Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 16)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
“ہاتھ چھوڑو میرا، ورنہ الٹے ہاتھ کا منہ پر دوں گی”
سیرت کانسٹیبل سے کہتے ہوئے اس سے ہاتھ چھڑا کر خود پولیس اسٹیشن کے اندر داخل ہوئی،،، جہاں ثوبان اسے دیکھ کر حیران ہوا وہی سیرت ثوبان کو پولیس یونیفارم میں دیکھکر ڈبل حیران ہوئی
“یہ دیکھیں سر، آج کل کی لڑکیاں۔۔۔۔ مردوں سے برابری کرنے کے چکر میں اب مردوں کی طرف پاکٹ مارنے لگی ہیں”
کانسٹیبل نے ثوبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
“بکواس کر رہا تھا وہ آدمی، اس کا والٹ نیچے گرا ہوا تھا میں نے اسے اٹھا کر دینے کی کوشش کی اس نے مجھ پر چوری کا الزام لگا کر تمہیں بتا دیا” ثوبان کو دیکھ کر وہ بغیر شرمندہ ہوئے ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہوئے کانسٹبل سے بولی
“او بی بی جتنے پیسوں کا تم آٹا خرید کر کھاتی ہو،، اتنے کا میں بھی کھاتا ہوں۔۔۔ بیوقوف سمجھا ہوا ہے کیا،، ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری” کونسٹیبل نے سیرت کو دیکھ کر کہا
“اگر اب تم نے مجھے چور کہا تو میں مکہ مار کر تمہاری ناک توڑ دوں گی”
سیرت غصہ کر کے تپتے ہوئے بولی۔۔۔ کیوکہ وہ کونسٹیبل اسے ثوبان کے سامنے بار بار چور کہہ رہا تھا
“تمیز سے بات کرو یہ پولیس اسٹیشن ہے کوئی پہلوان کا اکھاڑا نہیں اور تم پولیس اسٹیشن کے اندر ایک پولیس والے سے بدتمیزی کر رہی ہوں”
سیرت کے بولنے پر ثوبان تیز آواز میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ثوبان کو غصے میں دیکھ کر سیرت اور کانسٹیبل دونوں ہی چپ ہوگئے
“سر کیا کرنا ہے اس لڑکی کا”
کانسٹیبل نے گلہ کھنگارتے ہوئے ثوبان سے پوچھا
“ڈیوٹی پر جاو اپنی”
کانسٹیبل پر سخت نگاہ ڈال کر ثوبان نے اسے مخاطب کیا وہ ثوبان کو سلوٹ مارتا ہوا وہاں سے چلا گیا
“چلو”
ثوبان نے سیرت کو دیکھ کر اتنا ہی کہا اور خود پولیس اسٹیشن سے باہر نکل گیا۔۔۔ سیرت کو بھی اس کے پیچھے باہر آنا پڑا
“کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے”
گاڑی کی طرف بڑھتا دیکھ کر سیرت نے ثوبان کو مخاطب کیا
“سیرت اپنا منہ بند رکھو اور گاڑی میں چپ کر کے بیٹھو”
وہ کاشان کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پچھلے دو دن سے لگاتار جا رہا تھا مگر اسے وہاں پر تالا لگا مل رہا تھا۔۔۔ برابر والوں سے پوچھنے پر ان باپ بیٹی کا کوئی اتا پتہ یا آنے جانے کا ٹائم مقرر نہیں تھا مگر آج سیرت کو پولیس اسٹیشن میں دیکھ کر اسے شدید غصہ آیا
“میں سیرت نہیں ہوں بتایا تو تھا اس دن،، سمجھ میں نہیں آتا تمہیں”
سیرت کو 14 سال پہلے اس کے یوں اچانک بتائے بغیر جانے پر غصہ تو تھا ہی اسے رنعم کے ساتھ دیکھکر مزید غصہ آیا اور تین دن پہلے کاشان اس کے گھر آیا تھا یقیناً اس نے اپنے بھائی کو بتایا ہوگا سیرت کا،، مگر وہ اسے دیکھنے تک نہیں آیا تو بھلا سیرت کو کیا ضرورت تھی اسے پہچاننے کی
“تو تم سیرت نہیں ہوں”
ثوبان نے اپنی طرف کا کار کا دروازہ بند کر کے سیرت کے پاس آکر پوچھا
“تو کیا اب اسٹیمپ پیپر پر لکھ کے دو” سیرت نے بول کر سر جھٹکا
“تو ٹھیک ہے آج چوری کے جرم میں حوالات کی ہوا کھا کر دیکھو پھر” ثوبان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر اندر لے جانے لگا
“ثوبی کیا کر رہے ہو چھوڑ میرا ہاتھ،، پاگل تو نہیں ہو گئے ہو”
سیرت اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولی
“اب انکار کرو کہ سیرت نہیں ہو”
سیرت کا ہاتھ چھوڑ کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا
“ہاں ہوں تو پھر” سیرت نے اترا کر بولا تو ثوبان نے اپنی آنکھیں بند کر کے دوبارہ کھولیں
“کار میں بیٹھو” ثوبان نے بولتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی سیرت بھی آکر کار میں بیٹھ گئی۔۔۔ کار سیرت کے فلیٹ کے آگے آکر رکی۔۔۔ سیرت دروازہ کھول کر اتری اور فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھنے لگی ثوبان نے بھی اس کی پیروی کی
“اب بتاؤ اتنے سالوں بعد ملی ہوں،، کس بات پر خفا ہو” فلیٹ کے اندر داخل ہو کر ثوبان نے اس سے نرم لہجے میں دریافت کیا تھوڑی دیر پہلے آنے والا غصہ اب کہیں غائب ہوگیا تھا
“وجہ بھی میں ہی بتاؤں،،، تمہیں کچھ نہیں معلوم” ناراضگی اب کہاں رہی تھی پھر بھی شکوہ کرتی نظروں سے سیرت نے اسے دیکھ کر کہا
“بتائے بغیر وہاں سے نہیں گیا تھا سیرت،، اس دن تم اپنے گھر پر موجود نہیں تھی اور نہ تمہارے آبا۔۔۔۔ ایک ہفتے بعد واپس آیا تھا۔۔۔ صرف تمہارے لیے،، تب تک تم لوگ بھی گھر چھوڑ کر جا چکے تھے”
وہ اب نرمی سے وجہ بتانے لگا جس پر ثوبان کو لگا وہ ناراض ہوگی
” 14 سال بعد تم مجھے دکھے ہو، وہ بھی کسی لڑکی کے ساتھ۔۔۔ میں پوچھتی ہوں کون ہے وہ ہری آنکھوں والی حسینہ جس کے ہاتھوں سے تم بڑے مزے سینڈوچ ٹھونس رہے تھے”
اس کے نرمی سے وضاحت دینے پر سیرت کو اور بھی شدید غصہ آیا۔۔۔ شاید اسے غصہ ہی اسی بات پر آیا تھا اس لیے وہ اس کا گریبان پکڑ کر پوچھنے لگی جس پر ثوبان کو ہنسی آگئی
“وہ رنعم ہے یار بہن جیسی بلکہ بہن ہی ہے وہ میری”
سیرت کا یہ جلنے والا روپ ثوبان کو مزہ دے گیا
“پکا،، صرف بہن ہے” سیرت اب بھی مشکوک نظروں سے اسے دیکھ کر کنفرم کر رہی تھی
“پکا تمہارے سر کی قسم”
ثوبان نے اس کے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹا کر،، اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھتے ہوئے کہا
“کوئی ضرورت نہیں ہے میرے سر کی قسم کھانے کی پتہ چلا کل میں ہی مر جاؤں”
سیرت نے اسکا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا تو ثوبان نے اس کا ہاتھ پکڑا
“اتنی بے اعتباری آگئی 14 سال میں” ثوبان اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے شکوہ کرنے لگا
“کاشی یہاں پر تین دن پہلے آیا تھا۔۔۔ کیا اس نے میرے بارے میں نہیں بتایا تمہیں”
سیرت نے ثوبان سے اپنا ہاتھ چڑھاتے ہوئے کہا
“میں دو دن سے مسلسل چکر لگا رہا ہوں گھر میں تم ٹکتی ہی کب ہو اور یہ کیا کرتی پھر رہی ہو سیرت تم”
ثوبان نے دوبارہ وضاحت دینے کے بعد اس سے شکوہ کیا
“کیا۔۔۔ کیا کرتی پھر رہی ہو جھوٹ بول رہا تھا وہ موٹا کانسٹیبل”
سیرت صاف مگر گئی
“سیرت پلیز کم از کم تم مجھ سے جھوٹ نہ بولو اور اگر میں نے اب تمہیں کوئی الٹے سیدھے کام کرتے ہوئے دیکھا نہ”
ثوبان نے اس کو وارن کرنا چاہا مگر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے سیرت نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے آگے کردیے
“ہتھکڑی لگاو گے نہ تم۔۔۔ پولیس والے جو بن گئے ہو” سیرت کے بولنے پر ثوبان نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا فلیٹ کا دروازہ کھلا ناصر اندر آیا۔۔۔ ثوبان نے فوراً اس کے ہاتھ چھوڑے اور سیرت ایک دم پیچھے ہوئی
“صاحب میری بچی نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ شکل دیکھو اس کی چور لگتی ہے کہیں سے،، بہت معصوم ہے میری بچی۔۔ ہم بہت غریب لوگ ہیں سفید پوش”
ناصر نے اپنے گھر پولیس کو دیکھ کر اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر رونا شروع کردیا وہی سیرت ہے اپنا سر پکر لیا اور ثوبان تاسف سے نفی میں سر ہلا کر سیرت کے ابا کے ڈرامے دیکھنے لگا
“ابا۔۔۔ ابا چپ ہو جاؤ یہ ثوبی ہے اپنا۔ ۔۔۔ وہی پرانے محلے والا ثوبی،، کاشی کا بھائی” سیرت نے ناصر کے پاس آکر اس کو آنکھیں دکھا کر چپ کرانا چاہا
“ہاں یاد آیا ثوبی،، جوان ہو گیا ہے ماشااللہ اور پولیس بھی بن گیا۔۔۔ یہاں کیوں لے آئی اس کو”
ناصر نے مسکرا کر مگر آخری جملہ سیرت کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا جس پر سیرت ناصر کو آنکھیں دکھا کر زبردستی مسکرائی
“بیٹھو تم ابا کے ساتھ چائے بنا کر لاتی ہوں”
وہ مسکرا کر ثوبان سے بولی اور کچن میں چلی گئی
ثوبان وہی کرسی پر ناصر کے ساتھ بیٹھ گیا ناصر سے باتیں کرنے لگا۔۔۔ اس نے سیرت اور ناصر دونوں کو بہروز اور یسریٰ کے بارے میں بتایا
****
“آنٹی رنعم کو بھیج دیں باہر،،، میں کار میں اس کا ویٹ کر رہا ہوں”
کاشان نے یسریٰ کو اپنے روم میں آتا دیکھا تو بولا
“ہاں میں تمہیں یہی بتانے آئی تھی یشعل نے پالر سے آتے ہوئے رنعم کو پک کر لیا ہے، بس اب تمہیں اسے لینے جانا ہوگا”
یسریٰ نے مسکراتے ہوئے کاشان کو بتایا مگر یسریٰ کی بات سن کر کاشان کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے جسے وہ فوراً چھپا گیا
“مگر آپ نے اسے اجازت کیوں دی میں چھوڑ آتا۔۔۔ ثوبی نے مجھے احتیاط سے اسے لے جانے اور واپس لانے کے لئے کہا تھا”
کاشان نے سنجیدگی سے بولا تو یسریٰ مسکرا دی۔ ۔۔ اسے کاشان کا یوں رنعم کی فکر کرنا اچھا لگا
“دراصل یعشل ہی رنعم کی ایسی اسکی فرینڈ ہے جس کے بھروسے میں رنعم کو بھیج دیتی ہو اور کسی کے ساتھ الاو نہیں کرتی۔۔۔۔ اب تم اسے احتیاط سے گھر لے آنا”
یسریٰ کے کہنے پر کاشان نے سر ہلایا یسریٰ کے روم سے جانے کے بعد کاشان بھی لب بھینچ کر کمرے سے باہر نکل گیا
****
“باہر آو فوراً”
یعشل کے گھر کے باہر گاڑی روکے کاشان نے موبائل پر کال ملا کر رنعم کو کہا
“مگر مجھے تو ابھی ایک گھنٹہ ہوا ہے یہاں آئے ہوئے”
رنعم نے اپنے موبائل پر کاشان کی کال دیکھی تو سوچ میں پڑ گئی کال ریسیو کی تو اس کی بات سن کر آئستہ آواز میں احتجاجاً بولی
“سنائی نہیں دے رہا تمہیں کیا کہہ رہا ہوں،،، فوراً باہر آو اس وقت”
کاشان نے اسے ڈانٹ کر کہا اور کال کاٹ دی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اسے گھر کے گیٹ سے رنعم باہر آتی دکھائی دی،، وہ بےخود سا ہو کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔ اپنی آنکھوں کے ہم رنگ کپڑوں میں میں وہ کوئی اپسرہ معلوم ہو رہی تھی کاشان گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔۔۔۔ وہ بجھی بجھی سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی۔۔۔ کاشان کی نظریں بھٹک کر اس کے گہرے گلے اور سلیس سے چھلکتے بازوؤں پر پڑی
“دوپٹہ صحیح سے لو اور فوراً گاڑی میں بیٹھو”
کاشان نے اپنے دماغ کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے کہا
“مگر ابھی تو فنگشن اسٹارٹ ہوا ہے”
رنعم نے کاشان کے تاثرات دیکھ کر منمناتے ہوئے کہا
“کیا بول رہی ہوں ذرا پھر سے بولو”
کاشان نے نازک سے بازو کو سختی سے پکڑتے ہوئے استفاسر کیا،،، جس پر رنعم نے حیرت سے اس کو دیکھا کاشان کے سخت ہاتھوں کی انگلیاں،، اپنے ملائم سے بازو میں گڑتی محسوس ہوئی تو رنعم کو رونا آنے لگا وہ چپ کر کے گاڑی میں بیٹھ گئی
“دوپٹہ کھول کے لو بازو ڈھکو اپنے”
کاشان خود بھی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے،، اس کے گلے میں پڑے دوپٹے پر تنقیدی نگاہ ڈالتے ہوئے گویا ہوا،، کاشان کی نظریں دودھیا بازو پر پڑے اپنے انگلیوں کے نشانات پر گئی،،، مگر وہ اس وقت ترس کھانے کے موڈ میں ذرا نہیں تھا۔۔۔
رنعم نے پورا دوپٹہ کھول کر اپنے بازوؤں کو ڈھکا اور آنکھوں میں آئی نمی صاف کی
“بال باندھو اپنے اور لپ اسٹک بھی صاف کرو”
کاشان کی آواز پر رنعم نے ایک بار پھر شکوہ بھری نظر اس پر ڈالی، جس سے کاشان پر کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ اس کی طرف ٹشو بڑھایا۔۔۔۔ رنعم چپ کر کے ٹشو تھام کر اپنے ہونٹوں پر رگڑنے لگی اور بالوں کا جوڑا بنالیا
جوڑا بناتے ہوئے وہ یہی سوچ رہی تھی اتنی انسٹرکشن تو کبھی بابا اور بھیا نے بھی نہیں لگائی تھی۔۔۔۔ کاشان نے کار اسٹارٹ کردی تو رنعم کو مزید رونا آنے لگا
“کس بات پر رونا آرہا ہے تمہیں، ایسا کیا بول دیا ہے میں نے۔۔۔ اس طرح کے کپڑے بندہ گھر میں پہن لے،،، اچھا لگے گا ہر کوئی نظر بھر بھر کے دیکھے۔۔۔ مجھے تو اس طرح بالکل اچھا نہیں لگے گا”
کاشان کار ڈرائیو کرتے ہوئے اسے روتا دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
“فنگشنز میں ایسی ہی ڈریسنگ کی جاتی ہے۔۔۔ بال کھولتی ہیں لڑکیاں میک اپ کرتی ہیں” رنعم نے ہمت جمع کر کے اپنے حق میں بولنا چاہا
“ہاں مگر ابھی تم فنگشن میں نہیں میرے سامنے ہوں۔۔۔ اس لیے بال بنوانے اور یہ لپ اسٹک چھٹانے کو بولا”
کاشان نے ڈرائیونگ کرتے سرسری نگاہ اس کی روئی ہوئی آنکھوں پر ڈالی بال بندھوانے اور لپ اسٹک چھٹوانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔۔ دل اب بھی اس کے لیے بےایمان ہوا جارہا تھا تو کاشان نے لمبی سانس کھینچی
“میں آپ کے سامنے میک اپ نہیں کرسکتی یا بال نہیں کھول سکتی۔۔۔۔ مجھے تو اس بات کا مطلب نہیں سمجھ آیا”
رنعم کو رہ رہ کر فنکشن اٹینڈ نہ کرنے کا ملال ہو رہا تھا پھر کاشان کے نرم پڑنے پر وہ مزید ہمت کر کے بولی
“ابھی کے ابھی سارے مطلب سمجھانے والے نہیں ہیں، آگے جاکر اکھٹے ایک ہی بار میں سمجھا دوں گا سارے مطلب”
اب کی بار وہ رنعم کو دیکھنے سے گریز کر کے سامنے ڈرائیونگ کرتا ہوا بولا
“نہیں مجھے تو ابھی جاننا ہے اس بات کا مطلب،،، آپ بتائے مجھے”
رنعم کی بات پر کاشان نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا رنعم کو لگا جیسے وہ مسکراہٹ چھپا گیا ہو۔۔۔۔ رنعم مزید جھنجھلائی
“اگر ابھی مطلب سمجانے بیٹھ گیا نا۔ ۔۔۔ تو یہی کار میں بے ہوش ہوجانا ہے تمہیں”
سنجیدگی سے بولنے کے باوجود اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھی۔ ۔۔۔۔ رنعم کلس کے رہ گئی
“کھانا کھایا تم نے” کاشان نے رنعم کے خیال کے غرض سے پوچھا
“ایسا موقع آپ نے آنے ہی کب دیا” دوبارہ رنعم کی زبان سے شکوہ پھسلا،، تو کاشان نے کار کا رخ ریسٹورنٹ کی طرف کیا۔۔۔ رنعم نے حیرت سے اس دھوپ چھاؤں کے مزاج جیسے شخص کو دیکھا
“کار سے اترو کھانا خود یہاں پر چل کر نہیں آئے گا”
کاشان نے کار پارک کی رنعم کی نظریں اپنے اوپر محسوس کر کے بولا
ریسٹورینٹ میں آکر کاشان نے کیبن بک کرایا اور کھانا ارڈر کیا
“جب تمہارا پروگرام میرے ساتھ جانے کا تھا تو تم اپنی دوست کے ساتھ کیوں گئی”
اب وہ دوبارہ سنجیدگی سے رنعم کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“تو آپ اس لیے مجھے وہاں سے لے کر آ گئے کیوکہ میں آپ کے ساتھ نہیں گئی”
رنعم نے حیرت سے اس سے دریافت کیا
“گڈ تم تو کافی ہوشیار ہوتی جارہی ہو”
سگریٹ سلگاتے ہوئے کاشان نے اس کو داد طلب نظروں سے دیکھا تو اور رنعم اس کو حیرت سے دیکھے گئی
“آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ”
رنعم نے ابھی بھی حیرانگی سے اس کو دیکھ کر پوچھا
“کیسا کر رہا ہوں وہ تمہارے ساتھ”
وہ اب گہری نظروں سے اس کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا۔۔۔ رنعم اس کی آنکھوں کی تپش سے اپنی نظریں جھکا گئی
“یہی جو کر رہے ہیں یہ سب ٹھیک نہیں ہے”
رنعم نے گھبرا کر میز کی سطح کو گھورتے ہوئے کہا
“یہ الزام ہے مجھ پر، میں تم سے پورے پانچ قدم کے فاصلے پر بیٹھا ہوں اور اتنی دور سے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا”
سگریٹ کا دھواں اڑاتا ہوا وہ مسلسل گہری نظروں سے دیکھ کر رنعم کو نروس کرنے پر تلا تھا
اتنے میں ویٹر کھانا لے کر آیا کاشان کو کچھ خاص بھوک نہیں تھی مگر رنعم کے ساتھ دینے کے لیے کھانا کھانے لگا تاکہ اب وہ بھی ریلیکس ہو کر کھانا کھا لے۔۔۔۔ ابھی کھانے کا دوران ہوا تھا
رنعم کی آنکھ میں کچھ چھبن کا احساس ہوا،،، آنکھ کو زور سے مسلنے پر اسے جلن ہونے لگی۔۔۔
ٹیبل پر بلیک پیپر کھلا ہوا رکھا تھا شاید فین کی ہوا سے وہ اسکی آنکھ میں چلا گیا
“ادھر دکھاو کیا ہوا”
رنعم کو آنکھ بری طرح مسلتا دیکھ کر، کاشان کھانا چھوڑ کر اس کے پاس آیا اور اسے کھڑا کر کے چہرہ اوپر اٹھا کر،، اس کی آنکھ کو اپنی انگلی کے پور سے اونچی کر کے دیکھنے لگا
“کچھ چلا گیا ہے شاید جل رہا ہے بہت”
رنعم کے بولنے پر کاشان ٹشو پیپر سے آنکھ کی سائڈ صاف کرنے لگا جو کہ ریڈ ہو چکی تھی
“کیا ابھی بھی جل رہا ہے”
وہ آہستہ آہستہ سے آنکھ میں پھونک مار کر رنعم سے پوچھنے لگا
“نہیں اب ٹھیک ہے، آپ پیچھے ہٹیں پلیز”
رنعم کے گھبرا کر بولنے پر کاشان کو احساس ہوا کہ وہ اس کے بےحد قریب کھڑا تھا۔۔۔ کیبن میں اتنی اسپیس موجود نہیں تھی کے رنعم خود پیچھے ہوتی۔۔۔۔ جب اس کی بات کا کاشان نے نوٹس نہیں لیا تو رنعم نے کاشان کی سینے پر اپنے دونوں نازک ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرنا چاہا
کاشان نے ٹس سے مس ہوئے بغیر اس کی دونوں نازک ہاتھ اپنے سخت ہاتھوں میں تھام کر نیچے کیے اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اونچا کیا
“کاشان پلیز”
رنعم کی ہارٹ بیٹ جو اس کے قریب آنے سے پہلے ہی بڑھی ہوئی تھی مزید اس کی جرات پر رنعم کو لگا اس کا دل ابھی کے ابھی بند ہوجائے
“ایک دفعہ پھر میرا نام لو”
رنم کا چہرہ اپنے چہرے سے اور بھی قریب کر کے وہ اس کے منہ سے اپنا نام سننے کی خواہش کر رہا تھا
“کاشان مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ سے” اس کی قربت کو دیکھ کر رنعم کی حالت غیر ہونے لگی
“مجھے بھی”
وہ اس کے ہونٹوں پر جھگنے والا تھا رنعم نے چہرے کا رخ دوسری سمت کیا رنعم کے کان کے جھمکے نے کاشان کے چہرے کو چھوا۔۔۔ اور کاشان نے اپنے ہونٹوں نے اس کے جھمکے کو۔۔۔۔
سحر آمیز لمحے کو موبائل کی بیل نے توڑا تو کاشان سحر سے آزاد ہوا۔۔ پیچھے ہٹ کر پاکٹ سے اپنا موبائل نکالا اور کال رسیو کی
“جی آنٹی وہی کے لیے نکلا ہوں، بس آدھے گھنٹے میں رنعم کو لے کر گھر آتا ہوں”
یسریٰ سے بات کر کے کال رکھی۔۔۔ رنعم ابھی بھی ویسی کی ویسی سن کھڑی تھی۔۔۔۔ ایک بار دوبارہ کاشان اس کے پاس آیا اس کا دوپٹہ ٹھیک کرتا ہوا اسے دیکھ کر بولا
“چلو گھر چلتے ہیں آنٹی ویٹ کر رہی ہیں ہمارا”
رنعم پر بھرپور نظر ڈال کر وہ کیبن سے باہر نکل گیا اور رنعم اپنے آپ کو نارمل کرتی ہوئی اس کے پیچھے آئی
کار میں مکمل خاموشی تھی رنعم اپنے دونوں ہاتھوں کو گود میں رکھے نظر جھکائے بیٹھی تھی کاشان ڈرائیو کرتے ہوئے ایک نظر اس پر ڈال لیتا۔۔۔ خاموشی جب طول پکڑنے لگی تب کاشان نے لمبا سانس کھینچ کر رنعم کا نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔اب وہ ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ تھامے ڈرائیونگ کر رہا تھا
“اسے بے شک تم میری خود غرضی سمجھ لو یا پھر من مانی کہ میں نے تم سے تمہاری مرضی نہیں جانی۔۔۔ اور تم سے پوچھے بغیر تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔ رنعم ثوبی نے تم سے ہمارے بچپن کے بارے میں تو ذکر کیا ہوگا،،، ہمارا دونوں کا پورا بچپن ہی محرومیوں میں گزرا ہے۔۔۔ جس کا اثر ثوبی نے شاید اتنا نہیں لیا ہو یا پھر یوں کہہ لو کہ وہ شروع سے ہی ٹھنڈے مزاج کا بہت آسان سا انسان ہے۔ ۔۔ مگر جس ماحول میں ہم دونوں پلے بڑھے تھے اس کا اثر لیتے ہوئے میرے اندر سختی سی آگئی ہے یا شاید میں شروع سے ہی تھوڑا پیچیدہ بندہ ہوں،،، غصہ جلد آجاتا ہے مجھے۔۔۔ بچپن کی محرومیوں اور جیل کے ماحول نے میرے اندر تلخی پیدا کر دی ہے مگر مجھے ایسا لگتا ہے تمہیں اپنی زندگی میں شامل کر کے میں ان تلخ یادوں اور باتوں کو بھول سکتا ہوں۔۔۔۔ کیا تم میری ان تلخیوں کو دور کرنے میں میری مدد کرو گی،،، پرامس کرتا ہوں پوری ایمانداری کے ساتھ تمہیں اپنی زندگی میں شامل کر کے خوش رکھنے کی کوشش کروں گا۔۔۔۔ میری زندگی میں جو بھی خلاہ رہ گیا ہے اس خلاہ کو صرف تمہاری موجودگی پُر کر سکتی ہے۔۔۔ کیا میں تم سے امید رکھوں کے تم میرا ساتھ دو گی”
کاشان نرم لہجے میں اس کا ہاتھ تھامے اس سے پوچھ رہا تھا
اس وقت وہ رنعم کو اک الگ ہی انسان لگا۔ ۔۔۔ معلوم نہیں کیو مگر رنعم کا دل نہیں چاہا وہ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑائے۔۔،۔۔ اس نے اپنے سخت ہاتھوں سے بہت نرمی سے رنعم کا ہاتھ تھاما ہوا تھا،،، رنعم اس کو دیکھ کر مسکرا دی یہ مسکراہٹ یقیناً اس کی آمادگی تھی اس لیے کاشان بھی مسکرا دیا
