوگا اس لیے بھڑ گیا ہوگا تجھ سے، چل وہاں بیری کے درخت کے نیچے اسد کاڑھے کے پاس یہاں پولیس آگئی نہ تو لاٹھی سے تواضع ہوگی تیری”

آزر اس کو وہاں سے لے جانے لگا تو کاشان نے اس کا ہاتھ جھٹکا

“مجھے نہیں جانا اس اندھے کاڑھے کے پاس، شکل سے ہی عجیب آدمی لگتا ہے پڑھنا ہے مجھے اپنا”

کاشان نے ازر کو ٹالتے ہوئے کہا ویسے بھی ایک دو قیدیوں کے علاوہ۔۔۔ جو مجبوری میں یا بے قصور ہوتے ہوئے بھی یہاں پر سزا کاٹ رہے تھے وہ ان کے علاوہ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا

“ارے میرے چیتے تجھے کون سا منسٹر بننا ہے پڑھ لکھ کر، چل نہ تھوڑی دیر کے لئے بعد میں پڑھ لینا”

آزر اس کو بہلاتا ہوا وہاں سے لے گیا وہ دونوں بیری کے درخت کے قریب پہنچے جہاں پر اسد کاڈھا ایک آنکھ سے محروم بیٹھا ہوا تھا وہاں دو اور قیدی بھی اس کے ساتھ موجود تھے

“آو بھئی کاشی تم تو بیٹھتے ہی نہیں ہمارے پاس”

اسد کاڑھا کاشان کو دیکھتا ہوا بولا

“میں ابھی بھی نہیں آرہا تھا آزر لے کر آیا ہے مجھے” کاشان نے احسان کرکے بیٹھتے ہوئے جواب دیا جس پر اسد کاڑھا ہنسا

“بھئ یہی تو انداز پسند ہے تمہارا کہ بندہ کسی کو منہ ہی نہ لگائے”

وہ کاشان کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا

“منہ نہ لگانے والی کوئی بات نہیں ہے یہ میرے پڑھنے کا وقت ہوتا ہے”

کاشان نے اب تحمل سے جواب دیا

“اور بھئ شیدے تو بتا کس جرم میں اندر آیا ہے”

اب اسد کاڑھے نے پاس بیٹھے دھان پان سے شیدے سے پوچھا جو کہ دو دن پہلے ہی جیل میں آیا تھا

“قتل کے کیس میں” شیدے نے ایسے فخر سے بتایا جیسے ابھی اسے ایوارڈ دیا جائے گا

“ہاہاہا تو بھی کسی کا قتل کر سکتا ہے یقین نہیں آرہا بھئی،، تجھے تو خود ایک پھونک مارنے کی دیر ہے کہیں پڑا ہوا ہوگا۔۔۔ خیر کس کا قتل کر دیا تو نے”

اسد کاڑھے نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا سب ہی اسد کاڑھے کی بات پر ہنسے لگے

“بے حیائی بے شرمی دیکھ کر بھی جب مرد کی غیرت نہ جاگے تو اس کی مردانگی پر لعنت۔۔۔۔ اپنی بیوی کو مارا ہے میں نے اس کا گلا کاٹ کر”

شیدے کی بات پر سب کی ہنسی بند ہوگئی

“کیوں قتل کیا تم نے اپنی بیوی کو” کاشان نے تیوری چڑھا کر ایک دم اس سے پوچھا اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس کے سامنے شیدا نہیں افتخار احمد بیٹھا ہے

“بدچلن تھی سالی، محلے کے آدمی سے چکر تھا میرے پیچھے رنگ رلیاں بنا رہی تھی اپنے عاشق کے ساتھ،،، ان گنہگار آنکھوں نے دونوں کو ایک ساتھ دیکھا۔۔۔ وہ خنزیر تو بچ کر نکل گیا مگر اس ناگن کو میں نے نہیں چھوڑا”

شیدے کی بات سن کر وہ چاروں ایک پل کے لیے خاموش ہو گئے اس کے بعد اسد کاڑھے نے اس خاموشی کو اپنی آواز سے توڑا

“یہ عورت ذات ہوتی ہی بے وفا ہے بھائی میرے،،، اس کی شروع سے ہی لگامیں کھینچ کر نہ رکھو تو یہ اوقات دکھا جاتی ہے”

اسد کاڑھے نے شیدے سے ہمدردی کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا

“میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا عورت کو زندگی میں مرد پیار رتبہ اور مقام دے تو وہ ہمیشہ مرد کی وفادار رہتی ہے،، عورت تو بچوں کے نام پر سمجھوتہ کر کے جواری مرد سے بھی نبھا کر لیتی ہے۔۔۔ تمہیں پہلے اپنی بیوی سے بات کر لینی چاہیے تھی” کاشان اپنا نظریہ بیان کرتے ہوئے آخر میں شیدے کو مخاطب کیا

“وہ اپنے یار کے ساتھ بے لباس تھی بات کرنے کی کہاں گنجائش بجتی ہے ان گنہگار آنکھوں نے وہ منظر دیکھا” شیدے نے غصے میں کہا تو کاشان چپ ہوگیا

“دیکھ کاشی تو ہر جگہ اپنی امی کو رکھ کر نہیں سوچا کر،، ہر جگہ حالات مختلف ہوتے ہیں اور رہی بات عورت ذات کے بے وفا ہونے کی، بھئی میں تو اسد بھائی کی بات سے سو فیصد متفق ہوں جب تک اس کی لگامیں کھینچ کر نہ رکھو وہ کبھی بھی سیدھی نہیں ہوگی۔۔۔ بھلا ٹیڑھی پسلی سے بنی ہوئی شے نرمی سے سیدھی ہوئی ہے سختی تو برتنی پڑتی ہے”

آزر جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھا تھا اس نے باتوں میں حصہ لیتے ہوئے ان تینوں کو دیکھکر کہا

“ہاں بھئی عورت ذات پر اعتبار کر کے دیکھ لو، سالی منہ کالا کروا دیتی ہے بچپن سے اپنی بہن کو پالا پوسا جوان کیا، اماں ابا کی مخالف جا کر اسے پڑھایا لکھایا اپنے عاشق کے ساتھ بھاگنے والی تھی،، کیا کرتا بہن سے محبت تھی اس لئے اس کتے کو قتل کر دیا میں نے اور یقین مانو ذرا پچھتاوا نہیں اپنے کیے پر” چوتھے بندے نے بھی گفتگو میں حصہ لیا

“ان سب باتوں کا نتیجہ یہی نکلتا ہے بے شک عورت پیار کرنے، چاہے جانے والی شے ہے مگر کچھ چیزوں پر اس کی حدود متعین کر دو۔۔۔ اس کو چاہوں سراہوں،،، مگر جہاں وہ غلطی کرے اس پر سختی کر کے اس بات کا احساس دلاؤ کہ یہ کام غلط ہے۔۔۔ شروع سے ہی اگر عورت کو قابو میں نہ رکھا جائے تو پھر مرد کا شیدے جیسا حال ہوتا ہے”

اسد کاڑھا ان تینوں کو سبق پڑھا رہا تھا باقی تین کی طرح کاشان بھی کر کے اس کی بات سن رہا تھا

****

(14 saal bad)

وہ فٹ پاتھ پر کھڑی دور سے ہی ان بوتیک کا جائزہ لے رہی تھی جو روڈ کراس کر کے ترتیب سے بنے ہوئے تھے

23 سال کی عمر میں وہ اپنی عمر سے زیادہ ہوشیار تھی مگر یہ وہ خوبی نہیں تھی جس سے لوگ متوجہ ہوتے کیوکہ ہر کوئی اس کی شکل دیکھ کر اسے معصوم سمجھتا اور بچپن سے لے کر آج تک وہ اس شکل کا ہی فائدہ اٹھاتی آرہی تھی۔۔۔ کوئی بھی مرد اگر ایک بار اس کو دیکھ لیتا پلٹ کر دوبارہ ضرور دیکھتا وجہ اسکی خوبصورتی نہیں بلکہ چہرے پر چھائی معصومیت تھی اور وہ اسی چیز کو خاطر میں لاکر معصوم لوگوں کو بے وقوف بناتی تھی

جس بوتیک میں سب سے زیادہ رش تھا سیرت اسی میں چلی گئی رش سیل کی وجہ سے لگا ہوا تھا اور خواتین وہاں ایسے گھسی ہوئی تھی جیسے وہاں کپڑے مفت مل رہی ہو سیرت کو بھی کچھ نئے کپڑوں کی ضرورت تھی اس لئے اس نے مفت کپڑے لینے کا پروگرام بنایا۔۔۔۔ پیسے تو وہ اپنے بہت سوچ سمجھ کر اور دیکھ بھال کر خرچ کرتی تھی کیوکہ وہ پیسے اس نے بہت محنت سے کمائے نہیں چرائے ہوتے تھے

بوتیک میں اینٹر ہوتے ہیں چلر کی ٹھنڈک نے اس کے زہن پر خوشگوار اثرات چھوڑے اب دماغ کو ٹھنڈا رکھے اسے اپنا کام انجام دینا تھا کاونٹر پر بیگ رکھو کر ترتیب سے ہینگ ہوئے ڈریسز میں سے اس نے اپنے لئے چار ڈویس منتخب کیے ان کے پرائز ٹیگ پر اس کی نظر پڑی تو سیرت کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ سیرت ڈریسز کو لے کر ڈریسنگ روم میں ٹرائے کرنے کی نیت سے گئی ڈریسنگ روم کا دروازہ بند کرکے اس نے آبائے میں سے چھوٹا سا چاقو نکالا جو ہمہ وقت وہ اپنے ساتھ رکھتی تھی۔۔ چاقو کی مدد سے اس نے سارے ڈریسز کے پرائز ٹیگ ارام سے نکالے کیوکہ پرائز ٹیگ میں ایک چپ موجود تھی اگر وہ یہ سارے ڈریسز پرائز ٹیگ سمیت، بوتیک سے لےکر،، بغیر پےمنٹ کئے بائر نکلتی تو الارم بج جاتا۔۔۔ سارے ٹیگ نکال کر اس نے ڈریسنگ روم میں ایک کونے میں رکھے سارے ڈریسز پہن کر عبایا پہنا اور چہرے پر بیزاریت لائے جیسے کچھ پسند نہ آیا ہوں اپنا بیگ لیے بوتیک سے باہر نکل گئی

****

“ارے میری بٹیا آگئی،، کچھ کھانے کے لئے لائی ہے اپنے ابا کے لیے”

یہ ایک کمرے کے فلیٹ تھا اس چھوٹے سے کمرے میں پردہ ڈال کر آدھا حصہ سیرت نے اپنا بنایا ہوا تھا

“ابا سانس لینے دو ذرا۔۔۔ حلیم لے کر آئی ہوں زیادہ نکال کر ضائع مت کرنا پیسے خرچ کیے ہیں اس پر”

حلیم کی تھیلی ناصر کو پکڑاتے ہوئے وہ اپنے پورشن میں آگئی

“ہاں ہاں بڑی محنت سے کمائے تھے پیسے،، جیسے مجھے پتہ نہیں۔۔۔۔ یہ بتا تیرے لئے نکالو”

ناصر وہی سے ہانک لگا کر سیرت سے پوچھنے لگا

“بھوک نہیں ہے فل الحال یہ بتاؤ، مالک مکان کو کرایہ دے دیا تم نے”

عبایا اتارنے کے بعد اب وہ ایک ایک کر کے ساری شرٹ اتارتے ہوئے پردے کے پیچھے سے ناصر پوچھنے لگی۔ ۔۔ کل ہی تو اس نے عورت کو بے وقوف بنا کر اس سے پیسے بٹورے تھے تاکہ گھر کا کرایہ دے سکے

“ہاں دے دیا اس نامراد کو کرایہ مگر وہ کہہ رہا تھا، یہ پچھلے دو مہینے کا کرایہ ہے اس مہینے کا کرایہ ابھی باقی ہے۔۔۔ اسے میں نے فل الحال ٹال دیا یہ بتا رزلٹ کب آرہا ہے تیرا۔۔۔۔ کہیں چھوٹی موٹی نوکری ڈھونڈ لے،، اب میری ہڈیوں میں اتنی سکت نہیں جو میں کماؤں”

ناصر نے حلیم کھاتے ہوئے پردے کو دیکھتے ہوئے سیرت کو مخاطب کیا سیرت نے اسی سال پرائیویٹ بی-اس کا ایگزام دیا تھا۔۔۔ توقع تو نہیں تھی کہ کلیئر ہو جائے مگر امید پر دنیا قائم ہے اسی محاورے پر عمل کرتے ہوئے وہ لگے بندھے انداز میں پڑھائی کر لیتی تھی

“ابا یہ تو لطیفہ ہوگیا تم نے بھلا کب کما کر کھلایا مجھے یا اماں کو۔۔۔ یہ تمہاری ہڈیاں محنت کرتے کرتے نہیں چوری کرتے کرتے گھسی ہیں،، شکر کرو کسی کے ہاتھے نہیں چڑھے ورنہ ان ہڈیوں سے ہی محروم ہوجاتے۔۔۔ اور تم سے کہہ کون رہا ہے پریشان ہونے کو،، ننھی سی سیرت کو پال کر تم نے بڑا کر دیا اب تم سیرت کی ذمہ داری ہو۔۔۔ اپنا اور تمہارا پیٹ اب سیرت چاہے دو نمبری کر کے بھرے یا ایمانداری سے کما کر تم اس کی فکر نہیں کرو”

سیرت عام سے حلیئے میں پردے کے پیچھے سے نکل کر ناصر کے سامنے بیٹھتی ہوئی بولی

“کمانے کا اس لیے بول رہا ہوں تجھے، لڑکی ذات ہے الٹے سیدھے کاموں میں الٹے سیدھے لوگوں سے پالا پڑتا ہے۔۔۔ آگے تو خود سمجھ دار ہو گئی ہے۔۔۔ اب مجھے ضرورت نہیں تجھے سمجھانے کی”

ناصر ایک باپ کی طرف فکر کرتا سیرت کو سمجھانے لگا

“اب سیدھے سیدھے طریقے سے ٹیوشن پڑھانے گئی تھی نا ایک بچے کو مگر اس کے باپ نے مجھے معصوم سمجھ کر الٹا سیدھا کرنے کی کوشش کی۔۔۔ جوتیوں سے تواضع کر کے نکلی تھی اس دن اس کے باپ کی اور سیدھے سیدھے طریقے سے جاب کر کے دیکھی تو تھی وہاں پر بھی الٹے سیدھے لوگوں کو دیکھ کر چلتی بنی سیرت۔۔۔۔ یہ سیدھے سیدھے کام مجبور اور تن تنہا لڑکی کو راس نہیں آتے۔۔۔ اب تم نے سیدھے سیدھے سے حلیم پیٹ میں اتار لیا تو دوا بھی کھا لینا اپنی۔۔۔۔ میں ذرا آرام کر لو،، بائی گاڈ شاپنگ کر کے آئی ہو بہت گرمی ہے آج باہر”

سیرت نے پلیٹ اٹھا کر چھوٹے سے کچن میں رکھتے ہوئے کہا

“لڑکی ذات ہے تو، جوان ہوگئی ہے۔۔۔ اس طرح ہیرا پھیری کے کام کرے گی تو کون بیاھے گا تجھے”

ناصر کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تھی بات کرتے کرتے یا زیادہ چلتے چلتے اس کا سانس اکھڑنے لگتا۔۔۔۔ اس لیے اب اسے سیرت کی فکر ہونے لگی تھی

“ہاہاہا ابا آج تم بات بات پر کامیڈی کر رہے ہو،، مجھ جیسی لڑکی کو ویسے بھی کوئی نہیں بیاھے گا جس کے ماں باپ کا، آگے پیچھے کا کچھ معلوم نہ ہو۔۔۔ ہیرا پھیری کروں یا نہ کروں اس سے تھوڑی کوئی فرق پڑتا ہے،، مجھ جیسی لڑکیوں سے کون شادی کرتا ہے بھلا۔۔۔ اس لئے خود بھی ٹینشن فری ہوکے سو جاؤ۔۔۔ پانچ بجے لائیٹ جائے گی تو یہ موا پنکھا بھی بند ہو جائے گا”

سیرت ناصر کا جھریوں زدہ فکر مند چہرہ دیکھ کر بولتی ہوئی اپنے پلنگ پر لیٹ گئی