504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 17)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

ہفتے بھر کی ٹف روٹین کے بعد آج وہ گھر میں ریلکس سب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ شہر میں جگہ جگہ آپریشن کی وجہ سے پورا ہفتہ ثوبان کا بزی گزرا جس کی وجہ سے گھر بھی اس کا رات کو لیٹ آنا ہوتا۔۔۔۔ سیرت سے بھی اس کی دو ہی دفعہ بات ہوئی تھی جس میں اس نے ناصر کی طبیعت خرابی کا ذکر کیا تھا۔۔۔ ہفتے بھر کی ٹف ڈیوٹی کے بعد آج اسے چھٹی کا دن نصیب ہوا تھا دوپہر کا وقت تھا اور اتوار کے دن کی وجہ سے بہروز کاشان اور رنعم بھی گھر میں موجود تھے۔۔۔۔ رنعم یعشل کی انگیجمنٹ کے بعد اپنے سیمسٹرز میں بزی ہو گئی تھی اس دن کیبن والے واقعے کے بعد تین دن تک تو وہ کاشان کے سامنے بھی نہیں آئی تھی دوسرا پیپرز کی وجہ سے کھانا بیڈروم میں منگوا لیتی مگر بہروز کے کہنے پر کہ کھانا سب کے ساتھ بیٹھ کر کھاؤ وہ اپنے روم سے نکلتی مگر کاشان کے سامنے پاکر اس کی نظر جھک جاتی

“میڈیسن رکھ لی آپ نے اپنی ساری،، کب تک واپسی کریں گی”

دوپہر کے کھانے کے دوران ثوبان یسریٰ سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ فرح بہت دنوں سے یوسریٰ کو بلا رہی تھی تو یوسریٰ کا حیدرآباد جانے کا پروگرام بن گیا

“سب کچھ رکھ لیا ہے میں نے، بس تم اپنے بابا کا خیال رکھنا واپسی انشاء اللہ تین سے چار دن میں کرلوں گی” یسریٰ نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا

“کیسے جائیں گیں آنٹی۔۔۔۔ میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں” کاشان نے یسریٰ کو دیکھ کر کہا تو یسریٰ مسکرا دی

“نہیں بیٹا میں ڈرائیور کے ساتھ آسانی سے چلی جاؤں گی، ثوبان کو بھی میں نے منع کیا ہے اتنی ٹف ڈیوٹی کے بعد وہ کہاں ڈرائیونگ کرے گا تم بھی چھٹی کا دن گھر میں انجوائے کرو اور یہ پلیٹ کیوں خالی ہے سہی سے کھانا نکالو۔۔۔۔ ارے بہروز آپ یہ قورمہ تو ٹیسٹ کریں آج آپ کی صاحبزادی نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے” یسریٰ نے کاشان کو جواب دے کر بہروز کو مخاطب کیا۔۔۔ بے ساختہ کاشان کی نگاہ رنعم کی طرف اٹھی۔۔۔ رنعم نے جلدی سے اپنی نگاہ پلیٹ کی طرف جھگالی اور کھانا کھانے لگی یہ منظر ثوبان کی آنکھوں سے چھپا نہیں رہ سکا

“ارے واہ میری بیٹی نے کھانا بنایا ہے لاؤں مجھے دو” بہروز نے خوش ہوتے ہوئے یسریٰ سے ڈش لی بہروز کے بعد کاشان اپنی پلیٹ میں قورمہ نکالا

“کاشی مجھے بھی دو، فرسٹ ٹائم میری بہن نے کوئی چیز بنائی ہے پتہ تو چلے کیسا بنا ہے” ثوبان نے کاشان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا سب نے کھانا اچھے ماحول میں کھایا۔۔۔۔

اتنے میں ثوبان کے موبائل پر سیرت کی کال آئی وہ ایکسکیوز کرتا ہوا وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گیا

“ہاں سیرت کیسی ہو تم،، آج شام میں تمہاری طرف چکر لگاتا ہوں”

ثوبان نے کال ریسیو کرتے ہوئے سیرت سے کہا

“ثوبی شام میں نہیں پلیز تم ابھی آ جاؤ ابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں انہیں اسپتال لے کر آئی ہو”

سیرت آواز سے ثوبان کو کافی پریشان لگ رہی تھی

“ٹھیک ہے پریشان مت ہوں میں پہنچ رہا ہوں”

ثوبان کال کاٹ کر اندر آیا اور ایمرجنسی کا کہہ کر کار کی کیز اٹھاتا ہوا باہر نکل گیا

****

“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں آ گیا ہوں کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹرز”

ثوبان سیرت کے بتائے ہوئے گورنمنٹ اسپتال میں پہنچا تو سیرت اسے باہر کوریڈور میں ہی مل گئی

“دونوں کیڈنیز فیل ہوچکی ہیں باقی ڈاکٹر ڈائلیسس کے لئے بول رہے ہیں۔۔۔ ثوبی ابا ٹھیک تو ہوجائیں گے نا” سیرت اسے بہت مایوس اور پریشان لگی وہ ثوبان کو دیکھ کر امید سے پوچھنے لگی

“فکر نہیں کرو سب ٹھیک ہو جائے گا میں ہوں نہ تمہارے ساتھ چلو انکل کے پاس روم میں چلتے ہیں”

ثوبان اسے تسلی دیتا ہوں اس کے ساتھ روم میں پہنچا۔۔۔ یہ جرنل وارڈ تھا جہاں پر چند مریضوں کے دومیان ایک بیڈ پر ناصر لیٹا ہوا تھا

“ثوبی تم آگئے بیٹا میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا”

ثوبان کو دیکھ کر ناصر کے چہرے پر رونق آئی

“آپ پریشان مت ہوں انکل انشاءاللہ بہت جلد صحت یاب ہوجائیں گے” ثوبان نے ناصر کو تسلی دیتے ہوئے کہا

“صحت یاب نہیں بھی ہوا تو کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔ زندگی کس سے وفا کرتی ہے پریشان تو میں اپنی اس جھلی کی وجہ سے ہے۔ ۔۔۔ میرے بعد اس پگلی کا کوئی نہیں رہے گا اکیلی رہ جائے گی یہ”

ناصر نے سیرت کو دیکھتے ہوئے کہا جو بیڈ کے پاس آنکھوں میں آنسو لیے کھڑی تھی۔۔۔۔ اس سے پہلے تو ثوبان نے صرف اسے جھوٹی موڈ کے آنسو بہاتے دیکھا تھا

“آپ ایسی ناامیدی کی باتیں کیوں کررہے ہیں ڈائلیسس تو اب عام سی بات ہوگئی ہے اور آپ سیرت کی بالکل فکر نہیں کریں”

ثوبان ایک نظر سامنے کھڑی سیرت کو دیکھتے ہوئے ناصر سے کہا

“بیٹی کا باپ ہو فکر تو ہوگی۔۔۔۔ ثوبی بیٹا تم میری سیرت سے نکاح کرلو”

ناصر کی بات پر وہ دونوں ایک دم چونکے

“ابا کیسی بات کر رہے ہو تم،،، کہاں جارہے ہو تم،، سیرت تمہیں کہیں نہیں جانے دے گی اور اب ثوبی سے کوئی الٹی سیدھی بات مت کرنا”

ناصر کا یوں ایک دم ثوبان کے سامنے نکاح کا بولنا سیرت کو ثوبان سے محبت کے باوجود اپنا آپ بے مول لگا وہ تڑپ ہی اٹھی

“تو چپ کر میں تجھ سے بات نہیں کر رہا ثوبی سے بات کر رہا ہوں بولو بیٹا آج ہی میری بیٹی سے نکاح کرو گے میری آنکھوں کے سامنے اسے ایک باپ کی آخری خواہش سمجھو”

ناصر کے لہجے میں ایک بے بس باپ کی فریاد تھی۔۔۔۔ ثوبان ناصر کی بات سے کشمکش میں پڑگیا وہ سیرت سے ہی شادی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر یوں اس طرح یسریٰ اور بہروز کے بغیر وہ کیسے اتنا بڑا قدم اٹھا لیتا وہ اس کے ماں باپ کی جگہ ہی تو تھے۔۔۔ انہیں کتنا شاک لگتا اور اتنے کم ٹائم میں وہ بہروز کو کیا کہہ کر بلاتا یسریٰ تو شاید اب تک حیدرآباد کے لیے نکل گئی ہو

“سوچ کیا کر رہے ہو بیٹا،،، میری بیٹی روکھی سوکھی کھا کر تمہارے ساتھ گزارا کرلے گی میں تہمارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں”

ثوبان کو خاموش دیکھ کر ناصر دوبارہ بولا تو ثوبان اپنی سوچوں سے آزاد ہوا

“یہ کیا کر رہے ہو انکل آپ۔۔۔۔ میں تیار ہوں سیرت سے نکاح کرنے کے لئے آپ پلیز ایسے نہیں کریں”

وہ ناصر کے دونوں ہاتھ تھام کر بولا

سیرت روتی ہوئی وارڈ سے باہر نکل گئی ثوبان بھی اٹھ کر اس کے پیچھے آیا وہ کوریڈور میں کھڑی آنسو بہا رہی تھی

“ثوبی تم اس وقت یہاں سے جاو،،، ابا کو پتا نہیں کیا ہوگیا ہے میں انہیں دیکھ لوں گی”

سیرت نے آنسو صاف کرتے ہوئے ثوبان سے کہا

“کیوں کیا کوئی اور پسند ہے تمہیں” ثوبان نے دونوں ہاتھ باندھ کر نرم لہجے میں اس سے دریافت کیا جس پر سیرت تپ گئی۔۔۔ وہ اتنا انجان بھی نہیں تھا جو اس کی پسند سے واقف نہ ہو

“میری چھوڑو اپنی کہو،، ابا کے مجبور کرنے پر اتنا بڑا قدم اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ تم یہاں سے جاو میں ابو کو سمجھا دوں گی”

سیرت نے ثوبان کو دیکھ کر کہا

“تو سیرت بی بی میں تم سے نکاح تمہارے ابا کے مجبور کرنے پر کر رہا ہوں۔۔۔۔ بچپن سے لے کر آج تک تم نے اتنا ہی جانا ہے مجھے”

ثوبان نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا

“جہاں پسنددیدگی ہو وہاں سوچنے کے لیے وہ وقت نہیں لگایا جاتا فٹ سے فیصلہ کر لیا جاتا ہے”

سیرت نے تھوڑی دیر پہلے اسے ناصر کے سامنے چپ رہنے پر طنز کرتے ہوئے کہا

“سیرت خدا کو مانو یار،،، میری فیملی ہے اتنا بڑا فیصلہ،،، وہ لوگ یہاں موجود نہیں ہیں اس وقت۔۔۔ مگر میں ابھی انہیں کچھ بتانے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوں یوں اچانک۔۔۔ پر تم نہیں سمجھو گی یہ بات،،، بیکار ہے تمہیں بولنا۔۔۔ جاؤ انکل کے پاس بیٹھو نکاح خواں کا ارینج کرنا ہے مجھے”

سیرت سے کہتا ہوا موبائل کان پر لگاتا وہاں سے نکل گیا

****

کاشان کو اس نے بیس منٹ کے اندر بغیر کسی کو بتائے اسپتال کا نام بتایا اور وہاں آنے کے لیے کہا اپنے تین سے چار دوستوں کو بھی بلایا اسپتال کے قریب مسجد میں نکاح پڑھایا گیا یوں ثوبان اور سیرت ایک مضبوط رشتے کے بندھن میں بندھ گئے چند گھنٹے پہلے جس کا دونوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا

“اب آگے کیا سوچا ہے تم نے”

نکاح کی رسم ادا کرنے کے بعد ثوبان سب دوستوں سے فارغ ہوا تو کاشان نے اس سے پوچھا

“جو کچھ ہوا اس طرح میرے پلان میں تو نہیں تھا۔۔۔ن گھر میں باقی سب کے لیے کسی شاک سے کم نہیں ہو گی یہ بات مگر پہلے مما پاپا کو اعتبار میں لوں گا ان کی ناراضگی دور کر کے تبھی سیرت کو وہاں لے کر جاؤں گا”

ثوبان نے کاشان کو دیکھتے ہوئے بتایا

“ہاں یہی مناسب ہے۔۔۔۔ مگر تم ابھی سیرت شیریٹن ہوٹل لے کر جا رہے ہو،،، وہاں میں نے اپنے نام سے تم دونوں کے لیے روم بک کروایا ہے اسے میری طرف سے نکاح کا تحفہ سمجھو”

کاشان نے اپنا کارنامہ بتایا جس پر ثوبان نے اس کو گھور کر دیکھا یقیناً اسی وجہ سے وہ آج نکاح کے وقت لیٹ پہنچا تھا

“دماغ صحیح ہے تمہارا صرف نکاح ہوا ہے اور وہ ڈسٹرب ہے اپنے ابا کو لے کر “

ثوبان نے آنکھیں دکھا کر سنجیدگی سے کہا

“جبھی تو کہہ رہا ہوں ڈسٹرب ہے اسے ریلیکس کرو۔۔۔۔ آگے کا کیا پلان ہے یہ بس شیئر کرو خود بھی تھوڑے پرسکون ماحول میں رہو”

کاشان نے مسجد سے نکلتے ہوئے ثوبان سے کہا

“اور گھر میں کیا کہو گے ثوبان کہاں ہے”

ثوبان اس کی بات پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے بولا

“اس سے پہلے کیا تمہاری نائٹ ڈیوٹی نہیں لگی”

کاشان کی بات پر ثوبان کو مسکراہٹ آئی

“ایک اور بات ویسے تو تمہاری بیگم ایک خونخوار بلی ہے لیکن آج وہ یقیناً بھیگی بلی بنی ہوگی اور تم اس بات کا مکمل فائدہ اٹھانا۔۔۔ن اسے دیکھ کر پگھل مت جانا تھوڑا روعب شوب دکھانا تاکہ آئندہ زندگی میں بھی وہ تمہاری جی حضوری کرتی رہے”

کاشان اپنی طرف سے ثوبان کو مخلصانہ مشورہ دیا

“نہایت ہی کوئی بیہودہ قسم کے فلاسفی ہے تمہاری۔۔۔ اور تمہارے خیالات جان کر اب مجھے رنعم کے لئے بھی سوچ سمجھ کر آگے بات کرنا پڑے گی”

ثوبان نے اسے گڑے تیورں سے اسے گھورا تو کاشان ایکدم سٹپٹایا

“اب یہ رنعم بیچ میں کہاں سے آگئی سیرت اور رنعم دونوں کی نیچر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔ میرا کیا ہے نہ مانو میری بات آگے مستقبل مستقبل میں خود ہی پچھتاو گے،، میں نے تو مشورہ دے کر بھائی ہونے کا فرض نبھایا اب اس پر عمل کرنا نہ کرنا تمہارے اوپر ہے اور یاد دلا دوں رنعم کے پیپرز ختم ہونے والے ہیں چلتا ہوں” کاشان بول کر کار میں بیٹھ گیا جبکہ ثوبان سر جھٹک کر اسپتال میں ناصر اور سیرت کے پاس پہنچا۔۔۔

دو گھنٹے بعد ناصر کا ڈائیلائسس ہوا اس کے بعد ثوبان نے ناصر کو پرائیویٹ روم میں شفٹ کروایا اور ایک کیئرٹیکر ناصر کی نگہداشت کے لئے مقرر کیا جب وہ ہسپتال سے سیرت کو لے کر نکلا تو رات ہو چکی تھی

****

“کیا ہو رہا ہے اس وقت”

رنعم اس وقت کچن میں موجود اپنے لئے کافی بنا رہی تھی تب اچانک کاشان نے قریب آ کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔ کیوکہ کاشان کے سامنے رنعم کی پشت تھی اس لئے کاشان کے بولنے پر رنعم ڈر گئی اور بری طرح اچھلی پڑی

“اف آپ نے تو ڈرا کر ہی رکھ دیا مجھے”

رنعم نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا اور وہ سہمی سہمی کاشان کو اپنے دل کے قریب محسوس ہوئی

“میں نے نوٹ کیا ہے تم شرمانے کے ساتھ ساتھ ڈرتی بہت ہو مجھ سے”

شیلف پر موجود رنعم کا کافی کا کپ تھام کر وہ سامنے چیئر پر بیٹھتا ہوا بولا اور کافی کا سپ لیا

“ایسی تو کوئی بات نہیں ہے،، میں کیوں ڈروں گی آپ سے”

رنعم نے اپنا ڈر چھپاتے ہوئے بولا مگر سچ تو یہی تو وہ واقعی اس کی روعب دار شخصیت کے آگے سہم سی جاتی تھی۔۔۔۔۔ رنعم کی بات سن کر کاشان کے چہرے کے تاثرات ایکدم بدلے

“تو تم نہیں ڈرتی ہوں مجھ سے” کافی کا مگ ٹیبل پر رکھ کر سامنے پڑی چھریوں میں سے سب سے بڑی چھری اٹھا کر وہ اس سے پوچھتا ہوا رنعم کے قریب آیا۔۔۔۔ اس وقت کاشان کے چہرے کے تاثرات بالکل پتھریلے تھے جنھیں دیکھ کر رنعم کی ہنسی تھم گئی

“یہ۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ کاشان”

کاشان کو ہاتھ میں چھری پکڑے اپنی طرف آتا دیکھ کر رنعم کا چہرہ خوف سے فق ہوگیا وہ کچن کی دیوار سے جا لگی

“شششش”

کاشان نے چھری کو اپنے ہونٹوں پر رکھ کر اسے چپ رہنے کے لئے بولا رنعم خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

“کاشان نہیں پلیز”

کاشان کے چہرے پر سخت تاثرات دیکھ کر رنعم نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جیسے ہی کاشان نے فضا میں ہاتھ اٹھا کر چھری کو تھرچا کرتے ہوئے رنعم پر وار کیا ویسے ہی رنعم کے حلق سے ایک دلخراش چیخ نکلی۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرا چھپا کر اپنی آنے والی موت کا انتظار کرنے لگی