Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 10)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
وہ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظر ٹکائے سیرت کی آئی ڈی سرچ کر رہا تھا یہ کام اس نے آج پہلی دفعہ نہیں کیا تھا جب اسے سیرت کی شدت سے یاد آتی وہ کبھی فیس بک پر اس کا نام سے آئی ڈی سرچ کرتا یہ کبھی پرانے محلے میں جا کر اسکو ڈھونڈتا
“کیا کوئی ضروری کام کر رہے ہو”
یسریٰ نے ثوبان کے روم میں آکر پوچھا
نہیں تو، بس ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی رنعم سے بات کی ہے خیریت سے ہے وہ” یسریٰ روم میں آئی تو لگے ہاتھ ثوبان نے رنعم کی خیریت بھی اسے بتا دی اور لیب ٹاپ بند کرکے ایک سائڈ رکھا
“ہاں شام میں میری اور بہروز کی بات ہوگئی تھی اس سے، تمہیں اندازہ ہے نہ اسے صرف میں نے تمہارے ہی کہنے پر جانے دیا ہے ورنہ ایک کو کھونے کے بعد اب اتنا حوصلہ نہیں بچا کے میں دوسری کو خود سے دور بھیج سکوں”
یسریٰ اداسی سے بولی
“رنعم کہیں نہیں جائے گی مما، ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی جو ہو چکا ہے اس کو خدا کے مصلحت سمجھیں اور آپ پلیز ایسے اداس مت ہوا کریں”
اس سے پہلے یسریٰ پر وہی کیفیت طاری ہوتی ثوبان نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اپنائیت سے کہا تو وہ اس کو دیکھ کر مسکرا دی
“تمہیں معلوم ہے ثوبان تمہارے آنے سے پہلے میں کبھی کبھی سوچتی تھی اللہ نے ہمیں کیو بیٹے سے محروم رکھا ہے، بہروز ہمیشہ مجھے سمجھاتے تھے کہ اس میں اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی مگر اللہ پاک نے ہمیں تمہاری صورت بیٹا ہی نہیں بہت پیارا تحفہ دیا ہے۔۔۔ اگر میری سگی اولاد ہوتی ہے وہ بھی شاید اتنا خیال نہیں رکھتی جتنا تم نے میرا خیال رکھا ہے مجھے سنبھالا ہے”
یسریٰ مسکراتی ہوئی ثوبان سے کہنے لگی
“بیشک اللہ کی ذات غفورالرحیم ہے اس نے مجھے سے اگر میرے والدین لئے تو ان دونوں کی صورت والدین کا نعم البدل عطا کیا،، آپ نے اور بابا نے ہمیشہ مجھے سگی اولاد کی طرح پالا کبھی کوئی فرق نہیں کیامجھ میں اور رنعم میں،، اللہ کی ذات کے بعد میں ساری زندگی آپ دونوں کا شکر گزار رہوں گا”
ثوبان نے عقیدت سے یسریٰ کا دونوں ہاتھ آنکھوں پر لگاتے ہوئے کہا
“شکر گزاری کی کیا بات ہے تم بیٹے ہو ہم دونوں کے، ہم نے تمہیں بیٹا کہا تو تم نے بیٹے ہونے کا ثبوت دیا،،،پھر ہمہیں بھی بیٹے کی طرح پرورش بھی کرنی تھی۔۔۔۔ مگر اب میرا بیٹا جوان ہو گیا ہے ماشاء اللہ سے شادی کی عمر ہوگئی تم بتاؤ اپنے لیے کوئی لڑکی دیکھی تم نے” یسریٰ نے آنکھوں میں شرارت کے لئے اس سے پوچھا تو ثوبان یسریٰ کو دیکھنے لگا
“یہ کونسا ٹاپک شروع کردیا آپ نے” یسریٰ کی بات پر اس کے دماغ میں سیرت کا چہرہ لہرایا آج صبح ہی تو دیکھا تھا اس بیوقوف کو، جو غصے میں بنا کچھ بتائے تن فن کرتی ہوئی چلی گئی اب پتہ نہیں کہاں کہاں ڈھونڈتا پڑے گا اسے
“کیو کیا ساری زندگی ایسے ہی رہنا ہے شادی نہیں کرنی،، کوئی لڑکی ہے نظر میں جو تمہیں پسند ہے تو جلدی سے بتاو”
یسریٰ مصنوئی گھوری دے کر مسکراتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“اف مما آپ کو یوں اچانک میری شادی کی پڑ گئی فلحال نہ کوئی لڑکی ہے اور نہ ہی آپ کے بیٹے کو شادی کی جلدی ہے”
ثوبان بھلا سیرت کے بارے میں یسریٰ سے کیا شیئر کرتا ہے ابھی تو اسے یہ تک معلوم نہیں کہ وہ کہاں رہتی ہے،،، اس لیے فی الحال اس ٹاپک کو ختم کرتا ہوا بولا
“مگر میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں اپنی اولاد کا گھر بستا ہوا دیکھو اور ایک لڑکی کا سوچا بھی ہے میں نے تمہارے لئے”
یسری کی بات پر ثوبان کی ہنسی تھم گئی
“کون ہے کس کا سوچا ہے”
اب اسے پچھتاؤ ہونے لگا اس نے سیرت کو ایسی ہی کیوں جانے دیا
“دیکھو ثوبان میں اس وقت تم سے جو بھی بات کرو گی ویسے صرف میرے دل میں خیال آیا ہے یہ مت سمجھنا کی یہ میری کوئی بہت بڑی خواہش ہے۔۔۔ ہر ماں کے لئے بیٹے کی خوشی اہمیت رکھتی ہے ویسے ہی میری نظر میں تمہاری خوشی اور مرضی کی اہمیت ہے کسی دباؤ میں آکر بالکل جواب نہیں دینا پلیز،، میں نے سوچا اگر تمہاری اور رنعم کی”
یسریٰ نے تہمید باندھ کر بات شروع کی مگر بیچ میں ہی ثوبان، یسریٰ کی بات کو سمجھ کر تڑپ اٹھا
“مما پلیز آگے کچھ مت بھولیے گا، آپ نے ایسی بات آخر سوچی بھی کیسے، آپ مجھے ابھی بولیں میں اپنا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں رکھ دوں گا ایک دفعہ اف نہیں کروں گا،، مگر اب ایسی بات بات دوبارہ مت کیجئے گا پلیز،،، جس طرح میں نے آپ کو اور بابا کو ماں باپ کا درجہ دیا ہے رنعم بالکل اسی طرح میرے لیے میری چھوٹی بہن ہے میں مر کر بھی کبھی اس کے بارے میں ایسی بات نہیں سوچ سکتا”
ثوبان اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھ گیا شاید وہ یسریٰ کی بات پر پریشان ہو گیا تھا یسریٰ نے اسکو پریشان دیکھ کر گلے لگایا
“اچھا سوری معاف کر دو اپنی مما کو بس مجھے لگا تم سے زیادہ اچھا انسان رنعم کے لیے کوئی ہو ہی نہیں سکتا اس لیے بول دیا،، بہروز بھی راضی نہیں تھے اس بات پر تو،، یہ خیال سے میرے ہی دل میں آیا سوری پلیز”
ثوبان کو اس طرح پریشان دیکھ کر یسریٰ اب شرمندہ ہونے لگی
“یوں بار بار سوری کہہ کر،، مجھے گناہگار مت کریں آپ۔۔۔۔ رنعم میری بہن ہے میں پرامس کرتا ہوں اس کے لئے ایک پرفیکٹ انسان تلاش کروں گا جو ہر لحاظ سے اس کے قابل ہوں مگر آپ دوبارہ ایسا مت سوچیے گا پلیز” ثوبان نے یسریٰ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر کہا
“نہیں سوچ رہی بابا ایسا اب اس طرح پریشان مت ہوں اور تم نے کہا ہے تو مجھے پورا بھروسہ ہے رنعم کے لئے تم جو بھی کوئی ڈھونڈو گے وہ پرفیکٹ ہی ہوگا تمہاری طرح مگر ابھی بھی میرا پوائنٹ اپنی جگہ ہے مجھے رنعم سے پہلے اس گھر میں تمہارے لئے بیوی اور اپنے لئے بہو چاہیے جلدی جلدی تلاش کرو اپنے لیے ورنہ پھر میں ڈھونگی اور آب ریسٹ کرو شاباش”
یسریٰ بولتے ہوئے اس کے روم سے نکل گئی
لیپ ٹاپ کو بے دلی سے اٹھا کر سائیڈ میں رکھتا ہوا وہ بیڈ پر لیٹ گیا ایک بار پھر وہ سیرت کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔ بہروز جب اسے اپنے ساتھ یہاں لے کر آیا تھا اس کے ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ اپنے پرانے محلے گیا تھا مگر بدقسمتی سے ناصر کے گھر دوسرے لوگ شفٹ ہو چکے تھے جو کہ ناصر اور سیرت کے پتے سے لاعلم تھے وہ مایوس ہو کر واپس چلا گیا سیرت کے بارے میں سوچتے ہوئے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے معلوم نہیں ہوا
**
سیرت دیوار سے ٹنگے آئینے میں کافی دیر سے اپنے آپ کو دیکھ رہی تھی اور ثوبان کے برابر میں بیٹھی ہوئی لڑکی سے اپنا موازنہ کر رہی تھی۔۔۔ وہ لڑکی شاید نہیں یقینا اس سے زیادہ خوبصورت تھی کتنی صاف اور اجلی رنگت تھی اس کی۔۔۔۔ سیرت نے ایک بار پھر اپنے آپ کو غور سے دیکھا بچپن میں تو اسکا بھی رنگ کافی گوراچٹا تھا جس کی وجہ سے نسرین اسے ہر وقت نظر کا کالا ٹیکا لگائے رکھتی تھی مگر اب وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اس کے گورے رنگ میں ہلکی سی سنولاہٹ شامل ہوگئی تھی مگر جو اسیی بھی نمایاں نہیں کہ اسے سانولا کہا جاسکے رنگ اسکا ابھی بھی صاف تھا مگر وہ رنعم سے اپنا موازنہ کرنے لگی
“شاید اس کی آنکھوں کا رنگ نیلا تھا نہیں ہرا۔۔۔ ہاں ہرے رنگ کی تھی اس کی آنکھیں” سیرت نے اپنی براؤن آنکھوں کو دیکھ کر سوچا
“اور بال،،، نہیں بال تو میرے زیادہ اچھے اور لمبے ہیں” سیرت نے چٹیاں کھول کر اپنے کاندھوں پر بالوں کو ڈالتے ہوئے دیکھا
“اور ہائیٹ بھی میری ہی اچھی ہے اس کے مقابلے میں”
سیرت نے خوش ہوتے ہوئے اپنی پانچ فٹ چھ انچ ہائٹ کو دیکھ کر سوچا اور اسے تھوڑا اطمینان ہوا اور چہرے پر مسکراہٹ آئی
“مگر ہائیٹ اچھی ہونے سے یا بال لمبے ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے ثوبان تو اس کے پاس ہے”
یہ سوچ آتے ہی سیرت کا دل بجھنے لگا
“اچھا ہی ہوا جو بناء کچھ بولے اس سے آگئی معلوم نہیں اب دوبارہ کبھی ملاقات ہوگی بھی کہ نہیں”
وہ اپنے پلنگ پر لیٹتے ہوئے دوبارہ ثوبان کے بارے میں سوچنے لگی
**
14 سال بعد آج وہ کھلی فضا میں سانس لے رہا تھا اور اس کو رہائی نصیب ہوئی تھی
“کیسا فیل ہو رہا ہے ثوبان اسے لینے آیا تھا ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنے برابر میں بیٹھے کاشان سے پوچھنے لگا
“کچھ عجیب،، کچھ نیا نیا کافی کچھ بدل گیا ہے”
کاشان کھڑکی سے باہر مناظر دیکھ کر کہنے لگا
14 سال کا عرصہ بھی تو کافی ہوتا ہے”
ثوبان کی بات کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا
“کہاں جا رہے ہیں ہم”
بلکے الٹا اس سے پوچھنے لگا
“بتایا تو تھا تمہیں تھوڑی دیر پہلے،، گھر پر مما بابا ویٹ کر رہے ہیں تمہارا” کار ڈرائیو کرتے ہوئے ثوبان نے ایک نظر کاشان پر ڈال کر بولا
“ثوبی میں نے بھی تمہیں بتایا تھا تم اس فیملی کے ساتھ رہے ہو اس فیملی کا حصہ بن کر مگر میں ان لوگوں میں ایڈجسٹ نہیں کر پاؤں گا، میں نے تمہیں بولا تھا ایک یا دو کمرے کا مکان میرے لیے رینٹ پر لے لینا میں جاب کر کے اپنا گزر بسر کر لوں گا”
کاشی سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر بولا
“کاشی مما بابا تم سے ملنے کے لیے ایکسائٹڈ ہیں،، تمہارے لئے روم سیٹ کرایا ہے مما نے،، ان کے خلوص اور محبتوں کا ایسے جواب دو گے تم” ثوبان نے خفا ہوتے ہوئے کہا، چودہ سال میں کوئی ایسا دن نہیں گیا تھا جب ڈرائیور کے ہاتھ جیل میں کھانا نہیں بھجوایا تھا اور یہ ذمہ داری یسریٰ نے اپنے سر لی ہوئی تھی جیل میں رہتے ہوئے بھی اسے ہر چیز مہیا کی جاتی یہ سب احسانات ہی تو تھے ثوبان کی فیملی کے اس پر،،، ثوبان کی بات سن کر وہ تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا
“ایکسائٹڈ تو تم ایسے کہ رہے ہو جیسے میں جیل سے نہیں بلکہ حج ادا کر کے آرہا ہوں، اچھا اب زیادہ منہ بنانے کی ضرورت نہیں جب تک کہیں ڈھنگ کی جاب نہیں مل جاتی تب تک تمہاری فیملی کے ساتھ رہو گا لیکن جاب کے بعد میں الگ رہنا پسند کروں گا تب تم ناراض نہیں ہوں گے”
کاشان نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا،،، شکر ہے کل ہی اس نے اپنے بڑھے ہوئے بال کٹوا کر شیو بنالی تھی اب اس کا حلیہ بھی انسانوں والا لگ رہا تھا
“یہ تمہاری فیملی تمہاری فیملی کیا لگا رکھا ہے،، تم الگ ہو مجھ سے؟ بھائی ہو تم میرے،، تم تو شاید اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ آج میں کتنا خوش ہوں”
ثوبان نے گھر کے آگے کار روکتے ہوئے کہا
“اچھا اب زیادہ ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ تمہارا گھر ہے۔۔۔۔ ویسے کافی اچھا اور بڑا ہے”
کاشان نے بہروز کا گھر دیکھتے ہوئے کہا بچپن میں جب وہ بڑے گھروں کو باہر سے دیکھتا تھا تب وہ سوچ رہا تھا کہ کاش اندر جا کر بھی وہ اس گھر کو دیکھےے
“اندر سے دیکھو گے تو اور بھی اچھا لگے گا”
ثوبان نے کار سے نکلتے ہوئے کہا تو کاشان بھی کار سے اترا گیا
“ثوبان اسکو گھر کے اندر لے کر آیا تو بہروز اور یوسریٰ اس سے بہت اچھے طریقے سے ملے جیسے پہلے سے ہی اس کو جانتے ہو۔۔۔۔ کہیں سے بھی کاشان کو ان میں دکھاوا یا مغروریت نظر نہیں آئی نہ ہی انہوں نے اس کے ماضی یا جیل کے متعلق کوئی بھی بات پوچھی،،، کاشان کو وہ دونوں میاں بیوی اچھے لگے
“میں نے ثوبان سے پوچھ کر ہی سب چیزیں تمہاری پسند کی بنوائی ہیں سب چیزیں ٹیسٹ کرنا”
کھانے کی میز پر بیٹھتے ہوئے یسریٰ نے کاشان سے کہا
“شکریہ آنٹی آپ نے تو کافی تکلیف کر لیا”
کاشان نے جھجگتے ہوئے کہا جبکہ ثوبان تو بلکل بنا تکلف ریلکس انداز میں کھانا کھا رہا تھا۔۔۔۔ بہروز بھی کھانے کے دوران کاشان سے چھوٹی موٹی باتیں پوچھ لیتا جس سے ان دونوں میاں بیوی سے کاشان کی اجنبیت جاتی رہی
**
“کیسا لگا تمہیں اپنا بیڈ روم یہ سب مما نے تمہارے لئے سیٹ کروایا ہے”
ثوبان نے پوچھنے کے ساتھ ساتھ ہی اسے بتایا
“یہ سوال ہی تمہارا عجیب ہے یہ بیڈروم بھلا اس انسان کو کیسا لگ سگتا ہے جو 14سال مشقت بھری زندگی گزار کر آیا ہوں۔۔۔۔ جیل میں تو صاف باتھ روم میئسر نہیں تھے اور اسطرح کے بیڈروم کا تو تصور ہی کیا جاسکتا تھا”
کاشان کو اپنے بچپن کا دو کمرے کا بوسیدہ اور سیلن زدہ مکان یاد آیا
“کاشی جو گزر گیا ہے وہ سب بھول کر نئی زندگی کا آغاز کرو، اپنی آگے کی زندگی کو اپنے لیے آسان بناؤ۔۔۔۔ ابھی فی الحال ریسٹ کرو یہاں سے اوپر والا بیڈ روم میرا ہے مگر میں اسٹیڈی روم میں ہوں کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھ سے کہہ دینا”
ثوبان بولتا ہوا اس کے بیڈ روم سے نکل گیا
