504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 22)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

دوسرے دن آفس جا کر کاشان نے اپنا ریزکنیشن لیٹر مایا کی ٹیبل پر رکھا جس پر مایا نے سوالیہ نظروں سے کاشان کو دیکھا

“میں اب یہاں پر مزید جاب کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا”

کاشان کو لگ رہا تھا کل وہ جو کچھ وہ مایا کے سامنے بول چکا ہے آپنی انسلٹ کا بدلہ لینے کے لیے وہ اسے جاب سے نکال دے گی۔۔۔۔ مایا کے جاب سے نکالنے سے پہلے کاشان نے خود یہ جاب چھوڑنے کا ارادہ کیا

“آفس کی پالیسی اور رولز کے تحت آپ کو جاب چھوڑنے سے کم از کم 6 منتھس پہلے انفارم کرنا چاہیے تاکہ اس سیٹ کے لئے کسی دوسرے قابل بندے کو رکھا جاسکے اس لئے آپ کا یہ لیٹر فی الحال ایکسپٹ نہیں کیا جائے گا”

مایا نے کاشان کو دیکھتے ہوئے آفس کے رولز یاد دلائے

“مگر میں اس ماحول میں جاب نہیں کر سکتا”

کاشان نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدگی سے کہا

“آپ یہاں پر آرام سے اپنی جاب کنٹینیو کریں اب آپ کو کسی طرح کا کوئی پرابلم نہیں ہوگا مسٹر کاشان”

مایا نے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

مایا کا رویہ کاشان کی سمجھ سے بالاتر تھا وہ لمبا سانس کھینچ کر اس کے روم سے باہر نکل گیا

****

اس وقت ثوبان پولیس اسٹیشن میں موجود ہے جب اس کا موبائل بجا۔۔۔۔۔ رنعم کا نمبر دیکھ کر اس نے کال ریسیو کی

“بھیا مما کو معلوم نہیں کیا ہو گیا وہ بات نہیں کر رہی ہے آپ پلیز گھر آجائیں”

کال ریسیو کرتے ہی ثوبان کے ہیلو بولنے سے پہلے رنعم نے روتے ہوئے کہا

“پریشان مت ہو،، میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں”

رنعم کی بات سن کر وہ خود پریشان ہو گیا مگر رنعم کو تسلی دیتے ہیں کہا ساتھ ہی فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور مشکل سے 15 منٹ لگا کر وہ گھر پہنچا۔۔۔

گھر پر بہروز کی گاڑی کھڑی تھی یقیناً وہ بھی شوروم سے گھر آ گیا تھا ثوبان سیڑھیاں چڑھتا ہوا بہروز اور یسریٰ کے بیڈروم میں داخل ہوا تو وہ خالی تھا،، اپنے روم کا دروازہ کھولا تو وہاں پر یسریٰ اس کے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی جبکہ بہروز اور رنعم اس کے پاس بیٹھے تھے

“مما کیا ہوگیا ہے آپ کو”

ثوبان روم میں داخل ہوتے ہوئے یسریٰ سے پوچھنے لگا وہ خاموشی سے اس کو دیکھتی رہی

“رنعم نے فون کرکے مجھے بتایا تھا کہ یسریٰ تمھارے بیڈ روم میں بیہوش ہوگئی ہے۔۔۔ ابھی تمہارے آنے سے پانچ منٹ پہلے میں پہنچا ہوں تو یہ کچھ بول نہیں رہی ڈاکٹر کے پاس جانے سے بھی منع کر رہی ہے”

بہروز نے ثوبان کو تفصیل بتائی

“کیا ہوا ہے مما آپ مجھے بتائے”

ثوبان بیڈ پر یسریٰ کے برابر میں بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا

“تمہیں کب معلوم ہوا۔۔۔ تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔۔ معلوم ہے نا میں کتنا تڑپتی رہی ہو اس کے لیے”

یسریٰ نے ثوبان کے کندھے پر سر رکھ کر رونا شروع کردیا جبکہ بہروز اور رنعم خاموش ان دونوں کو دیکھ رہے تھے ثوبان سمجھ چکا تھا اس کی وارڈروب میں یقیناً سیرت کے بچپن کے کپڑے وہ دیکھ چکی ہے، ثوبان کو اس کی حالت کی وجہ سمجھ میں آگئی

“مجھے بھی چند دن پہلے ہی معلوم ہوا ہے میں بتانے ہی والا تھا آپ کو اس کے بارے میں،، چلیں آپ پریشان مت ہو بابا اور رنعم بھی پریشان ہو رہے ہیں” ثوبان نے یسریٰ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا

“ثوبان کیا انعم کے بارے میں تمہیں کچھ معلوم ہوا ہے، پلیز بتاؤ مجھے کہاں ہے میری بیٹی کیسی ہے وہ”

بہروز نے بے قرار ہوتے ہوئے ثوبان سے پوچھا

“جی بابا اس دن البم میں نے اسی وجہ سے مانگی تھی”

ثوبان نے بہروز کو بتایا بہروز سر اوپر کرکے آنکھیں بند کیے خدا کا شکر ادا کرنے لگا جبکہ رنعم حیرت سے ان تینوں کی باتیں سن رہی تھی

23 سال صبر کرلیا ثوبان،، مجھے میری بچی سے ملا دو پلیز اسے میرے پاس لے آؤ”

یِسریٰ ایک بار پھر رونے لگی

“مما میں اسے لے کر آؤں گا آپ کے پاس، پلیز تھوڑا صبر کر لیں،، جہاں اتنا صبر کیا ہے”

ثوبان یسریٰ کو نرمی سے سمجھانے لگا کیوکہ سیرت کو تو کچھ علم ہی نہیں تھا یہاں اسے کیسے اچانک اس کے سگے ماں باپ کے سامنے لے آتا جبکہ وہ اس کے خیالات سے بھی آگاہ تھا

“جب کل ہی لانا ہے تو آج کیوں نہیں، ثوبان تم مجھے بتاؤ کہاں ہے وہ اس وقت میں خود لے آتا ہوں اپنی انعم کو، میں نے خدا کی مصلحت سمجھ کر اس پر صبر کرلیا تھا مگر آج اتنے سالوں بعد اپنی اولاد کے بارے میں پتہ لگا تم بتاؤ کل تک کیسے صبر کروں بیٹا۔۔۔ تم سمجھنے کی کوشش کرو ہم دونوں کی کیفیت” بہروز نے ثوبان کو منت بھرے لہجے میں کہا تو ثوبان نے ہتھیار ڈال دیئے

“آپ دونوں پریشان مت ہوں میں لے آتا ہوں اسے تھوڑی دیر میں”

ثوبان اٹھتا ہوا رنعم کے پاس آیا

“خیال رکھنا مما بابا کا میں آرہا ہوں تھوڑی دیر میں”

وہ رنعم سے کہتا ہوا باہر نکل گیا

****

بہروز اور یسریٰ کی بے چینی اور بے قراری کو دیکھ کر وہ گھر سے سیرت کو لینے کے لئے نکل گیا مگر اب وہ سیرت کے پاس پہنچ کر عجیب کشمکش کا شکار ہو گیا تھا کہ کیا کہے۔۔۔۔۔ گھر میں بہروز اور یسریٰ کو شاک میں دیکھ کر وہ اپنے نکاح کی بات دبا گیا فی الحال یہی شاک ان دونوں کے لیے حیران کن تھا کہ انہیں 23 سال بعد ان کی اپنی اولاد مل گئی جس کی امید کب کی چھوڑ چکے تھے اپنے سیرت سے نکاح کی بات بتا کر بھلا وہ انہیں شاک پر شاک کیسے دیتا اس لئے نکاح کی بات اس نے بعد میں کبھی بتانے کا ارادہ کیا

“میں ٹھیک تو لگ رہی ہو نا ثوبی” سیرت کی آواز پر وہ اپنے خیالات سے باہر نکلا۔۔۔۔ لیمن کلر کی شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر میں وہ سامنے کھڑی بہت پیاری لگ رہی تھی

سیرت کے پاس آکر اس نے سیرت سے یہی کہا کہ وہ آج اسے اپنے مما بابا سے ملوانے کا ارادہ رکھتا ہے تو سیرت چینج کرنے چلے گئی اب وہ اس کے سامنے کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی

“بہت پیاری لگ رہی ہو”

ثوبان نے اس کے قریب اگر اس کا چہرہ تھام کر بولا

“مگر جب سے تم آئے ہو کچھ چپ سے لگ رہے ہو بھلا اس طرح بھی تعریف کی جاتی ہے جیسے تم کر رہے ہو”

سیرت نے اس کا کھویا کھویا اندازہ آنے کے ساتھ ہی نوٹ کر لیا

“بہت پیاری لگ رہی ہو اب ٹھیک ہے” سیرت کے شکوہ کرنے پر وہ اس کی پیشانی کو چوم کر اسے بانہوں میں لیتے ہوئے بولا

“تم بھی نہ ثوبی، اچھا بتاؤ تمہارے مما بابا کو میں اچھی لگو گی نا”

ثوبان کی تعریف کرنے پر سیرت جھینپ گئی مگر پھر اس نے کنفیوز ہو کر اپنے دل میں آیا ہوا سوال کیا

“تم انہیں کبھی بری لگ ہی نہیں سکتی شرطیہ کہہ سکتا ہو چلیں اب”

ثوبان نے مسکراتے ہوئے کہا اور سیرت کو اپنے ساتھ لئے گھر کے لئے روانہ ہوا

****

کاشان آفس سے گھر پہنچا تو گھر میں عجیب صورت حال دیکھ کر اسے اندازہ ہوگیا کہ کچھ گڑبڑ ہے جب بہروز نے بتایا کہ ثوبان انعم کو لینے گیا ہے تو اسے معاملہ سمجھ میں آیا وہ بھی فریش ہونے کے بعد ہال میں ان تینوں کے ساتھ ثوبان اور سیرت کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ثوبان سیرت کے ساتھ گھر میں داخل ہوا سیرت کو دیکھ کر یسریٰ اور بہروز ایک ساتھ ہی صوفے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی طرف بڑھے یسریٰ نے آگے بڑھ کر فوراً سیرت کو اپنے گلے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔ بار بار اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے چومنے لگی بہروز بھی آنکھوں میں آنسو لیے سیرت کو دیکھ رہا تھا ثوبان نے آگے بڑھ کر بہروز کو سہارا دیا

سیر جو پہلے ہی ثوبان کے مما بابا سے فرسٹ ٹائم ملنے کی وجہ سے کنفیوز تھی اب وہ حیرت زدہ ہوکر ثوبان کو دیکھ رہی تھی

“میرے مما بابا حقیقت میں تمہارے سگے مما بابا ہیں”

ثوبان نے حیرت میں ڈوبی ہوئی سیرت کو دیکھ کر مخاطب کیا اس انکشاف پر وہ ثوبان کو دیکھنے لگی

“میری انعم، میری بیٹی”

بہروز نے روتے ہوئے اسے گلے لگانا چاہا ویسے ہی سیرت، بہروز کے ہاتھ جھٹک کر اس سے دور ہوئی۔۔۔۔ ہال میں موجود تمام افراد اس کی حرکت پر ساکت رہ گئے

“سیرت میری بات سنو”

سب سے پہلے ثوبان نے آگے بڑھ کر سیرت کو سمجھانا چاہا

“یہ کیا مذاق ہے ثوبی تم یہاں مجھے اپنے مما بابا سے ملوانے لائے تھے نا۔۔۔۔ یہ سب کیا تماشہ ہے پھر”

سیرت غصے میں ثوبان سے پوچھ رہی تھی

“میں تمہیں سب بتاؤں گا لیکن پہلے تم آرام سے بیٹھ کر میری بات سنو” ثوبان نے تحمل سے اسے سمجھاتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا۔۔۔ سیرت نے اس کا بھی ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔ بہروز اور یسریٰ کے ساتھ رنعم بھی حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی اور وہ سیرت کو پہچان بھی گئی تھی جبکہ کاشان کے ماتھے پر سیرت کے ری ایکشن پر اچھے خاصے بل سجے ہوئے تھے

“کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا ثوبی تمہیں معلوم ہے نفرت ہے مجھے ان لوگوں سے۔۔۔۔ جو مجھے کچرہ سمجھ کر کچرے کے ڈھیر کی نظر کر کے چلے گئے،،، تو پھر مجھے ان لوگوں سے ملوانے کا کیا مقصد جبکہ میری زندگی میں ان لوگوں کے لیے نہ کوئی جگہ ہے، نہ ہی کوئی اہمیت۔۔۔۔ میں اب زندگی میں ان لوگوں کو دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتی ہوں”

سیرت سخت لہجہ اختیار کرتی ہوئی باری باری سب پر ایک نظر ڈال کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔ سیرت کے الفاظوں سے وہاں کھڑے تمام افراد کو سانپ سونگھ گیا ثوبان نے سیرت کے پیچھے جانا چاہا جیسے ہی وہ باہر نکالا

“بہروز”

ثوبان کو اپنے پیچھے سے یسریٰ کے چیخنے کی آواز آئی ثوبان نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بہروز زمین پر گرا ہوا تھا

یسریٰ انعم کو بھولے اب بہروز کو دیکھ کر چلا رہی تھی جبکہ کاشان اور رنعم دوڑ کر بہروز کے پاس پہنچے

“بابا کیا ہوا آپ کو” ثوبان بھاگتا ہوا آیا اور بہروز کو سہارا دے کر اٹھانے لگا۔۔۔۔ بہروز سیدھے ہاتھ کے اشارے سے دروازے کی طرف اشارہ کرنے لگا جہاں سے تھوڑی دیر پہلے سیرت گئی تھی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے وہ اس وقت اک بےبس باپ ہو رہا تھا

ثوبی دیر کرنے کی ضرورت نہیں ہسپتال چلو فوراً”

کاشان نے بہروز کی حالت دیکھ کر تشویش سے کہا یسریٰ اور رنعم دونوں ہی رو رہی تھی ثوبان نے سر ہلا کر بہروز کو سہارا دیتے ہوئے اٹھایا

“جاو ڈرائیور سے کہو کار نکالے جلدی”

کاشان نے رنعم کو بولا تو وہ روتی ہوئے باہر نکل گئی جبکہ کاشان ثوبان کے ساتھ مل کر بہروز کو اٹھانے لگا کیوکہ بہروز ہوش و حواس میں ہوتے ہوئے بھی اپنا وزن چھوڑ چکا تھا

****

سیرت روتی ہوئے گھر پہنچی اسے یقین تھا ثوبان اس کے پیچھے فلیٹ میں ضرور آئے گا مگر اس کا انتظار رائیگاں گیا، اسے اب ثوبان کے اوپر بھی غصہ آنے لگا وہ جانتا تھا اسے کوئی انسیت یا محبت پیدا نہیں ہوگی اپنے ماں باپ کو دیکھ کر یہ سب سے فلموں میں ہوتا ہے بچھڑے ہوئے برسوں بعد مل کر گلے لگ گئے اور خوشحال زندگی گزارنے لگے۔۔۔۔ مگر وہ اپنی سوچ ثوبان پر ظاہر کر چکی تھی پھر بھلا کیا ضرورت تھی ثوبان کو اس کے ماں باپ سے ملانے کی سیرت میں سوچتے ہوئے سر جھٹکا۔۔۔۔۔

“تو کیا ثوبان کو نکاح ہونے سے پہلے یہ علم تھا میں ان لوگوں کی بچھڑی ہوئی بیٹی ہوں”

یہ سوچ دماغ میں آتے ہی اسے ثوبان پر نئے سرے سے غصہ آنے لگا

“آپی میں کل تین بجے تک یہاں آجاؤ گا۔۔۔صبح تو آپ انکل کو ڈائیلائسس کے لئے لے کر جاۓ گیں، تین بجے تک اسپتال سے فارغ ہوکر آ جائیں نا”

رضوان (کیئر ٹیکر) نے جاتے جاتے سیرت سے کہا تو اس نے اپنی سوچوں میں گم سر اثبات میں ہلا دیا اور رضوان کے جانے کے بعد فلیٹ کا دروازہ لاک کر کے ناصر کے پاس آگئی

“تو چپ کیوں ہے،، کیا ہوا تجھے”

سیرت ناصر کے روم میں آ کر کرسی پر بیٹھی تو ناصر نے اسے دیکھ کر پوچھا جب سے ناصر کے ڈائلیسسز شروع ہوگئے تھے وہ زیادہ تر ہے اپنے بستر پر لیٹا رہتا۔۔۔ کچھ نقاہت اور عمر کا تقاضہ تھا وہ سارا دن خاموش رہتا۔۔۔ سیرت ہی سارا دن اسے مخاطب کر کے کچھ نہ کچھ بات کرتی رہتی

“ابا آج ایسا لگ رہا ہے جیسے کچھ بولنے کے لیے بچا ہی نہیں۔۔۔ ساری باتیں ختم ہو گئی ہیں” سیرت نے اپنے سامنے ٹیبل پر رکھی ساری دواؤں کو ترتیب سے رکھتے ہوئے جواب دیا

“جھگڑا تو نہیں کر کے بیٹھی ہے تو ثوبی سے کہیں” ناصر نے بیڈ پر لیٹے ہوئے سیرت کی طرف دیکھ کر اپنا خیال ظاہر کیا

“میں کیا لڑوں گی ابا اس سے۔۔۔۔ آج تو جھگڑے والی بات اس نے شروع کردی”

سیرت نے اداس لہجے میں کہا اور گھڑی میں ٹائم دیکھا گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی،،، نہ وہ خود آیا نہ اس نے سیرت کو فون کیا سیرت کا دل مزید اداس ہونے لگا

“دیکھ سیرت میری بات غور سے سن،، اب میرے پاس زیادہ وقت نہیں،، میں کبھی بھی اس دنیا سے رخصت ہو سکتا ہوں تو اب ثوبی کی ہر بات مانا کر،، شوہر ہے وہ تیرا میرے بعد تجھے اس کے ساتھ گزارا کرنا ہے۔۔۔ ٹھنڈے مزاج کا بچہ ہے وہ، اپنے باپ سے بالکل مختلف تو جھگڑالوں عورتوں کی طرح اس کے ساتھ رویہ مت رکھنا”

ناصر سیرت کو دیکھتا ہوا اسے نصیحت کرنے لگا

وہ سیرت کا ثوبان سے نکاح کر اندر سے مطمئن تھا۔۔۔۔ ثوبان روز ہی اس کے پاس چکر لگاتا اس کی خیر خیریت پوچھنا تھوڑی دیر اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتا ناصر خوش تھا کہ سیرت اس کی زندگی میں ہی اپنے گھر کی ہوگئی تھی

“ابا ایک تو تم یہ مرنے کی باتیں مجھ سے پچھلے دو سال سے کیے جا رہے ہو،، ابھی اگلے دس سالوں تک کہیں نہیں جانے والے تم۔۔۔۔ خدارا مت کیا کرو میرے سامنے ایسی باتیں اور سب سمجھتی ہے سیرت تمھارے اس معصوم بچے کو،، نہیں کرنے لگی میں کوئی جھگڑا اس سے۔۔۔ دوا کھالی ناں تم نے رات کی سو جاؤ اب، میں بھی سونے لگی ہوں صبح تمہارے ڈائیلائسس کے لئے جانا ہے۔۔۔ ذرا اس بچے کو بھی یاد دلادو جاکر”

سیرت میں جھنجھلاتے ہوئے کہا اسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ کس بات پر، کس کو لے کر غصہ کرے۔۔ ناصر کے ورم کی لائٹ بند کر کے وہ اپنے روم میں آگئی اور ثوبان کا نمبر ملانے لگی

جو بھی تھا وہ ثوبان کے ماں باپ بھی تھے اور وہ ان لوگوں کے سامنے اس طرح بدتمیزی کر کے آئی تھی یقیناً ثوبان کو اس پر غصہ ہوگا۔۔۔ یہ سوچ کر وہ کال ملانے لگی مگر تین دفعہ کال ملانے پر بیل جاتی رہی ہے ثوبان نے کال ریسیو نہیں کی۔۔۔ ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا وہ کتنا ہی مصروف کیوں نہ ہو اس کی کال ضرور ریسیو کرتا بے شک دو سیکنڈ کے لیے ہی بات کرے وہ سوچتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گئی